فلسطینیوں کے لیےUSAID کی امریکی امداد سرکاری طور پرروک دی گئی

Spread the love

دبئی(العربیہ ڈاٹ نیٹ)بین الاقوامی ترقی کے لیے امریکی ایجنسیUSAID نے مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ پٹی میں فلسطینیوں کے لیے اپنی تمام امداد روک دی ہے۔ یہ بات جمعے کے روز ایک امریکی عہدے دار نے بتائی۔

اس سے قبل دہشت گردی سے متعلق نئے امریکی قانون میں مقرر کی گئی مہلت 31 جنوری کو ختم ہو گئی۔ قانون کے تحت امریکی امداد حاصل کرنے والے غیر ملکیوں کو انسداد دہشت گردی کے سلسلے میں عدالتی کارروائیوں کا زیادہ سامنا ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں:   کرائسٹ چرچ میں مساجد پر دہشتگرد حملوں میں 50 نمازیوں کی شہادت کے بعد بہترین حکومتی اقدامات سے دنیا بھر مقبول ہونے والی کیوی وزیراعظم کی دو منٹ کی ویڈیو دنیا بھر میں وائرل

مذکورہ مہلت فلسطینی سکیورٹی فورسز کے لیے 6 کروڑ ڈالر کی امریکی امداد سے بھی متعلق ہے۔

نئے قانون کے تحت امریکی شہری امریکی امداد وصول کرنے والے غیر ملکیوں کے خلاف اُن کے جنگی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے دعوے کی بنیاد پر امریکی عدالتوں میں مقدمات دائر کر سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   تیز رفتار ی کے تمام ریکارڈ توڑنے والا ”ارمانڈو“21کروڑ روپے میں نیلام

فلسطینی اتھارٹی قانونی خطرات کے اندیشے کے سبب مزید امریکی فنڈنگ وصول کرنے سے انکار کر چکی ہے۔

امریکی عہدے دار کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کی درخواست پر مخصوص منصوبوں اور پرگرواموں کو ختم کر دیا گیا ہے جن کی فنڈنگ مغربی کنارے اور غزہ پٹی میں امداد کے ذریعے عمل میں آ رہی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   مودی سرکار مسلمانوں کو بے دخل کرنے کے لیے ”اسرائیلی ماڈل“پر عمل پیرا

عہدے دار نے بتایا کہ فی الحال فلسطینی اراضی میں یو ایس ایڈ ایجنسی کے مشن کا دفتر بند نہیں کیا جا رہا ہے اور مشن کے اہل کاروں کو بیت المقدس میں امریکی سفارت خانے میں متعین کرنے کا بھی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

Related

فلسطینیوں کے لیےUSAID کی امریکی امداد سرکاری طور پرروک دی گئی” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں