پی آئی اے کی تباہی ، سی ای او ارشد ملک نے حقائق بتا دیئے

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)قومی ایئرلائن پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ارشد ملک نے ادارے کی تباہی کے حوالے سے انکشافات سے بھرپور پریس کانفرنس کردی۔اسلام آباد میں وفاقی وزیر میاں محمد سومرو کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب میں ارشد ملک نے کہا کہ پی آئی اے کو 3 ارب روپے آپریشنل نقصان ہورہا ہے، جسے جلد ختم کرلیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ہمارے پاس 32جہاز ہیں، جن میں سے6 گراؤنڈ پر کھڑے ہیں، اُن سے آمدنی میں اضافہ کیسے کیا جاسکتا ہے؟ارشد ملک نے یہ بھی کہا کہ چادریں لگا کر جہاز میں مسافروں کو بٹھایا جا رہا تھا، کھانا پھینک کر دیا جارہا تھا، جہازوں کے انجن اور قیمتی پرزے اتار لیے گئے، نئے اسلام آباد ایئر پورٹ کا زبردستی افتتاح کرایا گیا۔ سی ای او پی آئی اے نے مزید کہا کہ من پسند عملے کی ڈیوٹیاں لگائی جاتی تھی جو بدنامی کا باعث بن رہی تھی، من پسند عملے کی ڈیوٹی سے اسمگلنگ کے کیسز بھی سامنے آئے تھے، ان سب اقدامات کو اب روک دیا گیا ہے۔ ارشد ملک نےکہا کہ جب سے چارج سنبھالا ہے ایک فری ٹکٹ کسی کو نہیں دیا اور نہ ہی کسی کی سیٹ اپ گریڈ کی ہے، پی آئی اے میں پروفیشنل لوگ بھی موجود ہیں، سروس بہتر کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں جعلی ڈگری والوں کو فارغ کیا گیا، ادارے سے 200 گھوسٹ ملازمین کو نکال دیا گیا،ہم ایسی فلائٹس چلا رہے تھے جس میں کروڑوں روپے نقصان ہو رہا تھا،7 فلائٹس پر 50کروڑ کا نقصان ہورہا ہے ۔ سی ای اور پی آئی اے کا کہنا تھا کہ ہم نے 7 روٹس پر فلائٹس بند کردی ہیں، اب ان 7 روٹس سے فلائٹس ہٹاکر دوسرے روٹس پر چلادی گئیں، ایک کروڑ اوور ٹائم دے رہے تھے ہم نے اس کو کمپیوٹرائزڈ کردیا ہے، ان اقدامات سے کم از کم 200 ملین کی بچت کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گوادر، پنجگور کے روٹس پر جب جہاز اڑتا ہے تو 542 ملین کا نقصان ہوتا ہے،کروڑوں ڈالرز میں فیس ادا کی جاتی ہے، پی ایس او واجبات مانگتا ہے تو 4 جہاز گراؤنڈ کرنے پڑ جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   نیب کو ہیلی کاپٹر کیس میں وزیر اعظم سے معافی مانگنی چاہیے، فواد چوہدری

Related

اپنا تبصرہ بھیجیں