جنرل عاصم منیر آرمی چیف اور جنرل ساحر شمشاد چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی مقرر

اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی منظوری کے بعد جنرل عاصم منیر آرمی چیف اور جنرل ساحر شمشاد چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی مقرر ہوگئے۔

صدر مملکت نے لاہور میں عمران خان سے ملاقات کے بعد ایوان صدر میں قانونی ماہرین کے ساتھ اجلاس کیا اور آئین کے آرٹیکل 243 کے تحت وزیراعظم کی بھیجی جانے والی سفارش کی منظوری دی۔

صدر مملکت کی جانب سے سمری کی منظوری کے بعد لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور لیفٹیننٹ جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی اسٹاف مقرر ہوگئے۔
اعلامیہ ایوان صدر

ایوان صدر کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق صدر عارف علوی نے لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کی فی الفور جنرل کے عہدے پر ترقی اور بطور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کی تعیناتی کی منظوری دے دی، جس کا اطلاق 27 نومبر سے ہوگا۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ صدر مملکت نے لیفٹیننٹ جنرل سید عاصم منیر کی فی الفور جنرل کے عہدے پر ترقی اور بطور چیف آف آرمی اسٹاف تعیناتی کی منظوری دی جس کا اطلاق 29 نومبر 2022ء سے ہوگا۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ صدر مملکت نے ترقیاں اور تعیناتیاں آئین کے آرٹیکل 243 چار اے اور بی ، آرٹیکل 48 اور پاکستان آرمی ایکٹ 1952 ء کے سیکشن 8 اے اور 8 ڈی کے تحت کیں اور وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے موصول ہونے والی سمری پر دستخط کردیے۔

صدر مملکت کی منظوری کے بعد سمری وزیر اعظم ہاؤس کو موصول ہوگی جس کے بعد وزارت دفاع کی جانب سے آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کی تقرری کا باضابطہ نوٹی فکیشن جاری کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق نئے تعینات ہونے والے چیرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی ساحر شمشاد سمری کی منظوری کے بعد وزیراعظم ہاؤس پہنچے اور شہباز شریف سے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے ساحر شمشاد کو عہدہ ملنے پر مبارکباد دی۔

ذرائع کے مطابق نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر بھی وزیراعظم ہاؤس پہنچے جہاں اُن کی شہباز شریف سے ملاقات ہوئی۔ وزیراعظم نے عاصم منیر کو آرمی چیف تعینات ہونے پر مبارک باد دی۔

قبل ازیں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف پی ایم سے ملاقات کر کے ایوان صدر میں ڈاکٹر عارف علوی سے ملاقات کی۔

قبل ازیں وزیراعظم نے لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کو جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر چئیرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور لیفٹیننٹ جنرل سید عاصم منیر کو چیف آف دی آرمی اسٹاف مقرر کرنے کا فیصلہ کیا اور سمری کو منظوری کیلیے ایوان صدر بھیجا تھا۔

آرمی چیف کی تعیناتی پر مشاورت کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا تھا جس میں وزیراطلاعات مریم اورنگزیب ، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ، شیری رحمان، عون چوہدری، چوہدری سالک حسین، امین الحق، شاہ زین بگٹی، مولانا اسعد محمود اور ریاض پیر زادہ شریک ہوئے۔

اجلاس کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے ٹوئٹ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کو چئیرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور لیفٹیننٹ جنرل سید عاصم منیر کو چیف آف دی آرمی اسٹاف مقرر کرنے کا فیصلہ کیا، جس کی سمری منظوری کیلیے صدر مملکت کو ارسال کردی گئی ہے۔

آئی ایم ایف نے ہمیں آڑے ہاتھوں لیا اور ناک سے لکیریں نکلوائیں، وزیراعظم

اسلام آباد: وکلا کنونشن سے خطاب میں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ سابق حکومت نے آئی ایم ایف معاہدے کی سنگین خلاف ورزیاں کیں جس کا خمیازہ ہمیں بھگتنا پڑا اور آئی ایم ایف نے ہم سے ناک رگڑوائی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں وکلا کو پلاٹوں کے الاٹمنٹ لیٹرز کی تقسیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہاؤسنگ اسکیم کا پہلا مرحلہ پورا ہو چکا اور وکلا کا دیرینہ مطالبہ شرمندہ تعبیر ہوگیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے سابق حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان حکومت نے آئی ایم ایف معاہدے کی پاسداری کرنے کے بجائے بری طرح دھجیاں بکھیریں جس کے باعث ہمیں معاہدے کے اعادے کے لیے عالمی مالیاتی ادارے نے آڑے ہاتھوں لیا اور ناک سے لکیریں نکلوائیں۔

آئی ایم ایف معاہدے کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ایٹمی قوت ہونے کے باوجود ہم آج بھی کشکول لے کر پھر رہے ہیں۔ جس بھی دوست ملک کو فون کرو تو وہ یہی سمجھتے ہیں کہ شاید قرضہ لینے کے لیے فون کیا ہے۔ خطے میں جو لوگ ہم سے پیچھے تھے وہ اب کافی آگے نکل گئے۔

ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کا اعتراف کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ معاشی صورتحال گھمبیر ہے۔ مہنگائی پر قابو پانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ مخلوط حکومت نے بڑی محنت سے پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچالیا۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے شرکاء کو سیلاب کی صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پورے ملک میں سیلاب نے تباہی مچائی ہے موسمیاتی تبدیلی سے شاید ہی ایسی تباہی کسی نے دیکھی ہو۔ اب بھی لاکھوں لوگ کھلےآسمان تلے زندگی گزارنے پرمجبور ہیں۔

الائٹمنٹ لیٹر تقسیم کرتے وقت وزیراعظم نے وکلا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ لیٹر لیتے ہوئے ان بے گھر افراد کی بے بسی کا بھی اندازہ کیجیے گا جن کا گھر بار اور مال مویشی سیلاب میں بہہ گئے۔

پاکستان کے اندر سے ایک ہزار ارب کا ٹیکس اکٹھا کر کے دکھاؤں گا، عمران خان

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے ’’آپ کا وزیراعظم آپ کے ساتھ‘‘ پروگرام میں براہ راست عوام کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کوشش ہے کہ ہر 2 مہینے کے بعد عوام کی کال سنوں، اصولاً مجھے یہ بات پارلیمنٹ میں بولنا چاہیے لیکن پارلیمنٹ میں مجھے بولنے نہیں دیتے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں مہنگائی کی وجہ سے راتوں کو نیند نہیں آتی، مہنگائی مجھے کئی دفعہ راتوں کو جگاتی ہے جب کہ مہنگائی دنیا بھر میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب ہماری حکومت آئی تو سب سے بڑا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ملا، سارا پریشر روپے پر تھا، ہمارے پاس ڈالرز ہی نہیں تھے،روپے کے گرنے کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوا، پاکستان سے ڈالر افغانستان جانا شروع ہوئے جس سے ہمارے روپے پر دباؤ بڑھ گیا۔

عمران خان نے کہا کہ موجودہ مہنگائی کی لہر کورونا کی وجہ سے ہے، کورونا نے دنیا میں تباہی مچائی ہے، دنیا بھر میں تاریخی مہنگائی ہے، ہم سے امیر ترین ملک بھی مہنگائی کی لپیٹ میں ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں مہنگائی سے سب سے زیادہ متاثر تنخواہ دار طبقہ ہو رہا ہے، تنخواہ دار طبقے کی حالت کو ٹھیک کرنا ہے، کوشش ہے کہ جلد ہی تنخواہ دار طبقے اور سرکاری ملازمین کی مدد کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ گیس کے ذخائر کم ہو رہے ہیں، بلوم برگ کے مطابق گیس بحران کے بعد کھانے کی اشیاء کا بھی بحران آنیوالا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ہماری انڈسٹری سب سے بہتر کارکردگی دکھا رہی ہے، مزدوروں کے حالات بہتر ہوئے ہیں، کسانوں کے پاس پیسہ آیا ہے، ملک میں کارپوریٹ سیکٹر نے ریکارڈ منافع کمایا جب کہ کارپوریٹ سیکٹر سے اپیل ہے کہ وہ اپنے ملازمین کی تنخواہیں بڑھائیں۔

انہوں نے کہا کہ یہاں تو وہ لوگ بیٹھے ہیں جو ٹیسٹ کرانے کیلئے بھی لندن چلے جاتے ہیں، ان کے اور ان کے رشتے داروں کے علاج باہر ہوتے ہیں جب کہ دیہاتوں میں اسپتال ہی نہیں ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ میں نے اپوزیشن سے کوئی مفاہمت نہیں کرنی، کوئی این آر او نہیں دینا، یہ مجھے بلیک میل کرنے کی کوشش کررہے تھے، مشرف نے دو بڑے خاندانوں کو این آر او دے کر بڑا ظلم کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ سمجھ رہے تھے کہ میں بھی انہیں مشرف کی طرح این آر او دے دوں گا، انہوں نے ملک میں افرا تفری پھیلائی ہوئی ہے جب کہ اپوزیشن کے احتساب کو جہاد سمجھتا ہوں۔

عمران خان نے کہا کہ ہمارے دور میں تو غربت میں کمی آئی ہے، جی ڈی پی میں 5.37 فیصد اضافہ ہوا ہے، پہلی بار بینک غریب طبقے کو گھر خریدنے کیلئے قرضے دے رہے ہیں، گھروں کی تعمیر کیلئے بینکس 40ارب روپے کے قرضے دے چکے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ شہباز شریف کو اپوزیشن لیڈرنہیں قوم کا مجرم سمجھتاہوں، شہبازشریف سے ملنا جرم کو درست سمجھنے کے مترادف ہے، عدالتیں شہبازشریف کے کیسز کی روزانہ کی بنیاد پر سماعتیں کرے۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ مافیا اورکارٹل مل کرپیسہ بناتے ہیں،شہبازشریف کے کیسزمیں ذاتی دلچسپی لیتا ہوں، جب قانون کی بالادستی قائم ہوگی ملک ٹھیک ہوجائے گا، قومی مجرم شہبازشریف سے ہاتھ ملانا قوم سے غداری ہوگی کیونکہ اُس شخص نے اپنے بیٹے اور داماد کو ملک سے فرار کرایا، اپوزیشن کو کسی صورت این آر او نہیں دوں گا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ شہبازشریف پارلیمنٹ میں تین تین گھنٹے کی تقریریں کرتا اور خود کو ایماندار ظاہر کرتا ہے، اُس کے چپڑاسی مقصود کےاکاؤنٹ میں 16 کروڑکہاں سے اور کیسے آئے؟ چینی فالودے والے کے اکاؤنٹ سےچار چار ارب نکل آتے ہیں، تین بار کا وزیراعظم بھاگ کر لندن بیٹھا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ شہبازشریف سے ملنا جرم کو درست سمجھنےکےمترادف ہے، عدالتیں شہبازشریف کے کیسوں کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کریں۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ چوری کرکےبھاگنےوالاٹبرکبھی واپس نہیں آئےگا، یہ سارا ٹبر باہر جاکر شاہی خاندان سے زیادہ پرتعیش زندگی گزارتا اور پولو کھیلتا ہے، پیسےکی پوجا کرنے والا اور لندن بھاگنے والا کبھی واپس نہیں آئےگا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ابھی حکومت میں ہوں تو خاموش ہوں، اگرحکومت سے نکل گیا تو زیادہ خطرناک ہوجاؤں گا اور پھرچھپنےکوجگہ نہیں ملےگی، تحریک انصاف موجودہ اور اگلی حکومت کی مدت پوری کرے گی۔

انہوں نے بتایا کہ 19 ہزار کسٹم کیسز میں 270 ارب روپے جبکہ ایف بی آرکے2500ہزارارب کےکیسزعدالتوں میں پھنسے ہوئے ہیں، مافیاز کے 800 حکم امتناع کے 2500 ارب پھنسے ہوئے ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سترسال کی خراب چیزیں ایک دم ٹھیک نہیں ہوسکتیں، پاکستان کےاندرسے 8 ہزارارب کا ٹیکس اکٹھا کر کے دکھاؤں گا، تیس لاکھ گھربننا شروع ہوچکے ہیں، موجودہ دور میں تنخواہ دار طبقہ مشکل میں ہے،ہماری حکومت کے خلاف جعلی خبریں پھیلا کر تنقید کی جارہی ہے، مشرف نے دوگھرانوں کی کرپشن معاف کرکےبہت بڑی غلطی کی، اپوزیشن کے احتساب کو جہاد سمجھتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ طلبہ کونبیﷺ کی سیرت پڑھانے کیلئےآٹھویں سے میٹرک تک اس مضمون کو سلیبس شامل کیا گیا، بڑی مشکل سے کلاس فائیو کے طلبہ کے لیے ایک سلیبس لے کر آئے جبکہ طلبہ کی سکالرشپ کیلئے47 ارب روپے کا بجٹ بھی مختص کیا تاکہ ہمارے بچے اچھی اور بہتر تعلیم حاصل کرسکیں۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں تحریک انصاف آپس میں لڑ پڑی تھی، جس کی وجہ سے شکست ہوئی۔

حکومت مشکل میں ہے، وزیراعظم

اسلام آباد: وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس جاتے ہوئے میڈیا سے غیر رسمی بات کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہر تین ماہ بعد کہا جاتا ہے کہ حکومت مشکل میں ہے، حکومت کسی مشکل میں نہیں ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کہا جاتا ہے نواز شریف آج آرہے ہیں کل آرہے ہیں، نواز شریف جب سعودی عرب گئے تھے تب بھی یہی سن رہے تھے جب تک سمجھوتا نہیں ہوا۔ وزیراعظم نے کہا کہ شہباز شریف کی تقریر نوکری کی درخواست ہوتی ہے۔

سانحہ اے پی ایس پر وزیراعظم کی رپورٹ طلب

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان سپریم کورٹ کے حکم پر سانحہ آرمی پبلک اسکول از خود نوٹس کی سماعت کے دوران عدالت میں پیش ہوئے، اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید اور دیگر وزرا اور اہم حکام بھی موجود تھے۔

عدالتی استفسار پر وزیر اعظم نے کہا کہ جب یہ واقعہ ہوا تو میں فوراً پشاور پہنچا، میں تو اس وقت حکومت میں نہیں تھا، سانحے کے وقت صوبہ میں ہماری حکومت تھی، ہم نے ہر ممکن اقدامات اٹھائے۔جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیئے کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق آپ تو ان لوگوں سے مذاکرات کررہے ہیں۔

جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ رپورٹ کے مطابق کوئی خاص اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آئین پاکستان میں عوام کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے، ریاست نے بچوں کے والدین کو انصاف دلانے کے لیے کیا کیا؟ اب تو آپ اقتدار میں ہیں، مجرموں کو کٹہرے میں لانے کے لیے آپ نے کیا کیا؟ ہمیں آپ کے پالیسی فیصلوں سے کوئی سروکار نہیں، ہم یہ پوچھ رہے ہیں کہ اتنے سال گزرنے کے بعد بھی مجرموں کا سراغ کیوں نہ لگایا جا سکا؟۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا نائن الیون سے کوئی تعلق نہیں تھا، ہمیں پتہ ہی نہیں تھا کہ دوست کون اور دشمن کون، میں نے اس وقت کہا تھا یہ امریکا کی جنگ ہے، ہمیں مداخلت نہیں کرنی چاہیے، 80 ہزار لوگ دہشت گردی کی جنگ میں شہید ہوئے۔

جسٹس قاضی امین نے استفسار کیا کہ ماضی میں جانے کی ضرورت نہیں، آپ وزیراعظم ہیں، ہم آپ کا احترام کرتے ہیں، یہ بتائیں کہ سانحے کے بعد اب تک کیا اقدامات اٹھائے۔ جس پر وزیر اعظٖم نے کہا کہ ہم نے سانحے کے بعد نیشنل ایکشن پلان بنایا، ہم جنگ اس لیے جیتے کہ پوری قوم پاک فوج کے ساتھ کھڑی رہی، ہم نے نیشنل انٹیلی جنس کوارڈینشن کمیٹی بنائی جو معاملے کو دیکھ رہی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ عدالت حکم دے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شامل ہونے والوں کا بھی تعین کیا جائے، ان 80 ۔ہزار شہدا کے بھی والدین تھے، ان کا بھی دکھ اتنا ہی ہوگا، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ وزیر اعظم ہیں اپ ہر طرح کا اقدام کر سکتے، تاریخ میں بہت سے بڑے عہدیداران کا ٹرائل ہوا ہے۔ آپ حکومت میں ہیں، آپ کی ذمہ داری ہے کہ بچوں کے والدین کی داد رسی کریں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ ہر شہید ہونے والا ہمارا ہیرو ہے ، ہمارا نقصان ہوا ہے وفاقی حکومت نے جو کارروائی کرنی ہے کرے۔

سپریم کورٹ نے 4 ہفتوں میں سانحہ اے پی ایس کے ذمہ داروں کے تعین کا حکم دیتے ہوئے وزیراعظم سے اقدامات کی رپورٹ طلب کرلی، عدالت نے وفاقی حکومت ذمہ داران کے خلاف کاروائی کے عمل میں بچوں کے والدین کو شامل کرے۔

اس سے قبل چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے فاضل بینچ نے سانحہ آرمی پبلک اسکول از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت عدالت نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا وزیراعظم نے عدالتی حکم پڑھا ہے؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزیراعظم کو عدالتی حکم نہیں بھیجا تھا، وزیراعظم کو عدالتی حکم سے آگاہ کروں گا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ وزیراعظم کو بلائیں ان سے خود بات کریں گے، ایسے نہیں چلے گا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ انٹیلی جنس پر اتنا خرچ ہورہا ہے لیکن نتائج صفر ہیں، اپنے لوگوں کے تحفظ کی بات آئے تو انٹیلی جنس کہاں چلی جاتی ہے؟ بچوں کو اسکولوں میں مرنے کے لئے نہیں چھوڑ سکتے، چوکیدار اور سپاہیوں کے خلاف کارروائی کر دی گئی، اصل میں تو کارروائی اوپر سے شروع ہونی چاہیے تھی، اوپر والے تنخواہیں اور مراعات لے کر چلتے بنے، کیا سابق آرمی چیف اور دیگر ذمہ داران کے خلاف مقدمہ درج ہوا؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ سابق آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے خلاف انکوائری رپورٹ میں کوئی فائنڈنگ نہیں۔

جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ اداروں کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ قبائلی علاقوں میں آپریشن کا رد عمل آئے گا، سب سے نازک اور آسان ہدف اسکول کے بچے تھے، یہ ممکن نہیں کہ دہشت گردوں کو اندر سے مدد نہ ملی ہو۔

دوران سماعت عدالت میں ٹی ٹی پی سے مذاکرات کا بھی تذکرہ ہوا۔ جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیئے کہ کیا اصل ملزمان تک پہنچنا اور پکڑنا ریاست کا کام نہیں؟ اطلاعات ہیں کہ ریاست کسی گروہ سے مذاکرات کررہی ہے۔

رحمۃ للعالمین ﷺاتھارٹی کے قیام کا مقصد ہماری نوجوان نسل میں اخلاقی اقدار کو بیدار کرنا ہے، وزیر اعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت رحمت العالمین ﷺ اتھارٹی کا اجلاس ہوا، اجلاس کے دوران وزیراعظم نے سیرت طیبہ ﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں اسکول، کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر طلباء کو تعلیم دینے کے لیے نصاب میں تبدیلیاں متعارف کرانے پر زور دیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ رحمۃ للعالمین ﷺاتھارٹی کے قیام کا مقصد ہماری نوجوان نسل میں اخلاقی اقدار کو بیدار کرنا ہے جسے انٹرنیٹ کے اس دور میں ہر طرح کے غیر اخلاقی مواد تک آن لائن رسائی حاصل ہے، ہمیں اپنے معاشرے میں مثبت تبدیلیاں لانے کے لیے 1400 سال قبل ہمارے نبی ﷺ کی مرتب کردہ شاندار روایات پر عمل کرنا ہوگا۔

ہمیں جدید ذرائع ابلاغ بالخصوص سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے نوجوانوں کو غیر اخلاقی ثقافت کے حملے سے بچانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ تحقیق کے ذریعے اس بات کا تعین کریں کہ کس طرح نوجوانوں کی کردار سازی کو مؤثر طریقے سے یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

ملک حضرت محمدﷺکے اصولوں پر عمل کرے گا تو ترقی کریگا، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے اسلام آباد میں عشرہ رحمت اللعالمین ﷺ کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عشرہ رحمت اللعالمین ﷺ کی تقریبات کا آغاز کرکے فخر محسوس کررہا ہوں۔ نبی کریم ﷺ ساری انسانیت کیلئے رحمت بن کر آئے، مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر چلیں گے تو ملک ترقی کریگا۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ جو معاشرہ حضرت محمدﷺکے اصولوں پر عمل کرے گا وہ اوپر چلا جائے گا۔ تقریب میں محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کیلئے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔ میں ہمیشہ سے اپنی زندگی کا جائزہ لیتا ہوں، موجودہ دور میں نوجوان نسل انتہائی دباؤ کا شکار ہے۔

دنیا میں سب سے بڑا انقلاب 625سے 635 کے درمیان آیا۔ چھوٹے تھے تو سونے سے پہلے یہی دعا کرتے تھے کہ اللہ ہمیں سیدھے راستے پر لگا۔ اللہ ہمیں نبی کریم ﷺ کی زندگی سے سیکھنے کا حکم دیتا ہے، ایک راستہ ناجائز دولت کمانے کا ہے اور دوسرا راستہ نبی کریم ﷺ کی سیرت کا ہے۔ کم زور انسان انصاف اور طاقت ور این آر او چاہتا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ جب اقتدار میں آیا تو آئی جی سے پوچھا کون سے جرائم میں اضافہ ہورہا ہے، تو انہوں نے بتایا کہ جنسی جرائم میں اضافہ ہورہا ہے، بچوں کےساتھ زیادتی معاشرےمیں سرایت کرچکی ہیں۔ جنسی جرائم سےسارےمعاشرے کو مقابلہ کرناپڑتاہے۔ جس معاشرے کی اخلاقیات تباہ ہوجائیں وہ کبھی اوپر نہیں جاسکتا۔

اسلام آباد میں رحمت اللعالمین ﷺ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے رحمت اللعالمین ﷺ اتھارٹی کے قیام کا اعلان کیا۔ اتھارٹی کی نگرانی خود کرنے کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے اتھارٹی کے چیئرمین کی تلاش شروع کردی ہے، دنیا کے بہترین مذہبی اسکالرز کو چیئرمین بنایا جائے گا، جو اسلام سے متعلق دنیا کو آگاہ کرے گا۔ اسکالرز کو معاشرےکے لیے کام کرنا ہوگا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمارے لوگ مغربی معاشرے کو جانتے نہیں ہیں یہاں پر ایک طبقہ ایسا ہے جو اپنے آپ کو لبرل کہتا ہے، میں 18 سال کی عمر میں جب برطانیہ گیا تو وہاں پر بہت تبدیلی آرہی تھی، میں نے اپنی آنکھوں سے مغربی ممالک میں تبدیلی آتی دیکھی ہے، مغربی ممالک میں فحاشی بڑھی تو اس کا اثر ان کے خاندانی سسٹم پر پڑا، آج مغربی ممالک میں طلاقوں کی شرح میں 70 فیصداضافہ ہوچکا ہے۔ طلاق کا سب سے برا اثر بچوں پر پڑتا ہے۔ مغرب میں ایک شادی کی اوسط عمرڈھائی سال ہے، مغربی ممالک کا خاندانی نظام ہمارے سامنے تباہ ہوا، تو مغربی کلچراپنانےسے ہمارامعاشرہ کیسے بچ سکتاہے؟

وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ 1970کے بعد جو ہارتا ہے وہ کہتا ہے کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی، اپوزیشن والے دھاندلی کرتے ہیں، اس لیے نظام کو ٹھیک نہیں کرنا چاہتے، ہماری پہلی حکومت ہے جو الیکشن ریفارمز سے متعلق بات کررہی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ کرکٹ میں نیوٹرل ایمپائر لائے، یہی نظام الیکشن میں لانا چاہتے ہیں۔ ہم کرپشن ختم کرنے کے لیے الیکڑانک ووٹنگ مشین لائے، اس کی مخالفت وہ لوگ کر رہے ہیں جو خود دھاندلی کرتے ہیں۔ حکومت نہیں معاشرہ کرپشن کے خلاف لڑتا ہے وہ معاشرہ کبھی ترقی نہیں کرسکتا جہاں کرپشن ختم نہ ہو۔

مودی افغانستان میں اپنی خفیہ ایجنسی کی موجودگی سے مکر گئے

جنیوا: عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں افغانستان میں پیدا ہونے والی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایک بار پھر پاکستان پر جھوٹے اور بے بنیاد الزامات عائد کیے۔

بھارتی وزیراعظم نے افغانستان میں اپنی خفیہ ایجنسی را کے اہلکاروں کی موجودگی اور وہاں سے پڑوس ممالک میں مداخلت اور دہشت گردی کی کارروائی سے نہ صرف مکر گئے بلکہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق تمام الزامات پاکستان پر دھر دیئے۔

اقوام متحدہ کے رکن ممالک اس انتظار میں ہی رہے کہ مودی جی کالے قانون کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی ختم اور اسے تقسیم کرنے، بنیادی حقوق معطل کرنے اور پوری وادی کو عملاً قید خانے میں تبدیل کرنے پر ندامت کا اظہار کریں گے لیکن بھارتی وزیراعظم اخلاقی قدروں سے عاری نکلے۔

ہٹ دھرمی، دروغ گوئی اور الزام تراشیوں پر مبنی اس خطاب میں کچھ بھی ایسا نہ تھا تو عالمی قیادت کو اپنی جانب متوجہ کرسکتا اس کے برعکس وزیراعظم عمران خان کی تقریر پسے ہوئے محروم قوموں کی ترجمان تقریر تھی جسے دوست اور دشمن سب نے ہی سراہا۔

امن کی خواہش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے، وزیراعظم

اسلام آباد: یوم ِدفاع وشہداء کے موقع پر وزیراعظم پاکستان عمران خان نے پیغام میں کہا ہے کہ 1965ء میں جب دشمن نے ہماری آزادی اور بقاء کو پامال کرنے کی کوشش کی تو پاکستانی قوم مضبوط چٹان کی طرح اس کے سامنے ڈٹ گئی۔ 6 ستمبر کو ہندوستان نے پاکستان پر غیراعلانیہ جنگ مسلط کی تو پوری قوم محافظان وطن کی حمایت میں اٹھ کھڑی ہوئی، بہت سے لوگ نہتے پیدل ہی سرحدوں کی جانب چل پڑے۔

عمران خان نے کہا کہ 6 ستمبر کا عظیم دن، ہر سال ہمیں اپنے ہیروز، مسلح افواج کے جانبازوں اور خاص طور پر ان شہداء اور غازیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، جو ہمیشہ سے قوم کی امید اور فخررہے ہیں۔ ہم وطن کی سلامتی اور تحفظ کے لئے اپنی قیمتی جانیں قربان کرنے والے قوم کے ان بہادر بیٹوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ ہم شہداء کی فیملیز کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو مادرِ وطن پر نچھاور کردیا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دشمن نے کبھی بھی پرامن بقائے باہمی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ بلکہ قیام پاکستان سے لے کر آج تک اس نے پاکستان پر کئی جنگیں مسلط کی ہیں۔ 1948ء، 1965ء یا 1971ء ہویا دو دہائیوں پر محیط دہشت گردی کے خلاف جنگ،پاکستان کے اندر تخریبی سرگرمیاں ہوں یا پھرسائبر وار فیئرکے ذریعے پراپیگنڈہ، دشمن ہمارے خلاف کارروائیاں کرتا چلا آرہا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ بد قسمتی سے ماضی میں ہندوستان،افغان سر زمین کو پاکستان میں بد امنی اور دہشت گردی کی کاروائیوں کے لیے استعمال کرتا رہا۔ اقوام عالم کو اس جارحانہ رویئے پر ہندوستان کو ذمہ دار ٹھرانا چاہیئے۔ ہمیں فخر ہے کہ ہماری سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرکے ہندوستان کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کیا ہے۔ دنیا جان گئی ہے کہ کس طرح وہ علاقائی اور خاص طور پر پاکستان کے امن کو تہہ و بالا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ ہم ہندوستان کا انتہاپسندانہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کرتے رہیں گے۔ عالمی برادری کے معتبر حلقے، امن کی خاطر کی جانے والی ہماری کوششوں کو تسلیم کررہے ہیں۔

عمران خان نے مزید کہا کہ ہماری امن کی خواہش کو ہماری کمزوری ہرگز نہ سمجھا جائے، بلکہ اس خطے کے لوگوں کی خوشحالی اوربہتری کیلئے اس کا جواب اسی مثبت انداز میں دیاجانا چاہئے۔

گلگت بلتستان الیکشن میں کلین سویپ کریں گے، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ سوات اور حافظ آباد کے جلسوں سے ثابت ہو چکا کہ عوام کا ہم پر اعتماد قائم ہے اور تحریک انصاف گلگت بلتستان الیکشن کلین سویپ کرے گی۔

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت پولیٹیکل کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں موجودہ سیاسی صورتحال پر غور کیا گیا اور ملکی معاشی صورتحال اور حکومت کی میڈیا حکمت عملی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے اقتصادی ٹیم کو معاشی کامیابیوں کو میڈیا پر اجاگر کرنے کی ہدایت دی۔

اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ تمام معاشی اعشاریے مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں، دو سال کی محنت سے معیشت کو پاوں پر کھڑا کیا ہے، معاشی پالیسیوں کے ثمرات آنے والے عرصے میں عوام کو منتقل ہونا شروع ہو جائیں گے، معاشی ٹیم عوام کو بتائے کہ کس طرح سے گزشتہ حکومتوں نے معیشت کو نقصان پہنچایا۔

وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن اپنی سیاست بچانے کے لیے عوام کو گمراہ کررہی ہے، اپوزیشن مہنگائی سے متعلق حکومت کے خلاف پروپیگنڈا کررہی ہے، انہی لوگوں کی غلط پالیسیوں کا نقصان آج عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے جب کہ سوات اور حافظ آباد کے جلسوں سے ثابت ہو چکا کہ عوام کا ہم پر اعتماد قائم ہے۔