ملک میں بھارتی قسم کا کورونا پھیلنے کا خدشہ ہے، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ دنیا بھر اور خاص طور پر ہمارے خطے میں کورونا کی بھارتی قسم پھیلنے کا خدشہ ہے۔

کورونا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس تبدیل ہوتا جارہا ہے، دنیا بھر اور خاص طور پر ہمارے خطے میں کورونا کی بھارتی قسم پھیلنے کا خدشہ ہے، کورونا وائرس کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں، بھارت قسم کے وائرس سے انڈونیشیا اور بنگلہ دیش میں بری صورتحال ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میری اپیل ہے ماسک پہنیں یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے، اس کے استعمال سے ہم خود کو اور اپنے لوگوں کو بچا سکتے ہیں، عوام عید پر ماسک پہنیں اور احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد کریں، اگر صورتحال خراب ہوئی تو ہمیں مجبوراً پابندیاں عائد کرنی پڑیں گی، پھر عوام کو روزگار کا مسئلہ ہوگا، سیاحت متاثر ہوگی، کاروبار بند ہوجائیں گے، لہذاٰ عوام احتیاط کریں۔ کورونا وائرس کی وجہ سے ساری دنیا میں غربت پھیل رہی ہے، انڈونیشیا اور بنگلہ دیش میں کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن لگادیا گیا ہے، ماسک کے استعمال سے ہم اپنے ملک اور معیشت کو بچا سکیں گے، چوتھا فیز بےقابو ہوا تو ہمیں پھر لاک ڈاؤن لگانا پڑے گا۔

عمران خان نے کہا کہ بدقسمی سے پاکستان میں کورونا کی ویکسین نہیں بنتی، لیکن یہاں ویکسین موجود ہے اور جو ویکسین آتی ہے وہ عوام کو لگا دی جاتی ہے، عوام اس سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور بالخصوص شہری آبادی ضروری ویکسین لگوائیں۔

مختلف 200 دوائیں کورونا وائرس کا علاج کرسکتی ہیں

کیمبرج: برطانوی سائنسدانوں نے مختلف بیماریوں کی ایسی 200 منظور شدہ دوائیں شناخت کرلی ہیں جنہیں کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی بیماری ’’کووِڈ 19‘‘ کا علاج بھی کرسکتی ہیں۔

ان میں سے 40 ادویہ پہلے ہی کووِڈ 19 کے خلاف آزمائش کے مرحلے پر ہیں جبکہ 160 دوائیں پہلی بار کورونا وائرس کے ممکنہ علاج کے طور پر سامنے آئی ہیں۔

ماہرین نے یہ دریافت ’’کمپیوٹیشنل بائیالوجی‘‘ اور ’’مصنوعی ذہانت‘‘ سے ایک ساتھ استفادہ کرتے ہوئے کی ہے۔ واضح رہے کہ کمپیوٹیشنل بائیالوجی (حسابی حیاتیات) میں کمپیوٹر سائنس کے مختلف طریقے اور تکنیکیں استعمال کرتے ہوئے حیاتیات اور طب کے میدانوں میں تحقیق کی جاتی ہے۔

عملی نقطہ نگاہ سے جب ان میں سے بھی مؤثر ترین ادویہ تلاش کی گئیں تو کمپیوٹرائزڈ ماڈل میں دو ’’بہترین امیدوار‘‘ دوائیں سامنے آئیں جن میں سے ایک ملیریا کی اور دوسری گٹھیا کی دوا ہے۔ اگرچہ موجودہ/ دستیاب دواؤں سے کووِڈ 19 کے علاج پر مرکوز ہے لیکن مستقبل میں دوسری بیماریوں کے بہتر، کم خرچ اور مؤثر علاج کی تلاش میں بھی استعمال کی جاسکے گی۔

خنجراب سائیکل ریس ملتوی

اسلام آباد: کورونا وائرس کی وجہ سےخنجراب سائیکل ریس ایک بار پھر ملتوی کردی گئی۔

کوڈ 19 کے حالیہ بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے تیسری ٹور ڈی خنجراب سائیکل ریس کو دوسری بار ملتوی کردیا گیا ہے۔ سید اظہر علی شاہ صدر پی سی ایف نے بتایا کہ گلگت بلتستان کے محکمہ کھیل اور سیاحت نے آنے والے مہینوں میں طے شدہ تمام کھیلوں کے پروگراموں کو ملتوی کردیا ہے۔

غیر ملکی ٹیموں سمیت تمام وابستہ افراد کو صورتحال کے بارے میں آگاہ کر دیا گیا ہے، بعد ازاں نئی ​​تاریخ گلگت بلتستان حکومت کے ذریعہ جاری کی جائے گی جب کہ پاکستان سائیکلنگ فیڈریشن نے تمام ان لوگوں سے معذرت کی ہے جنہوں نے اس کی تیاری میں اپنی اپنی ٹیموں کے لیے کیمپ لگائے ہیں۔

کورونا وائرس مردوں کو بانجھ کرسکتا ہے!

ٹیکساس: چوہے جیسے جانوروں ’’ہیمسٹرز‘‘ پر تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کووِڈ 19 کی عالمی وبا کا باعث بننے والا کورونا وائرس مردانہ تولیدی نظام کو متاثر کرکے مردانہ بانجھ پن کی وجہ بن سکتا ہے۔

’’ہیمسٹرز‘‘ کو انسان سے ’’مشابہ ترین‘‘ جانوروں میں شمار کیا جاتا ہے اور اکثر اوقات کوئی طبّی تحقیق پہلے ان پر (یا انہی جیسے دوسرے جانوروں پر) آزمائی جاتی ہے جس میں مثبت نتائج کے بعد انسانی تجربات کا آغاز کیا جاتا ہے۔

کووِڈ 19 کے حوالے سے بھی ہیمسٹرز بہت مفید ثابت ہوئے ہیں کیونکہ تحقیق کے دوران جو علامات ان میں پیدا ہوئیں، وہی علامات بعد ازاں انسانوں میں بھی دیکھی گئیں۔

اب تک مختلف ہسپتالوں اور طبّی مراکز میں کووِڈ 19 سے متاثر ہو کر صحت یاب ہوجانے والے ایسے کئی مرد مریض آچکے ہیں جنہیں اپنے فوطوں (testes) کے مقام پر تکلیف کی شکایت تھی یا پھر ان میں مخصوص مردانہ ہارمون ’’ٹیسٹوسٹیرون‘‘ بننا تقریباً بند ہوچکا تھا۔

علاوہ ازیں، کورونا وائرس سے مرنے والے مردوں کے پوسٹ مارٹم سے بھی ان کے فوطے خلوی پیمانے پر متاثر پائے گئے تھے۔ ہیمسٹرز پر یہ تازہ تحقیق یونیورسٹی آف ٹیکساس، امریکا میں کی گئی ہے جس کے نتائج ریسرچ جرنل ’’مائیکرو آرگینزمز‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئے ہیں۔

ناول کورونا وائرس (سارس کوو 2) سے ہیمسٹرز کے متاثر ہونے کے پہلے ایک ہفتے میں یہ وائرس ان کے فوطوں میں دیکھا گیا، تاہم یہ بتدریج وہاں سے ختم بھی ہوگیا۔
اس تحقیق سے یہ تو معلوم ہوگیا ہے کہ کورونا وائرس جہاں پھیپھڑوں اور نظامِ تنفس کے ساتھ دیگر جسمانی نظاموں کو متاثر کرتا ہے، وہیں یہ انسانی فوطوں تک پہنچنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے، لیکن اس بارے میں اب بھی بہت سی باتیں ہمارے علم میں نہیں۔

’’کورونا وائرس سے مردانہ تولیدی نظام کیسے متاثر ہوتی ہے؟ یہ دریافت اس سمت میں پہلا قدم ہے، لیکن ابھی پوری تصویر ہمارے سامنے آنا باقی ہے،‘‘ ڈاکٹر رافیل کرون کامپوس نے کہا، جو اس تحقیق مقالے کے مرکزی مصنف بھی ہیں۔

پاکستان کی پہلی کورونا ویکسین ’پاک ویک‘ متعارف کروادی گئی

اسلام آباد: پاکستان نے اپنی پہلی کورونا ویکسین ’پاک ویک‘ متعارف کروادی ہے۔

پاکستان میں تیار کی جانے والی پہلی انسداد کورونا ویکسین کی لانچنگ تقریب اسلام آباد میں ہوئی جس میں وفاقی وزیر ترقی ومنصوبہ بندی اسد عمر، معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان، چینی سفیر اور سربراہ این آئی ایچ شریک ہوئے۔

وزارت صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ پاک ویک پاکستان میں تیار اور پیک ہونے والی پہلی ویکسین ہے، پاک ویک نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ میں تیار اور پیک کی گئی ہے، پاک ویک چین سے درآمد سائنو ویک کے خام مال سے تیار کی گئی ہے اور یہ ویکسین چینی ماہرین کے تعاون سے تیار کی گئی ہے۔

وزارت صحت کا کہنا تھا کہ سائنو ویک پہلی ویکسین تھی جس کے تھرڈ لیول ٹرائل میں پاکستان نے حصہ تھا، پاکستان نے ابھی تک پاک کی ویک ایک لاکھ 20 ہزار سے زائد خوراکیں تیار کی ہیں، این آئی ایچ میں لگا ویکسین پلانٹ ماہانہ 30 لاکھ ویکسین بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

پاک ویک لانچنگ تقریب سے این سی او سی کے سربراہ اسد عمر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ایک اہم دن ہے، قومیں ترقی کرتی ہیں جہاں علم میں اضافہ ہوتا ہے اور اس علم کو لوگوں کی بہتری کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، آج کا قدم اسی حصے کی ایک کڑی ہے، قوم کو ویکسین تیار کرنے والی ٹیم پر فخر ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمارے آنکھوں کے سامنے چند ماہ میں بڑا انقلاب آیا، حکومت کی ترجیحات میں تعلیم اور صحت بنیادی چیزیں ہیں، اس وقت دنیا میں پہلی ڈیمانڈ کورونا ویکسین ہے، پاکستان میں چینی ویکسین کی ڈیمانڈ سب سے زیادہ ہے۔

کورونا پاکستان سمیت دنیا کے لیے چیلنج تھا، اللہ کا شکر پاکستان کے حالات کافی بہتر رہے، ایمرجنسی میں این سی او سی نے اہم کام کیا، کورونا میں ہسپتالوں کی صورتحال میں کچھ فوری بہتری لائی، کورونا کی پہلی لہر کی نسبت تیسری لہر میں ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد زیادہ تھی۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ این سی او سی نے اپنا ڈیٹا بیس بنانا، صوبوں کے ساتھ مل کے این سی او سی کے پاس مکمل تفصیلات ہوتیں تھیں، روزانہ ہسپتالوں کی صورتحال کا جائزہ لیا جاتا تھا، تیسری لہر میں بیڈز میں جگہ نہ ملنے کی شکایات نہیں ملی ہوں گی، تیسری لہر میں 60 فیصد آکسیجن پر مریض زیادہ تھے۔

معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہر مشکلات میں مواقع موجود ہوتے ہیں، کورونا کے معاملے میں ہمارے دوست چین قریب نظر آیا، چین پہلے بھی دوست ہے مگر اس موقع پر بھی آگے آیا، این آئی ایچ میں ویکسین تیار کرنے والوں پر فخر کرنے کی ضرورت ہے، آنے والے دونوں میں پاکستان میں ویکسین بنے گی۔

اس موقع پر چینی سفیر کا کہنا تھا کہ چین اور پاکستان کے تعاون سے ویکسین تیار کی گئی ہے، دونوں ممالک کے درمیان دوستی کی ایک اور مثال ہے، پاکستان پہلا ملک ہے جس کی حکومت اور آرمی نے چین کی ویکسین کا پہلا تحفہ وصول کیا، مزید چینی ویکسین پاکستان آئے گی، دونوں ممالک کے درمیان مزید تعاون کے خواہاں ہیں، کورونا کے خاتمے کے لیے چین پاکستان کے ساتھ مزید تعاون کرے گا۔

دوسری جانب سربراہ این آئی ایچ میجر جنرل عامر اکرام نے کہا کہ پاکستان نے پاک ویک کے نام سے ویکسین لا رہا ہے، این آئی ایچ میں ایک لاکھ 20 ہزار ویکسین تیار کی گئی ہے، کین سائنو بائیو کے ٹرائل میں پاکستان نے حصہ لیا، چین کے ساتھ ٹیکنالوجی کے ٹرانسفر کا معاہدہ کیا تھا۔

کورونا وبا کے باعث سیاحتی مقامات کو بند کردیا گیا

پشاور: کورونا وائرس کی تیسری لہر کے باعث خیبر پختون خوا حکومت نے سوات کے سیاحتی مقام مالم جبہ کو بند کردیا ہے۔

مالم جبہ میں ریزارٹ بند ہونے سے اسکی، ذپ لائن اور چیئر لفٹ بھی بند کردی گئی۔ ذولفی بخاری نے بتایا کہ مالم جبہ سیاحت کے فروغ کے لیے اہم مقام کی حیثیت رکھتا ہے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی ذولفی بخاری کے مطابق سیاحتی سیزن شروع ہونے کو ہے، ایسے میں مالم جبہ کو بند کرنے کا سخت فیصلہ کرنا پڑا۔ واضح رہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 4 ہزار723 کیسز رپورٹ ہوئے۔ خیبر پختونخوا میں اب تک 89 ہزار 225 افراد کورونا سے متاثر ہوچکے ہیں۔

ملک بھرمیں ایک ہزار361 افراد کورونا وبا کا شکار، 64 اموات رپورٹ

اسلام آباد: گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھرمیں ایک ہزار361 افراد کورونا وبا کا شکار جب کہ 64 اموات رپورٹ ہوئیں۔

این سی اوسی کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک بھرمیں گزشتہ روز 40 ہزار 906 ٹیسٹ کیے گئے جس میں ایک ہزار361 افراد کورونا وبا کا شکارجب کہ 64 اموات رپورٹ ہوئیں، جس کے بعد مجموعی طور پر کیسز کی تعداد 5 لاکھ 75 ہزار 941 جب کہ مجموعی 12 ہزار 777 افراد کی اموات ہوئیں۔

این سی او سی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 1 ہزار681 افراد صحتیاب ہوئے، جس کے بعد مجموعی طور پر صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 5 لاکھ 39 ہزار888 ہوگئی۔

برطانیہ سے پاکستان آنیوالے 101 افراد کی تلاش جاری

پشاور: برطانیہ میں کورونا وائرس کی نئی قسم سامنے آںے کے بعد خیبر پختون خوا حکومت نے برطانیہ سے صوبے میں آنے والے 101 افراد کی تلاش شروع کردی۔

نجی میڈیا کے مطابق برطانیہ میں کورونا وائرس کی دیگر قسم کے پھیلاؤ کے بعد خیبر پختونخوا میں اقدامات سخت کر دیئے گئے ہیں اس ضمن میں برطانیہ سے خیبرپختونخوا آنے والے 101 افراد کی تلاش کے لیے ڈپٹی کمشنرز کو خط ارسال کر دیئے گئے ہیں۔

ذرائع محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے واپس آنے والے افراد کی تفصیلات خیبر پختونخوا حکومت کو فراہم کردی ہیں جس کے مطابق مردان، ابیٹ آباد، سوات، نوشہرہ سمیت 12 اضلاع میں برطانیہ سے لوگ واپس آئے، ان واپس آنے والے افراد کو کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کی صورت میں قرنطینہ کیا جائے گا تاکہ نئی قسم کا کورونا وائرس پھیلنے سے روکا جاسکے۔

برطانیہ اور جنوبی افریقا میں کورونا وائرس کی نئی قسم دریافت

کیپ ٹاؤن: جنوبی افریقا اور برطانیہ میں کورونا وائرس کی ایک نئی قسم دریافت ہوئی ہے جس کا زیادہ تر شکار نوجوان ہو رہے ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق کورونا وائرس کی ویکسین ایک سال بعد تیار ہوئی اور ابھی ویکسینیشن شروع ہی ہوئی تھی کہ برطانیہ اور جنوبی افریقا میں کورونا ویکسین کی ایک نئی قسم دریافت ہوئی ہے۔ کورونا ویکسین کی یہ نئی قسم 501.V2 ہے جو نوجوانوں کو بھی اپنا شکار بنا رہی ہے اور کورونا وائرس کی اس نئی قسم میں 70 فیصد تک پھیلنے کی صلاحیت ہوتی ہے تاہم اس سے شرح اموات کم ہے۔

جنوبی افریقا کے وزیر صحت سویلنی مخیز نے بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے پیچھے کورونا وائرس کی نئی قسم 501.V2 کارفرما ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب برطانیہ میں بھی محققین نے جب یہ جاننے کی کوشش کی کہ کورونا متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کیا وجہ ہے تو انکشاف ہوا کہ برطانیہ میں بھی کورونا وائرس کی اسی طرح کی ایک نئی قسم موجود ہے۔

کورونا وائرس کی نئی قسم سامنے آنے کے بعد جنوبی افریقا اور برطانوی حکومت نے سخت اقدامات کیے ہیں۔ کرسمس تقریبات کو مختصر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سال نو اور کرسمس کی گھروں یا بند ماحول میں تقریبات کی بالکل اجازت نہیں ہوگی۔ اسی طرح صرف کھلی فضا میں ہونے والی کسی دوسرے شخص سے ملاقات کی اجازت ہو گی۔ متاثرہ علاقوں میں اتوار کے رات سے کسی بڑی مجبوری میں ہی گھر سے باہر نکلنے کی اجازت ہو گی۔ اشیائے خوراک کے علاوہ تمام دکانیں بند رہیں گی۔

متحدہ عرب امارات میں کورونا ویکسینیشن جاری

ابوظہبی: متحدہ عرب امارات اور بحرین نے چین کی تیار کردہ کورونا ویکسین کی منظوری دیدی ہے جس کے بعد امارات میں ویکسینیشن کے عمل کا آغاز ہوگیا ہے جب کہ بحرین میں ویکسینیشن کے لیے شہریوں کی رجسٹریشن جاری ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق متحدہ عرب امارات میں چینی کمپنی سینو فارم کی کورونا ویکسین ٹرائل کے آخری مرحلے میں 86 فیصد تک مؤثر پائی گئی جس کے بعد اس ویکسین کو منظور کرلیا گیا تھا۔ گزشتہ دو روز سے متحدہ عرب امارات میں چین کی کورونا ویکسین کے ٹیکے شہریوں کو لگانے کا آغاز ہوگیا ہے۔ ویکسین مفت فراہم کی جارہی ہے اور پہلے مرحلے میں افواج، طبی عملے، 60 سے زائد عمر کے شہریوں اور مختلف امراض میں مبتلا افراد کو ترجیحی بنیادوں پر لگائی جا رہی ہیں۔

ادھر بحرین نے بھی چین کی کورونا ویکسین کی منظوری دیدی ہے اور شہریوں سے درخواست کی ہے کی ویکسینیشن کے لیے خود کو رجسٹرڑ کروائیں۔ بحرین میں بھی ویکسین مفت فراہم کی جائے گی۔ چین کی ویکسین کے ٹرائل میں بحرین نے بھی حصہ لیا تھا۔ قبل ازیں بحرین نے فائزر اور بائیوٹیک کے اشتراک سے تیار ہونے والی کورونا ویکسین کے ہنگامی بنیادوں پر استعمال کی اجازت دی تھی تاہم ویکسینیشن کے لیے بحرین نے چین کی کمپنی سینوفارم کی ویکسین کا انتخاب کیا ہے۔

دوسری جانب سعودی عرب اور کویت نے دیگر عرب ممالک کے برعکس چین کی کورونا وائرس کے بجائے فائزر اور بائیوٹیک کی ویکسین کو منظور کیا ہے اور جلد ویکسینیشن کا آغاز ہوجائے گا۔ فائزر کی ویکسین کے ٹیکے لگانے کا عمل سب سے پہلے برطانیہ میں شروع ہوا تھا۔ جاپان نے بھی فائزر اور بائیوٹیک کی کورونا ویکسین کی منظوری دی ہے۔ روس مقامی سطح پر تیار کردہ ویکسین استعمال کر رہا ہے جب کہ بھارت بھی یہی ارادہ رکھتا ہے۔ دنیا بھر میں اس وقت درجن بھر سے زائد ویکسین کے ٹرائل آخری مرحلے میں ہیں تاہم صرف امریکی کمپنی فائزر اور چینی کمپنی سینوفارم کی ویکسنز کی منظوری دی جارہی ہے۔