نیوزی لینڈ میں عالمی دہشتگردی؛ او آئی سی کا ہنگامی اجلاس طلب

اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ اسلام فوبیا کے سدباب کے لیے او آئی سی کا ہنگامی اجلاس 22 مارچ کو طلب کرلیا گیا ہے۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران وزیر خارجہ نے بتایا کہ نیوزی لینڈ دنیا کے پر امن ترین ملکوں میں سے ایک ہے.

کرائسٹ چرچ میں مساجد پر حملوں میں 50 افراد شہید ہوئے، دونوں مساجد میں 5 کلومیٹر کا فاصلہ ہے، جس نے حملہ کیا اس کا تعلق آسٹریلیا سے ہے، نیوزی لینڈ میں 4 گرفتاریاں ہوئی ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ نیوزی لینڈ واقعے میں کل 10 پاکستانی متاثر ہوئے، ہمارا ایک شہری شدید زخمی حالت میں اسپتال میں زیرعلاج ہے، ہمارے سفیر اور ڈپٹی ہائی کمشنر کرائسٹ چرچ میں موجود ہیں،

یہ بھی پڑھیں:   480 سے زائد بدعنوان افسران نیب کی رضاکارانہ رقم واپسی کی اسکیم میں شامل

اس کے علاوہ شہداء اور زخمیوں کی پاکستان میں فیملیز سے بھی رابطے ہوچکے ہیں۔ لاشوں کی شناخت مشکل مرحلہ تھا جو مکمل ہو چکا ہے۔ جاں بحق افراد کی میتیں پیر کو ورثا کے حوالے کی جائیں گی۔

6 پاکستانی شہدا کی تدفین ان کے اہل خانہ نیوزی لینڈ میں ہی کرنا چاہتے ہیں جب کہ 3 خاندانوں نے میتیں پاکستان لانے کی درخواست کی ہے۔ ایک شہید کی والدہ نے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے بیٹے کا چہرہ دیکھنا چاہتی ہیں، جس کے لیے انہوں نے وزارت خارجہ کو ویزے اور روانگی جلد ممکن بنانے کی ہدایت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   محافظ قاتل بن جائیں تو ملک قائم نہیں رہتے،حمزہ شہباز

وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ نعیم راشد کو یوم پاکستان کے موقع پر قومی اعزاز سے نوازا جائے گا، وزیراعظم نے فیصلہ کیا کہ واقعے پر پیر کو سوگ کے طور پر پاکستان کا پرچم سرنگوں رہے گا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میری ترکی کے وزیرخارجہ سے بات ہوئی ہے، ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ او آئی سی کا ہنگامی اجلاس بلایا جائے، او آئی سی کا ہنگامی اجلاس 22 مارچ کو استنبول میں ہوگا،

اجلاس کا مقصد مسلم امہ کو واقعے کے بعد اکھٹا کرنا ہے، اسلام فوبیا کے سدباب کے لیے مسلمان ممالک کے کردار پر بات ہوگی، میں او آئی سی اجلاس میں خود شرکت کروں گا۔

یہ بھی پڑھیں:   جعلی اکاؤنٹس کیس: آصف علی زرداری اور فریال تالپور کے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دائر

نیشنل ایکشن پلان سے متعلق شاہ محمود قریشی نے کہا کہ قومی سلامتی کا معاملہ سیاست سے بالاتر ہے، سانحہ پشاور کے بعد پوری قوم ایک پیج پر آئی، میں نے آصف زرداری کو ٹیلیفون کیا اور انہوں نے مثبت جواب دیا، میں نے شہباز شریف سے بھی رابطہ کیا اور ان کو اعتماد میں لیا ۔

نیشنل ایکشن پلان پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کریں گے، میں نے تمام پارلیمانی رہنماؤں کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا، تمام پارلیمانی رہنماؤں کو 28 مارچ کو اجلاس کی دعوت دوں گا۔