بسنت کی حقیقت۔ اور قاتل ڈور

تحریر:ابو فیصل محمد منظور انور

بسنت کا تہوار لاہور میں ایک ہندوگستاخِ رسول کو جہنم واصل کرنے کے بعد اس کی یاد میں ہندﺅ ں نے منایاتھا ایک ہندو مورخ ڈاکٹر بی ایس نجار (Dr.B.S.Nijjar) نے اپنی کتاب Punjab under the later Mughalsکے صفحہ نمبر 279 پر لکھا ہے کہ:حقیقت رائے باگھ مل پوری سیالکوٹ کے ایک ہندو کھتری کا اکلوتا لڑکا تھا۔ حقیقت رائے نے حضرت محمدﷺ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شان میں انتہائی گستاخانہ اور نازیبا الفاظ استعمال کیے۔ اس جرم پر حقیقت رائے کو گرفتار کرکے عدالتی کارروائی کے لیے لاہور بھیجا گیا جہاں اسے سزائے موت کا حکم سنادیا گیا۔ اس واقعے سے پنجاب کے ہندﺅں کو شدید دھچکا لگا اور کچھ ہندو افسر سفارش کے لیے اس وقت کے پنجاب کے گورنر زکریا خان) 1707ءتا 1759ء)کے پاس گئے کہ حقیقت رائے کو معاف کر دیا جائے لیکن زکریا خان نے کوئی سفارش نہ سنی اور سزائے موت کے حکم پر نظر ثانی کرنے سے انکار کر دیا۔ لہذا اس گستاخ رسول کی گردن اڑادی گئی۔ اس پر ہندﺅں میں صف ماتم بچھ گئی۔ ہندوں نے حقیقت رائے کی ایک مڑہی (یادگار)قائم کی جو کوٹ خواجہ سعید(کھوجے شاہی) لاہور میں واقع ہے اور اب یہ جگہ باوے دی مڑہی کے نام سے مشہور ہے۔ اس مقام پر ایک ہندو رئیس کالو رام نے حقیقت رائے کی یاد میں اس کی موت کے دن کو ایک میلے کی شکل دی اور ہر سال بہار کے موسم میںبسنت میلے کا آغاز کیا پنجاب کا بسنت میلہ اسی حقیقت رائے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔بیسویں صدی۔ (1905-10) کی پہلی دہائی میں، تین بنگالی مصنفین نے اپنے مضامین کے ذریعے حقیت رائے کی موت کی افسانوی مقبولیت میں اضافہ کیا۔ہندو معاشرے میں بسنت کا تہوار اسی ملعون حقیقت رائے کی یاد میں بھارت، بنگلہ دیشی، نیپال اور دیگر ممالک میں بڑے پیمانے پر منایا جاتا ہے ہندو ں میں بسنت کے اس دن میں بچے کی تعلیم شروع کرنے کا ایک رواج ہے خوشی کے اظہار کے لیے نئے کپڑے پہنے جاتے ہیں اور پتنگیں اڑائی جاتی ہیں اور موسیقی سے لطف اندوز ہوا جاتا ہے۔ہندﺅںکے دیکھا دیکھی ہندوستان کے دیگر مذاہب کے افراد بھی ثقافت کی آڑ میں اب یہ تہوار مناتے ہیںپاکستان میں سابقہ سالوں میںبسنت میلہ کے موقع پر پتنگ بازی کو سرکاری سرپرستی حاصل ہو گئی تھی اور یہ ایک خونی کھیل بن کر رہ گیا پتنگ اڑانے اور لوٹنے والے سینکڑوں افراد حادثات کا شکا رہوئے گلے میں ڈور پھرنے سے کئی شہری اپنی جانوں سے گئے یا پھر زخمی ہو کر اپاہج بن کر رہ گئے پتنگ بازی کے باعث بجلی کے تار بار بار جلتے اور کٹتے رہے اوربجلی کی ٹرپنگ و بندش ہوتی رہی ایسے واقعات کے بعد عوامی بھر پور احتجاج پر 2007ءمیں بسنت پرپابندی عائد کردی گئی تھی جس پر عوام نے شکر ادا کیا تھا۔ ملک کو ریاست مدینہ بنانے کی دعویدار حکومت کے دورمیں بسنت ایسے غیراسلامی تہوار کو منا ئے جا نے کی اطلاعات کے باعث عوام میںشدید اضطراب اور غم وغصہ پایا جاتا ہے بسنت توتوہین رسالت کے مجرم کی یاد میں منایا جا تا ہے مگر افسوس کہ ہمارا میڈیا اور روشن خیال طبقہ اس واقعہ کی اصل حقیقت کو فراموش کرکے اسے ایک ثقافت کا رنگ دے کرمنانے پر اصرار کر تا رہا ہے کچھ مذہب بیزار اورخاص طور پر مغرب سے متاثرہ ہ افراد کو توگھروں سے باہر نکل کر موج مستی اور ہلہ گلہ کرنے کا بہانہ چاہیے۔ بسنت تہوارمنانا تو ایک بہانہ ہے در اصل ان عناصر کو ہندوں کی طرز پر رقص و سرود کی محفلیں سجانے، ناچنے گانے غل غپاڑہ کر نے اور رنگ رلیاں منانے کا موقع ملتا ہے اسی لئے وہ بسنت میلے کوہر صورت منانے پر مصر ہیں چاہے اس کے لئے ظالم دھاتی اور کیمیکل ڈور سے گلے کاٹے جانے کے باعث سینکڑوں گھروںمیں صف ماتم ہی نہ بچھ جائے ؟ کتنے افراد موت کے منہ کیوں ہی نہ چلے جائیں۔؟ حالیہ دنوں میں پتنگ بازی میں استعمال ہونے والی ڈور کے گلے پر پھرنے نتیجے میںمتعدد اموات ہو چکی ہیں۔جو ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے ؟ ۔۔کہ ہم ٹھنڈے دل سے غور کریں کہ کہیں شعوری یا غیر شعوری طو رپر ایک گستاخِ رسول کی یاد میں منعقد کیے جانے والے بسنت میلہ میں شریک ہو کر ہم توہین رسالت کا ارتکاب تو نہیں کر رہے؟ کیا ہم ہندوں کے مذہبی تہوار کو منا کر دوسری قوموں سے مشابہت کے گناہ کا اِرتکاب تو نہیں کر رہے؟ کیا ہمارا بسنت منانے کا طور طریقہ لہو و لعب کی تعریف میں شامل تو نہیں ہے؟ بسنت کے نام پر رقص و سرور، ہلڑ بازی، ہا ہو،شورشرابہ اور فائرنگ وغیرہ مہذب قوموں کا شعار نہیں ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمررضی اللہ کی روایت کے مطابق : “محمدﷺ نے فرمایا: جو کوئی بھی لوگوں کی تقلید کرتا ہے وہ ان میں سے ایک ہے۔ابو داﺅد۔۔۔ بسنت ایک خونی کھیل بن چکا ہے جس کے جانی و مالی نقصانات ہیں آج بسنت کے تہوار کاجو منظر سامنے آتا ہے یہ میلہ بالکل فحاشی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ہمارے فضول قسم کے اضافی اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے اس میلے کے دوران اسلام کی حدود کا احترام نہیںکیا جاتا ہے۔ اس میں قطعی طور پر شریک نہیں ہو نا چاہئے ۔اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھ عطا فرمائے۔
متاع دین و دانش لٹ گئی اللہ والوں کی
یہ کس کافر ادا کا غمزہ ءخوں ریز ہے ساقی!

یہ بھی پڑھیں:   اسٹیٹ آف دی یونین خطاب - بابر ستار