پولیوفری پاکستان

تحریر:راﺅ شکیل احمد
سائنسی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ پولیو وائرس ایک قسم کا انفیکشن ہے جس سے جسم کا ایک حصہ ساکت ہو جاتا ہے اور سانس لینے میں مشکلات کا باعث بن جاتا ہے۔ یہ ایک فردسے دوسرے میں پھیلنے والی بیماری ہے۔ یہ وائرس زیادہ تر انسان کے خون میں داخل ہوتا ہے جہاں سے یہ انسان کے قوتِ مدافعاتی نظام کو متاثر کرتا ہے جس کی وجہ سے انسان اس کی موجودگی سے بے خبر رہتے ہیں۔ اور زیادہ تر کیسز میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ ایسا بہت کم دیکھنے میں آیا ہے کہ یہ وائرس انسان کے سنٹرل نروس سسٹم میں ڈائریکٹ داخل ہوا ہو۔ اگر ایسا ہو جائے تو یہ انسان کے نیورون سسٹم کو متاثر کردیتا ہے جس کی وجہ سے انسان اعصابی کمزوری اور فالج کا شکار ہو جاتا ہے۔دریافت ہوا ہے کہ پولیو ایک موذی مرض ہے اور ایک وقت تھا کہ بہت سے بچے اس مرض میں مبتلا ہو جاتے تھے اور یہ بیماری رفتہ رفتہ پھیل رہی تھی۔ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان بھی بُری طرح اس کی لپیٹ میں تھا اور مناسب تدارک نہ ہونے کی وجہ سے بہت زیادہ تعداد میں بچے اس بیماری کا شکار ہوتے تھے۔ اگرآج بھی ہم کسی پولیو کے مریض کو دیکھیں تو جسم میں ایک سنسنی سی دوڑ جاتی ہے۔ اس بیماری کا شکار بچے دوسرے بچیوں کی طرح کھیل کو د نہیں سکتے اور نہ ہی ان کی طرح چل پھر اور دوڑ سکتے ہیں۔ یہ بچے حسرت بھری نگاہوں سے تندرست بچوں کو زندگی کی دوڑ میں بہت آگے دیکھتے ہیں تو اپنی خواہشات اور جذبات کو سینے میں دبائے سسکتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ انسان نے ترقی کی اور زندگی کے دوسرے شعبوں کے ساتھ ساتھ علاج و معالجہ میں بھی کافی بہتری آئی اور پولیو جیسے موذی مرض کے تدارک کے لئے ڈاکٹر جونس سالک Dr. Jonas Salk نے 1956ءمیں ویکسین دریافت کی اس ویکسین سے بڑی حد تک پولیو کے مرض پر قابو پا لیا گیا ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن‘ یونیسیف اور دیگر عالمی اداروں نے پولیو کے خاتمہ کے لیے اقدامات اٹھائے اور یوں دنیا بھر میں اس موذی بیماری کا خاتمہ کے لئے مہم شروع کی گئی ۔بتایا گیا ہے کہ دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح پاکستان میں بھی پولیو کے خاتمے کے لئے اعلیٰ سطح پر اقدامات کئے گئے۔ ان اقدامات کی وجہ سے بڑی حد تک اس مرض پر قابو پا لیا گیا۔ محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2014ءمیں پاکستان میں پولیو کے 306 کیسز رپورٹ ہوئے جب کہ سال 2015ءمیں پولیو کے 54 کیسزاور سال 2016ءمیں پولیو کے 20 کیسز، سال 2017ءمیں پولیو کے8 کیسز فائل ہوئے ہیں2018ءمیں پنجاب صفر ، خیبر پختونخواہ میں 1 ‘ سندھ 1 ‘ بلوچستان3 اور قبائلی علاقہ جات میں3 کیسزرپورٹ ہوئے ہیں۔ پولیو کے خاتمے کے لئے اعلیٰ سطح پر اقدامات کی بدولت کیسز میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔ ملک کو پولیو فری قرار دینے کے لئے اور نونہالوں کو اس موذی مرض سے محفوظ رکھنے کے لئے ہر فرد اور متعلقہ اداروں کو ذمہ دارانہ فرائض انجام دینے ہوں گے۔ پاکستان ابھی ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جن میں پولیو موجود ہے۔ پولیو کے خاتمہ کے لئے مﺅثر حکمت عملی اور جامعہ منصوبہ بندی اپنانا ہوگی تب ہی ہمارا ملک پولیو فری ہو سکتا ہے۔اس موزی مرض سے بچاو اور تدارک کےلئے حکومت پنجاب نے بھی عملی اقدامات کئے ہیں اور عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات ان کی دہلیز پر پہنچانے کے لئے عزم کئے ہوئے ہے تاکہ معاشرے میں پولیو و دیگر خطرناک بیماریوں کا خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔ صحت مند معاشرہ حکو مت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے ۔ علاج و معالج کی بہترین سہولیات کی فراہمی کا عزم کئے ہوئے حکومت ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور شہریوں کو صحت سے متعلق تمام بنیادی سہولیات پہنچا رہی ہے۔رواں سال بجٹ میں صحت کے لئے ریکارڈ فندز مختص کئے گئے جس سے صوبہ بھر میں صحت سے متعلقہ اداروں کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے صوبہ بھر کے دیگر شہروں کی طرح ضلع جھنگ میں بھی پولیو مہم کا آغاز کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر حافظ شوکت علی ہدایت پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں انسداد پولیو مہم کا افتتاح ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل شاہد عباس جوئیہ نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ تین روزہ انسداد پولیو مہم کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کےلئے جامع حکمت عملی اختیار کی جائے اور تمام مراحل تربیت یافتہ سٹاف کے ذریعے مکمل کئے جائیں ۔ اس ضمن میں انسداد پولیو ٹیموں کے کام کی سخت نگرانی کی جائیگی۔ انسداد پولیو مہم کی کامیابی کےلئے والدین کی آگاہی کے لئے ہر ممکن ذرائع بروئے کار لائے جائیں اوراوردیگر عوامی مقامات پر پولیو ٹیموں کو متحرک رکھا جائے۔ انسداد پولیو مہم کو زیادہ موثر اور فعال بنانے کےلئے بھرپور عوامی مہم چلانے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے انسداد پولیو مہم کی ٹیموں کو درکار مناسب سیکورٹی فراہم کریںگے۔اے ڈی س جنرل نے کہا کہ اس قومی فریضہ کی ادائیگی کے حوالہ سے اور مہم کے سو فیصد نتائج حاصل کرنے کےلئے تمام متعلقہ محکمے باہمی رابطہ کو یقینی بنائیں اور تمام تحصیلوں کے اسسٹنٹ کمشنرز انسداد پولیو ٹیموں کی کارکردگی کا جائزہ بھی لیں گے۔ اس موقع پر بریفنگ کے دوران سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر یونس رشید نے بتایا کہ ضلع بھر میں پانچ سال تک کی عمر کے 4لاکھ90ہزار893 بچوں کو پولیو ویکسین پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہواں نے کہا کہ محکمہ صحت کی1135ٹیمیں گھر گھر جاکر پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کوپولیو قطرے پلانے کے لئے ڈیوٹیاںسرانجام دیں گی اس ضمن میں 85یونین کونسلز کےلئے 220ایریا انچارج اور 994موبلائزرز سمیت دیگر سٹاف بھی مقرر کیا گیا ہے۔ اے ڈی سی جنرل نے محکمہ صحت کے افسران پر واضح کیا کہ اس ضمن میں انسدادپولیو مہم کے تمام امورکی کڑی نگرانی کی جائیگی۔ انسداد پولیو مہم کے تمام مراحل تربیت یافتہ سٹاف کے ذریعے مکمل کئے جائیں اورمحکمانہ طے شدہ طریقہ کار پر مکمل طور پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ یہ امر ثابت شدہ ہے کہ ملک سے پولیو جیسی موذی مرض کے خاتمے کے لئے محکمہ صحت اور اُس سے منسلک تمام اداروں کو بھر پور کردار ادا کرنا ہو گا تب ہی ایک صحت مند معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے۔ بچوں کو پولیو جےسے خطر نا ک مر ض سے بچا نے کےلئے پولیو ویکسی نیشن پلا نا ہر والد ین کا فرض ہے ۔حکو مت نے ار بو ں رو پے کی لا گت سے پو ر ے صو بے میں بلا معاوضہ پولیو کے قطر ے پلا نے کی مہم کا آ غا ز کیا ہے اگر ہمارا ملک پولیو فری ہو جائے تو یہ بات ہمارے لئے باعثِ فخر ہو گی اور ہم پر عائد بہت سی بیرون ملک سفری پابندیاں ختم ہو جائیں گی۔ اس قومی فریضہ کی تکمیل کے لئے ہمیں محنت اور لگن سے کام کرنا ہو گا تاکہ اس موذی مرض سے چھٹکارا پا سکیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کھڑا ہوں آج بھی روٹی کے چار حرف لیے

Related

اپنا تبصرہ بھیجیں