لگتا ہے ملک میں کوئی جمہوریت نہیں جس کو چاہو پکڑو، خورشید شاہ

Spread the love

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے ملک میں کوئی جمہوریت نہیں جس کو چاہو پکڑو بعد میں پوچھا جائے گا۔ سندھ اسمبلی کے باہرمیڈیا سے بات کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ سندھ اسمبلی نے پاکستان کی قرارداد منظورکی تھی،

یہ بھی پڑھیں:   وزیراعظم کی ایران میں تقریر پر قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی

ہم نے جمہوریت اورعوام کے حقوق کے لیےکوششیں کی ہیں، لگتا ہے ملک میں کوئی جمہوریت نہیں جس کو چاہو پکڑو بعد میں پوچھا جائے گا۔

خورشید شاہ نے کہا کہ قانون کسی پارٹی کے لیے نہیں ملک کے لیے ہوتا ہے، حکومت نام لے، کس نے این آر او مانگا ہے، 2018 میں ہر پاکستانی ایک لاکھ 18 ہزار روپے کا مقروض تھا اور 2019 میں ہر پاکستانی پونے دو لاکھ کا مقروض ہے،

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان 27 جنوری کو صرف نمل یونیورسٹی میانوالی کے کنووکیشن میں شرکت کریں گے، جلسہ منسوخ

بجلی اور گیس کے بل دیکھ کرلوگوں کی چیخیں نکل گئی ہیں، حکومت نے ایک کروڑ نوکریوں اور 50 لاکھ گھروں کی بات کی لیکن کوئی منصوبہ بندی نظر نہیں آرہی، عمران خان پہلے وزیراعظم ہیں جو آئی ایم ایف کے پاس خود چل کر گئے ہیں۔

ایم کیو ایم پر تنقید کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ ایم کیوایم والے بچارے مجبور اور بےبس لوگ ہیں، جو حکومت آتی ہے ان کے ساتھ شامل ہوجاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ملتان میں پولیس تشدد سے ہلاکت پر وزیر اعلیٰ کا نوٹس