وزیراعظم کی ایران میں تقریر پر قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی

Spread the love

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم عمران خان کی ایران میں کی گئی تقریر پر قومی اسمبلی میں اپوزیشن اور حکومتی ارکان کے درمیان خوب گرما گرما ہوئی۔ ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا تو اپوزیشن ارکان نے وزیراعظم عمران خان کی ایران میں تقریر پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا تو حکومتی ارکان نے بھی حزب اختلاف کو آڑے ہاتھوں لیا۔

اس دوران دونوں فریقین میں خوب تلخ کلامی ہوئی اور ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی بھی کی گئی۔ حزب اختلاف کے ارکان اسمبلی نے احتجاج کرتے ہوئے اسپیکر کے ڈائس کے آگے دھرنا دے دیا۔ن لیگ کے خرم دستگیر نے کہا کہ وزیراعظم نے ایران میں جو بیان دیا وہ انتہائی خطرناک ہے،

یہ بھی پڑھیں:   ڈی آئی خان :موٹرسائیکل سواروں کی پولیس وین اندھا دھند فائرنگ ،5 اہلکار شہید

وزیراعظم نے اعتراف کیا عسکری گروپ پاکستان نے بنائے اور ایران میں دہشت گردی کے گروپ پاکستان کے اندر سے آپریٹ کر رہے ہیں، انہوں نے قومی سلامتی کو نشانہ بنایا ہے۔

شیریں مزاری نے کہا کہ وزیراعظم کے ایران میں دیئے گئے بیان کو پورا پڑھا جائے، یہ وہی مودی ہے جو رائے ونڈ آیا تھا جس کے ساتھ ن لیگ نے ڈیل کی تھی، ن لیگ پہلے اپنے گریبان میں دیکھے، ایران اور پاکستان کو کالعدم تنظیموں کو سرحد کے دونوں اطراف ختم کرنا ہوگا، دونوں ممالک میں کالعدم تنظیموں کے خاتمے پر بات ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   لاہورمیں موسلا دھار بارش، شاہی قلعے کا 180 سال پرانا مرکزی دروازہ گر گیا

پی پی پی کی حنا ربانی کھر نے کہا کہ وزیراعظم نے ایرانی صدر کے ساتھ کھڑے ہوکر کہا کہ ایران میں دہشت گردی میں ہماری سرزمین استعمال کی گئی، انہوں نے پاکستان کو مذاق بنا دیا ہے، وہ کہتے ہیں مودی الیکشن جیت گیا تو کشمیر کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔

وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے اپوزیشن کی تقریر کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پی پی پی بتائے حسین حقانی جیسے غدار کو کس نے لگایا، جب پاکستانی فوج بھارتی طیارے گرا رہی تھی تب بلاول بھارت کا مقدمہ لڑ رہا تھا، یہ کون کہہ رہا تھا پاکستان دہشتگردوں کی پناہ گاہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   نوکریاں دینے کیلئے پیسے نہیں ، پی ٹی آئی حکومت نے ہاتھ کھڑے کر دئیے

مراد سعید کی تقریر کے دوران اپوزیشن نے شور مچاتے ہوئے نو بے بی نو اور رو بے بی رو کے نعرے لگائے۔ اپوزیشن نے اسپیکر کے ڈائس کا گھیراؤ کرتے ہوئے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں اور دھرنا دیتے ہوئے گو نیازی گو نیازی گو کے نعرے لگائے۔ ڈپٹی اسپیکر نے نماز کا وقفہ کرتے ہوئے اجلاس ملتوی کردیا۔