صدام حسین اور ان کی باقیات کی املاک قبضے میں لینے کے لیے قانون سازی

دبئی(مانیٹرنگ ڈیسک)عراق کی کابینہ نے منگل کے روز اجلاس میں سابق مصلوب صدر صدام حسین اور ان کی حکومت میں شامل رہنے والی اہم شخصیات کی املاک بہ حق سرکار ضبط کرنے کے لیے قانون میں ترمیم کی منظوری دی ہے۔ عراق کے مقامی ذرائع کے مطابق قانون میں ترمیم کے ذریعے صدام حسین اور ان کی حکومت میں شامل رہنے والی شخصیات کی منقولہ اور غیرمنقولہ جائیداد حکومت کی تحویل میں لی جاسکے گی۔

یہ بھی پڑھیں:   ڈچ سیاستدان گیرٹ وائلڈر کے ساتھی نے اسلام قبول کرلیا

عراقی وزیراعظم کے دفتر سے جاری ایک بیان میں‌کہا گیا ہے کہ کابینہ نے آئین کی دفعہ 72 مجریہ 2017ء میں ترمیم کی منظوری دی ہے جس کے بعد سابق صدر صدام حسین کے دور کی املاک بہ حق سرکار ضبط کی جاسکیں گی۔

کابینہ سے منظوری کے بعد یہ ترمیم پارلیمنٹ میں بحث اور رائے شماری کے لیے پیش کی جائے گی۔ حکومت نے گذشتہ برس مارچ میں کالعدم بعث پارٹی کے 4 ہزار 257 رہ نمائوں اور سابق عہدیداروں کی املاک ضبط کرنے پر زور دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   ٹرمپ کی نافذ کردہ نیشنل ایمرجنسی کے فیصلے کی منسوخی کا امکان

ان میں 52 ایسے نام بھی شامل ہیں جو یا تو فوت ہوچکے ہیں، یا جیل میں‌ یا انہیں پھانسی دے دی گئی تھی۔