لاہور میں بارش کا 30 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا

لاہور: شہر میں بارش کا 30 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا، 10 گھنٹوں میں 291 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی جبکہ مختلف حادثات میں 9 افراد جاں بحق ہوئے۔

تفصیلات کے مطابق صبح چار بجے سے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے باعث لاہور شہر ڈوب گیا، شہر کی اہم شاہراہوں پر پانی جمع ہوگیا۔شہر بھر کے درجن سے زائد علاقوں میں 200 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ ہوئی جبکہ گزشتہ سال 2022 میں لاہور میں 238 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی تھی۔

کمشنر لاہور محمد علی رندھاوا نے بتایا کہ اس سے قبل 2018 میں لاہور میں 288 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی تھی، گزشتہ 30 سالوں میں لاہور میں اتنے کم وقت میں اتنی بارش نہیں ہوئی۔ ایم ڈی واسا غفران احمد کا کہنا تھا کہ بارش تھمنے کے چند گھنٹوں میں ہی تمام نشیبی علاقے کلیئر کر دیے جائیں گے، سسٹم اپنی مکمل استعداد پر نکاسی آب کو ممکن بنا رہا ہے۔ بارش کے بعد شہر کے پوش و نشیبی علاقوں میں نکاسی آب کے مسائل دیکھے جا رہے ہیں جبکہ سڑکوں سے واسا کا عملہ بھی غائب ہوگیا۔

اب تک سب سے زیادہ بارش لکشمی چوک میں 290 ملی میٹر ریکارڈ ہوئی۔ جیل روڈ پر 147 ملی میٹر، ایئرپورٹ پر 130 ملی میٹر، ہیڈ آفس گلبرگ میں 210، اپر مال میں 199، مغلپورہ میں 220، تاجپورہ میں 225، نشتر ٹاون میں 240، چوک نا خدا میں 205 اور جوہر ٹاؤن میں 235 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ اسی طرح، پانی والا تالاب میں 250، فرخ آباد میں 205، گلشن راوی میں 270، اقبال ٹاون میں 235، سمن آباد میں 169 ملی میٹر اور قرطبہ چوک میں 269 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔

ریسکیو حکام کے مطابق بارش کے دوران تین افراد کرنٹ لگنے، تین چھتیں گرنے جبکہ ایک بچہ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے جاں بحق ہوا۔ چونگی امرسدھو بازار میں عثمان نامی موٹرسائیکل سوار نوجوان کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوا جبکہ لاہور:کشمیری دروازہ سرکلر روڈ نامعلوم خاتون بارش کے پانی سے گزرتے ہوئے کرنٹ لگنے سے ہلاک ہوئیں۔

اسی طرح پاکستان منٹ باغبانپورہ میں 17 سالہ احتشام کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوا جبکہ سنی پارک ٹھوکر نیاز بیگ میں 11 سالہ محمد ولی کھیلتے ہوئے بارش کے پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہوا۔ ریسکیو حکام کے مطابق گجہ پیر دربار مصری شاہ میں چھت گرنے سے 3 افراد ہلاک ہوئے، جن کی شناخت5 سالہ اسد،40 سالہ نوازش علی اور40 سالہ مہوش کے نام سے ہوئی۔ ایدھی ترجمان کے مطابق مستی گیٹ ،شیرانوالہ بازار میں کرنٹ لگنے سے 65 سالہ بزرگ خاتون جاں بحق ہوئیں، جن کی فوری شناخت نہیں ہوسکی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے بارش کے دوران بجلی کا تار ٹوٹنے سے نوجوان کی ہلاکت کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دے دیا۔
لاہور میں ہونے والی بارش کے باعث لیسکو کی تنصیبات کو نقصان پہنچا اور کئی فیڈرز ٹرپ کر گئے جس کے سبب مختلف علاقے اندھیرے میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق پانی کی نکاسی کے بعد ہی بجلی کی بحالی کا کام شروع کیا جائے گا۔

نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے لاہور شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور بحالی کے کاموں کا جائزہ لیتے ہوئے پانی کی جلد از جلد نکاسی کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق رات کو نو بجے ایک اور اسپیل متوقع ہے، ہماری کوشش ہے کہ اُس وقت تک پانی کی نکاسی کو ممکن بنادیا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ شہر میں پانی کی نکاسی کے لیے 159 پمپس کام کررہے ہیں، اتنی بارش ہوئی ہے کہ شہر بھر سے ایک ساتھ پانی نکالنا ممکن نہیں ہے۔

لاہور کے جنرل اسپتال میں بھی بارش کا پانی داخل ہوگیا اور مختلف وارڈز میں تین تین فٹ تک پانی جمع ہوگیا، جس کے باعث مریضوں اور طبی عملے کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ اُدھر روالپنڈی ڈسٹرکٹ اسپتال میں بارش کے باعث بجلی کا طویل بریک ڈاؤن ہوا جس کی وجہ سے کئی آپریشنز ملتوی کردیے گئے۔

لاہور دھماکہ، را کے ملوث ہونے کے ثبوت مل گئے

اسلام آباد: لاہور دھماکے میں افغان انٹیلی جنس ایجنسی اور بھارتی خفیہ ایجنسی کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے جس سے دونوں ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کا گٹھ جوڑ بے نقاب ہوگیا۔

ذرائع کے مطابق لاہور دھماکے میں بھارت اور افغانستان کی خفیہ ایجنسیوں را اور این ڈی ایس کے ملوث ہونے کے انکشاف نے ایک بار پھر مذموم عزائم کا سراغ لگا لیا جس سے بھارت کے مذموم عزائم کھل کر سامنے آگئے۔ ایک بار پھر ثابت ہوگیا کہ را اور این ڈی ایس کے ذریعے پاکستان میں دہشت گرد کارروائیاں کر کے ملک میں قائم امن اور آشتی کو خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پاکستا ن ایک عرصے سے اس حوالے سے عالمی قوتوں کے سامنے سوالات اُٹھاتا رہا ہے۔

پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیز نے اس حوالے سے بار ہا ثبوت دُنیا کے سامنے رکھے ہیں جب کہ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، این ڈی ایس اور را کے گٹھ جوڑ کو پہلے ہی ڈوزئیر کی شکل میں دُنیا کے سامنے بے نقاب کر چکے ہیں۔ بلوچستان، قبائلی اضلاع اور لائن آف کنٹرول پر مسلسل ناکامی کے بعد را اوراین ڈی ایس کی بے چینی میں مزید اضافہ ہوا ہے، پاکستان میں امن اور ترقی دُشمن کی آنکھوں میں کھٹکنے لگی ہے اور اسی لیے سلیپر ز سیل کے ذریعے دہشت گردی کی کارروائیوں کی ناکام کوشش کی گئی۔

جوہر ٹاؤن دھماکا،گرفتار شخص کی ساتھی خاتون کو بھی گرفتار کرلیا گیا

لاہور: جوہر ٹاؤن دھماکا میں ملوث خاتون کو بھی گرفتار کرلیا گیا.

جوہر ٹاؤن میں ہونےو الے دھماکے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، گرفتار شخص سے رابطے میں رہنے والی خاتون کرن کو حراست میں لے لیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار شخص لاہور میں قیام کے دوران کرن سے رابطے میں رہتا تھا، خاتون کرن کو پیٹر ڈیوڈ کی نشاندہی پر حراست میں لیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ شخص کو ایئر پورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا، پیٹر ڈیوڈ کے اہلخانہ گھروں کو تالے لگاکر غائب ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ خاتون کرن سے پیٹر ڈیوڈ کے بارے میں تفتیش کی جارہی ہے۔

جوہر ٹاؤن دھماکے کا ایک ملزم گرفتار

لاہور: جوہر ٹاؤن دھماکے میں استعمال گاڑی کا مالک گرفتار کرلیا گیا ۔

جوہر ٹاؤن دھماکے کی تحقیقات میں اہم پیشرفت سامنے آگئی ہے، کیوں کہ دھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی کا مالک پیٹر پال ڈیوڈ گرفتار کرلیا گیا ہے۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق گرفتار ملزم ڈیوڈ گوجرانوالہ کا رہائشی ہے، اور اسے گزشتہ رات کراچی جاتے ہوئے فلائٹ سے آف لوڈ کر کے حراست میں لیا گیا ہے، دھماکے میں استعمال گاڑی 6 مرتبہ فروخت ہوئی تھی، آخری دفعہ یہ گاڑی ڈیوڈ پال نے گوجرانوالہ میں خریدی تھی۔

تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈیوڈ پال نے ابتدائی تفتیش میں اہم انکشافات کئے ہیں اور بتایا ہے کہ کسی کے کہنے پر گاڑی مبینہ دہشت گرد کو دی تھی، تاہم ڈیوڈ نے دہشت گرد کی شناخت سے لاعملی کا اظہار کیا ہے، تفتیشی اداروں کو ڈیوٖڈ سے کار لے جانے والے دہشت گرد کی تلاش ہے، جوہر ٹاؤن دھماکے کے تانے بانے کالعدم تنظیم سے مل رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق دھماکے میں ممکنہ طور پر استعمال ہونے والی گاڑی بابو صابو سے شہر میں داخل ہوئی، گاڑی بدھ کی صبح نو بج کر چالیس منٹ کے قریب داخل ہوئی اور بابو صابو ناکے پر گاڑی کی باقاعدہ چیکنگ بھی ہوئی، جب کہ یہ گاڑی اس سے قبل بھی شہر میں دو مرتبہ دیکھی گئی ہے۔

تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکے میں استعمال ہونے والی کارکو نیلی شلوار قمیض والے ڈرائیور نے جوہر ٹاؤن میں چھوڑا اور گاڑی چھوڑ کر پیدل فرارہوگیا، مبینہ دہشت گرد نیلی شلوار قمیض میں ملبوس اور ماسک لگائے ہوئے تھا اور مولانا شوکت علی روڈ تک پیدل آیا۔

لاہور : جوہر ٹاؤن میں دھماکا، 2 افراد جاں بحق ، 17 زخمی

لاہور: جوہر ٹاؤن میں دھماکے کے نتیجے میں2 افراد جاں بحق اور 17 افراد زخمی ہوگئے ، جن میں سے 3 کی حالت تشویشناک ہیں، ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ بظاہر دھماکا مین گیس لائن پھٹنے سے ہوا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 17 افراد زخمی ہوگئے، جن میں سے 3 افراد کی حالت تشویشناک ہیں ، زخمیوں میں جوہر ٹاؤن میں سیکیورٹی پرمامور پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

دھماکہ اتنا شدید تھا کہ آواز دور دور تک سنی گئی ، دھماکے سے ارد گرد کی عمارتوں کےشیشے ٹوٹ گئے، دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور امدادی ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچیں اور دھماکے کے زخمیوں کوجناح اسپتال منتقل کردیا۔

ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ بظاہر دھماکا مین گیس لائن پھٹنے سے ہوا اور دھماکے سے لیسکو کی تاریں بھی ٹوٹ گئیں جبکہ پولیس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ دھماکےسے قریب کھڑی موٹرسائیکلیں اور رکشہ تباہ ہوا۔

ڈی سی لاہور نے ریسکیو1122 ، اسسٹنٹ کمشنر اور لیسکوحکام کو بھی جائے وقوع پہنچنے سمیت تمام ہسپتالوں کو ایمرجنسی الرٹ کی ہدایت کردی ہے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے جوہرٹاؤن میں دھماکےکانوٹس لیتے ہوئے آئی جی سےرپورٹ طلب کرلی اور تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ دھماکےکےذمہ داروں کوفی الفورقانون کی گرفت میں لایاجائے اور زخمی افرادکوعلاج معالجےکی بہترین سہولتیں فراہم کی جائیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے جناح ہسپتال سمیت دیگرہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذکرنےکی ہدایت کرتے ہوئے کہا زخمیوں کےعلاج معالجےکےلئےتمام ممکنہ اقدامات کیےجائیں جبکہ ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی کوموقع پرپہنچےکی ہدایت کردی۔

سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کا کہنا ہے کہ دھماکےکی نوعیت کا تعین کیا جارہا ہے، شہریوں کو جائے وقوعہ سے دور رکھا جائے،امدادی سرگرمیوں میں کوئی رکاوٹ نہیں آنی چاہیے۔

آئی جی پنجاب نے سی سی پی او لاہور سے دھماکےکی رپورٹ طلب کرتے ہوئے فوری طور پرامدادی کارروائیاں عمل میں لانے کی ہدایت کردی ہے۔

وزیرداخلہ شیخ رشید نے بھی لاہور کے علاقے جوہرٹاؤن میں ہونے والے دھماکےکانوٹس لیتے ہوئے چیف سیکرٹری اورآئی جی پنجاب سے دھماکے کی رپورٹ طلب کرلی ۔
دھماکےکی نوعیت کاپتہ لگایاجارہاہے،وفاقی ادارےتحقیقات میں پنجاب حکومت کی معاونت کررہے ہیں۔

تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ کی نظر بندی، ملک کے مختلف شہروں میں دھرنا، بدترین ٹریفک جام

لاہور: تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد حسین رضوی کو نظر بند کردیا گیا ہے، ڈی سی لاہور نے ان کی نظر بندی کے احکامات جاری کئے ہیں۔

تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تحریک کے سربراہ سعد حسین رضوی کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ جس کی پرزور مذمّت کرتے ہیں، حکومتی اوچھے ہتھکنڈے ہمارے حوصلے پست نہیں کرسکتے۔ حکومت اوچھے ہتھکنڈوں سے باز رہے اور وزیراعظم معاہدے کی پاسداری کریں۔ تحریک لبیک پاکستان مجلسِ شوریٰ کا اجلاس بھی طلب کرلیا گیا ہے، جس میں آئندہ کے لائحہ عمل طے کریں گے۔ کارکنان حوصلے بلند رکھیں۔

واضح رہے کہ سعد حسین رضوی کی نظر بندی سے قبل تحریک لبیک پاکستان نے فرانس کے سفیر کی ملک بدری اور فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کے معاملے پر ناموس رسالتﷺ مارچ کا اعلان کیا تھا۔ تحریک لبیک پاکستان نے مارچ کا فیصلہ مرکزی شوری کے اجلاس میں کیا، 21 رکنی مرکزی مجلس شوریٰ نے اتفاق رائے سے ناموس رسالتﷺمارچ کا اعلان کیا، ناموس رسالت مارچ کا آغاز 20 اپریل کی رات مولانا خادم حسین رضوی کی آخری آرام گاہ پر فاتحہ خوانی سے ہوگا۔

ٹی ایل پی کے سربراہ سعد حسین رضوی نے کہا تھا کہ حکومت نے علامہ خادم حسین رضوی کے ساتھ 16 نومبر 2020 کو معاہدہ کیا تھا جس کے مطابق 3 ماہ میں گستاخ فرانسیسی سفیر ملک بدر اور فرانس کا مکمل بائیکاٹ کرنا تھا لیکن تکمیل معاہدے کے لئے 20 اپریل تک کی مزید مہلت لی گئی۔ معاہدے کی ڈیڈ لائن کا اعلان وزیراعظم پاکستان نے خود میڈیا پر کیا، اب اگر 20 اپریل تک فرانس کا سفیر نہ نکلا تو ناموسِ رسالت مارچ ہو گا، 20 اپریل رات 12 بج کر 1 منٹ پر علامہ خادم حسین رضوی کے مزار سے مارچ کا آغاز ہو گا، اہلیان پاکستان تمام وابستگیوں سے بالاتر ہو کر ناموس رسالت مارچ کا حصہ بنیں۔

دوسری طرف حکومت تحریک لبیک کے ساتھ کیے گئے معاہدے کو قرارداد کی شکل میں اسمبلی میں پیش کرنے کی تیاری کررہی ہے۔چند روز قبل وزیراعظم عمران خان نے وفاقی وزیر مذہبی امور پیرنورالحق قادری سمیت دیگر وزرا سے ملاقات میں ہدایت کی تھی کہ فرانس کے سفیرکوملک بدر کرنے اور مصنوعات کے بائیکاٹ بارے تحریک لبیک سے طے پانے والے معاہدے کو قرارداد کی شکل میں اسمبلی کے سامنے رکھے۔

جبکہ مظاہرین نے موٹروے 22 مقامات سے بند کردی ہے۔ موٹر وے پولیس کے مطابق مظاہرے کی وجہ سے ٹیکسلا سے کھاریاں، گجرات سے کھاریاں اور گجر خان سے کھاریاں تک جی ٹی روڈ بند ہے۔ راولپنڈی سے پشاور، سدہوک، اور لاہور اوکاڑہ سیکشن مولان والا بائی پاس سے بند ہے۔

تحریک لبیک کے کارکنوں کا پاکستان کو آزادکشمیر سے ملانے والے منگلاپُل کو بھی بند کرنے کا فیصلہ، کارکنان ریلی کی شکل میں چوک شہیداں سے منگلا کی جانب روانہ ہوگئے ہیں۔

ٹی ایل پی کارکنان نے کراچی میں بھی نمائش چورنگی، بلدیہ ٹائون، ٹاور، فرانسیسی سفارت خانہ کلفٹن، فریسکو چوک، جامع کلاتھ، ایئر پورٹ ناتھا خان پل، فائیو اسٹار چورنگی، کورنگی 4 نمبر، سہراب گوٹھ، گورنر ہائوس، ملیر،بن قاسم ٹائون اور پریس کلب کے سامنے دھرنا دینے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ جب کہ لاہہور میں بھی 23مقامات پر دھرنا جاری ہے ۔ ٹی ایل کی جانب سے کراچی، لاہور راولپنڈی و اسلام آباد کی اہم شاہراہوں پر دھرنے سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا ہے۔

دریں اثنا جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ سعد رضوی کی گرفتاری کی شدید مذمت ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کردیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ ’ناموس رسالت اور ناموس صحابہ امت مسلمہ کا اثاثہ ہے، بیرونی دباؤ پر ناموس رسالت کے قانون میں ترمیم کی مخالفت کرنے والوں کو گرفتاریوں سے نہیں ڈرایا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ علامہ سعد رضوی کی بلاجواز گرفتاری حکومت کا شرمناک اقدام ہے، اگر انہیں رہا نہیں کیا گیا تو احتجاج کی کال دیں گے۔

مولانا فضل الرحمان نے تحریک لبیک پاکستان کے احتجاجی مارچ کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ نالائق حکمرانوں کے فیصلے ملک کو انارکی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔

موٹروے زیادتی کیس، ملزمان کی نشاندہی کرنے پر25لاکھ نقد انعام

لاہور: وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے موٹر وے پر خاتون سے زیادتی کے ملزمان کے نشاندہی کرنے والوں کو 25 لاکھ روپے انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔

لاہور میں آئی جی پنجاب، وزیر قانوی اور وزیر اطلاعات کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے کہا کہ موٹر وے پر خاتون سے زیادتی کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، ملزمان کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔

ہم 72گھنٹوں سے کم وقت میں اصل ملزمان تک پہنچے، مرکزی ملزمان جلد قانون کی گرفت میں ہوں گے، ملزمان کی نشاندہی کرنے والوں کے لیے 25 لاکھ کے انعام کا اعلان کیا جارہا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ خاتون سے زتادتی سے متعلق متنازع بیان پر سی سی پی او لاہور کو شوکاز نوٹس جاری کرکے ان سے 7 دن میں جواب مانگا ہے۔