یونس خان قومی ٹیم کے عہدے سے مستعفی

لاہور: پااکستان کرکٹ بورڈ اورقومی کرکٹ ٹیم کے بیٹنگ کوچ یونس خان نے باہمی اتفاق رائے سے راہیں جدا کرلی ہیں۔

یونس خان کو نومبر میں 2 سال کے لیے بیٹنگ کوچ مقرر کیا گیا تھا ۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان کا کہناہے کہ یونس خان جیسی قدآور اور تجربہ کار شخصیت کو کھونا افسوسناک ہے۔ دونوں فریقین نے طویل مشاورت کے بعد باہمی اتفاق رائے سے راہیں جدا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ مختصر دورانیہ کے لیے قومی کرکٹ ٹیم کے بیٹنگ کوچ کی حیثیت سے یونس خان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہیں ، پرامید ہیں کہ وہ اپنے تجربے اورقابلیت کے تبادلے کے لیےمستقبل میں بھی پی سی بی کو دستیاب ہوں گے۔

پی سی بی اور یونس خان نے اس معاملے پر مزید کسی بھی تبصرے سے گریز کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ لہٰذا دورہ انگلینڈ میں قومی کرکٹ ٹیم کو بیٹنگ کوچ کی خدمات میسر نہیں ہوں گی تاہم دورہ ویسٹ انڈیز کے لیے یونس خان کے متبادل کا فیصلہ مناسب وقت پر کیا جائے گا۔ قومی کرکٹ ٹیم کا دورہ انگلینڈ 25 جون سے 20 جولائی تک شیڈول ہے۔ اس دورے میں 3 ون ڈے اور 3 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز شامل ہیں۔ قومی کرکٹ ٹیم 21 جولائی کو ویسٹ انڈیز روانہ ہو گی، جہاں اسے 24 اگست تک 5 ٹی ٹونٹی اور 2 ٹیسٹ میچز کھیلے جائیں گے۔

پاکستان کو دوسرے ون ڈے میں شکست، سیریز 1-1 سے برابر

جوہانسبرگ: دوسرے ون ڈے میں جنوبی افریقا نے پاکستان کو 17 رنز سے شکست دے کر سیریز 1-1 سے برابر کردی۔

جنوبی افریقا نے پاکستان کو 342 رنز کا ہدف دیا جس کے جواب میں قومی ٹیم کی جانب سے امام الحق اور فخر زمان نے کھیل کا آغاز کیا تاہم مارکرم کے ہاتھوں امام الحق صرف 5 رنز بناکر آؤٹ ہوئے جس کے بعد کپتان بابر اعظم بھی 31 رنز کے مہمان ثابت ہوئے۔

پاکستان کی شروعات میں 2 وکٹیں گرنے کے بعد قومی ٹیم کی بیٹنگ لائن لڑکھڑا گئی اورمحمد رضوان صفر جب کہ دانش عزیز 9 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے جب کہ شاداب خان بھی 13 رنز بنانے کے بعد تبریز شمسی کی گیندپر ایل بی ڈبلیو ہوگئے جس کے بعد آصف علی 19 رنز اور فہیم اشرف 11رنز پر پھیلوکوایو کا شکار بنے۔

اس کے بعد کاگیسو ربادا نے شاہین آفریدی کو 5 رنز پر بولڈ کرکے پویلین کی راہ دکھا دی جب کہ فخر زمان نے 193 رنز کی یادگار اننگز کھیلی جس کےبعد وہ رن آؤٹ ہوگئے، یوں جنوبی افریقا نے پاکستان کو 17 رنز سے شکست دے کر سیریز 1-1 سے برابر کردی۔

چوکوں،چھکوں کی برسات کا وقت قریب

کراچی: چوکوں، چھکوں کی برسات کا وقت قریب، شائقین کرکٹ ایکشن کے منتظر ہیں،ہفتے کو شروع ہونے والی پی ایس ایل 6کیلیے ٹیمیں اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں۔

شائقین کی آمد پر کورونا پروٹوکولز پر عمل درآمد یقینی بنانے کیلیے متعلقہ ادارے سرگرم ہیں، جمعرات کو لاہور قلندرز، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور ملتان سلطانز نے پریکٹس سیشنز کیے، پشاور زلمی کے کھلاڑیوں نے انٹرا اسکواڈ میچ کھیلا، کراچی کنگز اور اسلام آباد یونائیٹڈ پریکٹس میچ میں مقابل ہوئے،اسکواڈز کی جانب سے بلند عزائم کے اظہار کا سلسلہ بھی جاری ہے، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کپتان سرفراز احمد نے کہاکہ پلیئنگ الیون میں 6بیٹسمینوں کی شمولیت کو ترجیح دیں گے،میرا بیٹنگ آرڈر حالات کے مطابق ہوگا،وکٹ کیپنگ خود کروں گا۔

اعظم خان متبادل ہوں گے،انجری سے نجات پانے والے پیسر نسیم شاہ بھرپور ردھم میں ہیں۔ کراچی کنگز کے ہیڈ کوچ ہرشل گبز نے کہا کہ ہمارے پاس انٹرنیشنل کرکٹ کا تجربہ رکھنے والے کھلاڑی موجود ہیں، ورلڈ کلاس بابر اعظم کی صلاحیتوں میں کسی شک کی گنجائش نہیں،وہ اس بار بھی سیزن کے بہترین کھلاڑی قرار پائیں گے،کپتان عماد وسیم، جارح مزاج اوپنر شرجیل خان، کولن انگرام اور چیڈوک والٹن سے بھی امیدیں وابستہ ہیں،ہمیں محمد عامر جیسا اعلیٰ معیار کا فاسٹ بولر بھی میسر ہے۔

تفصیلات کے مطابق نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں پی ایس ایل 6 کے آغاز میں صرف ایک روز باقی رہ گیا، ہفتے کو چوکوں، چھکوں کی برسات کا سلسلہ شروع ہوجائے گا، میگا ایونٹ میں برتری کی جنگ لڑنے کیلیے ٹیموں کی تیاریاں عروج پر پہنچ گئیں، دوسری جانب شائقین کرکٹ بھی غیر ملکی اور ملکی کرکٹ اسٹارز کو ایکشن میں دیکھنے کیلیے بے تاب نظر آرہے ہیں، سیکیورٹی اداروں نے اپنے انتظامات کو حتمی شکل دے دی ہے، محدود تعداد میں تماشائیوں کی آمد کے پیش نظر کورونا پروٹولز پر عمل درآمد یقنی بنانے کیلیے بھی متعلقہ ادارے اپنی پلاننگ کر چکے۔

جمعرات کو اسکواڈز کی پریکٹس اور میچز کے طے شدہ شیڈولز میں تبدیلی کر دی گئی،نئے پروگرام کے تحت ٹیموں نے نیشنل اسٹیڈیم کا رخ کرتے ہوئے بھرپور مشقوں کا سلسلہ جاری رکھا،لاہور قلندرز، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور ملتان سلطانز نے پریکٹس سیشنز کیے، پشاور زلمی کے کھلاڑیوں نے حنیف محمد ہائی پرفارمنس سینٹر کے گراؤنڈ پر انٹرا اسکواڈ میچ کھیلا، تیاریوں کی جانچ کیلیے کراچی کنگز اور اسلام آباد یونائیٹڈ پریکٹس میچ میں مقابل ہوئے۔دوسری جانب ٹیموں کی جانب سے بلند عزائم کے اظہار کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

ورچوئل پریس کانفرنس میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کپتان سرفراز احمد نے کہاکہ پی ایس ایل6کیلیے بہتر اسکواڈ کا انتخاب ہوا،ہم ایسا کمبی نیشن بنانا چاہتے ہیں جو ابتدا سے فائنل تک کھیلے، میچز میں 6بیٹسمینوں کی شمولیت کو ترجیح دیں گے،انھوں نے کہا کہ کرس گیل کی شمولیت سے ہماری ٹیم مضبوط ہوگئی،بولرز بھی ضرورت کے مطابق بیٹنگ کیلیے خود کو تیار کررہے ہیں، مجھ پر کوئی اضافی دباؤ نہیں،بطورکپتان اور کھلاڑی بہترین کارکردگی دکھانے کی کوشش کروں گا،میرا بیٹنگ آرڈر حالات کے مطابق ہی ہوگا،وکٹ کیپنگ بھی خود کروں گا۔

اعظم خان متبادل ہوں گے،سرفراز نے کہا کہ نوجوان فاسٹ بولر نسیم شاہ انجری سے نجات حاصل کر چکے اور بھرپور ردھم میں نظر آ رہے ہیں،عثمان شنواری کی بولنگ ہماری فتوحات میں اہم کردارادا کرسکتی ہے،بولنگ کوچ عمر گل کے تجربے کا بھی فائدہ اٹھائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ تماشائیوں کی مخصوص تعداد کو میچ دیکھنے کی اجازت ملنا خوش آئند ہے،اعزازی پاسز کا انتظار نہ کریں،ٹکٹ خریدیں اوراسٹیڈیم آئیں۔ ورچوئل میڈیا کانفرنس میں دفاعی چیمپئن کراچی کنگز کے ہیڈ کوچ ہرشل گبز نے کہا کہ ہماری ٹیم میں انٹرنیشنل کرکٹ کا تجربہ رکھنے والے کھلاڑی موجود ہیں، ورلڈ کلاس بابر اعظم کی صلاحیتوں میں کسی شک کی گنجائش نہیں، ان کا شمار دنیا کے ٹاپ5 بیٹسمینوں میں ہوتا ہے۔

کارکردگی میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے، بابر اعظم نے نیٹ میں ٹریننگ پر بھرپور توجہ دی،امید ہے کہ اس بار بھی سیزن کے بہترین کھلاڑی قرار پائیں گے، انھوں نے کہا کہ ہمیں شرجیل خان جیسے جارح مزاج اوپنر کی خدمات حاصل ہوگی،کولن انگرام اور چیڈوک والٹن سے بھی امیدیں وابستہ ہیں،محمد عامر اعلیٰ م کے فاسٹ بولر ہیں،کپتان عماد وسیم کی صلاحیتوں کا سب کو علم ہے،ہم ٹیم کمبی نیشن کی پلاننگ کرچکے،نئے ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کی صلاحیتوں سے بھی فائدہ اٹھائیں گے،کھلاڑیوں سے ہم آہنگی پیدا کر کے زیادہ بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں،میں یہی کوشش کررہا ہوں۔

جنوبی افریقا کو تیسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں شکست

لاہور: پاکستان اور جنوبی افریقا کے فیصلہ کن ٹی ٹوئنٹی میچ میں شاہینوں نے پروٹیز کو 4 وکٹوں سے ہرادیا۔

لاہور میں کھیلے گئے تیسرے اور فیصلہ کُن ٹی ٹوئنٹی میچ میں پاکستان نے 165 رنز کا ہدف حاصل کرتے ہوئے جنوبی افریقا کو 4 وکٹ سے شکست دے دی۔

قومی ٹیم کی جانب سے حیدر علی اور محمد رضوان نے اننگز کا آغاز کیا۔ پاکستان کی پہلی وکٹ 51 رنز پر گری جس میں حیدر علی 15 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے۔ دوسری وکٹ 73 رنز پر گری اور محمد رضوان 42 رنز پر شمسی کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے، ان کے بعد حسین طلعت آئے اور 5 رنز پر پویلین لوٹ گئے جب کہ کپتان بابر اعظم 44 رنز بنا کر پریٹوریئس کے ہاتھو آؤٹ ہوئے۔

دیگر کھلاڑیوں میں آصف علی 7 اور فہیم اشرف 10 رنز پر پویلین لوٹ گئے۔ محمد رضوان کو سیریز کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ دیا گیا، محمد رضوان نے تین میچوں میں 197 رنز بنائے ۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کو سیریز جیتنے کے بعد بڑا اعزاز بھی مل گیا، ٹی 20 انٹر نیشنل کرکٹ میں پاکستان کی فتوحات کی سنچری مکمل ہوگئی جس کے بعد پاکستان ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں فتوحات کی سنچری مکمل کرنے والا پہلا ملک بن گیا۔

چیئرمین پی سی بی احسان مانی نے قومی کرکٹ ٹیم کی فتح پر کہا ہے کہ پاکستان کی کامیابی ٹیم ورک اور مشترکہ محنت کا ثمر ہے، محمد رضوان نے کرکٹ شائقین کے دل جیت لیے، نیوزی لینڈ سے شکست کے بعد جس طرح قومی ٹیم نے کم بیک کیا وہ ان کی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے، کرکٹ فینز پاکستان کرکٹ ٹیم سے ملک کے اندر اور باہر ایسی ہی کارکردگی کی توقع رکھتے ہیں۔

اس سے قبل پاکستان نے ٹاس جیت کر جنوبی افریقا کو بیٹنگ کی دعوت دی، جنہوں نے پاکستان کے خلاف مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 164 رنز بنائے۔

جنوبی افریقا کی جانب سے ریزا ہنڈرکس اور جے جے سمٹس نے اننگز کا آغاز کیا تاہم دونوں بیٹسمین زیادہ دیر کریز پر نہ ٹک سکے اور محمد نواز نے دونوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔

جس کے بعد تیسرے نمبر پر آنے والے وین بلجون بھی 16 رنز پر آؤٹ ہوگئے، ان کے بعد کلاسین آئے اور صفر پر پویلین لوٹ گئے جب کہ میلان 27 پر آؤٹ ہوئے۔ دیگر کھلاڑیوں میں اینڈیئل بھی صفر، ڈیوائن 9 اوربجورن 10 رنز پر پویلین لوٹ گئے۔

پاکستان کی بالنگ سائیڈ میں زاہد محمود نے 3، محمد نواز اور حسن علی نے 2، 2 جب کہ عثمان قادر نے ایک وکٹیں حاصل کی۔ واضح رہے کہ تین میچوں کی سیریز میں ایک ایک میچ سے برابر ہے اور آج اس کا فیصلہ کُں میچ لاہور میں ہورہا ہے۔

پاکستان نے جنوبی افریقا کو پہلی بار کلین سوئپ کردیا

راولپنڈی: پاکستان نے حسن علی کی تباہ کن بولنگ کے باعث راولپنڈی ٹیسٹ میں جنوبی افریقا کو 95 رنز سے ہرا کر 18 سال بعد سیریز میں شکست سے دوچار کیا۔

راولپنڈی میں کھیلے گئے 2 میچوں کی سیریز کے دوسرے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں پاکستان نے 272 رنز بنائے جس کے جواب میں مہمان ٹیم 201 رنز پر آؤٹ ہوئی۔ قومی ٹیم دوسری اننگز میں 298 رنز پر آؤٹ ہوئی اور جنوبی افریقا کو جیت کے لیے 370 رنز کا ہدف دیا تھا جس کے جواب میں مہمان ٹیم 274 رنز ہی بناسکی۔

دوسرے ٹیسٹ کے آخری روز ابتدائی اوورز میں ہی حسن علی نے پاکستان کو دو کامیابیاں دلوائیں۔ وین ڈار ڈاسن کو 48 اور فاف ڈپلسی 5 رنز پر آؤٹ ہوئے تاہم ایڈم مارکرم اور ڈمبا باوما نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے 106 رنز کی شراکت قائم کی۔ مارکرم نے شاندار سنچری اسکور کی تاہم نئی گیند ملتے ہی حسن علی نے مارکرم کو 108 رنز پر پویلین بھیج دیا اور اگلے ہی گیند پر کپتان کوئنٹن ڈی کاک کو بھی آؤٹ کردیا جو میچ کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔

ٹمبا باوما کی مزاحمت 61 رنز پر دم توڑ گئی، ویان ملڈر 20 رنز کے مہمان ثابت ہوئے، ڈین ایلگر نے 17 رنز کی اننگز کھیلی جب کہ کیشو مہاراج اور کگیسو رباڈا کھاتہ کھولے بغیر آؤٹ ہوئے۔ قومی ٹیم کی جانب سے حسن علی نے 5، شاہین آفریدی نے 4 اور یاسر شاہ نے ایک وکٹ حاصل کی۔ حسن علی نے مجموعی طور پر ٹیسٹ میں 10 وکٹیں حاصل کیں۔

قومی ٹیم کی جانب سے جنوبی افریقا کے خلاف اوپننگ کرنے والے بلے باز دوسری اننگز میں بھی ناکام ثابت ہوئے۔ عمران بٹ 0، عابد علی 13، بابراعظم 8، اظہرعلی 33، فواد عالم 12، فہیم اشرف 29، یاسر شاہ 23، حسن علی 5 اور شاہین آفریدی 4 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔

وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کی پہلی سنچری مکمل کی۔ نعمان 45 رنز بناکر آؤٹ ہوئے جب کہ محمد رضوان 115 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔ لیفٹ آرم اسپنر جارج لنڈے نے 5 وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ کیشو مہاراج نے 3 اور کگیسو رباڈا نے 2 وکٹیں حاصل کی۔

اس سے قبل جنوبی افریقا کے کپتان کوئنٹن ڈی کاک پہلی اننگز میں 29 رنز بناکرآؤٹ ہوئے، ویان ملڈر 33، جورج لنڈے 21 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔ ڈین ایلگر 15، وان ڈیر ڈاسن کو کھاتہ کھولے بغیر بولڈ ہوگئے۔ فاف ڈپلسی 17 رنز بنانے کے بعد فہیم اشرف کا شکار بنے، ایڈن مارکرم 32 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔ ٹمبا باوما 44 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔ قومی ٹیم کی جانب سے حسن علی نے 5، نعمان علی، فہیم اشرف اور شاہین آفریدی نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

قومی ٹیم پہلی اننگز میں ٹاپ آرڈر کی ناکامی کے بعد فہیم اشرف، کپتان بابراعظم اور فواد عالم کی ذمہ دارنہ بیٹنگ کی بدولت 272 رنز بنانے میں کامیاب رہی۔ بابراعظم 77 اور فواد عالم 45 رنز بناکر آؤٹ ہوئے جب کہ فہیم اشرف 78 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے۔ عمران بٹ 15، عابد علی 6، اظہر علی 0، محمد رضوان 18 رنز کے مہمان ثابت ہوئے۔ حسن علی، یاسر شاہ اور نعمان علی نے 8،8 رنز اسکور کیے۔ جنوبی افریقا کی جانب سے انرج نورجی نے 5 اور کیشومہاراج نے 3 وکٹیں حاصل کیں۔

میچ جیتنے کے بعد قومی ٹیم کے کپتان بابراعظم کا کہنا تھا کہ اللہ کا شکر ہے کہ اتنی اچھی کامیابی ملی اور جنوبی افریقہ کے پاکستان آنے کا شکریہ ادا کرتا ہوں، جب ٹیم سپورٹ کرتی ہے تو پریشر محسوس نہیں ہوتا اور اچھی ٹیم کے خلاف جیت پوری ٹیم کو اعتماد دیتی ہے تاہم جو غلطیاں کی ہیں انہیں مستقبل کےلئے ٹھیک کرنے کی کوشش کریں گے جب کہ حسن علی ایک سال بعد ڈومیسٹک میں پرفارم کرکے واپس آیا اور شاندار بولنگ کی۔

ماؤنٹ مانگنوئی ٹیسٹ میں پاکستان کیخلاف 431 رنز کا پہاڑ کھڑاہوگیا

نیپیئر: ماؤنٹ مانگنوئی ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں نیوزی لینڈ کی ٹیم 431 رنز پر آؤٹ ہوئے جس کے بعد پاکستان کی بیٹنگ جاری ہے۔

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان ماونٹ منگنوئی میں کھیلے جارہے پہلے ٹیسٹ میں پاکستان نے پہلی اننگز میں 30 رنز پر ایک وکٹ گنوادی۔ شان مسعود 10 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے جب کہ عابد علی 19 رنز کے ساتھ وکٹ پر موجود ہیں اور ان کے ساتھ نائٹ واچ مین عباس علی موجود ہیں۔

اس سے قبل نیوزی لینڈ کی ٹیم پہلی اننگز میں 431 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔ کیوی کپتان کین ولیمسن 129 رنز کے ساتھ ٹاپ اسکورر رہے جب کہ بی جے واٹلنگ 73، راس ٹیلر 70 اور ہینری نکولس 56 رنز کی اننگز کھیل کر آؤٹ ہوئے۔

کھیلے کے پہلے روز نیوزی لینڈ نے 3 وکٹ پر 222 رنز بنالیے تھے جس کے بعد دوسرے پاکستنانی بولرز نے بقیہ 7 وکٹیں حاصل کرکے کیویز کی پہلی اننگز کا خاتمہ کیا۔ قومی ٹیم کی جانب سے شاہین شاہ آفریدی نے 4، یاسر شاہ نے 3 جب کہ فہیم اشرف، محمد عباس اور نسیم شاہ نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

واضح رہے باکسنگ ڈے ٹیسٹ میچ میں قومی ٹیم کی قیادت وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان کر رہے ہیں۔ شان مسعود، عابد علی، اظہر علی، فواد عالم، حارث سہیل، فہیم اشرف، یاسر شاہ محمد عباس، شاہین شاہ آفریدی اور نسیم شاہ فائنل الیون کا حصہ ہیں۔عمران بٹ، ظفر گوہر، سرفراز احمد اور سہیل خان ریزرو کھلاڑیوں میں شامل ہیں۔

بابر اعظم کے بغیر نیوزی لینڈ کیخلاف سیریز قومی ٹیم کا امتحان ہے، محمد عرفان

لاہور: طویل قامت فاسٹ بالر محمد عرفان نے نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کو بابر اعظم کے بغیر قومی ٹیم کا امتحان قرار دے دیا۔

لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس بولنگ لائن اپ اچھی ضرور ہے مگر نیوزی لینڈ میں مشکلات پیش آئیں گی، نیوزی لینڈ میں کنڈیشنز ہمیشہ ٹف ہوتی ہیں، بہت پلاننگ کے ساتھ بولنگ کرنے کی ضرورت ہوگی۔

بیٹنگ کے شعبے پر بات کرتے ہوئے فاسٹ بولر نے کہا کہ بابر اعظم کے بغیر ٹیسٹ سیریز پاکستان ٹیم کا امتحان ہوگا، بابر اعظم کے نہ ہونے سے ٹی ٹونٹی سیریز میں بھی پاکستان کو نقصان ہوا، ٹیسٹ میچز میں بھی ان کی کمی محسوس ہوگی۔ محمد عرفان نے تجربہ کار کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ نوجوان کھلاڑیوں کو بھی ساتھ لے کر چلنے پر زور دیا۔

نیوزی لینڈ نے پاکستان کو دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں بھی شکست دیدی

ہملٹن: نیوزی لینڈ نے دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان کو 9 وکٹ سے شکست دے کر سیریز میں 0-2 کی فیصلہ کن برتری حاصل کرلی۔

نیوزی لینڈ کے شہر ہملٹن میں کھیلے گئے سیریز کے دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان نے محمد حفیظ کی 99 رنز کی شاندار اننگز کی بدولت مقررہ 20 اوورز میں 163 رنز بنائے جس کے جواب میں کیویز نے مطلوبہ ہدف 1 وکٹ کے نقصان پر پورا کرلیا۔ نیوزی لینڈ کی جانب سے مارٹن گپٹل اور ٹم سیفرٹ نے اننگز کا جارحانہ آغاز کیا، کپٹل 11 گیندوں پر 21 رنز بنانے کے پویلین واپس لوٹے جس کے بعد کپتان کین ولیمسن نے ٹیم سیفرٹ کا ساتھ دیا اور مزید کسے نقصان کے بغیر پاکستان کو شکست دے دوچار کیا۔ کپتان ولیمسن 57 اور سیفرٹ 84 رنز پر ناقابل شکست رہے۔

اس سے قبل میچ کا ٹاس قومی ٹیم کے کپتان شاداب خان نے جیت کر پہلے خود بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستانی ٹیم کا ٹاپ آرڈر ایک بار پھر ناکام ثابت ہوا، اس بار اوپننگ کے لیے حیدر علی اور محمد رضوان کو چنا گیا لیکن دوسرے ہی اوور میں ٹم ساؤتھی نے پہلے حیدر علی کو 8 اور پھر عبداللہ شفیق کو کھاتہ کھولے بغیر پویلین واپس بھی دیا۔
محمد رضوان 20 گیندوں پر 22 رنز کی اننگز کھیل کر آؤٹ ہوئے، پچھلے میچ میں ذمہ دارانہ اننگز کھیلنے والے کپتان شاداب خان ناکام ثابت ہوئے اور صرف 4 رنز بنانے کے بعد پویلین واپس لوٹ گئے۔

بعد ازاں تجربہ کار محمد حفیظ نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے خوشدل شاہ کی ساتھ اچھی شراکت قائم کی، اس دوران حفیظ نے اپنی نصف سنچری بھی مکمل کی جب کہ وہ اپنے ٹی ٹوئنٹی کریئر کی بہترین اننگز کھیلتے ہوئے 57 گیندوں پر 99 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے جس میں 5 چھکے اور 10 چوکے شامل تھے۔ نیوزی لینڈ کی جانب سے ٹم ساؤتھی نے 4 وکٹیں حاصل کیں جب کہ آئش سوڈی اور جیمی نشان نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

قومی ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی جب کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم میں 4 تبدیلیاں کی گئی ہیں، حیران کن طور پر پچھلے میچ کے کپتان اور مین آٖف دی میچ جیکب ڈفی کو بھی ٹیم کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ کیوی اسکواڈ میں مارک چیمپن، جیکب ڈفی اور بلیئر ٹکنر اور مچل سینٹر کی جگہ کائل جمیسن، ٹم ساوتھی، ٹرینٹ بولٹ اور کپتان ولیمسن کی واپسی ہوئی ہے۔

قومی ٹیم کی قیادت شاداب خان کررہے ہیں، دیگر کھلاڑیوں میں محمد رضوان، عبداللہ شفیق، حیدر علی، محمد حفیظ، خوشدل شاہ، ، عماد وسیم، فہیم اشرف، وہاب ریاض، شاہین شاہ آفریدی اور حارث رؤف شامل تھے۔ کین ولیمسن کی قیادت میں نیوزی لینڈ کی ٹیم میں مارٹن گپٹل، ٹم سیفرٹ، ڈیون کونوے، گلین فلپس، جیمز نیشام، کائل جمیسن، اسکاٹ کوگلین، آئش سودی، ٹم ساوتھی، اور ٹرینٹ بولٹ شامل تھے۔

نیوزی لینڈ نے فسٹ ٹی20 میں پاکستان کو شکست دیدی

آکلینڈ: پاکستان نے پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں نیوزی لینڈ کو جیت کے لیے 154 رنز کا ہدف دیا جو نیوزی لینڈ نے 19ویں اوور میں 5 وکٹ کے نقصان پر پورا کرلیا۔

نیوزی لینڈ کے شہر آکلینڈ میں کھیلے گئے ٹی ٹوئنٹی سیریز کے پہلے میچ میں نیوزی لینڈ کی جانب سے مارٹن گپٹل اور وکٹ کیپر بیٹسمین ٹم سیفرٹ نے اننگز کا آغاز کیا، گپٹل 6 رنز بنانے کے بعد شاہین آفریدی کا شکار بن گئے جس کے بعد ڈیون کونوے بیٹنگ کیلیے آئے لیکن حارث رؤف نے انہیں بھی 5 رنز پر پویلین واپس بھیج دیا۔

گلین فلپس اور ٹم سیفرٹ کے درمیان اچھی شراکت قائم ہوئی، فلپس 23 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے تاہم سیفرٹ کریز پر ڈٹے رہے اور مارک چیپمین کیساتھ ایک اور اچھی شراکت قائم کرکے ٹیم کی فتح میں اہم کردار ادا کیا، چیپمین 34 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے جب کہ سیفرٹ نے شاندار نصف سنچری اسکور کی، وہ 57 رنز بناکر پویلین واپس لوٹے۔

قومی ٹیم کی جانب سے حارث رؤف نے 3 اور شاہین آفریدی نے 2 وکٹیں حاصل کیں۔ اس سے قبل میچ کا ٹاس قومی ٹیم کے کپتان شاداب خان نے جیت کر پہلے خود بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا لیکن بابراعظم کی غیر موجودگی میں پاکستان کا ٹاپ آرڈر مکمل طور پر ناکام ثابت ہوا۔ شاداب خان 42 اور فہیم اشرف 31 رنز کے ساتھ ٹاپ اسکورر رہے۔

عبداللہ شفیق اور محمد رضوان نے اننگز کا آغاز کیا، عبداللہ کھاتہ کھولے بغیر ہی پویلین واپس لوٹ گئے اور محمد رضوان 17 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے، تجربہ کار بلے باز محمد حفیظ نے بھی کھاتہ کھولنے کی زحمت نہیں کی جب کہ حیدر علی بھی صرف 3 رنز کے مہمان ثابت ہوئے۔

خوشدل شاہ نے کپتان شاداب خان کا ساتھ دیتے ہوئے اسکور بورڈ کو آگے بڑھایا مگر خوشدل شاہ بھی 16 رنز پر ہمت ہار گئے۔ 39 رنز پر آدھی ٹیم کے پویلین واپس لوٹ جانے سے ایسا دکھائی دے رہا تھا پاکستان بمشکل 100 رنز بناسکے گا لیکن کپتان شاداب خان نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلے عماد اور پھر فہیم اشرف کے ساتھ اچھی شراکت قائم کی۔

عماد وسیم 19 اور وہاب ریاض 9 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے، کپتان شاداب خان 42 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر پویلین واپس لوٹے جب کہ فہیم اشرف نے 17 گیندوں پر 31 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی۔ نیوزی لینڈ کی جانب سے ڈیبیو کرنے والے جیکب ڈفی نے 4، اسکاٹ کوگلین نے 3 وکٹیں حاصل کیں جب کہ ایک وکٹ آئش سودی کے حصے میں آئی۔

قومی ٹیم کی قیادت شاداب خان کررہے ہیں، دیگر کھلاڑیوں میں محمد رضوان، عبداللہ شفیق، حیدر علی، محمد حفیظ، خوشدل شاہ، ، عماد وسیم، فہیم اشرف، وہاب ریاض، شاہین شاہ آفریدی اور حارث رؤف شامل ہیں۔

نیوزی لینڈ کی قیادت کین ولیمسن کی غیر موجودگی میں مچل سینٹر کررہے ہیں، دیگر کھلاڑیوں میں مارٹن گپٹل، ٹم سیفرٹ، ڈیون کونوے، گلین فلپس، جیمز نیشام، مارک چیپمین، اسکاٹ کوگلین، آئش سودی، جیکب ڈفی، اور بلیئر ٹکنر شامل ہیں۔

آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ، بابراعظم کی پانچویں پوزیشن برقرار

دبئی: آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں بابراعظم کی پانچویں پوزیشن برقرار ہے۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے ٹیسٹ رینکنگ جاری کی گئی ہے جس میں آسٹریلیا کے اسٹیون سمتھ بدستور پہلے نمبر پر ہیں، ویرات کوہلی نے کین ولیمسن کو ایک درجے پیچھے دھکیل کر دوسری پوزیشن پر قبضہ جما لیا، مارنس لبوشین چوتھے، بابراعظم پانچویں، ڈیوڈ وارنر چھٹے، چتیشور پجارا ساتویں، بین سٹوکس آٹھویں، جو روٹ نویں اور اجنکیا رہانے دسویں نمبر پر ہیں۔

بولرز میں کوئی پاکستانی ٹاپ 10میں شامل نہیں محمد عباس 13ویں پوزیشن پر ہیں، سرے فہرست 10بولرز میں بالترتیب پیٹ کمنز، اسٹورٹ براڈ، نیل ویگنر، ٹم سائودی، کاگیسو ربادا، مچل سٹارک، جیمز اینڈرسن، جسپریت بمرا، جوش ہیزل ووڈ اور روی چندرن ایشون شامل ہیں۔