ملکی معیشت 8 سال کی بدترین سطح پر پہنچ گئی

اسلام آباد (زرائع) پاکستان کا مالی خسارہ حکومت کے مالی حالت درست سمت میں ہونے اور سادگی اپنانے کے دعوؤں کے باوجود گروس ڈومیسٹک پروڈکٹ (جی ڈی پی) کے 2.7 فیصد سے بھی زیادہ ہوچکا ہے جو 8 سال کی بلند ترین سطح ہے۔

اخراجات اور ریوینیو دونوں میں تقریباً تمام بڑے مالی اشاریے (انڈیکیٹرز) کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں گزشتہ سال کے اسی دوران کے مقابلے میں تنزلی کا شکار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کرنے پر 3ماہ قید کی سزا سنا دی

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری ہونے والے مالی آپریشنز کے اعدادوشمار کے مطابق جولائی سے دسمبر 2018 کے دوران کا مالی خسارہ 10 کھرب 29 ارب روپے ہے جو گزشتہ سال کے اسی دورانیے سے 30 فیصد زیادہ ہے۔

ملک میں 11-2010 سے اب تک اتنا زیادہ خسارہ ریکارڈ نہیں کیا گیا جبکہ حکومتی ریوینیو اور اخراجات میں خلا جی ڈی پی کی 2.9 فیصد پر رہی، جو 490 ارب روپے بنتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے وزیر خزانہ اسد عمر کے تمام بیانات کو مسترد کردیا

واضح رہے کہ ملک کا مالی خسارہ 13-2012 کے دوران 2.6 فیصد رہا تھا اور 12-2011 اور 17-2016 کے دوران یہ 2.5 فیصد رہا تھا۔