آسیہ بریت کیخلاف اپیل مسترد ہونے پر کئی شہروں میں مظاہرے

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)آسیہ مسیح کی بریت کیس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل مسترد ہونے کے بعد تحریک لبیک پاکستان نے احتجاج کی کال دی جس پر ملک کے کراچی اور لاہور سمیت چھوٹے بڑے شہروں میں مظاہرے ہوئے ہیں۔ کراچی میں متعدد مقامات پر احتجاج کیا گیا۔ لاہور میں بھی چونگی امرسدھو کے مقام پر سڑک بند کردی گئی۔ تاہم ملک کے کسی بھی شہر میں کوئی بڑا اور منظم احتجاجی اجتماع نہیں ہوا۔
تحریک لبیک قیادت کو جیلوں میں بند رکھ کر اور فیصلے سے قبل گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کرنے کی بدولت حکومت بڑے احتجاج کو روکنے میں کامیاب رہی۔
مذہبی جماعتوں نے جمعہ کو ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔
سپریم کورٹ نے منگل کی دوپہر آسیہ کی بریت کے خلاف نظرثانی اپیل مسترد کرنے کا فیصلہ سنایا۔اس کے کچھ دیر بعد قائم مقام امیرتحریک لبیک پاکستان علامہ ڈاکٹر شفیق امینی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف احتجاجی تحریک کی کال دیتے ہوئے کہا کہ عوام نبیﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو کبھی معاف نہیں کریں گے۔ سپریم کورٹ نے آسیہ مسیح کی بریت کیخلاف نظر ثانی اپیل خارج کر دی.قائم مقام امیر تحریک لبیک نےعوام سے اپیل کی کہ وہ فوری طورپرسڑکوں پر نکلیں اور بھر پور احتجاج ریکارڈ کرائیں۔ احتجاج کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی صورت میں علامہ شفیق امینی نے جیل بھرو تحریک کی بھی کال دیدی۔ علامہ ڈاکٹر شفیق امینی نے ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے آج کے فیصلے کے بعد ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے شرمندہ ہیں۔ ان کی اس کال پر کراچی اور لاہور سمیت کئی شہروں میں مظاہرے ہوئے تاہم ایک ایک شہر کے متعدد مقامات پر احتجاج ہونے کے مطابق مجموعی طور پر مظاہرے محدود رہے اور ماضی کے برعکس کوئی بہت بڑا اور منظم اجتماع نہ بن سکا۔
کراچی میں عاشقان رسول نے ملیر کالابورڈ ، کورنگی ڈھائی نمبر ، نارتھ کراچی ، نیو کراچی ، پاور ہائوس چورنگی، صدر پارکنگ پلازہ ، لیاری آگرہ تاج ، اولڈ سٹی ایریا، اورنگی نمبر 5 اور دیگر علاقوں میں بڑی تعداد میں نکل کر احتجاج کیا، جس کے باعث مذکورہ علاقوں میں ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔ اورنگی اور بدلیہ ٹائون میں مظاہرے نصف شب تک جاری تھے۔
ٹی ایل پی کی جانب سے حیدرآباد پریس کلب کے باہر مظاہرہ کیا گیا، جس کی قیادت علامہ صوفی رضا محمد ، محمد فرحان اور محمد عثمان کر رہے تھے۔پولیس کی بھاری نفری بھی موجود تھی۔پولیس افسران مظاہرہ ختم کرنے کے لیے رہنمائوں پر دبائو ڈال رہے تھے ، تاہم رہنمائوں نے کہا کہ ہم ناموس رسالت کے تحفظ کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ہمارا کوئی سیاسی مقصد نہیں۔مظاہرہ نماز عشا کے بعد بھی جاری رہا۔ بعدازاں شرکا پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔
لاہور میں بھی کئی مقامات پر مظاہرے ہوئے۔ ان میں سے ایک مظاہرہ پنجاب اسمبلی کے باہر بھی ہوا۔ جبکہ چونگی امرسدھو پر مظاہرے کے دوران ٹرک اور کنٹینرز کھڑے کرکے سڑک بند کر دی گئی۔
مظاہروں کے غیرمنظم رہنے کا ایک بڑا سبب تحریک لبیک پاکستان کی قیادت کو دو ماہ سے قید رکھا جانا ہے۔ نچلی سطح کے رہنمائوں کو بھی منگل کے روز سزا سے پہلے پولیس نے چھاپے مار کر حراست میں لے لیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   عالمی بینک کا حکومت کی معاشی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار

Related

اپنا تبصرہ بھیجیں