سانحہ ساہیوال۔جے آئی ٹی رپورٹ وزیر اعلیٰ پنجاب کو پیش

لاہور(کرائم رپورٹر)سانحہ ساہیوال کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی جے آئی ٹی کی ابتدائی رپورٹ وزیراعلیٰ کو پیش کردی گئی۔ ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی رپورٹ میں سی ٹی ڈی کے 6اہلکاروں کو براہ رست ملوث ہونے کا ذمے دار جبکہ 4 اہلکاروں کوجرم میں معاونت کرنے کا مرتکب ٹہھرایا گیا ہے۔سانحہ ساہیوال کے حوالے سےوزیراعلی پنجاب کی زیر صدارت اعلیٰ سطح اجلاس منعقد ہوا جس میں سینئرصوبائی وزیرعلیم خان،وزیر قانون راجہ بشارت،چیف سیکریٹری پنجاب،آئی جی پولیس،جے آئی ٹی ارکان اورمتعلقہ ایجنسیوں کے حکام شریک ہوئے۔اجلاس میں سانحہ ساہیوال کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی جے آئی ٹی نے ابتدائی رپورٹ وزیراعلیٰ کو پیش کر دی جس کے مندرجات پرغور کیا جا رہا ہے۔ وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت کا کہنا ہے کہ اگر سانحہ ساہیوال پرجے آئی رپورٹ سے وزیراعلیٰ مطمئن نہ ہوئے تو جوڈیشل کمیشن بنایا جا سکتاہے۔
ادھرذرائع نے بتایا کہ تفتیش کے لیے فرانزک سائنس ایجنسی کو ادھوری چیزیں بھیجی گئی ہیں، ایجنسی کو ایس ایم جی سے چلی ہوئی 45 گولیوں کے خول بھیجے گئے جب کہ ایس ایم جی سے چلی ہوئی اور پوسٹ مارٹم سے ملی گولیاں نہیں دی گئیں۔
ذرائع نے بتایا کہ فرانزک ایجنسی کو 9 ایم ایم کی 5 گولیاں بھی بھیجی گئیں، ایس ایم جی نہ بھیجنے کی وجہ سے تجزیہ کرنا مشکل ہے، ایس ایم جی کے بھیجے گئے 45 خول کا تجزیہ کرکے صرف محفوظ کرسکتے ہیں۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہےکہ سی ٹی ڈی اور پولیس کے استعمال میں ایس ایم جی ہی ہوتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   نیب نے پنجاب کے سینئر وزیر علیم خان کو حراست میں لے لیا

Related

اپنا تبصرہ بھیجیں