گواہی میں اتنا جھوٹ، 12 سال بعد ملزمان کو بری کردیا

Spread the love

اسلام آباد (زرائع) چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے جھوٹی گواہی سے متعلق مزید ایک کیس میں ریمارکس دیے ہیں کہ مرنے والا اور مارنے والا سب فارغ ہوجائیں گے، مقدمے میں قصورعدالت کا نہیں گواہ کا ہوگا۔چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے قتل کے مقدمے کی سماعت کی۔

دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ عبداللہ ناصر اور طاہرعبداللہ پر 2007 میں محمد صدیق کے قتل کا الزام تھا، ٹرائل کورٹ نے دونوں ملزمان کو سزائے موت دی اور ہائیکورٹ نے سزا عمر قید میں بدل دی۔

یہ بھی پڑھیں:   سکیورٹی چیلنجز ،پاکستان کاایران کیساتھ سرحد پر بھی باڑ لگانے کا فیصلہ

عدالت نے مزید ریمارکس دیئے کہ واقعے کے دوران عبدالمجید زخمی ہوا جس کے مطابق وہ آدھا گھنٹہ زمین پر پڑا رہا، گواہ کی اس بات پریقین کرنا ناممکن ہے کیوں کہ گواہ نے عدالت میں کچھ اور بیان دیا، جس میں قتل کا محرک زمین بتایا گیا جبکہ ریکارڈ میں واضح نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ 2020 کی میزبانی پاکستان کو مل گئی

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ مرنے والا اور مارنے والا سب فارغ ہوجائیں گے قصور عدالت کا نہیں گواہ کا ہوگا، گواہی میں اتنا جھوٹ شامل تھا کہ یقین کرنا مشکل لگا۔ عدالت نے گواہوں کے بیانات میں تضاد پر 12 سال بعد دونوں ملزمان کو بری کردیا۔

یہ بھی پڑھیں:   اسد عمر کا وزیر خزانہ کے عہدے سے استعفیٰ، عمران خان بڑی مشکل میں پھنس گئے

یکم مارچ کو سپریم کورٹ نے 52 مرتبہ سزائے موت پانے والے ملزم صوفی بابا کو بری کردیا تھا۔اس سے قبل 12 فروری کو سپریم کورٹ نے قتل کے الزام میں عمر قید کا سامنا کرنے والے ملزم اسفند یار کو جرم ثابت نہ ہونے پر 10 سال بعد بری کردیا اور مجسٹریٹ کے رویے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے، انہیں ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔