بھارتی فورسز نے ایک اور پاکستانی کو گرفتار کرلیا، 4 سال سے لاپتہ محمد اقبال بھارت کی حراست میں

سیالکوٹ(اآن لائن)بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورسز (بی ایس ایف) نے غلطی سے سرحد پار کرنے والے ایک اور پاکستانی کو گرفتار کرلیا ہے ،جس کا دماغی توازن درست نہیں۔بھارتی میڈیا نے دعویٰ ہے کیا کہ بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورسز (بی ایس ایف )نے 11 مارچ کو 46 سالہ محمد اقبال کو رحیم یار خان کے قریب سے گرفتار کیا اور اس کا شناختی کارڈ اور برآمد ہونیوالے کچھ بل ضبط کرلیے۔

ضبط کی گئیں دستاویزات کے مطابق محمد اقبال کا تعلق سیالکوٹ کی تحصیل ڈسکہ کے گاؤں کوریکی سے ہے جو سیالکوٹ سے 43 کلومیٹر دور ہے۔محمد اقبال کے والد محمد نواز جو ایک بھٹہ مزدور ہے، نے بتایا کہ اقبال کا ذہنی توازن درست نہیں اور وہ گزشتہ 4 سال سے لاپتہ تھا۔چناچہ کچھ مقامی لوگوں نے اقبال کے حوالے سے بھارتی اور ملکی ٹی وی چینلزپر خبریں نشر ہونے کے بعد اس کے اہلِخانہ کو آگاہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں:   وزیر دفاع پرویز خٹک نے مولانا فضل الرحمان سے ہونے والے مذاکرات کو ’ٹائم پاس‘ قرار دیدیا

محمد نواز کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے ہم اپنے بیٹے کے لاپتہ ہونے کا غم صبر سے برداشت کررہے تھے لیکن جب ہمیں یہ معلوم ہوا کہ وہ بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورسز کی حراست میں ہے اس وقت سے ہم مسلسل اذیت میں مبتلا ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پاکستانی اور بھارتی ٹی چینلز پر چلنے والی اپنے بیٹے کی تصویر دیکھ کر اسے پہچان لیا اب بس اس کی حفاظت کے لیے دعاگو ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   معاملات آخری مراحل میں داخل! مولانا’ ’کچھ دو اور کچھ لو‘‘کی بنیاد پر قائل . سعودی عرب کو کیا یقین دہانی کروادی؟

اس حوالے سے محمد اقبال کی والدہ کا کہنا تھا کہ بیٹے کے لاپتہ ہونے سے وہ پل پل مر رہی ہیں اور صرف وہی جانتی ہیں کہ کس طرح انہوں نے یہ 4 سال کا عرصہ گزارا ہے۔اس ضمن میں گاؤں کے باسیوں کا کہنا تھا کہ اقبال کا ذہنی توازن درست نہیں ہے اس لیے وہ کسی کیلئے خطرناک نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ہم تو چوروں اور ڈاکوؤں سے نجات دلانے کے لئے آئے ہیں ، غلام سرور خان

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جلد از جلد اس کی واپسی کی کوشش کی جائے جبکہ بھارت سے بھی اسے جذبہ خیر سگالی کے تحت رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔اہلخانہ کا کہنا تھا کہ انہیں نہیں معلوم کہ اقبال رحیم یار خان کے نزدیک بھارت میں کس طرح داخل ہوا۔