سر کی چوٹ کے باعث 34 سالہ شخص کا چہرہ اور جسم بچے جیسا ہوگیا

بیجنگ: عمررسیدگی میں بھی چہرہ جوان دکھائی دینا ایک اچھی بات ہے لیکن چین کے وسط میں رہنے والا ایک شخص 34 سال کے باوجود بالکل بچہ دکھائی دیتا ہے اور اسی وجہ سے اب تک اس کی شادی نہیں ہوسکی ہے۔

34 سالہ زیو شینگ کائی اس وقت ایک دیہی قصبے زیانتاؤ میں رہتے ہیں۔ چھ برس کی عمر میں وہ دوستوں کے ساتھ کھیل رہے تھے کہ اس کا سر ایک پتھر سے ٹکرایا۔ چوٹ شدید تھی لیکن کوئی خون نہیں نکلا تاہم زیو لگاتار تین روز تک بخار کا شکار رہا۔ بخار کی وجہ سے اسے تین روز بعد ہسپتال لے جایا گیا تو معلوم ہوا کہ دماغ میں خون کا لوتھڑا جم گیا ہے جسے ایمرجنسی سرجری کے بعد نکال لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   کروناوائرس کا ٹیلی ویژن پر انٹرویو

پھر زیو نارمل رہا مگر 9 برس کی عمر میں انکشاف ہوا کہ وہ اپنے ساتھیوں کے مقابلے میں چھوٹا اور غیرنمو پذیردکھائی دیتا ہے۔ گویا کہ حادثے کے بعد اس کی نشوونما رک گئی ہے۔
دوبارہ طویل علاج اور ٹیسٹ کے بعد معلوم ہوا کہ زیو کے جسم میں نشوونما یقینی بنانے والے بچیوٹری گلینڈز تباہ ہوچکے ہیں جن سے بڑھوتری کے ہارمون کا افراز نہیں ہوپارہا۔ یہ عمل دو عشروں سے جاری رہا اور اب یہ حال ہے کہ اس کے چہرے پر بال نہیں اگتے اور اس کی آواز بھی بچوں جیسی ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اس کا مذاق اڑاتے ہیں اور اس کی شادی بھی نہیں ہوسکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   سعودی عرب ، حائل میں 1000 سال قبل مسیح کے آثار قدیمہ کا انکشاف

زیو نے خود بتایا کہ اگرچہ وہ 34 برس کا ہوگیا ہے لیکن اب تک جسمانی طور پر ایک چھوٹے بچے کی ماندد ہے۔ وہ بلوغت تک نہیں پہنچا اور اسی وجہ سے شادی بھی نہیں کرسکتا۔

ڈاکٹر بھی اس عجیب بیماری کے ہاتھوں بے بس ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق بچیوٹری گلینڈزہرانسان کی بلوغت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اب زیو نے روزگار کے لیے حجامت کی دکان کھولی ہے جہاں وہ اپنے گاہکوں سے اکثر کہتے ہیں کہ ان کے دوستوں کے چہروں پر جھریاں آجائیں گی لیکن وہ اسی طرح جوان اور بچے ہی رہیں گے۔