شہید کی جو موت ہے ۔وہ قوم کی حیات ہے

تحریر :محمد طاہر تبسم دورانی
زندگی سب کو پیاری ہوتی ہے کیونکہ زندگی صرف ایک بار ملتی ہے ، ہر انسان اس کو کامیابی کے ساتھ گذارنے کا خواہشمند ہوتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا’’ ہم نے ہر انسان کو احسن طریقے سے پیدا فرمایا‘‘ لیکن یہ کون لوگ ہوتے ہیں جو دوسروں کی زندگیوں کو بچانے کے لیے اپنی زندگیوں کو قربان کر دیتے ہیں ؟ بحیثیت انسان کبھی ہم نے یہ سوچا کیا یہ لوگ چند روپوں کی خاطراپنی زندگیوں کو قربان کر دیتے ہیں کیا اِ ن کا مقصد شہرت ہوتا ہے ؟ جب ہم عیش و آرام کے ساتھ سردیوں میں گرم لحافوں میں چھپ کر چائے کافی کی چُسکیاں لے رہے ہوتے ہیں یہ جری جوان ٹھٹھرتی سردی میں اپنوں سے دور اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہوتے ہیں ۔عیش و عشرت اور کمسنی کی عمر میں وہ سرحدوں پر کھڑے ملک و ملت کی خدمت کر رہے ہوتے ہیں ۔ والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک بہن بھائیوں کے دل کا سکون ایک بھائی جب جُد ا ہو کر ہمیشہ کے لیے اللہ کے پاس چلا جاتا ہے تو یہ درد وچھوڑا دل پر بہت گہرے نقوش چھوڑ جاتا ہے ، گھر کا گھر ویران اور سُونا لگتا ہے ۔ ماں کی تو دنیا ہی اُجڑ جاتی ہے ۔ بیوی ساری زندگی یادوں کے سہارے گزارتی ہے ۔وہ یہ سب کچھ کس کے لیے برداشت کرتے ہیں ؟صرف قوم کو حیات دینے کے لیے ۔ قوم کو زندگی دینے کے لیے ، قوم کو امن سکون اور آشتی دینے کے لیے ۔
ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ وہ قوم کا بیٹا اپنے آج کو قوم کے مستقبل پر قربان کر کے امن کی شمع روشن کر جاتا ہے تو کیا قوم کا کوئی حق ، فرض نہیں بنتا کہ وہ اپنے ان شہداء کو خراج عقیدت پیش کریں ، اُن کے والدین کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں ، اُن والدین کی ڈھارس باندھیں ۔ کیا انِ ہیروز کے دن منانا ، یاد کرنا فوج کا کا م ہے اپنے علاقے کے ڈی پی او، یا متعلقہ سیاسی و سماجی لوگوں کا کام نہیں بنتا کہ اپنے اِن ہیروز کی یاد میں ایک دن منائیں ۔وہ قومیں کبھی ترقی نہیں کرتیں جو اپنے محسنوں کو فراموش کر دیتی ہیں ، اپنے ہیروز کو بھول جانے والے دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہوتے ۔پاکستان عرصہ دراز سے دہشتگردی کی جنگ میں اپنے کئی بہادر سپوتوں کو قربان کر چکا ہے ۔ پاک فوج کا کردار قابل ستائش و صد احترام ہے جتنی قربانی پاک فوج کے جوانوں نے دیں اتنی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی ۔
ننکانہ صاحب صوبہ پنجاب کا ایک ضلع شیخوپورہ میں واقع ہے ۔تاریخ کے لحاط سے یہ ایک چھوٹا سا شہر بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔ یہاں پر سکھوں کا سب سے بڑا ’’گُرد وارہ موجود ہے ۔ اگر تاریخ کے اوراق الٹائیں تو پتہ چلتا ہے کہ ننکانہ صاحب میں سکھ مذہب کے پہلے گُرو نے یہاں جنم لیا۔یعنی کہ سکھ مذہب کا آغاز یہاں سے ہوا، اس لیے سکھ برادری ننکانہ صاحب کو مذہبی اعتبار سے بہت اہمت کا حامل سمجھتی ہے اور اُن کے لیے یہ جگہ بہت معتبر ہے وہ اس جگہ کو اپنا’’ کعبہ ‘‘ قرار دیتے ہیں ۔ مورخین اس جگہ کوپاکستان کی آزادی سے پہلے ’’ بوئی دی تلونڈی ‘‘ کے نام سے بتاتے ہیں ۔ اسی جگہ پر سکھوں کے گُر و کا بچپن جوانی گذری۔اسی جگہ سکھوں کا سب سے بڑا گُردوارہ قائم ہے جہاں وہ اپنے مذہبی رسومات ادا کرنے کے لیے آتے ہیں ۔ پاکستان کے معرضِ وجو د میں آنے کے بعد یہ حصہ پاکستان کے حصے میں آگیا۔حکومت پاکستان نے ہندوستان سے آنے والے سکھوں کو یہاں آنے کی اجازت دے رکھی ہے ۔ یہاں ہر سال ہزاروں کی تعداد میں سکھ اپنی عبادت کے لیے جمع ہوتے ہیں اور یہ تعداد دن بدن بڑھتی جا رہی ہے ۔اسی سر زمین پر دھرتی کا ایک عظیم سپوت 12 فروری 1992ء کو سکول ٹیچر ملک محمد نواز گوہر کے ہاں پیدا ہوا۔ ملِک فیملی سے تعلق رکھنے والا یہ نوجوان بچپن سے ہی الگ طبیعت کا مالک ، سادہ صاف گو، ہنس مُکھ اور یاروں کا یار تھا ۔ والد محترم ملک محمد نواز گوہر نے اپنے لا ل کا نام محمد الا حسنین نواز رکھا۔ ابتدائی تعلیم ننکانہ صاحب کے ایم سی ہائی سکول سے حاصل کی اور میٹرک کرنے کے بعد ایف ایس سی کے لیے گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج ننکانہ صاحب میں داخلہ لیا ۔یہاں پر بھی کیپٹن حسنین نواز اپنی مثال آپ ہی تھا ۔ وہ کمال کا لکھاری تھا،بیڈمنٹن کا بہترین کھلاڑی ۔سکول کالج یونیورسٹی پر سٹیج پر حکومت کرنے والا کمال سلجھا ہوا انسان تھا۔اپنے دوستوں میں بہت چاہت اور محبت رکھنے والا انسان تھا ، شیخ وحیب اور سلمان کا بہترین دوست تھا یہ دوست آج بھی اپنے یار دوست کیپٹن حسنین کو یاد کرتے اور روتے ہیں اکثر اوقات کیپٹن کی آخری آرام گاہ پر حاضری دینے جاتے ہیں اور فاتحہ خوانی کر کے اپنے دوست کے درجات کی بلندی کی دعا کرتے ہیں۔
ایف ایس سی کرنے کے بعد(NUST)نسٹ یونیورسٹی اسلام آباد میں الیکٹریکل انجینئرنگ میں داخلہ لیا۔اُن کے والد محترم نواز صاحب نے انٹرویو میں بتایا کہ اُن کا بیٹا بہت ہونہار طالب علم تھا وہ ہر مضمون میں اول آتا تھاسی جی پی اے بہت اچھا لیتا تھااور سب سے مزے کی بات کہ وہ کبھی والدین پر بوجھ نہ بنا ۔وہ اتنا لائق طالبعلم تھا کہ اُسے جو وظیفہ ملتا اُسی سے اپنے تعلیمی اخرجات پورے کر لیتااور کم ہی والدین کو پیسوں کی فرمائش کرتا تھا۔الیکٹریکل کی ڈگری کے ساتھ اُسے گولڈ میڈل بھی ملا تھا ۔ پڑھائی کے ساتھ ساتھ وہ دوسری سرگرمیوں میں بھی بہت کمال مہار ت رکھتا تھا ۔ اُس نے ہار مونیم کی خصوصی طور پر تربیت حاصل کر رکھی تھی بہترین طبلہ نواز اور طبلہ کی ٹریننگ ایک ماہر استاد سے حاصل کی بہترین گلوکار بھی تھا اکثر اوقات ہارمونیم کے ساتھ گانا گاتا تھا۔وہ نبی اکرم حضرت محمد ﷺ کی مدحا خوانی بھی کرتا تھا اور کئی انعامات ، شیلڈز حاصل کرتا تھاالغرض وہ ایک کمال شخصیت کا مالک تھا ۔ کھانے میں اجوائن گوشت، چکن روسٹ کا دلدادہ تھااور گھر میں بنے کھانے پسند کرتا تھا، رس گلے ، گلاب جامن کو بھی شوق سے کھاتا تھا اپنی یونٹ میں فٹ بال ٹیم کا کپتان تھا۔مزاج کا کما ل انسان ، تین بھائیوں میں سب سے بڑا بھائی تھا، اپنی ماں کے ساتھ بہت زیادہ منسلک تھا اس لیے ماں اب اپنے پیارے بیٹے لختِ جگر کو بہت یاد کرتی اور روتی ہے ۔
الیکٹریکل کی ڈگری مکمل کرنے کے بعد اُ س نے اپنی خواہش کی تکمیل اور وطن کے ساتھ محبت میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا اور یوں 2014ء میں بطو ر ڈائریکٹ کیپٹن کا امتحان پاس کرنے کے بعد 92 سگنل بٹالین میں شمولیت اختیار کی(بحیثیت انجینئر کمیشن حاصل کیا)۔شہادت سے پہلے میجر کی ٹریننگ مکمل کر چکے تھے ، لیکن جو اللہ کو منطور تھا وہی ہوا ، کوئی نہیں جانتا تھا کہ اس کم سن جوان کو اللہ نے قبول فرما لیا ہوا ہے اور وہ اللہ کے اُن عظیم المرتبہ بندوں کی صف میں کھڑا ہونے جار ہا ہے جس کی خواہش ہر فوجی کی ہوتی ہے لیکن کس کے نصیب میں ہوتی ہے یہ کوئی نہیں جانتا ۔جب بیٹا فوج میں شامل ہوا تو باپ نے بیٹے کو نصیحت کی’’بیٹا تم آفیسر بن گئے ہو، الحمد اللہ، کبھی کسی ماتحت کو گالی مت دینا، اُسے برا بھلا مت کہنا، کبھی سگریٹ نوشی نہ کرنا، الکوہل کے قریب بھی مت جانا اور اگر اپنے ملک کو ضرورت پڑے تو اپنی جان کی پرواہ مت کرنا‘‘ جس پر بیٹے نے ایک نیک اولاد ہونے کا ثبوت دیا ۔ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ اتنا شفیق اور مہربان تھا کہ ایک مرتبہ ایک حوالدار کا کوئی کیس پھنسا ہوا تھا جو کیپٹن نے حل کروایا۔’’ کھانا کھانے کے لیے میس پر جاتا تو کُک کو ویری گڈ کہتا ‘‘ اور حوصلہ بڑھاتا۔فوج میں شمولیت کے بعدوالدین نے کیپٹن حسنین کی شادی ایک صاحب علم و دانش خاتوں جنہوں نے پی ایچ ڈی میتھ کر رکھا ہے (ڈاکٹر ) سے کر دی جس سے اللہ کریم نے ایک خوبصورت بیٹے سے نوازا۔
شہادت سے قبل پاک فوج نے ایک آپریشن شروع کررکھا تھا جس کے ذریعے ایک کینڈین فیملی کو دہشتگردوں سے بازیاب کرایا گیا تھا یہ کینڈین فیملی دس ۔ بارہ سال سے قید میں تھی جہاں ان کے دو بچے بھی پیدا ہوئے جن میں ایک بچہ فوت بھی ہو گیا تھا کیپٹن نے اپنی بہترین حکمت عملی اور فرض شاسی کاثبوت دیتے ہوئے اپنی ذمہ داری پوری کی۔’’ کیپٹن کے والد کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے بھی پاک فوج اور کیپٹن حسنین کی بہادری کی تعریف کی‘‘ ، پاک فوج کے آپریشن کے دوران کچھ بُز دل دہشتگرد بھاگ کر چھپ گئے تھے اِن دہشتگردوں کی تلاش کے لیے کیپٹن حسنین کو ٹاسک دیا گیا ۔اِن دنوں کیپٹن حسنین کی طبعیت بھی ناساز تھی (کڈنی میں درد تھا) اور وہ بیڈ ریسٹ پر تھے ، اُن کے آفیسر کرنل شاہد منظور صاحب نے کہا’’ وہ ایک فرض شناس، سلجھی شخصیت کا مالک اور کمال کا انسان تھا۔اُس کے جانے کے بعد پوری یونٹ غم ذدہ ہے ۔
15 اکتوبر 2017 اتوار کا ایک دن جب پاک فوج نے کرم ایجنسی میں دہشگردوں کے خلاف کاروائی شروع کی جس میں پاک فوج کے جوانوں نے دہشتگردوں کو کافی نقصان پہنچایا۔ دشمن سے نبرد آزما ہمارے فوجی جوان قابل صد ستائش و احترام ہیں ایک عام آدمی کو سکون اور چین دینے کی خاطر اپنی زندگیوں کو قربان کر دیتے ہیں ۔یہ جذبہ ایمانی خاص لوگوں کو نصیب ہوتا ہے ۔اس آپریشن میں پاک فوج کے جوانوں کو بہت کامیابی نصیب ہوئی کچھ دہشتگرد بھاگ کر افغانستان بارڈر کی جانب چلے گئے ، خرلاچی کے مقام پرسہولت کاروں کی تلاش کا کام شروع کیا اور کامیابی نے پاک فوج کے جوانوں کے قدم چومے اور کافی دشمن جہنم واصل بھی ہوئے ۔ بم ڈسپوزل ٹیم اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہی تھی کہ اسی دوران ایک دھماکہ ہوا جس میں پاک فوج کے جوان زخمی ہوگئے کیپٹن حسنین اپنے جوانوں کو اٹھانے کے لیے آگے بڑھے اور اپنے جوانوں کو ریسکیوکرنے لگے کہ دوسرا دھماکہ ہو گیا لیکن کیپٹن اپنے زخمیوں اور شہداء کو اٹھانے میں مصروف رہے ، اسی دوران ان کے ساتھیو ں نے منع کیا سر آپ آگے نہ جائیںآپ کی جان کو خطرہ ہے جبکہ دو دھماکے ہو چکے ہیں تیسرا بھی ہو سکتا ہے لیکن انہوں نے کہا ’’ یہ کیسے ممکن ہے کہ میں اپنے سولجرز ، اپنے جوانوں کے چھوڑ کر اپنی جان بچانے کے لیے رُک جاوں ‘‘ نہیں میں آگے جا کر اپنے سپاہیوں کا خیال رکھوں گا کہ اسی دوران تیسرا دھما کہ ہو گیا اور کیپٹن حسنین نے کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے رب کریم سے جاملے اور ہمیشہ کے لیے زندہ و جاوید ہوگئے ۔ کیپٹن حسنین نواز شہید کے ساتھ حوالدار جمعہ گُل، سپاہی سید یار اور سپاہی قادر خان نے بھی شہادت پائی۔ باپ کے مطابق جب آخری بار فون پر بات ہوئی تو بیٹے نے کہا’’ میرے بیٹے کا خیال رکھنا اور پریشان مت ہونا اور بہادری کی اعلی مثال پیش کرنا‘‘ کیونکہ اگر میں سرخرو واپس لوٹ آیا تو غازی نہیں تو شہادت کے عظیم رتبے پر فائض ہو جاؤں گا۔اور میرا جسد خاکی پاکستان کے سبز پرچم میں آئے گا۔
پہلی نماز جنازہ ایف سی گراؤنڈ پارہ چنار میں ادا کرنے کے بعد تمام شہداء کا جسد خاکی اُن کے آبائی شہروں میں روانہ کر دیا گیا۔
جب شہید حسنین نواز کا جسد خاکی اُن کے آبائی علاقہ ننکانہ صاحب لایا گیا تو رکت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے ، سول سوسائٹی اور علاقہ کے لوگوں کی کافی تعدا د اُمڈ آئی شہید کے والد نے اپنے بیٹے کو فوجی سلوٹ پیش کیا اور چوما۔ نماز جنازہ دولر والا قبرستان میں علامہ محب نبی طاہر نے پڑھائی جس میں علاقے کے لوگو ں سمیت عسکری قیادت نے بھی شمولیت اختیار کی ۔کیپٹن حسنین نوا ز کی یونٹ کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ وہ اپنی یونٹ کا پہلا شہید ہے۔
دوران انٹرویو شہید کے والد گوہر نواز نے بتایا کہ پاک فوج نے اپنا حق ادا کر دیا ۔ لیکن دیگر اداروں سے وہ کافی نالاں ہیں سیاسی لیڈران اُن کے گھر آئے اور وعدے کیے کہ کیپٹن حسنین نواز کا مزار بنائیں گے جبکہ ڈھانچہ کھڑا ہے لیکن مزار نہیں بن رہا۔ اسی طرح محکمہ اوقاف کی جگہ اُن کے گھر کے سامنے خالی پڑی ہے جس پر اُس وقت کے وزیر اعلیٰ نے کہا تھا یہاں شہید کی یادگار بمعہ پارک بنائیں گے لیکن وہ منصوبہ بھی کھٹائی کی نذر ہو چکا ہے ۔ 23 مارچ 2017 ء میں پاک فوج کی طرف سے شہید حسنین نواز کے لیے تمغہ بسالت کا بھی اعلان کر دیا گیا ہے ۔ اس مضمون کی وساطت سے ہم گورنمنٹ آف پاکستان سے شہید کے والد کے ساتھ کیے گئے تمام وعدوں کو پورا کرنے کی درخواست کرتے ہیں ۔کیونکہ جو قومیں اپنے محسنوں کو بُھلا دیتی ہیں وہ کبھی ترقی کی منزلوں کو نہیں چھو سکتیں۔
پاک فوج زندہ باد ۔۔۔پاکستان پائندہ باد

یہ بھی پڑھیں:   بسنت کی حقیقت۔ اور قاتل ڈور

Related

اپنا تبصرہ بھیجیں