طالبان کی جانب سے افغان حکومتی وفد کے اراکین کی تعداد پر اعتراض کے بعد مذاکرات ملتوی

کابل (زرائع) سفارتی ذارئع اور حکام کے مطابق طالبان کی جانب سے افغان حکومتی وفد کے اراکین کی تعداد پر اعتراض کے بعد دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات ملتوی کردی گئی۔

خیال رہے کہ افغانستان میں 17 سالہ طویل ترین جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کی سخت کوششوں کے بعد طالبان افغان حکومتی وفد سے بات چیت پر آمادہ ہوئے تھے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق ان مذاکرات کا آغاز جمعے سے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونا تھا لیکن کابل میں موجود افغان حکومت کے عہدیدار نے بتایا کہ ’یہ اجلاس ابھی کے لیے ملتوی کردیا گیا ہے اور اس کی تفصیلات میں تبدیلی کی جارہی ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں:   ایئرفورس کی ملازمت کے دوران انہیں ان کے سینئر افسر نے ریپ کا نشانہ بنایا، سینیٹر مارتھا میکسیلی

اس بارے میں کابل میں موجود ایک مغربی سفارتکار نے بتایا کہ افغان وفد کو جمعرات کو قطر کے دارالحکومت روانہ ہونا تھا تاہم انہیں معلوم ہوا کہ ان کا دورہ منسوخ کردیا گیا ہے اور نئی تاریخوں پر بات چیت جاری ہے۔

سفارتکار نے شناخت نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’حکومت کو یہ اجلاس منعقد کرنے کے لیے وفد میں تبدیلی کرنی پڑے گی‘۔ اس بارے میں طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ طالبان کے رہنما افغان وفد کے حجم اور اس میں اراکین کے شمولیت کے حوالے سے معترض تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   دہشت گردی اور اسکی سرپرستی کرنےوالے ممالک کو نہیں بخشا جائے گا: عادل الجبیر

ان کا کہنا تھا کہ وفد میں کچھ ایسے اراکین بھی شامل تھے جو اراکین کی اس فہرست سے مختلف تھے جس پر اتفاق ہوا اور اس میں افغان حکومت کے اہلکار بھی موجود تھے۔

یاد رہے اس سے قبل طالبان کی جانب سے افغان صدر اشرف غنی کی حکومت سے ملاقات سے انکار کیا جاتا رہا ہے جنہیں وہ کٹھ پتلی حکومت گردانتے ہیں لیکن دوسری جانب ان کے امریکی حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کے کئی ادوار ہوچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   بھارت کی فوجی ناکامی کے بعد آبی دہشت گردی؛ 3 دریاؤں کا پانی روک لیا