جعلی اکاؤنٹس کیس: نیب نے ریفرنس دائر کردیا، 60 کروڑ روپے کا پلاٹ نیب کے حوالے

اسلام آباد (زرائع) قومی احتساب بیورو (نیب) نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں پہلا عبوری ریفرنس دائر کردیا، جس میں 8 سینئر سرکاری عہدیداران اور نجی کمپنی کے ڈائریکٹر کو نامزد کیا گیا ہے۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت میں نیب کی پراسیکیوشن ٹیم کی جانب سے دائر کیے گئے ریفرنس میں درخواست کی گئی ہے کہ نامزد ملزمان نے کراچی میں بڑی پراپرٹیز خریدیں، جس کی رقم جعلی اکاؤنٹس سے ادا کی گئی، لہٰذا ان کا ٹرائل ہونا چاہیے۔

واضح رہے کہ ان ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے فلاحی مقاصد کے لیے مخصوص پلاٹس غیر قانونی طور پر الاٹ کیے اور اس کی وجہ سے قومی خزانے کو بڑا نقصان پہنچا۔

یہ بھی پڑھیں:   اندرونی و بیرونی چیلنجز جامع قومی ردعمل کا تقاضا کرتے ہیں،قمر جاوید باجوہ

نیب کی جانب سے دائر ریفرنس میں جن ملزمان کو نامزد کیا گیا ان میں کراچی میونسپل کارپوریشن (کے ایم سی) کے سابق ایڈمنسٹریٹر محمد حسین سید، کے ایم سی کے سابق میٹروپولیٹن کمشنر متانت علی خان اور کے ڈی اے کے سابق ڈائریکٹر سمیع الدین صدیقی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ دیگر نامزدگیوں میں ایڈیشنل ڈائریکٹر کے ایم سی سید خالد ظفر ہاشمی، سابق ڈائریکٹر کے ڈی اے ونگ کے ایم سی نجم الزماں شامل ہیں جو اس وقت جوڈیشل حراست میں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   سری لنکا میں 8 دھماکے، ہلاکتوں کی تعداد 290 تک پہنچ گئی

عدالت میں دائر ریفرنس میں شامل دیگر ملزمان میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر اے پی سی، کے ڈی اے ونگ کے ایم سی عبدالرشید، اسسٹنٹ ڈائریکٹر (نیلامی) کے ڈٰی اے ونگ کے ایم سی عبدالغنی اور پرتھینن کمپنی کے ڈائریکٹر یونس کڈواوی شامل ہیں۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق یونس کڈواوی نے نیب کو پلی بارگین کی پیش کش کرتے ہوئے 60 کروڑ روپے مالیت کے کراچی کے پلاٹ کے دستاویز پیش کردیے۔

یہ بھی پڑھیں:   وفاقی کابینہ میں ردوبدل، اسد عمر کو کابینہ کا حصہ رکھنے کا فیصلہ؟ شیخ رشید نے درخواست کردی

ذرائع کے مطابق یونس کڈواوی پر کراچی میں مندر اور لائبریری کی زمین کو غیر قانونی طور پر حاصل کرنے کا الزام تھا، جس کی موجودہ قیمت 60 کروڑ روپے کے قریب ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز نیب کے ایگزیکٹو اجلاس میں بدعنوانی کے 6 ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی تھی، جس میں سابق ایڈمنسٹریٹر کراچی میونسپل کارپوریشن محمد حسین سید اور دیگر کے خلاف ریفرنس بھی شامل تھا۔