پاکستان اور روس کےدرمیان براہ راست کارگو سروس کا آغاز

کراچی: پاکستان اور روس کے درمیان براہ راست کارگو سروس شروع ہونے سے تجاتی تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہوگئے، پہلا روسی کارگو بحری جہاز سینٹ پیٹرز برگ کی بندرگاہ سے 450کنٹینرز کے ساتھ براہ راست 25 مئی کو کراچی پورٹ پہنچے گا۔

روس کے ساتھ سمندری راستے سے براہ راست کارگو سروس کا آغاز ہونے سے پاکستان اور روس کے درمیان باہمی تجارت کا حجم 2.5ارب ڈالر تک وسیع ہونے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔

پاک شاہین پرائیویٹ لمیٹڈ کے سی ای او عبداللہ فرخ نے بتایا کہ روس کی بندر گاہ سینٹ پیٹرز برگ سے پہلا روسی کارگو جہاز 450کنٹینرلے کر براہ راست 25 مئی کو کراچی پورٹ پہنچے گا۔ اس طرح سے پاکستان کے برآمدات کنندگان کے لیے روس سے سمندری تجارت کی بڑی سہولت کا آغاز ہوجائے گا۔

براہ راست سمندری سروس شروع ہونے سے روس سے کارگو صرف 18 دن میں پاکستان کی بندر گاہ پہنچ جائے گا۔ اس سے قبل روس سے آنے والے جہاز کو ایک مہینہ لگ جاتا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ روس سے دوسرا جہاز 29 مئی کو کراچی پورٹ پہنچے گا۔ عبداللہ فرخ کے مطابق پاکستان روس کو 150 ملین کی ایکسپورٹ جبکہ 300 ملین کی امپورٹ کرتا ہے جبکہ دونوں ممالک کی باہمی تجارت کا حجم 2.50ارب ڈالر تک بڑھنے کی گنجائش موجود ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان روس کے ساتھ سمندری خوراک اور دیگر سیکٹر میں بھی تجارت بڑھا سکتا ہے۔ خطے میں ٹرانس شپمنٹ تجارت کے تحت اس سروس سے پاکستان کو زرمبادلہ کا فائدہ ہوسکتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر مہینے میں ایک اور کاروباری حجم بڑھتے ہی ماہانہ 3 بحری جہاز براہ راست روس سے پاکستان آئیں گے۔ روس کے ساتھ تجارت بڑھنے سے مزید تجارتی کمپنیاں بھی پاکستان آئیں گی۔

عبداللہ فرخ نے بتایا کہ روس سے سمندری راستے سے خطے کے دیگر ممالک بھارت ، چین اور افریقی ممالک کا ٹرانس شپمنٹ کے تحت کارگو آرہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مستقبل میں چین سمیت دیگر ممالک کے لیے بھی ٹرانس شپمنٹ کا اضافہ ہوگا۔ سروس کے آغاز پر جہاز کا فریٹ زیادہ ہوگا جب تجارت بڑھے گی تو نرخ کم ہوجائیں گے۔

عبداللہ فرخ کا کہنا تھا کہ روس کے ساتھ براہ راست سمندری تجارت سے ڈالر کے علاوہ ادائیگی یوآن سمیت دیگر کرنسیوں میں بھی کی جاسکے گی۔

ٹائرز کی اسمگلنگ سے قومی خزانے کو 40ارب روپے سالانہ کا نقصان

کراچی: ٹائرز کی اسمگلنگ میں اضافے سے مقامی صنعت بحران کا شکار ہوگئی ہے،افغانستان کے راستہ ٹائرز کی اسمگلنگ سے قومی خزانے کو 40 ارب روپے سالانہ کا نقصان پہنچ رہا ہے۔

گندھارا ٹائر کے سی ای او حسین قلی خان کے مطابق ٹائر کی مقامی صنعت کو دہرے مسائل کا سامنا ہے جن میں ایک اہم مسئلہ ایل سی نہ کھلنے کی وجہ سے ہونےو الی خام مال کی قلت ہے۔ ٹائر کی صنعت کے لیے زیادہ تر خام مال منظور شدہ ذرائع سے درآمد کیا جاتا ہے مگر ہم مقامی سطح پر بہت زیادہ ویلیو ایڈیشن کرکے ملک کے لیے زرمبادلہ بچانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔

مقامی صنعت کا دوسرا سب سے بڑا مسئلہ اسمگل شدہ ٹائرز کی بھرمار ہے جن میں چھوٹی گاڑیوں اور کاروں کے ٹائرز کی اسمگلنگ سرفہرست ہے۔ حسین قلی خان نے کہا کہ روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں ٹائرز کی درآمد میں 47فیصد کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ ٹائرز کی دستیابی میں اس کمی کو بڑے پیمانے پر ہونے والی اسمگلنگ نے پورا کیا۔

پسنجر کاروں کے (ایچ ایس کوڈ 4011.1000) کے حامل ٹائرز کی درآمد میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 55 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔

حسین قلی خان نے کہا کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران ٹائرز کی اسمگلنگ میں غیرمعمولی اضافے نے مقامی صنعت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ زیادہ تر اسمگل شدہ ٹائرز غیرمعیاری ہیں جو شہر میں کھلے عام فروخت کیے جارہے ہیں لیکن بدقسمتی سے کم قیمت ہونے کی وجہ سے خریدار نتائج کی پروا کیے بغیر یہ سستے غیرمعیار ٹائرز خرید رہے ہیں۔

سی ای او گندھارا ٹائرز کا کہنا ہے کہ بعض تخمینوں کے مطابق صرف ٹائرز کی اسمگلنگ سے قومی خزانے کو سالانہ 40ارب روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے جس سے ٹائرز کی مقامی صنعت بھی بری طرح متاثر ہورہی ہے۔

یہ بات اہم ہے کہ رواں مالی سال کسٹم کلکٹریٹ انفورسمنٹ نے کراچی کی مارکیٹ سے 54 کروڑ روپے مالیت کے 55 ہزار ٹائرز قبضے میں لیے ہیں۔ افغانستان میں ٹائروں کی کھپت پاکستان کے مقابلے میں ایک تہائی ہے۔

حکومت کو افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے ذریعے درآمد ہونے والے ٹائرز کے ڈیٹا کا معائنہ کرکے اس سہولت پر ازسرنو غور کرنا چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ کیا اس سہولت کے تحت درآمد ہونے والے ٹائرز افغانستان میں چلنے والی گاڑیوں سے مطابقت رکھتے ہیں۔

افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت آنے والے ٹائرز کراچی میں ان لوڈ کیے جاتے ہیں یا پھر افغانستان سے واپس پاکستان اسمگل کردیے جاتے ہیں۔ کسٹم حکام کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ افغان ٹرانزٹ کی سہولت کا غلط استعمال بند کیا جائے۔

حسین قلی خان نے مزید کہا کہ اسمگلنگ سے قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ ٹیکس ادا کرنے والی مقامی صنعت کو کاروبار کے یکساں مواقع مہیا کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ اس کے لیے ضروری ہے کہ مارکیٹ میں دستیاب ٹائرز کے اسٹاک کی جانچ پڑتال کی جائے اور اس بات کی تحقیق کی جائے کہ ٹائرز ٹیکس ادا کرکے درآمد کیے گئے ہیں یا نہیں اور غیرقانونی اسٹاک قبضے میں لے لیا جائے۔

کراچی سے پشاور جانیوالی خیبر میل کی ایک بوگی پٹری سے اتر گئی

کراچی میں کالا پل کے قریب خیبر میل ٹرین کا اے سی بزنس کوچ نمبر 12 ڈی ریل ہوگیا۔

ریلوے حکام کے مطابق کراچی سے پشاور جانے والی خیبر میل روانگی کے چند منٹ بعد حادثے کا شکار ہوئی،ٹرین کی ایک بوگی پٹری سے اتری۔

حکام کا کہنا ہے کہ حادثے میں جانی نقصان نہیں ہوا، دوسری بوگی لگا کرٹرین کو جلد روانہ کر دیا جائے گا۔

’’ چاول کا بحران‘‘ برآمدات میں 40 فیصد کمی کا خدشہ

کراچی: موسمی اثرات، مہنگی بجلی، ناموافق پالیسیوں اور ریسرچ کے فقدان کی وجہ سے پاکستان کی 2.5 ارب ڈالر مالیتی چاول کی صنعت بحران کا شکار ہوگئی جب کہ ایکسپورٹ میں کمی کے ساتھ مقامی سطح پر بھی چاول کی پیداوار میں کمی ہوجانے سے فوڈ سیکوریٹی کا مسئلہ سر اٹھانے لگا۔

سندھ میں سیلاب سے چاول کی فصل کو پہنچنے والے شدید نقصان کے باعث رواں سال چاول کی ایکسپورٹ 40 فیصد تک کم رہنے کا خدشہ ہے جس سے ملک 500 ملین ڈالر سے زائد زرمبادلہ سے محروم ہوسکتا ہے۔

چاول کی صنعت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ پاکستان کے اس دوسرے بڑے ایکسپورٹ سیکٹر کو نظرانداز کیے جانے سے آنے والے عرصہ میں برآمدات کے علاوہ پاکستان کی فوڈ سیکورٹی بھی متاثر ہوگی۔

گزشتہ سال پاکستان میں چاول کی 8 ملین ٹن پیداوار ریکارڈ کی گئی جس میں سے 4.8 ملین ٹن کی ایکسپورٹ کے ذریعے 2.5 ارب ڈالر کا زرمبادلہ حاصل کیا گیا۔ رواں سیزن کے دوران سندھ میں چاول کی فصل ضایع ہونے، توانائی کے بحران، بلند پیداواری لاگت اور شرح مبادلہ کے بارے میں بے یقینی سے چاول کی برآمدات 2 ارب ڈالر سے بھی کم رہنے کا خدشہ ہے۔

سندھ کا ’’اری‘‘ چاول زیادہ تر ایکسپورٹ کیا جاتا ہے اور مقامی فیڈ ملوں کے استعمال میں لایا جاتا ہے جبکہ پنجاب میں کاشت ہونے والا زیادہ تر باسمتی چاول مقامی سطح پر استعمال کیا جاتا ہے جس کی لوکل کھپت میں ہر سال اضافہ ہورہا ہے۔

رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین کیولانی رام چیلا کے مطابق پاکستان کی چاول کی صنعت اس وقت تاریخ کے بدترین بحران سے گزر رہی ہے۔ ایک جانب موسمی تبدیلی کے اثرات، بارشوں اور سیلاب نے پیداوار کو بری طرح متاثر کیا ہے جس سے سندھ میں کاشت ہونے والا 40 فیصد سے زائد چاول ضایع ہوگیا، چاول کی کاشت کے اہم علاقے میہڑ، لاڑکانہ اور دادو اب بھی زیرآب ہیں۔

وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے دعوے کے مطابق ڈالر کی قیمت 200 روپے پر آنے کے امکانات نے ایکسپورٹرز کو مقامی سطح پر مہنگے داموں چاول کی خریداری اور ایکسپورٹ آرڈرز بک کرنے سے روکا ہوا ہے۔توانائی کا بحران بھی رائس انڈسٹری کو بری طرح متاثر کررہا ہے۔

رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن وفاقی حکومت کو اپنے خدشات اور چاول کی ایکسپورٹ سمیت مقامی سطح پر فوڈ سیکیورٹی کے ممکنہ مسائل کے بارے میں آگاہ کرچکی ہے، تاہم وفاقی حکومت کی جانب سے تاحال اس مسئلے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔

انہوں نے تجویز دی کہ کپاس، گندم، چاول، مکئی سمیت اہم اجناس کی پیداوار بڑھانے کے لیے ماہرین اور ان شعبوں کے تجربہ کار افراد پر مشتمل مشاورتی بورڈ تشکیل دیئے جائیں تاکہ خوراک کی تیزی سے بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے ساتھ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی طلب سے فوائد اٹھانے کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کی جاسکے۔

سندھ کی 1200کے لگ بھگ چھوٹی اور بڑی رائس ملیں جو ایکسپورٹرز کو چاول مہیا کرتی ہیں، ان میں سے پچاس فیصد کے قریب بند ہوچکی ہیں اور آنے والے دنوں میں مزید ملیں بھی بند ہوجانے کا خدشہ ہے جس سے بے روزگاری میں اضافہ ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ چاول کی صنعت پیداوار نہ ہونے کی وجہ سے بجلی استعمال نہ کرنے کے باوجود منظور شدہ لوڈ کا 50فیصد فکسڈ ٹیکس ادا کرنے کی پابند ہے جس سے یہ شعبہ سرمائے کی قلت کا شکار ہورہا ہے۔

پاکستان کے معروف کامیڈین اسماعیل تارا انتقال کر گئے

کراچی: پاکستان کے معروف مزاحیہ اداکار اسماعیل تارا 73 برس کی عمر میں کراچی میں انتقال کر گئے۔

اسماعیل تارا گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے اور کچھ دن سے نجی اسپتال میں زیر علاج تھے۔جمعرات کی صبح ہی انہیں وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا تھا پھر ان حالت سنبھل نہ سکی اور وہ اپنے خالق حقیقی کو جاملے۔

مرحوم کے پسماندگان میں بیوہ ایک بیٹی اور 4 بیٹے شامل ہیں، اسماعیل تارا کے صاحبزادے شیراز تارا کے مطابق مرحوم کی نماز جنازہ آج بعد نماز جمعہ شہید ملت روڈ پر میمن پہاڑی والی مسجد میں اداکی جائے گی۔

سن 1949 کو لاہور میں پیدا ہونے والے اسماعیل تارا نے 1964 میں فنکارانہ سفر شروع کیا۔

ویسے تو اسماعیل تارا نے کئی فلموں اور اسٹیج ڈراموں پر بہترین اداکاری کے جوہر دکھائے تھے مگر اسی کی دہائی میں طنز و مزاح کے مشہور ڈرامے ففٹی ففٹی میں ان کی لازوال اداکاری نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔

اسماعیل تارا کو فلم ہاتھی میرے ساتھ، منڈا بگڑا جائے، چیف صاحب اور دیواریں“ میں زبر دست اداکاری پر4 مرتبہ نگار فلم ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

مرحوم اداکار نے متعدد فلموں میں کام کیا، حالیہ دنوں میں اسمعیل تارا نےفلم ڈونکی کنگ میں کام کیا،ریڈی اسٹیڈی نمبر ان کی آخری فلم ثابت ہوئی۔

ہم بھی نہیں چاہتے پاکستان دیوالیہ ہوجائے، شوکت ترین

کراچی: سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ حکومت ہمیں الزام دینا ترک کرے، حکومت انفلوز اور آؤٹ فلوز کا بیلنس کرکے دکھادے صورت حال واضح ہوجائے گی اور مارکیٹوں میں نادہندگی کے شکوک وشبہات ختم ہوجائیں گے۔

یہ بات انہوں نے پیر کو کراچی پریس کلب میں مزمل اسلم کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ پاکستان ڈیفالٹ کرے اور انشااللہ ڈیفالٹ نہیں کرے گا، ٹیکس محصولات میں کمی آرہی ہے جس سے مالی خسارہ بڑھ گیا۔

انہوں ںے کہا کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں مالی خسارے کا تخمینہ 400 ارب رکھا جو اب 810 ارب روپے ہوگیا، حکومتی منیجرز خود اعتراف کر رہے ہیں کہ جی ڈی پی گروتھ صفر فیصد رہ سکتی ہے، آئی ایم ایف نے نئے ٹیکس لگانے کا کہہ دیا ہے لیکن آئی ایم ایف جائزہ کب ہوگا کچھ نہیں معلوم۔

شوکت ترین کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار نے کہا کہ آئی ایم ایف سے ڈیل پر نظرثانی کریں گے تو اس کا کیا ہوا ؟ اسحاق ڈار نے کہا کہ ڈالر 200 سے نیچے لاؤں گا لیکن نہیں آیا، اس وقت 224 روپے انٹربینک اور اوپن کرنسی ریٹ 230 روپے ہے لیکن اوپن مارکیٹ میں قرعہ اندازی پر 240 روپے میں ملتا ہے۔

انہوں ںے کہا کہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ریٹنگ گرانے پر ریٹنگ ایجنسیز سے بات کروں گا مگر انہوں نے کریڈٹ ڈیفالٹ رسک بڑھا دیا، ان سب مسائل کا ایک ہی حل ہے کہ سیاسی عدم استحکام ختم کیا جائے اور اور سیاسی عدم استحکام صرف نئے انتخابات کے اعلان سے ہی آئے گا۔

شوکت ترین نے کہا کہ حکومت نے 6 ماہ میں ساڑھے 6 ارب روپے قرض لیا، اس حکومت نے 6 ماہ میں 3 ہزار ارب روپے کا خسارہ کیا، آئی ایم ایف نے اس حکومت سے بات کرنا بند کردی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یوٹیلٹی ٹیرف بڑھانے سے افراط زر مزید بڑھے گی اور صنعتوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگا، سردیوں میں گیس کی عدم دستیابی سے بے روزگاری بڑھے گی صنعتیں بند ہوں گی، کامیاب جوان پروگرام ہمارا پروگرام تھا کامیاب پاکستان کے پروگرام کو چلایا جائے۔

سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ فارمل اور انفارمل مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں فرق 17 روپے ہے، جب انٹربینک میں ڈالر کو روکا جائے گا تو ڈالر کی قدر بڑھے گی، ایل سیز نہیں کھل رہی ہیں اربوں ڈالر کی ایل سیز رکی ہوئی ہیں، یہ ہم نہیں کہہ رہے ہیں مارکیٹ کہہ رہی ہیں۔

مزمل اسلم نے کہا کہ حکومت نے پاکستان پر توجہ دینا چھوڑ دی ہے اور صرف بیرونی دورے ہورہے ہیں، پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ آئی ایم ایف کے پروگرام کے بعد ملک میں استحکام نہیں آسکا۔

سندھ میں کاروبار شام 6 سے صبح 6 بجے تک بند رہیں گے

کراچی: صوبے بھر کے تجارتی کاروباری مراکز، شاپنگ مالز اور دیگر کاروبار شام 6 سے صبح 6 بجے تک بند رہیں گے۔

کراچی سمیت سندھ بھر میں کورونا کیسز کی شرح میں اضافے کے بعد صوبائی ٹاسک فورس اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پرعملدرآمد کا آغاز آج سے ہوگا، اس حوالے سے محکمہ داخلہ سندھ نے ایک بار پھر ہدایات جاری کردی ہیں۔

صوبائی محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق صوبے بھر کے تمام تعلیمی ادارے 31 جولائی تک بند رہیں گے، تاہم اسکولز و کالجز کے صرف جاری امتحانات ایس اوپیز کے تحت منعقد ہوں گے، جب کہ صوبے میں کاروباری اوقات کار صبح 6 سے شام 6 بجے تک ہوں گے۔

محکمہ داخلہ سندھ کے مطابق تجارتی کاروباری مراکز، شاپنگ مالز اور دیگر کاروبار شام 6 سے صبح 6 بجے تک بند رہے گا، شاپنگ مالزیابڑے تجارتی مراکز میں واقع میڈیکل اسٹورز، فوڈ کورٹ بھی شام 6 کے بعد مکمل طورپربند رہیں گے، وقت کی پابندی کا اطلاق اشیائے ضروریہ، بیکریز، ڈیری شاپس اور میڈیکل اسٹورز پر نہیں ہوگا، جمعہ اور اتوار کے روز کاروباری مراکز مکمل بند رہیں گے۔

محکمہ داخلہ نے کہا ہے کہ آج سے شادی ہالز کے ساتھ ساتھ ریسٹورنٹس پر انڈور آؤٹ ڈور ڈائننگ پر پابندی عائد ہوگی، ریسٹورنٹ سے ٹیک اوے رات 10 بجے تک جب کہ ہوم ڈیلیوری سروس رات 12 بجے تک کی اجازت ہوگی، آج سے سرکاری اور نجی سیکٹرکے دفاتر میں 50 فیصد اسٹاف حاضر ہوگا، سرکاری دفاتر میں وزیٹرز کے داخلے پرپابندی ہوگی، پابندیوں کے احکامات ایک ہفتے تک نافذ العمل ہوں گے۔

مولانا عادل کے قتل میں پڑوسی ممالک کے شامل ہونے کا انکشاف

کراچی: تفتیشی حکام نے دارالعلوم کراچی کا دورہ کیا جہاں سیکیورٹی گارڈ سے بھی پوچھ گچھ کی گئی، سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ واردات میں دو پڑوسی ممالک کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔

میڈیا کے مطابق ہفتہ کو شاہ فیصل کالونی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے مولانا عادل اور ان کا ڈرائیور شہید ہوگئے تھے، پولیس نے کیس کی تفتیش پر تیزی سے کام کیا، جائے وقوع سے ملنے والے خول کی رپورٹ بھی سامنے آگئی۔ جائے وقوع سے پانچ خول ملے جن کی فارنزک رپورٹ کے مطابق وہ کسی بھی پرانی واردات سے میچ نہیں ہوئے۔ پولیس نے کئی افراد کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جبکہ واقعے کی جیوفینسنگ بھی مکمل کرلی گئی جس میں کچھ مشکوک نمبرز ملے ہیں جن کے بارے میں تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔

تفتیشی حکام نے دارالعلوم کراچی کا دورہ کیا جہاں نصب مختلف سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیجز حاصل کی گئیں۔ ٹیم نے مختلف افراد کے ساتھ ساتھ مرکزی دروازے کے سیکیورٹی گارڈ سے بھی پوچھ گچھ کی۔ سیکیورٹی گارڈ نے بتایا کہ مولانا عادل مغرب کی نماز سے قبل دارالعلوم کراچی میں داخل ہوئے، نماز مغرب دارالعلوم میں ادا کی ، نماز مغرب کے بعد انھوں نے مفتی تقی عثمانی سے ملاقات کی اور روانہ ہوگئے، دارالعلوم کے مرکزی دروازے پر رفتار ہلکی ہوئی تو انھوں نے گاڑی کے اندر سے ہی سلام کا اشارہ کیا، ان کے ساتھ کوئی سیکیورٹی گارڈ نہیں تھا۔

واقعے سے متعلق کئی سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی منظر عام پر آگئیں، قریبی لگے ایک سی سی ٹی وی میں حملے سے کچھ دیر پہلے کے مناظر ریکارڈ ہوئے جس میں ڈرائیور گاڑی سے اتر کر گاڑی کی صفائی کرتا ہے اور اسی دوران گاڑی کے عقب میں دو مشکوک افراد بھی نظر آرہے ہیں جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہی حملہ آور ہیں۔ ڈرائیور گاڑی کی صفائی کے بعد دوبارہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ جاتا ہے اسی اثنا میں عقب سے ایک ملزم آتا ہے اور فائرنگ کے بعد فرار ہوجاتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ عینی شاہدین نے کے مطابق موٹر سائیکل پر سوار تین ملزمان میں سے کچھ دور جاکر دو ملزمان اتر گئے تھے اور وہاں پہلے سے موجود ایک کار میں سوار ہو کر فرار ہوگئے تاہم اس بات کی حکام ابھی تصدیق کررہے ہیں۔

سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ وادات میں پاکستان کے دو پڑوسی ممالک کے ملوث ہونے کے بھی کچھ شواہد ملے ہیں جبکہ اب تک کی تفتیش میں کچھ ایسے اشارے بھی ملے ہیں کہ مفتی تقی عثمانی اور مولانا عادل پر حملے میں ایک ہی گروپ ملوث ہے تاہم ابھی حتمی طور پر کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا ابھی واقعے کی مکمل باریک بینی کے ساتھ تفتیش جاری ہے۔

کراچی، القاعدہ کا اہم دہشتگرد گرفتار

کراچی: گڈاپ سے القاعدہ برصغیر کے کارندے کو گرفتار کرلیا جو شہر قائد میں دہشت گردی کی بڑی واردات کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

گڈاپ سٹی پولیس نے کارروائی میں القاعدہ برصغیر کے اہم کارندے سعید اللہ عرف چھوٹی دنیا کو گرفتار کیا ہے، ملزم افغانستان سے تربیت حاصل کرچکا ہے اور وہ کسی بھی نوعیت کا بم بنانے کا ماہر ہے۔ ملزم کے قبضے سے 4 کلو بارودی مواد، 5 ڈیٹونیٹرز، ڈیٹونیٹرز کی تاریں اور 2 پستول برآمد ہوئے ہیں،

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کراچی میں کسی بڑی دہشت گردی کی واردات کی منصوبہ بندی کررہا تھا تاہم پولیس کی بروقت کارروائی سے شہر کسی بڑے سانحے سے بچ گیا۔ ملزم کے دیگر ساتھیوں کی تلاش میں مختلف مقامات پر چھاپہ مار کارروائیاں کی جارہی ہیں اور ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرکے مزید تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔

کراچی کیلئے 1100 ارب روپےکے پیکیج کا اعلان

اسلام آباد: وزیراعظم نے کراچی کیلئے 1100 ارب روپے کے پیکیج کا اعلان کردیا ہے۔

کراچی میں گورنر سندھ عمران اسماعیل، وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ اور وفاقی و صوبائی وزرا کے ہمراہ میڈیا بریفنگ کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ کسی بھی مسئلے سے نمٹنے کے لیے کوآرڈی نیشن ضروری ہے، بارشوں سے پہلے کورونا کا چیلنج تھا، کورونا سے نمٹنے کیلئے ہم نے کمیٹی بنائی، ٹڈی دل کے چیلنج سے نمٹنے کےلیے بھی کمیٹی تشکیل دی گئی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ کراچی میں بارشوں سے تباہی ہوئی، ہم نے محسوس کیا کہ کراچی کا مسئلہ اہم ہے اس پر بات کرنا ضروری ہے۔ کراچی کے لوگوں نے مشکل وقت کا سامنا کیا، کراچی میں نالے ،نکاسی آب ،بےگھرافراد اور سولڈ ویسٹ کے مسائل ہیں۔ شہر کی سڑکیں اور دیگر انفراسٹرکچر کا مسئلہ حل کرنا ضروری ہے۔

ہم نے مل کر کورونا سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے، کراچی کے مسائل کے حل کے لیے بھی مل کر کام کریں گے۔ وفاقی اور صوبائی حکومت نے مل کر 1100 ارب روپے کا پیکیج ترتیب دیا ہے۔ اس کے تحت پینے کے پانی کی فراہمی، نالوں کی صفائی اور بے گھر افراد کی آباد کاری ہوگی۔ کراچی سرکلر ریلوے بھی اسی پیکیج سے مکمل کریں گے۔