480 سے زائد بدعنوان افسران نیب کی رضاکارانہ رقم واپسی کی اسکیم میں شامل

کراچی (زرائع) سندھ ہائیکورٹ میں صوبائی انتظامیہ نے بتایا ہے کہ مختلف محکموں کے 480 سے زائد افسران بدعنوانی کے مقدمات میں نامزد کیے جانے کے بعد قومی احتساب بیورو (نیب) کی رضاکارانہ رقم واپسی کی اسکیم میں شامل ہوگئے ہیں۔

عدالت میں سروسز، جنرل ایڈمنسٹریشن اور کو آرڈینیشن ڈپارٹمنٹ (ایس جی اے اینڈ سی ڈی) کے سیکریٹریز کی جانب سے جمع کروائی گئی تعمیلی رپورٹ کے مطابق تعلیم اور خواندگی کے محکمہ کے 311 افسران و ملازمین سرفہرست ہیں، جو رضاکارانہ واپسی اسکیم میں شامل ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   سپریم کورٹ نے مرغی چوری کے الزام میں گرفتار ملزم کی درخواست ضمانت مسترد کردی

یہ رپورٹ سندھ ہائی کورٹ کے پہلے دیے گئے فیصلے کی روشنی میں جمع کروائی گئی، عدالت کی جانب سے یہ بھی کہا گیا تھا کہ جو عہدیدار رضاکارانہ واپسی اسکیم میں شامل یا ادائیگی نہیں کردیتے، تو اس وقت تک وہ متعلقہ عوامی عہدہ نہیں رکھ سکتے جب تک ان کے خلاف شروع کی گئی محکمانہ کارروائی مکمل نہیں ہوجاتی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ متعلقہ محکموں کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ تادیبی کارروائی کا آغاز کریں، اس طرح کی رپورٹ مئی میں جمع کروائی گئی تھی، ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ متعلقہ محکموں کی جانب سے حکم پر عمل درآمد کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ہائیکورٹ نے صوبائی وزیرماحولیات کو نیب کے سامنے پیش ہونے کا حکم دے دیا

عدالت کو مزید بتایا گیا کہ بلدیاتی حکومت کے 50 افسران، آبپاشی کے 27، خوراک کے 26، فنانس اور ورکس اور خدمات کے محکموں کے 15، 15 افسران رضاکارانہ واپسی اسکیم میں شامل ہوئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اسکول کی تعلیم اور خواندگی کے محکمے میں 4 افراد پر بڑے جرمانے، 16 کو چھوٹی سزائیں ہوں گی جبکہ 27 افسران ریٹائر یا انتقال کرچکے ہیں جبکہ 264 کے خلاف کارروائی زیر التوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   چین نے مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کے معاملے پرمثبت پیش رفت ہونے کا اشارہ دے دیا

تاہم رپورٹ میں بلدیاتی حکومت کے افسران کے خلاف کی گئی کارروائی کی تفصیل موجود نہیں جبکہ محکمہ آبپاشی کے 11 افسران پر بڑے جرمانے اور 5 افسران کو چھوٹی سزائیں دی گئیں جبکہ 7 کے خلاف کارروائی زیر التوا ہے اور 4 یا تو ریٹائر ہوگئے یا ان کا انتقال ہوگیا۔

اسی طرح محکمہ خوراک کے 17 افسران پر بڑے جرمانے اور 8 کو چھوٹی سزائیں دی گئیں، اس کے علاوہ ایک درخواست زیر سماعت ہے جبکہ 17 یا تو ریٹائر ہوگئے یا انتقال کرچکے ہیں۔