ضبط لازم ہے ، مگر غم ہے قیامت کا فراز

پہلامنظر:
کار میں ستر سالہ بزرگ ان کی بیگم بیٹااور بہو سوارہیں ۔ سرینگر شہرسے نکلتے ہی انڈین قابض فوج کی چیک پوسٹ پہ انہیں روک لیاجاتاہے۔شراب کےنشے میں چور فوجی نوجوان بہو سے بدتمیزی کرتے ہیں، ستائس سالہ نوجوان کی غیرت جوش کھانے لگتی ہے اوراگلے دن مقامی لوگوں کوپہاڑی نالے میں گری ہوئی ایک کار میں سے دوخواتین سمیت چار افراد کی گولیوں سے چھلنی لاشیں ملتی ہیں، جنہیں قابض فوج نے دہشتگردقرار دے کر ماردیاتھا ۔
دوسرامنظر:
بیت المقدس میں اسرائیلی فوجی گھر گھر تلاشی میں مصروف ہیں ۔ ایک گھرسے نہتی دوعورتیں اور ایک چھوٹا معصوم بچہ گرفتارکرلیاجاتاہے، اہل محلہ ماضی کی ایک غیرت مند قوم (مسلمان)کے افراد ہیں، دو مسلم بچیوں کی توہین برداشت نہیں کرپاتے۔اپنی بیٹیوں کو چھڑانےکےلئےظالم فوج کے رستے میں رکاوٹ بنناچاہتے ہیں، یہودی افسر کے منہ سے” فائر ” کی آواز نکلتی ہے ، اورنو بےگناہ انسان شہید اور پندرہ زخمی ہوجاتےہیں۔
تیسرامنظر:
خلیل اپنے دوست ذیشان اہلیہ نبیلہ اور چار چھوٹے بچوں سمیت بڑی خوشی اور تیاری میں گھر سے نکلے تھے، بچے بڑے خوش اور جوش میں تھے کہ شادی میں شرکت کےلئے کار پہ بوریوالہ جارہے ہیں، جہاں سارے خاندان کے بچے جمع ہورہے تھے ، خوب ہنسنے کھیلنے اور شرارتیں کرنے کا پروگرام تھا، کہ اچانک وہ سانحہ ہوگیا جس نے ہر اہل دل کو رلا کر رکھ دیا، قادرآباد ساہیوال جی ٹی روڈ پہ مبینہ طور پہ سی ٹی ڈی پولیس فورس کی ان کی کار پہ فائرنگ کے نتیجے میں چار افراد موقع پر دم توڑ گئے ۔ خلیل کو بارہ، ذیشان کو دس،نبیلہ کوتین،اور تیرہ سالہ بچی اریبہ کو چھ گولیا ں ماری گئیں ۔
یہ تین واقعات تین مختلف ممالک میں وقوع پزیرہوئے ، لیکن سب میں ایک جیسا درد ،ایک جیسی آہیں اور ایک جیسی بدنصیبی پائی جاتی ہے ۔تیسرا واقعہ اس لئے بھی ذیادہ دردناک ہے کہ یہ ایک آزاد ملک کے پرامن شہریوں پہ اپنوں کے ہاتھوں ہی ٹوٹنے والی قیامت کا احوال ہے۔ لیکن ایسا کوئی پہلی بارتو نہیں ہوا اس سے پہلے بھی کئی باراس پاک وطن کی دھرتی کو بے گناہوں کے لہو سے ترکیاگیاہے۔ لال مسجد ، سانحہ ماڈل ٹاون، اورسات ہزار کےقریب لاپتہ افراد ہم کس کس کا ماتم منائیں ؟کس کس کو روئیں؟
شائد ایسے ہی کسی موقع کے لئےاحمد فراز نے کہاتھا
“ضبط لازم ہےمگر غم ہے قیامت کا فراز”
یہ کیسے ہمارے محافظ ہیں جو ہم پہ ہی گولیاں چلانے سے گریز نہیں کرتے ؟ ۔سانحہ ساہیوال بہت سارے سوالیہ نشان چھوڑگیاہے ۔
بغیر نمبر پلیٹس کے فورس کی گاڑیاں، پولیس کا ابتدائی بیان اور آئی جی پنجاب کو پیش کی گئی رپورٹ میں واضح فرق کیوں ہے؟ وہ کون سا حساس ادارہ تھا جس کی غلط اطلاع اتنے بڑے حادثے کی بناء بنی؟۔متعلقہ اداروں کو ہر پہلو سے اس کیس پہ پوری ایمانداری سے کام کرنا چاہئے ، اس سانحے کے مجرم کسی صورت بچنے نہیں چاہیئں۔
میں اپنے دوست کے اس خیال سے متفق ہوں کہ “اس جیسے واقعات کے خطرناک نتائج میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جہاں پولیس گردی کے شکار حقیقی مظلوموں کے زخم تازہ ہو جاتے ہیں، وہیں دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور ہمدردوں کو زیادہ شدت کے ساتھ اپنا چورن بیچنے کا موقع مل جاتا ہے۔
اگر اس واقعے کو ایک ٹیسٹ کیس بنا کر انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں تو نہ صرف مظلوموں کے سینے ٹھنڈے ہوں گے بلکہ دہشت گردوں اور ان کے حامیوں کا پراپیگنڈا بھی دم توڑ دے گا”۔

یہ بھی پڑھیں:   *شیطان *

Related

اپنا تبصرہ بھیجیں