چیف جسٹس نے سیشن عدالتوں میں انداراجِ مقدمہ کی درخواستوں پر پابندی لگادی

اسلام آباد(کورٹ رپورٹر)چیف جسٹس پاکستان نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے پاکستان کی سیشن عدالتوں کا اندراج مقدمہ کی درخواستوں کی سماعت کا اختیار ختم کردیا۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اندراج مقدمہ سے متعلق سیکشن 22 اے 22 بی ختم کردی

جس کے بعد عدالتوں سے مقدمات کا بوجھ کا کم ہونے لگا اور سائلین اب اندراج مقدمہ کے لئے عدالت نہیں آسکیں گے۔ چیف جسٹس پاکستان کے فیصلے کے بعد سیشن جج لاہور نے نیا نوٹی فکیشن جاری کردیا

یہ بھی پڑھیں:   حکومت کا شہباز شریف سے پی اے سی کی سربراہی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

جس کے تحت سائلین کو اب اندراج مقدمہ کے لیے ’ڈسٹرکٹ کمپلینٹ ادارے‘ سے رجوع کرنا پڑے گا۔ ڈسٹرکٹ کمپلینٹ سیل ایس پی کی سربراہی میں قائم کیا جائے گا۔

چیف جسٹس نے قومی جوڈیشل پالیسی کے اجلاس میں سیکشن 22 اے 22 بی کے خاتمہ کی منظوری دی تھی، جس کے نتیجے میں لاہور کی سیشن عدالتوں نے 15ہزار سے زائد درخواستیں آدھے گھنٹے میں نمٹادیں جب کہ اندراج مقدمہ کے کیسز کی سماعت کرنے والے ججز سے درخواستیں فوری واپس لے لی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں:   عوام کے پیسے پر بادشاہت کے نظام کا خاتمہ ، ڈومور کہنے والا امریکہ افغانستان کیلئے مدد مانگ رہاہے:وزیر اعظم کا کام نہ کرنے والے وزراءکو نکالنے کا عندیہ

واضح رہے سیکشن 22 اے 22 بی کے تحت مقدمہ کے اندراج کے لیے لاہور میں روزانہ 100 سے زائد درخواستیں دائر ہوتی تھیں