امریکا اور طالبان مذاکرات: افغان حکومت کے نمائندوں کی شرکت کا امکان

واشنگٹن (زرائع) امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں ممکنہ طور پر شرکت کرنے والے افغان سیاستدانوں کے بڑے وفد میں افغان حکومت کے نمائندوں کی شرکت کا امکان ہے۔

زرائع کی رپورٹ کے مطابق سفارتی ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ افغان حکومت کے نمائندے افغان سیاستدانوں کے اس بڑے وفد میں شامل ہوسکتے ہیں، جو ممکنہ طور پر اپریل کے وسط میں دوحہ میں طالبان اور امریکا کے مذاکرات میں شرکت کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   امریکی صدارتی انتخابات، ہیلری نے پہلے مرحلے میں ہی ٹرمپ کو بڑی شکست دے ڈالی

اس حوالے سے طالبان کے ساتھ امریکی مذاکرات کے سربراہ زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ امن عمل میں افغان حکومت کا شامل ہونا لازمی ہے۔تاہم طالبان مسلسل افغان حکومت کے ساتھ براہ راست بات چیت سے انکار کرتے آرہے ہیں۔

ادھر واشنگٹن میں سفارتی مبصرین کہتے ہیں کہ اس معاملے کو حل کرنے کا ایک طریقہ ہے کہ افغان سیاستدانوں، قبائلی عمائدین، خواتین اور دیگر کے بڑے وفد میں حکومتی نمائندے شامل ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:   ایران میں کارگو طیارہ لینڈ نگ سے قبل ایئر پورٹ کی حدود پر بنی دیوار سے ٹکرا گیا

دوسری جانب ذرائع کا کہنا تھا کہ افغان حکومت کی جانب سے اب بھی طالبان کے ساتھ براہ راست بات چیت کا اصرار کیا جاسکتا ہے لیکن لگتا ایسا ہے کہ امریکا کی طرف سے طالبان کو اس بات پر قائل کرنا کامیاب نہیں ہوسکتا۔

علاوہ ازیں فارن پالیسی نیوز ویب سائٹ پر شائع ایک مضمون میں افغانستان کے سابق نائب وزیر خارجہ حکمت خلیل کرزئی نے بھی افغان حکومت کو تجویز دی ہے کہ وہ افغان عوام کے واحد نمائندہ ہونے پر اصرار نہ کریں۔

یہ بھی پڑھیں:   سعودی ولی کا دورہ بھارت، دونوں ملکوں کے درمیان 44 ارب ڈالر کے معاہدوں کا بھی امکان