حمزہ شہباز کو گرفتار کرنے کے لیے نیب کی مسلسل کوشش پر شدید تنقید

لاہور (زرائع) پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کو گرفتار کرنے کے لیے قومی احتساب بیورو (نیب) کی 2 مسلسل کوششوں پر نیب کو متضاد رویے کا سامنا ہے۔

ایک جانب حکومتی اراکین ان چھاپوں کو نیب کی ناکامی سے تعبیر کررہے ہیں تو دوسری جانب اپوزیشن اسے انسدادِ بدعنوانی ادارے کی جانب سے قانون کی خلاف ورزی قرار دے رہی ہے۔

زرائع کی رپورٹ کے مطابق نیب کے چھاپوں پر اپوزیشن جماعتوں، مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے نہ صرف ادارے بلکہ تحریک انصاف کی حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

یہ بھی پڑھیں:   میگا منی لانڈرنگ کیس: آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی ضمانت میں 11 مارچ تک توسیع کردی

تو دوسری جانب حکومتی اراکین نے بھی جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے 85 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کے ملزمان کو پکڑنے کی سنجیدہ کوششیں نہ کرنے پر نیب کی سرزنش کی۔

اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان کے ترجمان ندیم افضل چن نے نیب کے چھاپوں کو ناکام آپریشن قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیورو نے حمزہ شہباز کو ’سیاسی فائدہ‘ پہنچایا۔

یہ بھی پڑھیں:   یوم یکجہتی کشمیر : 5 فروری منگل کو ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان

ان کا مزید کہنا تھا کہ شریف خاندان کے 5 اراکین پہلے ہی مفرور ہیں جبکہ پی ٹی آئی کہ رہنما اور صوبائی وزیر علیم خان جیل میں ہیں اور دیگر افراد نیب ریفرنس کا سامنا کررہے ہیں۔نیب کے ناکام چھاپوں پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے ندیم افضل چن کا کہنا تھا کہ ’ملک میں اب بھی اشرافیہ حقیقی احتساب سے مبرا ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں:   ایک لاکھ گھروں کی تعمیر اگلے ماہ اپریل میں شروع، لاہور پریس کلب کے ممبران کا دو فیصد کوٹہ مختص

دوسری جانب پنجاب کے وزیر صنعت میاں اسلم اقبال کا کہنا تھا کہ حمزہ شہباز کو بدعنوانی کے سنگین الزامات کا سامنا ہے اور 85 ارب روپے منی لانڈرنگ کے ذریعے باہر لے جانے کا الزام پنجاب کے میگا منصوبوں میں ہونے والی بدعنوانی کے حجم کے بارے میں بتاتا ہے۔