تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کا پارٹی عہدوں سےمستعفی ہونے کا اعلان

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اسد عمر نے کہا ہے کہ 9 مئی کے بعد رونما ہونے والے سیاسی حالات میں قیادت کی ذمہ داری نہیں نبھا سکتا اس لیے میں پارٹی کے عہدوں سے استعفیٰ دے رہا ہوں لیکن پارٹی نہیں چھوڑ رہا۔

اڈیالہ جیل سے رہائی کے بعد پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ بطور سیکریٹری جنرل اور رکن کور کمیٹی پی ٹی آئی استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 9 مئی کو فوجی تنصیبات پر حملے کیے گئے جو قابل مذمت اور لمحہ فکریہ ہیں، واقعات میں ملوث افراد کے خلاف بھرپور ایکشن ہونا چاہیے۔

ساتھ ہی انہوں نے ملک کی مختلف جیلوں میں قید ہزاروں بے گناہ کارکنوں کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی آر میں درج تھا کہ شیریں مزاری، عارف علوی، شفقت محمود اور میں ڈنڈوں سے لیس حملے کی قیادت کررہے ہیں جبکہ اس وقت میں گھر میں موجود تھا اور ٹی وی دیکھ رہا تھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ جس وقت ٹی وی پر یہ دیکھا کہ کچھ لوگ پی ٹی وی کی بلڈنگ میں گھس رہے ہیں تو میں نے عون چوہدری کو فون ملایا جنہوں نے عمران خان سے بات کرائی اور صورتحال سے متعلق آگاہ کیا تو چیئرمین پی ٹی آئی نے اس وقت لوگوں سے اپیل کی تھی۔ اسد عمر نے کہا کہ جس نے پی ٹی وی پر حملہ کیا اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے اوپر کوئی دباؤ نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے ہزاروں بے گناہ کارکنوں کو بھی چھوڑنا ضروری ہے کیونکہ واقعات میں چند لوگ ملوث ہوں گے، یہ تحقیقات ہونی چاہیے، فوج کی طاقت صرف بندوقوں سے نہیں قوم کے پیچھے کھڑے ہونے سے ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرا 3 نسلوں سے فوج کے ساتھ تعلق ہے، 15 دن جیل میں گزارے اور اس دوران بہت وقت ملا صورتحال کا جائزہ لینے کا۔

اسد عمر نے کہا کہ اس وقت پاکستان کے 5 بڑے اسٹیک ہولڈز ہیں، عدلیہ میں آپس میں اختلافات پیدا ہوچکے ہیں اور ان کے فیصلوں پر عملدرآمد نہیں ہورہا، یہ بہت خطرناک صورتحال ہے، پاکستان کا دوسرا بڑا اسٹیک ہولڈ آرمی ہے جس کے بارے میں تفصیل سے بات کرچکا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ تیسرا بڑا اسٹیک ہولڈ تحریک انصاف ہے، پی ٹی آئی واحد قومی پارٹی ہے، ہزاروں کارکن جیلوں میں بند ہیں، چوتھا اسٹیک ہولڈر پی ڈی ایم جو ہماری مخالف سیاسی پارٹیوں کا اتحاد ہے۔

اسد عمر نے کہا کہ اگر آج الیکشن ہوجائیں تو وفاق، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت بنے گی جبکہ سندھ میں پی ڈی ایم کی جماعتوں کی حکومت بنے گی، یہ ایک سیاسی حقیقت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کی سیاست گزشتہ 13 ماہ میں انتہائی کمزور ہوچکی ہے، لیکن ان تمام اسٹیک ہولڈز کے مقابلے میں آخری اسٹیک ہولڈر ہے پاکستان کی عوام جو سب سے زیادہ طاقتور ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ایک عام پاکستانی مہنگائی کے باعث انتہائی تکلیف میں ہے جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی، جب تمام اسٹیک ہولڈز کے لیے صورتحال مایوس کن ہے تو اس کا مطلب ہے کہ گزشتہ 13 ماہ میں جو کچھ ہورہا ہے وہ پاکستان کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔

مجھے گرفتار کیا جائے تو سب پُرامن احتجاج کریں، عمران خان

لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ صبح میری اور بشریٰ بی بی کی گرفتاری ہوسکتی ہے، اس صورت میں سب کو پُرامن احتجاج کرنا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ٹویٹر پر اسپیس بنایا گیا جس میں عمران خان شامل ہوئے اور صارفین کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے جوابات دیے۔

ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ اپنے ذہن میں ڈال لو رات جب زیادہ اندھیری ہو جاتی ہے تو اس کا مطلب صبح ہونے والی ہے، جو آزادی کی جنگ میں لڑ کر مرتا ہے تو وہ شہید کہلاتا ہے، میں نے اپنے معاشرے کو کبھی اتنا نیچے نہیں گرتے دیکھا، کبھی خواتین پر ایسا تشدد نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ سب لوگوں میں خوف پھیلانے کے لیے کیا جا رہا ہے، یہ فضا بنائی جا رہی ہے کہ جب دوبارہ عمران خان کو گرفتار کیا جائے تو کوئی باہر نا نکل سکے مگر میری منگل 23 مئی کو نیب میں پیشی کے موقع پر گرفتاری کا امکان ہے، ایسی صورت میں آپ سب کو پُرامن احتجاج کرنا ہے اور سوشل میڈیا پر بھی آواز بلند کرنی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ آئین ٹوٹ چکا ہے آئین میں واضح لکھا ہے کہ 90دن میں انتخابات ہونے چاہیے، آئین جب ٹوٹتا ہے تو جو طاقتور کرنا چاہتا ہے وہ کرتا ہے، طاقتور فیصلہ کرتا ہے کہ اس نے آئین کی کون سی شق ماننی ہے اور کون سی نہیں ماننی۔

انہوں نے کہا کہ اسٹبلشمنٹ اور حکومت نے فیصلہ کرلیا ہے کہ الیکشن نہیں کروانے کیونکہ اگر الیکشن ہوئے تو انہیں اندازہ ہے کہ تحریک انصاف جیت جائے گی۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ’انہیں صرف کورکمانڈر ہاؤس یاد ہے کہ کورکمانڈر جلایا گیا اور اس پر بھی تحقیقات کرنے کے بجائے لوگوں کو پکڑنا شروع کردیا، کون لوگ تھے جنہوں نے کورکمانڈر کا گھر جلایا کس نے گھر کا دروازہ کھولا کوئی تحقیقات نہیں ہوئی، میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ طاقتور لوگ اتنے نیچے گر جائیں گے‘۔

عمران خان نے کہا کہ ہم پر یہ مشکل وقت ہے، اللہ انسان کو آزمانے کے لیے مشکلات بھیجتا ہے، اگر آج ہم ان کے خوف میں آگئے تو ساری زندگی انکی غلامی میں چلے جائیں گے، یہ انکا خوف عارضی ہے جسے یہ زیادہ دیر تک قائم نہیں کرسکتے، انکے پاس اتنی جیلیں بھی نہیں ہیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو اس طرح میں نے زندگی میں کبھی گرتے نہیں دیکھا، یہ کیسا وقت آگیا ہے کہ فیصلہ کیا گیا کہ ڈنڈے کے زور سے سب کو سیدھا کردو۔

عمران خان نے کہا کہ ’حقیقی آزادی کا مقصد انصاف ہے، رول آف لاء قائم کرنا، جی ایچ کیوں یا کنٹونمنٹ، پرامن احتجاج کرنا بنیادی حق ہے، نوجوان قوم بناتے ہیں، سوشل میڈیا کا ایک کمال یہ ہوا ہے کہ نوجوان اصل مسئلہ سمجھ گئے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ جسٹس منیر کے ایک فیصلے نے ملک تباہ کر دیا، جسٹس منیر کے فیصلے بعد بار بار عدلیہ نے طاقتور کے ساتھ مل کر نظیہ ضرورت کے تحت فیصلے کرنے شروع کردیئے، 2007 میں عدلیہ بحالی تحریک شروع کی جس کے بعد عدلیہ نے آزادانہ فیصلے شروع کردیئے۔

چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ شریف خاندان نے ایک مرتبہ پھر عدلیہ کو تقسیم کرنے کی کوشش کی، لیکن مجھے لگتا ہے عدلیہ کھڑی ہوجائے گی اور پاکستان کو اس وقت مشکل وقت سے نکالے گی، تمام ممالک نے کہا کہ پہلے اپنے ملک میں سیاسی استحکام پیدا کریں۔

عمران خان نے دعویٰ کیا کہ ’میں نے بہت مرتبہ ان کے ساتھ بات چیت کرنے کی کوشش کی لیکن جب الیکشن کی بات کرو یہ ڈر جاتے ہیں، مجیب الرحمن نے بار بار کوشش کی یحی خان سے بات کرے لیکن وہ اس سے بات کرنا نہیں چاہتے تھے کیونکہ وہ الیکشن ہونے نہیں دینا چاہتے تھے، ابھی بھی انکی کوشش ہے کہ الیکشن نا کروائے جائیں اور الیکشن تب کروائیں جائیں جب عمران خان الیکشن نا جیت سکے’۔

چیئرمین پی ٹی آٗئی نے کہا کہ آج جو بھی یہ سب کر رہا اسے سیاست کی سمجھ نہیں ہے، انکو سمجھ ہی نہیں کہ جتنا پارٹی کو دبائیں گے وہ اتنی اوپر آئے گی، انہوں نے فیصلہ کیا کہ جہاں پی ٹی آئی کارکن ملے اسے پکڑ کر جیل میں ڈال دو، میرا ماسٹر مائنڈ سے سوال کہ کیا اس طرح پارٹی کو ختم کریں گے، لیکن اب تک جتنا دبایا پارٹی اتنی ہی اوپر گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انکو اندازہ ہی نہیں پارٹی ایم پی اے اور ایم این اے کو لے جانے سے ختم نہیں ہوتی بلکہ پارٹی ووٹ بینک کے جانے سے ختم ہوتی ہے، قوم آج بھی پی ٹی آئی اور اسکے نظریے کے ساتھ کھڑی ہوئی ہے‘۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ نگران حکومت بلکل آئینی مدت ختم ہونے کے بعد غیر قانونی ہوچکی ہے، انکا کام تھا الیکشن کروانا یہ نہیں کرواسکے، جب اللہ نے موقع دیا تو نگران حکومت کا حساب کتاب ہوگا، ان پر کیسسز ہونگے، 90 دن میں الیکشن نہیں کروا سکے، انہوں نے لوگ مروائے، ان پر کیسسز بنے گے اور انکو عدالتوں کے چکر لگوائیں گے۔

عمران خان نے کہا کہ میں اور بشرا بی بی صبح نیب جارہے ہیں، اور ممکن ہے ہمیں گرفتار کر لیا جائے، اگر ہماری گرفتاری ہوجاتی ہے تو آُپ سب کو پُرامن رہتے ہوئے احتجاج کرنا ہے۔

القادر ٹرسٹ کیس پر گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ’میں چاہتا تھا پاکستان کے نوجوانوں سیرے نبی پڑھاؤں، میں اور بشرا بی بی القادر یونیورسٹی کے ٹرسٹی ہیں، ٹرسٹی کو کسی قسم کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا، لندن سے آنے والے پیسوں کا معاملہ کابینہ میں رکھا تو فیصلہ ہوا کہ ہم سپریم کورٹ کے جرمانے میں اس پیسے کو ایڈجسٹ کردیں گے، کیبینٹ میں بتایا گیا کہ معروف پاکستانی اور این سی اے میں خفیہ اگریمنٹ ہوا ہے، ہم اس خفیہ ایگریمنٹ پر کیس کریں گے تو 5 سے 6 سال فیصلے کو لگ جائیں گے، اور اگر ہم کیس ہار گئے تو پیسہ پھر پاکستان کو بھی نہیں ملے گا اور پاکستان پہلے بھی این سی اے سے کیس ہار چکا ہے، لہٰذا ہم نے فیصلہ کیا کہ یہ پیسہ ہم لیں گے‘۔

عمران خان نے کہا کہ میرے اوپر اب کیس بنایا کہ میں نے اس پیسوں کا کوئی مالی فائدہ لیا ہے، القادر یونیورسٹی کے اکاؤنٹس چیک کر لیں، اکاونٹ سب کے سامنے ہیں‘۔ چیئرمین پی ٹی آٗئی نے کہا کہ مجھے پتا ہے آپ لوگ میری سیکیورٹی کیلئے بہت فکر مند ہیں۔ میں ہر روز جب گھر سے نکلتا ہوں تو کوئی پتا نہیں ہوتا کہ زندہ واپس گھر آؤں گا یا نہیں؟ لیکن وزیرآباد واقعہ ہو یا جوڈیشل کمپلیکس میں بھی مجھے مارنے کی کوشش کی گئی تو کسی سیکیورٹی نے نہیں، اللّه اور صرف اللّه نے مجھے بچایا۔

چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ اللّه نے جب مجھے لے کر جانا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت مجھے بچا نہیں سکتی اور جب اللّه نے بچانا ہے تو کوئی مجھے مار نہیں سکتا، اپنے خوف کا بت توڑ دیں۔ خوف کے آگے سر نہیں جھکنا ہوتا۔ اللّه پر توکل اور ایمان رکھ کر خوف سے مقابلہ کرنا ہوتا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ آج جو لوگ پارٹی چھوڑ کر جارہے ہیں کل الیکشن میں عوام ان کے خلاف ووٹ ڈالیں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہمارے لوگ 27سال میں کبھی توڑ پھوڑ کا حصہ نہیں بنے، کورکمانڈر کے گھر کو جلانے کے لیے انویسٹیگیشن ہوئی سب کچھ سامنے آجائے گا، پی ٹی آئی کے خلاف کورکمانڈر ہاؤس کی بنیاد پر منظم سازش کی گئی ہے۔

190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل، نیب نے عمران خان کو طلب کرلیا

اسلام آباد: نیب راولپنڈی نے عمران خان کو 190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل (القادر ٹرسٹ کیس) میں 18 مئی کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا جبکہ انہیں ایک سوال نامہ بھی بھیجا گیا ہے۔

نوٹس میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کو عدالت نے حکم دیا ہوا ہے کہ جب نیب طلب کرے وہ پیش ہوں گے اور تفتیش میں تعاون کریں۔

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو نیب نے القادر ٹرسٹ میں 9 مئی کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطے سے گرفتار کیا تھا، جس کے بعد اُن کے حامیوں نے ملک بھر میں ہنگامہ آرائی اور جلاؤ گھیراؤ کیا تھا۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے عمران خان کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ان کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دے کر رہا کر کے ایک روز کیلیے اپنا مہمان بنایا اور پھر انہیں اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کی تھی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی القادر ٹرسٹ سمیت تمام مقدمات میں ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں گرفتاری سے روک دیا تھا۔

مجھے گرفتار کیا گیا تو پارٹی میں کمیٹی بنادی ہے جو فیصلے کرے گی، عمران خان

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بتادیا کہ ان کے گرفتار ہونے پر کیا کیا جائے گا۔

عمران خان نے غیرملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ مجھے گرفتار کیا گیا تو پارٹی میں کمیٹی بنادی ہے جو پارٹی سے متعلق فیصلے کرے گی۔

عمران خان نے کہا کہ میرے خلاف 94 کیسز درج ہیں، میری تمام کیسز میں ضمانت ہوچکی ہے،

ضمانت کے باوجود اس وقت مجھے گرفتار کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ میری زندگی کو پہلے سے زیادہ خطرات لاحق ہیں،

مجھے گرفتار یا قتل کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے بعد آنے والے ردعمل سے فکرمند ہوں۔

انہوں نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ بہت سخت ردعمل آئے گا اور یہ پورے پاکستان میں ہوگا، یہ جو سب کر رہے ہیں ان کو حالات کا ادراک نہیں۔

عمران خان نے کہا کہ بدقسمتی سے ان کے ذہن میں ہے کہ مجھے گرفتار کریں یا قتل کردیں۔

حقیقی آزادی کےلئے نوجوانوں میں آج جو تڑپ ہے میں نے ہمیشہ اسی کے لئے دعا کی، عمران خان

سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ میری جماعت قانون کی حکمرانی کے اصول پر قائم کی گئی اور ہم اپنے اس عزم و عہد پر پوری استقامت سے کاربند رہیں گے۔

اپنے ٹویٹس میں عمران خان نے کہا ہے کہ حقیقی آزادی کے حوالے سے ہمارے نوجوانوں میں موجود تڑپ ہی تو ہے جس کے لیے میں نے ہمیشہ رب العزت سے دعا کی کہ ایک روز میری قوم کو اس سے آشنا کردے.

وہ قومیں جن کے نوجوان آزادی کو اپنی زندگیوں سے بالا شمار کرتے ہیں، واقعتاً کارنامے سرانجام دیتی ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ جب قانون کی حکمرانی ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کا وسیلہ بنتی ہے اور وہ خود کواحساسِ کمتری سے پاک کرلیتے ہیں تو عمومی انسانوں سے کہیں اوپر اٹھ جاتے ہیں جس کی جھلک ہمیں جنابِ اقبال کے تصوّرِ شاہین میں ملتی ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک میں آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے حوالے سے نہایت ٹھوس مؤقف اپنانے پر میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا شکرگزار ہوں،

ہم آپ کی جانب سے زمان پارک میں حکام کے ہاتھوں طاقت کے بے تحاشا استعمال کی مذمّت کو بھی قدر و تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

انہوں ںے مزید کہا کہ آئین اور 90 روز میں انتخابات کے انعقاد کی حمایت اور محاصرے کے ساتھ زمان پارک میں (ریاستی) قوت کے بے جا استعمال کی مذمت میں ایک متفقہ قرارداد منظور کرنے پر میں لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کا شکر گزار ہوں.

ہم سے یکجہتی کے اظہار کے لیے زمان پارک تک پیدل مارچ کرنے والے وکلاء کا بھی میں نہایت مشکور ہوں۔

آپ میرے بغیر بھی حقیقی آزادی کےلئے جدوجہد جاری رکھیں، عمران خان کا کارکنا ن کے نام پیغام

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ مجھے قتل یا جیل میں ڈال دیا گیا تو عوام نے جدوجہد جاری رکھنی ہے۔

عمران خان نے اہم پیغام دیتے ہوئے کہا کہ پولیس مجھے پکڑنے اور جیل بھیجنے کے لیے آ گئی ہے، ان کا خیال ہے عمران خان جیل چلا جائے گا تو قوم سو جائے گی،


آپ نے ان کو غلط ثابت کرنا ہے ، آپ نے ثابت کرنا ہے کہ آپ زندہ قوم اور نبیؐ کی امت ہیں، لاالااللہ کے نعرے پر بننے والی قوم ہیں

عمران خان نے کہا کہ آپ نے اپنے حقوق اور حقیقی آزادی کے لیے جدوجہد کرنی ہے اور باہر نکلنا ہے، میں آپ کی جنگ لڑ رہا ہوں ،

مجھے کچھ ہوا یا جیل بھیجا گیا یا ماردیتے ہیں تو آپ نے ثابت کرنا ہے کہ عمران خان کے بغیر بھی یہ قوم جدوجہد کرے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اپنی ساری زندگی جنگ لڑی اور لڑتا رہوں گا،

چوروں کی بدترین غلامی اور ایک آدمی جو ملک کے فیصلے کررہا ہے، اسے کبھی قبول نہ کریں، پاکستان زندہ باد۔

سینئر رکنِ امریکی کانگریس بریڈ شرمین سے عمران خان کا رابطہ

امریکی کانگریس کی خارجہ امور کمیٹی کے سینئر رکن بریڈ شرمین سے پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین، سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی ہے۔

اس گفتگو کے حوالے سے بریڈ شرمین کا کہنا ہےکہ جلد ویڈیو بیان جاری کریں گے۔

عمران خان سے گفتگو سے پہلے پاکستانی امریکن ڈیمو کریٹ ڈاکٹر آصف محمود نے بریڈ شرمین سے ملاقات کی تھی۔

امریکی رکن کانگریس نے موسمیاتی کانفرنس معاملے پر پاکستان کے حق میں آواز اٹھا دی.ڈاکٹر آصف نے چند روز پہلے پاکستان میں سیاسی صورتِ حال پر عمران خان اور پی ٹی آئی کی حمایت میں بیان جاری کیا تھا۔

عمران خان کی تقاریراور بیانات نشر کرنے پر پابندی کا حکم معطل

لاہور ہائی کورٹ نے عمران خان کی تقاریر پر پابندی کا حکم معطل کردیا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا نے پیمرا کی جانب سے عمران خان کی تقریر اور بیانات نشر کرنے پر پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے پابندی کا نوٹیفکیشن معطل کردیا۔عدالت نے عمران خان کی درخواست کو مزید سماعت کے لیے فل بینچ کو بھجوا دیا۔عدالت نے وفاقی حکومت سمیت فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے کاروائی 13مارچ تک ملتوی کردی

واضح رہے کہ پیمرا نے عمران خان کے بیانات اور تقاریر نشر کرنے پر پابندی عائد کر دی تھی ۔عمران خان نے پیمرا کی جانب سے پابندی کے نوٹیفکیشن کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

توشہ خانہ کیس: عمران خان آج بھی پیش نہ ہوئے، سوا تین بجے فیصلہ کردینگے،عدالت

سابق وزیر اعظم عمران خان توشہ خانہ کیس میں اسلام آباد کی سیشن عدالت میں پیش نہ ہوئے جس پر عدالت نے کہا کہ سوا تین بجے کیس کا فیصلہ کردیں گے۔آج سماعت کے آغاز میں عمران خان کے جونیئر وکیل سردار مصروف خان عدالت کے روبرو پیش ہوئے،

ن لیگ کے رہنما محسن شاہنواز رانجھا اور الیکشن کمیشن کے وکیل سعد حسن بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے استفسار کیا کہ عمران خان آج بھی نہیں پیش ہو رہے کیا؟ ضامن پابند ہیں کہ عمران خان عدالت پیش ہوں۔

عمران خان کے جونیئر وکیل سردار مصروف خان نے بتایا کہ عمران خان کی پیشی کا علم نہیں، سینئر لیگل ٹیم 10 بجے عدالت پیش ہوگی، عدالت نے سماعت میں 10 بجے تک وقفہ کردیا۔

وقفے کے بعد عمران خان کے وکیل شیر افضل مروت عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ وکالت نامہ ایک دو دن تک دے دیتا ہوں، عمران خان کی لیگل ٹیم اسلام آباد ہائی کورٹ میں موجود ہے، اگلے ہفتےکوئی تاریخ دےدیں۔

جج نے ریمارکس دیےکہ عمران خان کی طلبی کے لیے سماعت چل رہی ہے۔

وکیل شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ عمران خان کی صحت خراب ہے، معذوری کی حالت ہے، دنیا میں عمران خان سے متعلق تماشہ چل رہا ہے۔

وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ ضامن کو عدالت نوٹس کرے اور شورٹی کوکینسل کیاجائے، کیس کی سماعت 9 مارچ تک ملتوی کردی جائے۔

درخواست گزار اور ن لیگی رہنما محسن شاہنواز رانجھا کا کہنا تھا کہ 9 مارچ کو عمران خان نے ہائی کورٹ میں پیش ہونا ہے، عمران خان یقینی طور پر 9 مارچ کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوں گے۔

وکیل عمران خان کا کہنا تھا کہ مجھے بتایا گیاہےکہ عمران خان کے لیے اگلے ہفتے کچہری پیش ہونا آسان ہوگا۔

جج نے ریمارکس دیےکہ یعنی دوسرے لفظوں میں عمران خان نے 9 مارچ کو بھی سیشن عدالت پیش نہیں ہونا، آپ کا وکالت نامہ پہلے آنا چاہیے، بات بعد میں ہونی چاہیے،

میں نے انتظار بھی اس لیے کیا کہ شائد اسلام آباد ہائی کورٹ کا کوئی فیصلہ آجائےگا، اگر صورتحال یہی رہنی ہے تو کوئی فیصلہ کر دیتے ہیں، عمران خان خود بھی ابھی تک ذاتی طور پر پیش نہیں ہوئے، ظاہر ہو رہا ہےکہ عمران خان آج بھی سیشن عدالت میں پیش نہیں ہوں گے۔

جج نے مزیدکہا کہ عمران خان کے کیس میں قانون سب کے لیے برابر ہوگا، قانون کے مکمل تقاضوں کو پورا کرکے توشہ خانہ کیس کو چلایا جائےگا۔

عمران خان کے وکیل کی جانب سے 2 بجے تک سماعت میں وقفہ کرنے کی استدعا کی گئی جس پر ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے دو بجے تک سماعت میں وقفہ کردیا۔

وقفے کے بعد عمران خان کے وکیل شیر افضل مروت اور فیصل چوہدری عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے دوبارہ آغاز پر جج نے کہا کہ عمران خان کی جانب سے کہا گیا کہ سیشن عدالت جوڈیشل کمپلیکس شفٹ کردی جائے۔

عمران خان کے وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ عمران خان جوڈیشل کمپلیکس اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہورہے ہیں، اسلام آباد کی ضلعی کچہری میں ماضی میں بھی حملہ ہوچکا ہے،

صورتحال بتارہی ہےکہ عمران خان پر اگر حملہ ہوا توکچہری میں ہی ہوگا، ان کی جان کو خطرے کےساتھ ججز، وکلا اور شہریوں کی جان کوبھی خطرہ ہے۔

عمران خان کے وکیل کے ریمارکس پر جج نے کہا کہ آپ ہمیں بتائیں، سکیورٹی کا انتظام کرنا میرا کام ہے، 9 مارچ کو توشہ خانہ کیس کی سماعت رکھ لیتے ہیں، سکیورٹی کے انتظامات کے احکامات جاری کردیتا ہوں۔

اس پر عمران خان کے وکیل نے کہا کہ ان کے مؤکل کے وارنٹ منسوخی کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل کردی ہے، اس پر عدالت نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل کے باعث ہی کیس کی سماعت میں وقفہ کیا تھا، دیکھ لیتے ہیں لیکن سوا 3 بجے توشہ خانہ کیس کا فیصلہ کردیاجائےگا۔

خیال رہے کہ 28 فروری کو عدالت نے عدم پیشی پر عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے، عدالت نے اسلام آباد پولیس کو احکامات جاری کیے تھے کہ عمران خان کو گرفتار کرکے 7 مارچ (آج) کو عدالت میں پیشی یقینی بنائی جائے۔

گزشتہ روز عدالت نے عمران خان کے توشہ خانہ کیس میں جاری ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کی منسوخی کی درخواست کو مستردکر دیا تھا۔

ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے باوجود اسلام آباد پولیس تاحال عمران خان کو گرفتار کرنے میں ناکام ہے۔

یاد رہے کہ توشہ خانہ کیس میں ایڈیشنل سیشن جج نے فردجرم عائدکرنےکے لیے عمران خان کو 8 جنوری سے طلب کر رکھا ہے

لیکن ہر پیشی پر عمران خان کی جانب سے طبی یا سکیورٹی وجوہات کے باعث حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں دائر ہوتی رہیں۔

عدالت نے گزشتہ روز وارنٹ منسوخی کی درخواست مسترد کرنے کے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا تھا کہ عمران خان جان بوجھ کر سیشن عدالت پیش نہیں ہوئے۔

دوسری جانب ذرائع نے بتایا ہے کہ عمران خان آج بھی سیشن عدالت کے سامنے ذاتی حیثیت پر پیش نہیں ہوں گے۔

عمران خان کا چیف جسٹس آف پاکستان کے نام ایک اور خط

سابق وزیر اعظم عمران خان نے چیف جسٹس آف پاکستان کے نام ایک اور خط لکھ دیا۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کے نام خط میں سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنی زندگی کو درپیش خطرات سے متعلق آگاہ کیا ہے۔

عمران خان نے خط میں چیف جسٹس آف پاکستان سے استدعا کی ہے کہ مختلف مقدمات میں پیشی کے موقع پر مناسب سکیورٹی انتظامات کروائے جائیں۔

علاوہ ازیں عمران خان نے چیف جسٹس سے ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی کی اجازت دینے کی بھی درخواست کی ہے۔