پاکستان اور روس کےدرمیان براہ راست کارگو سروس کا آغاز

کراچی: پاکستان اور روس کے درمیان براہ راست کارگو سروس شروع ہونے سے تجاتی تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہوگئے، پہلا روسی کارگو بحری جہاز سینٹ پیٹرز برگ کی بندرگاہ سے 450کنٹینرز کے ساتھ براہ راست 25 مئی کو کراچی پورٹ پہنچے گا۔

روس کے ساتھ سمندری راستے سے براہ راست کارگو سروس کا آغاز ہونے سے پاکستان اور روس کے درمیان باہمی تجارت کا حجم 2.5ارب ڈالر تک وسیع ہونے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔

پاک شاہین پرائیویٹ لمیٹڈ کے سی ای او عبداللہ فرخ نے بتایا کہ روس کی بندر گاہ سینٹ پیٹرز برگ سے پہلا روسی کارگو جہاز 450کنٹینرلے کر براہ راست 25 مئی کو کراچی پورٹ پہنچے گا۔ اس طرح سے پاکستان کے برآمدات کنندگان کے لیے روس سے سمندری تجارت کی بڑی سہولت کا آغاز ہوجائے گا۔

براہ راست سمندری سروس شروع ہونے سے روس سے کارگو صرف 18 دن میں پاکستان کی بندر گاہ پہنچ جائے گا۔ اس سے قبل روس سے آنے والے جہاز کو ایک مہینہ لگ جاتا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ روس سے دوسرا جہاز 29 مئی کو کراچی پورٹ پہنچے گا۔ عبداللہ فرخ کے مطابق پاکستان روس کو 150 ملین کی ایکسپورٹ جبکہ 300 ملین کی امپورٹ کرتا ہے جبکہ دونوں ممالک کی باہمی تجارت کا حجم 2.50ارب ڈالر تک بڑھنے کی گنجائش موجود ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان روس کے ساتھ سمندری خوراک اور دیگر سیکٹر میں بھی تجارت بڑھا سکتا ہے۔ خطے میں ٹرانس شپمنٹ تجارت کے تحت اس سروس سے پاکستان کو زرمبادلہ کا فائدہ ہوسکتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر مہینے میں ایک اور کاروباری حجم بڑھتے ہی ماہانہ 3 بحری جہاز براہ راست روس سے پاکستان آئیں گے۔ روس کے ساتھ تجارت بڑھنے سے مزید تجارتی کمپنیاں بھی پاکستان آئیں گی۔

عبداللہ فرخ نے بتایا کہ روس سے سمندری راستے سے خطے کے دیگر ممالک بھارت ، چین اور افریقی ممالک کا ٹرانس شپمنٹ کے تحت کارگو آرہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مستقبل میں چین سمیت دیگر ممالک کے لیے بھی ٹرانس شپمنٹ کا اضافہ ہوگا۔ سروس کے آغاز پر جہاز کا فریٹ زیادہ ہوگا جب تجارت بڑھے گی تو نرخ کم ہوجائیں گے۔

عبداللہ فرخ کا کہنا تھا کہ روس کے ساتھ براہ راست سمندری تجارت سے ڈالر کے علاوہ ادائیگی یوآن سمیت دیگر کرنسیوں میں بھی کی جاسکے گی۔

کراچی ٹیسٹ کا دوسرا روز؛ نیوزی لینڈ نے بغیر کسی نقصان 165 رنز بنا لیے

کراچی: سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ میں نیوزی لینڈ کے خلاف پاکستان ٹیم پہلی اننگز میں 438 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی، جواب میں کیوی ٹیم نے دن کے اختتام پر بغیر کسی نقصان 165 رنز بنا لیے۔

مہمان ٹیم کے اوپنرز بلے بازوں نے شاندار آغاز کیا۔ ٹام لیتھم 78 اور ڈیون کونوے 82 رنز بنا کر وکٹ پر موجود ہیں۔ قومی ٹیم کی جانب سے فاسٹ اور اسپن بولرز نے وکٹ لینے کی کوشش کی تاہم کامیابی نہیں مل سکی۔

قبل ازیں، پاکستان نے 317 رنز پانچ وکٹوں کے نقصان پر بقیہ اننگز کا آغاز کیا لیکن کپتان بابراعظم دوسرے روز پہلے اوور کی چوتھی گیند پر ٹم ساوتھی کے ہاتھوں آؤٹ ہوگئے۔ انہوں نے 161 رنز کی اننگز کھیلی۔

بابراعظم کے آؤٹ ہونے کے بعد نعمان علی نے آغا سلمان کے ساتھ مل کر 54 رنز کی شراکت قائم کی۔ تاہم، نعمان علی کی وکٹ گرنے کے بعد کوئی کھلاڑی وکٹ پر ساتھ نہ دے سکا۔ آغا سلمان نے اپنے کیریئر کی پہلی سنچری اسکور کی اور 103 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

کیوی کپتان ٹم ساوتھی نے تین کھلاڑیوں کا شکار کیا جبکہ اش سودھی، اعجاز پٹیل اور مائیکل بریسویل نے دو دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ فاسٹ بولر نیل واگنر ایک ہی وکٹ لے سکے۔

قومی ٹیم نے ٹیسٹ کے پہلے روز ٹاس جیت کر بیٹنگ کا آغاز کیا تو اس کی تین وکٹیں 48 کے اسکور پر گرگئیں جب کہ چوتھی وکٹ 110 رنز پر گری جس کے بعد کپتان بابراعظم اور سرفراز احمد نے ٹیم کو سہارا دیا۔

دونوں کے درمیان پانچویں وکٹ کی شراکت میں 196 رنز بنائے گئے، کھیل کے آخری اوورز میں سرفراز احمد 86 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے۔ اس سے قبل، اوپنر بلے باز عبداللہ شفیق 7 رنز، شان مسعود 3 رنز، امام الحق 24 رنز اور سعود شکیل 22 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے تھے۔

قومی ٹیم میں وکٹ کیپر بلے باز سرفراز احمد اور فاسٹ بولر میر حمزہ کی ٹیم میں واپسی ہوئی ہے جبکہ بلے باز امام الحق کو بھی ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔

سرفراز احمد نے تقریباً 4 سال قبل 2019 میں بحیثیت کپتان جنوبی افریقا کے خلاف جوہانسبرگ میں ٹیسٹ میچ کھیلا تھا۔ سرفراز احمد ہوم گراؤنڈ پر اپنا میچ کھیل رہے ہیں۔ فاسٹ بولر میر حمزہ نے آخری مرتبہ ٹیسٹ میچ 2018 میں کھیلا تھا۔

کابل میں پاکستانی ناظم الامور پر قاتلانہ حملہ

اسلام آباد / کابل: افغان دارالحکومت میں پاکستانی ناظم الامور پر مسلح شخص نے قاتلانہ حملہ کیا جس میں سیکیورٹی گارڈ شدید زخمی ہوگیا، جسے ہیلی کاپٹر کے ذریعے پشاور منتقل کردیا گیا ہے۔

میڈیا کو وزارت خارجہ کے ذرائع سے ملنے والی اطلاع کے مطابق کابل میں پاکستانی سفارتی حکام پر فائرنگ اُس وقت کی گئی جب ناظم الامور چہل قدمی کررہے تھے۔

فائرنگ کے نتیجے میں سیکیورٹی گارڈ کے سینے میں تین گولیاں لگیں جسے طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔ جمعہ کے روز پاکستانی سفارتخانے میں تعطیل کی وجہ سے باعث رش نہیں تھا۔
حکومت پاکستان کی واقعے کی شدید مذمت

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ کابل میں قائم پاکستانی سفارت خانے کی عمارت پر حملہ کر کے ہیڈ آف مشن عبید الرحمان نظامانی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی مگر وہ معجزانہ طور پر محفوظ رہے جبکہ عبید الرحمان کی حفاظت کے دوران فائرنگ سے پاکستانی سیکیورٹی گارڈ سپاہی اسرار محمد شدید زخمی ہوا۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان نے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے افغانستان کی عبوری حکومت سے تحقیقات اور ملوث افراد کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔حکومت پاکستان نے امارات اسلامیہ کی حکومت سے افغانستان میں موجود پاکستانی سفارتی عملے و شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔

وزیراعظم شہبازشریف کا کابل میں پاکستانی ہیڈ آف مشن کو ٹیلی فون رابطہ کیا اور واقعے سے متعلق معلومات لیتے ہوئے خیریت دریافت کی۔

شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر لکھا کہ ’ یہ سن کر تسلی ہوئی کہ عبید نظامانی محفوظ ہیں، میں نے ان کے ساتھ حکومت اور عوام کی یکجہتی کا اظہار کیا، مشن کو مکمل تعاون اور مدد کا یقین دلایا، میں نے بہادر سیکیورٹی گارڈ کی جلد صحت یابی کے لیے دعا بھی کی‘۔

انہوں نے لکھا کہ ’ہیڈ آف مشن کابل پر قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کرتا ہوں، بہادر سیکورٹی گارڈ کو سلام ،جلد صحت یابی کے لیے دعا گوہوں‘۔

وزیراعظم نے افغان حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس گھناوٴنے فعل کی فوری تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

وزیرخارجہ بلاول بھٹو نے اپنے بیان میں کہا کہ کابل میں ہیڈ آف مشن عبید الرحمان نظامانی سے بات ہوئی، عبید الرحمان نظامانی ایک قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم عبید الرحمان نظامانی پر قاتلانہ حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، ہمارے سفارتکاروں کا تحفظ اور حفاظت بنیادی اہمیت کے حامل ہے۔
ہم زخمی اہلکار اسرار کی بہادری کو سلام پیش کرتے ہیں اور ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں‘۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں پاکستانی سفارتخانے پر فائرنگ کے واقعہ میں زخمی سکیورٹی گارڈ کو پاکستان منتقل کردیا گیا۔

ترجمان دفترخارجہ نے کہا ہے کہ محمد اسرار کو بذریعہ ہیلی کاپٹر پشاور منتقل کیا گیا. محمد اسرار کابل میں ہونیوالے فائرنگ کے واقعے میں شدید زخمی ہوگئے تھے۔

پہلا ٹیسٹ، انگلینڈ نے پہلے ہی روز 506 رنز بناکر 112 سالہ ریکارڈ توڑ دیا

راولپنڈی: پاکستان کے خلاف سیریز کے پہلے ٹیسٹ کے پہلے روز انگلینڈ نے 506 رنز اسکور کر کے اپنا 112 سالہ ریکارڈ توڑ دیا۔

راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جارہے میچ میں انگلینڈ کے اوپنرز زیک کرولی اور بین ڈکٹ نے اپنی ٹیم کو جارحانہ آغاز فراہم کیا، دونوں نے پہلی وکٹ کی شراکت میں 233 رنز اسکور کیے، بین ڈکٹ 107 جبکہ زیک کرولی 122 رنز بناکر نمایاں رہے۔

دیگر کھلاڑیوں میں اولی پوپ 108، جو روٹ 23 رنز بناکر نمایاں رہے جبکہ کپتان بین اسٹوکس 34 اور ہیری پروک 101 رنز بناکر کریز پر موجود ہیں۔ پاکستان کی جانب سے زاہد محمود نے 2 جبکہ حارث رؤف اور محمد علی نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

قبل ازیں انگلش ٹیم کے کپتان بین اسٹوکس نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ انکا کہنا تھا کہ کوشش ہوگی پہلے ابتداء میں بہتر کھیل کا مظاہرہ کرکے پاکستان کو انڈر پریشر لائیں۔ اس موقع پر قومی ٹیم کے کپتان بابراعظم نے کہا تھا کہ اگر ٹاس جیتتے تو پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کرتے۔

قومی ٹیم میں انگلیںڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں 4 کھلاڑی ڈیبیو کررہے ہیں، جن میں سعود شکیل، حارث رؤف، محمد علی اور زاہد محمود شامل ہیں۔

گزشتہ روز کپتان بین اسٹوکس سمیت 8 انگلش کرکٹرز میں وائرل انفیکشن کے باعث پاک انگلینڈ کے درمیان پہلا ٹیسٹ میچ ایک روز کے لیے مؤخر کا بیان دیا تھا تاہم آج الصبح بورڈ نے دونوں ٹیموں کے مابین میچ مقررہ وقت پر شروع کرنے کا اعلان کیا۔

پاکستان نے معاشی استحکام کے لیے بینک آف چائنہ سے مدد مانگ لی

اسلام آباد: پاکستان نے معاشی استحکام کیلیے بینک آف چائنہ سے تعاون مانگ لیا۔ وزیرخزانہ نے کہا کہ موجودہ حکومت میکرو اکنامک استحکام کو واپس لانے کے لیے مضبوطی سے پُرعزم ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پاکستان میں میکرو اکنامک استحکام لانے کیلئے صدر بینک آف چائنہ سے تعاون طلب کرلیا ہے اور صدر بینک آف چائنہ سے کہا ہے کہ اقتصادی اور مالیاتی تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے لیے پاکستان کے ساتھ کاروباری تعلقات کو وسعت دی جائے، وزیر خزانہ نے صدر بینک آف چائنہ کو دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی ہے۔

وزارت خزانہ کی طرف سے جاری کردہ اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے وزارت خزانہ میں بینک آف چائنہ کے صدر مسٹر لیو جن سے ورچوئل ملاقات کی ہے۔

اس موقع پر وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے خزانہ طارق باجوہ، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے ریونیو طارق محمود پاشا، اسپیشل سیکریٹری خزانہ اور فنانس ڈویژن کے دیگر سینئر افسران بھی موجود تھے۔

وزیر خزانہ محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ بینک آف چائنہ کے ساتھ کام کرنا ہمیشہ ہی بہت خوشی کی بات ہے اور پاکستان بینک کے ساتھ اچھے مالی معاملات سے مستفید ہوا ہے۔ وزیر خزانہ نے وزیر اعظم پاکستان کے حالیہ دورہ چین پر بھی روشنی ڈالی اور چینی قیادت کی جانب سے گرمجوشی کے اظہار کے حوالے سے بات کی۔

انہوں نے صدر بینک آف چائنہ کو موجودہ حکومت کو وراثت میں ملنے والے مالیاتی اور مالیاتی حالات سے آگاہ کیا اور بتایا کہ موجودہ حکومت میکرو اکنامک استحکام کو واپس لانے کے لیے مضبوطی سے پُرعزم ہے۔

وزیر خزانہ نے بینک آف چائنہ سے تعاون طلب کیا اور صدر سے کہا کہ اقتصادی اور مالیاتی تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے لیے پاکستان کے ساتھ کاروباری تعلقات کو وسعت دی جائے۔

صدر بینک آف چائنہ نے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی اور دوطرفہ تعلقات پر بھی روشنی ڈالی اور ملک میں عوام کی زندگیوں کو آسان بنانے کے لیے ضروری اقدامات کرنے پر حکومت پاکستان کی تعریف کی۔

انہوں نے مشکل وقت میں چین کی حمایت میں پاکستان کے تعاون کا بھی اعتراف کیا اور حکومت پاکستان کی جانب سے سی پیک کے مختلف چینی منصوبوں پر فراہم کی جانے والی جاری سہولتوں کو بھی سراہا۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے صدر بینک آف چائنہ کا مسلسل تعاون پر شکریہ ادا کیا اور انہیں اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعاون کو مزید گہرا کرنے میں موجودہ حکومت کی طرف سے بھی اسی طرح کے تعاون کا یقین دلایا۔

پاکستان ریلویز نے چین سے جدید خطوط پر استوار بوگیاں در آمد کرلیں

کراچی: پاکستان ریلوے نے مسافروں کو سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے جدید خطوط پر استوار بوگیاں در آمد کرلیں جن میں معذور افراد کے لیے بیت الخلا بھی موجود ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی بندرگاہ پر پاکستان ریلوے نے چین سے درآمد کی گئی بوگیوں کی پہلی کھیپ حاصل کرلی ہے، جدید سہولیات سے آراستہ کوچز میں فری وائی فائی، چارجنگ سویچز، ایل ای ڈی سمیت معذور افراد کے لیے بیت الخلا کی سہولت بھی موجود ہے۔

230 میں سے 46 بوگیاں کراچی پہنچادی گئیں ہیں جبکہ بقیہ بوگیاں پاکشتان اسپیئر پارٹس سے خود تیار کرے گا۔ یکم دسمبر سے ان بوگیوں کا ٹرائل شروع کردیا جائے گا۔

اسسٹنٹ جی ایم پاکستان ریلوے شاہد عزیز نے کہا کہ آج پاکستان کی تایخ کا یادگار دن ہے،46 جدید سہولیات سے آراستہ کوچز پہنچ گئی ہیں، یہ پاکستان اور چائنا کے بہترین تعلقات کی مثال ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ اگست 2021 میں ہوا، 230 کوچز چائنا سے لینے کا کنٹریکٹ ہوا، مستقبل میں ہم را مٹریل سے پاکستان میں بنائیں گے، یہ کوچز 160 کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار سے چلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، پہلی بار معذور افراد کے لیے اسپیشل وش رومز بنائے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ چین مزید 184 بوگیوں کے پرزے اسمبلنگ کے لیے پاکستان کو فراہم کرے گا، چین سے آنے والے کوچز میں اکنامی پارلر کار اور اے سی اسٹینڈرڈ کوچز شامل ہوں گی، اکنامی اوراے سی اسٹینڈرڈ کوچز میں آرام دہ برتھیں، نائٹ لیمپس اور موبائل چارجر بھی لگائے گے ہیں۔

روس کیساتھ توانائی کے شعبے میں آئندہ ماہ بڑے بریک تھرو کا امکان

اسلام آباد: پاکستان اور روس کے درمیان توانائی کے شعبے میں ہونے والے منصوبوں پر آئندہ ماہ بریک تھرو کا امکان ہے۔

روس سے پیٹرولیم مصنوعات، خام تیل، گیس اورپائپ لائن منصوبے کی راہ ہموار ہوگئی ہے کیونکہ ملکی ریفائنریوں نے روسی خام تیل سے پٹرولیم مصنوعات تیار کرنے پر آمادگی ظاہر کردی۔

اس ضمن میں وزیر مملکت برائے پیٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک نے اسٹریٹجک اجلاس کیلئے تجاویز طلب کرلیں۔ پیٹرولیم کمپنیوں کو اجلاس میں کاغذی کارروائی مکمل کر کے پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

وزیرمملکت کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں روس کیساتھ توانائی معاہدے کے مقاصد، اہداف، مسائل اور مالی فوائد طے کیے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق روس سے بہتر معاہدہ ہونے کی صورت میں پاکستان کو سالانہ 2ارب ڈالر سے زائد بچت ہوسکتی ہے جبکہ روس سے پیٹرولیم مصنوعات خریدنے سے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بھی کم ہوجائے گا۔

چینی قرضے پر سالانہ سود 36.3 ارب تک جاپہنچا

اسلام آباد: قرضوں کی ادائیگی میں سہولت کے لیے چین کی جانب سے 4.5 ارب ڈالر کی کرنسی تبادلہ فیسیلیٹی پر واجب الادا سود کی رقم میں 39 فیصد اضافہ ہوگیا جس کے باعث گزشتہ مالی سال میں پاکستان کو اس مد میں 36.3 ارب روپے ادا کرنے پڑے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مالی سال 2021-22 کے لیے سالانہ فنانشل اکاؤنٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ 4.5 ارب ڈالر مالیت کی چینی ٹریڈ فنانس فیسیلیٹی کے استعمال پر پاکستان کو سالانہ سود کی مد میں 36.3 ارب روپے ادا کرنے پڑے۔

اس سے پچھلے سال پاکستان نے سود کی مد میں26.1 ارب روپے ادا کیے تھے یعنی اس رقم میں صرف ایک سال میں 39 فیصد اضافہ ہوگیا، جو 10.2ارب روپے بنتا ہے۔

اسٹیٹ بینک نے چائنا پاکستان کرنسی سواپ ارینجمنٹ کے تحت ٹریڈ فنانس فیسیلیٹی کی پوری مجموعی رقم سے استفادہ کیا، جو 4.5 ارب ڈالر یا 30 ارب یوان بنتی ہے۔

یاد رہے کہ دوطرفہ تجارت اور براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کے فروغ، شارٹ ٹرم لیکوڈیٹی سپورٹ اور فریقین کی باہمی رضامندی سے طے ہونے والے کسی بھی دوسرے مقصد کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور پیپلز بینک آف چائنا کے مابین دسمبر 2011ء میں دوطرفہ کرنسی سواپ معاہدہ (سی ایس اے) طے پایا تھا۔

مالی سال2021ء میں اس معاہدے کی بالائی حد تین سالہ مدت کے لیے 20 ارب یوان سے بڑھا کر 30 ارب یوان یا 4.5 ارب ڈالر کردی گئی تھی۔

وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے رواں ماہ بیجنگ کا دورہ کیا اور چینی وزیراعظم سے ٹریڈ فنانس فیسیلیٹی کی بالائی حد میں مزید 10ارب یوان یا 1.5 ارب ڈالر اضافے کی درخواست کی تھی۔

اگر یہ درخواست چین کی جانب سے منظور کرلی گئی تو رواں مالی سال کے دوران پاکستان کو اس کے عوض 50 ارب روپے سود ادا کرنا پڑے گا۔

ترکیہ کا پاکستان میں پانچ ارب ڈالر تک سرمایہ کاری کا اعلان

ترکیہ نے پاکستان کو مشکل معاشی حالات سے نکالنے کیلیے پانچ ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری کا اعلان کردیا۔

ترکیہ اور پاکستان کے درمیان گہرے دوستانہ تعلقات ہیں اور ترکی اگلے دو تین سال میں پاکستان کے ساتھ باہمی تجارت کو فروغ دے کر کم از کم پانچ ارب ڈالر تک کرنا چاہتا ہے کیونکہ تجارت کا موجودہ حجم دونوں ممالک کی اصل صلاحیت سے بہت کم ہے۔

ان خیالات کا اظہار پاکستان میں تعینات ترکی کے سفیر ڈاکٹر مہمت پچاجی نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورے کے موقع پر تاجر برادری سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

ترک سفارتخانے کے کمرشل قونصلر نورتین دیمیر بھی اس موقع پر ان کے ہمراہ تھے ڈاکٹر مہمت پچاجی نے کہا کہ ان کی حکومت نے انہیں آئندہ تین سال میں ترکی اور پاکستان کی باہمی تجارت کو پانچ ارب ڈالر تک بڑھانے کی ذمہ داری سونپی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک اس ہدف سے آگے بڑھنے کی بہتر صلاحیت رکھتے ہیں۔

ترک قونصلر جنرل کا کہنا تھا کہ ترکی پاکستان کے ساتھ تجارت، صنعت، سرمایہ کاری، تعلیم اور صحت سمیت دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانا چاہتا ہے، دونوں ممالک کی بزنس کمیونٹی آپس میں روابط کو مضبوط بنائے اور تجارتی و اقتصادی تعلقات کو وسعت دینے کے لیے کوششیں تیز کرے ۔

انہوں نے یقین دلایا کہ ان کا سفارت خانہ ایسی کوششوں میں نجی شعبے کے ساتھ ہرممکن تعاون کرے گا۔ ترکیہ کے کمرشل قونصلر نورتین دیمیر نے اس موقع پر ترکی میں سرمایہ کاری کے مواقعوں کے بارے میں شرکاء کو ایک تفصیلی پریزنٹیشن دی۔

اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر احسن ظفر بختاوری نے کہا کہ مثالی دوستانہ تعلقات کے باوجود پاکستان اور ترکی کی دوطرفہ تجارت تقریبا ایک ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے جو حوصلہ افزا نہیں ہے لہذا انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک تجارتی حجم کو بہتر بنانے کے لیے اپنے نجی شعبوں کے درمیان مضبوط کاروباری روابط کو فروغ دینے کی کوشش کریں۔

انہوں نے کہا کہ ترکی پاکستان میں انجینئرنگ، کیمیکل، ہاؤسنگ اینڈ کنسٹرکشن، برقی آلات، مشینری، دفاع، آبپاشی، فوڈ پروسیسنگ، حلال گوشت، زرعی پیداوار اور شمسی توانائی سمیت متعدد شعبوں میں سرمایہ کاری کر سکتا ہے۔ آئی سی سی آئی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے تعاون سے 8 تا 11 دسمبر 2022 کو پہلی بین الاقوامی ہاؤسنگ ایکسپو کا انعقاد کر رہا ہے لہذا انہوں نے اس میگا ایونٹ میں ترکی کے سرمایہ کاروں کو بھرپور شرکت کر کے پاکستان میں اپنے پراجیکٹس متعارف کرانے کی دعوت دی۔

چیمبر آف کامرس کے صدر نے کہا کہ دونوں ممالک ای سی او اور ڈی ایٹ ممالک کا حصہ ہیں اور انہیں اپنے تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ان پلیٹ فارمز سے فائدہ اٹھانا چاہیے، آئی سی سی آئی کے سابق صدر ظفر بختاوری نے کہا کہ ترکش ایئر لائن کی 129 سے زائد ممالک کے لیے پروازیں ہیں لہذا وہ پاکستان کے وسطی ایشیا اور ڈی ایٹ ممالک کے براہ راست فضائی روابط قائم کرنے میں تعاون کرے جس سے ان ممالک کے ساتھ ہماری تجارت اور برآمدات کو بہتر فروغ ملے گا۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان اور ترکی روڈ اور ریلوے روابط قائم کرنے پر توجہ دیں جس سے کاروباری تعلقات مضبوط ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ترکی، پاکستان اور آذربائیجان ایک آزاد تجارت کی مارکیٹ قائم کرنے کی کوشش کریں جس سے ان تینوں ممالک کی آپس کی تجارت بہتر ترقی کرے گی اور عوام کو بھی فائدہ ہو گا۔

پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے

کراچی: پاکستان بھر سے فلکیات کے شوقین طلبا و طالبات نے بین الاقوامی پروگرام کے تحت 14 نئے ممکنہ سیارچے (ایسٹرائڈز) دریافت کئے ہیں جو سیارہ مریخ اور مشتری کے درمیان موجود مسلسل زیرِ گردش ہیں۔

تمام افراد نے فراہم کردہ ڈیٹا سیٹ اور سافٹ ویئر کی مدد سے 21 اکتوبر تا 15 نومبر تک ممکنہ سیارچوں کی نشاندہی کی

واضح رہے کہ سائنس و فلکیات میں عوامی شمولیت کے تحت ایک پروگرام ہے جس میں ہرسال کئی ممالک شامل ہوتے ہیں تاہم پہلی مرتبہ پاکستان اس مہم میں ’آل پاکستان ایسٹروئڈ سرچ کیمپین‘ (اے پی اے ایس سی) کے نام سے شامل ہوا ہے۔ اس کے تحت یہ دریافتیں ہوئی ہیں جس میں پاکستان کے طول وعرض کے 40 طلبا و طالبات شامل تھے۔

امریکی خلائی ادارے ناسا اور انٹرنیشنل ایسٹرونومیکل سرچ کولیبریشن (آئی اے ایس سی) ہر سال شہریوں کی سائنس میں شمولیت کے تحت یہ پروگرام منعقد کراتی ہے تاکہ فلکیات سے لگاؤ رکھنے والے نوجوانوں کو بامعنی تحقیقی عمل میں شامل کیا جاسکے۔

اس مرتبہ اسلام آباد میں واقع انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس ٹیکنالوجی (آئی ایس ٹی) میں ایئرواسپیس انجینیئرنگ کے طالبعلم محمد رحموز صلاح الدین ایوب نے کوشش کی کہ باقاعدہ طور پر پاکستان میں اس میں شامل ہوسکے اور یوں اے پی اے ایس سی کی بنیاد رکھی گئی جس میں کل 40 افراد شریک ہوئے۔ تمام افراد نے فراہم کردہ ڈیٹا سیٹ اور سافٹ ویئر کی مدد سے 21 اکتوبر تا 15 نومبر تک ممکنہ سیارچوں کی نشاندہی کی۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گھر بیٹھے کیسے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ کوئی سیارچہ ہے بھی یا نہیں؟ ماہرین باقاعدہ اس کی تربیت فراہم کرتے ہیں، جس کےلیے ایسٹرومیٹریکا نامی سافٹ ویئر فراہم کیا جاتا ہے۔ ایسٹرومیٹریکا میں کئی سائنسی پیرامیٹرز ہوتے ہیں جن کی بنا پر طالبعلموں نے اندازہ لگایا کہ آیا کہ یہ سیارچہ ہوسکتا ہے یا نہیں۔ اس طرح نظامِ شمسی کے بہت ہی چھوٹے اجسام یعنی دمدارستارے (کومٹ)، سیارچے، یا بونا سیارے (ڈوارف پلانیٹ) ان کے طبعی (فزیکل) خواص کی بنا پر شناخت کی جاتی ہے اور ان کی درجہ بندی کی جاتی ہے۔ پاکستان کی پہلی مرتبہ شمولیت سے 14 سیارچوں کی دریافت خوش آئند ہے اور امید ہے کہ وہ اپنے تجربے کو مزید وسیع کریں گے۔

دوسری جانب پاکستانی اسکولوں، جامعات اور کالجوں کے طلبا و طالبات کو نئی معلومات، عملی فلکیات اور نئے فنون سیکھنے کو ملے جو ان کی خود اعتمادی کو بڑھا سکتے ہیں۔ اس کا ڈیٹا امریکی جزیرے ہوائی میں واقع مشہور فلکی دوربین سے حاصل کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل محمد رحموز نے 2021 میں بھارتی ٹیم کے ساتھ اپنے تین پاکستانی ساتھیوں کے ساتھ شرکت کی تھی اور کل پانچ سیارچے دریافت کئے تھے جو ایک اہم پیشرفت بھی ہے۔ اس مہم میں محمد رحموز ایوب کے ساتھ، دلآویز صغیر، فریال بتول اور نعمان رؤف پاکستان سے شامل تھے جنہیں ناسا اور آئی اے ایس سی کی جانب سے سند بھی دی گئی تھی جو اوپر کی تصویر میں نمایاں ہیں۔ یہ تمام اسکالر آئی ایس ٹی کی اسپیس سوسائٹی کے فعال رکن ہیں اور پاکستان میں فلکیات پر پہلا جریدہ ’کوسمِک ہیرالڈ‘ بھی جاری کیا ہے۔

ایسٹرومیٹریکا استعمال کرنے کے لیے اردو زبان میں تدریسی ویڈیو بھی بنائی ہے جس میں نعمان رؤف، فریال بتول اور دلآویز صغیر نےنمایاں کردار ادا کیا ہے۔

’ پاکستانی طالبعلموں نے 14 دریافتیں سیارچی پٹی میں کی ہیں۔ اب اسے ایک سال تک ماہرین اس کا جائزہ لیں گے جن میں خلائی اجسام کی حرکت، مدار اور دیگر معاملات کا جائزہ لیا جائے گا اور اگر وہ واقعی حقیقی سیارچہ ہوا تو اس کا درجہ بڑھا کر اسے پروویشنل اسٹیٹس میں شامل کیا جائے گا۔ پھر مزید آٹھ سے دس برس تک اس سیارچے پر تحقیق ہوگی اور اگر وہ تمام معیارات پرپورا اترا تو اسے بین الاقوامی فلکیاتی تنظیم (آئی اے یو) کی مجاز اسمتھ سونین آبزرویٹری کے مائنر پلانیٹ سیںٹر کے کیٹلاگ کا حصہ بنایا جائے گا۔ اس کے بعد دریافت کرنے والے کو یہ حق ہوگا کہ وہ اس سیارچے کو اپنی مرضی کا نام دے سکے گا،‘ محمد رحموز نے ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا۔

اس سے قبل آئی اے ایس سی میں بھارت، پولینڈ اور بنگلہ دیش سمیت دنیا بھر کی ٹیمیں شامل رہی ہیں اور پہلی مرتبہ پاکستان سے شوقیہ فلکیاتی ماہرین کی ایک ٹیم شامل ہوئی ہے جن میں ناصر رضوان کی سربراہی میں اٹک فلکیاتی سوسائٹی اور دیگر انجمنیں شامل ہیں۔ امید ہیں کہ پاکستانی کاوشیں ثمر آور ہوں گی تاہم اس کے لیے مزید ایک سال انتظار کرنا ہوگا۔

ہمارے نظامِ شمسی میں مریخ اور مشتری سیارے کے درمیان لاکھوں کروڑوں چھوٹے بڑے اجسام ایک ساتھ اس طرح گردش کررہے ہیں جس طرح کسی پارک میں بچے گول جھولے میں چکر کاٹتے ہیں۔ ان میں چھوٹے بڑے سیارے اور سیارچے موجود ہیں۔ ان میں سیریس نامی سیارچہ بونا سیارہ ہے جس کا قطر 950 کلو میٹر ہے۔ تاہم ماہرین ہر ایک ممکنہ سیارچے کی چھان پھٹک چاہتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ مختلف سافٹ ویئر سے ان پر تحقیق اور درجہ بندی کی جارہی ہے۔ واضح رہے کہ یہاں پتھریلے چورے کے شکل میں بھی اجسام موجود ہیں جو ذرے کی جسامت رکھتے ہیں۔