فاتح اندلس… طارق بن زیاد…. قسط نمبر 3

راہب اور کونٹ جولین دونوں آداب کر کے اٹھ کر چلے

موسی نے اسی روز سات ہزار آزمودہ کار اور شیر دل نوجوانوں کا انتخاب کر کے انہیں تیاری کا حکم دیا

اندلس کی مہم پر جانے کے لیے ہزاروں آدمی تیار بیٹھے تھے

سب کا خیال تھا کہ کم سے کم پندرہ بیس ہزار کا شکر تو بیجا جائے گا مگر ان کی حیرت اور مایوسی کی کوئی حد نہ رہی جب انہوں نے دیکھا کہ صرف سات ہزارکا لشکر بھیجا جانامنظور ہوا ہے
جو منتخب ہو گئے انہوں نے خوش ہو کر تیاریاں شروع کر دیں اورمنتخب نہ ہوئے والے نےانکی خدمت کرنے لگے

صرف ایک ہی دن در میان میں تھا
آنکھ جھپکتے ہی وہ بھی گزر گیا اور جمعہ کاوہ روز سعید آگیا
جب اندلس پر جانے والا لشکر روانہ ہو نے والا تھا
حسب معمول مسلمان غسل کر کے اور نئے کپڑے پہن کر مسجد کی طرف جانے لگے
نماز کے وقت سے بہت پہلے مسجد پر ہوگئی
وقت پر اذان ہوئی نماز ہوئی اور سنتوں وغیرہ سے فارغ ہو کر موسی ممبر پر آئے
انہیں دیکھتے ہی سب لوگ اس قدر خاموش ہو گئے کہ سانس لینے کی آواز صاف طور پر سنائی دینے لگی:
موسی نے کہا
مسلمانو قابل تعریف وہی ذات ہے جس نے یہ دنیابنائی ہے

جسے ہم دیکھتے ہیں اور وہ عالم تو ہماری نظروں سے پوشید ہ ہے،وہ بنائے ہیں
وہ خالق کل ہے اور قادر مطلق ہے
نہ اسے نیند آتی ہے نہ تھکان محسوس ہوتی ہے ، اکیلا ہے، اس کی خدائی میں کوئی شریک نہیں ہے
وہ ہمیشہ سے ہے اس وقت سے جب کوئی بھی نہ تھا اس نے سب کچھ بنایا اور وہ ہمیشہ رہے گا یعنی اس وقت بھی جب کہ تمام عالم ریز وریز و ہوجائیں گے
زمین پھٹ جائے گی اور آسمان ٹکرے ٹکڑے ہو جائے گا

سیاروں کا وجود باقی نہ رہے گا
وہی عبادت کے لائق ہے اور یہ اللہ کا لاکھ لاکھ احسان ہے کہ ہم مسلمان اس کی عبادت کرتے ہیں
یادر کھو
میں صرف مسلمان ہی توحید کے حامل اور مبلغ ہیں اور اب قیامت تک توحید مسلمانوں ہی میں رہے گی
چونکہ اب کوئی نبی نہیں آئے گا، اس لیے یہی شریعت یہی قرآن شریف اور یہی مزہب توحید کا علمبر دار رہے گا

گزشتہ کتابوں یعنی توریت انجیل اور زبور وغیرہ میں بھی تحریفیں ہوتی رہیں
انسان ان میں ردوبدل کرتے رہے

قرآن مجید میں ایک نقطہ اور زیر زبر اور پیش کا بھی فرق نہیں آسکے گا
یہ اس لیے کہ اللہ نے خود اس کی حفاظت اپنے ذمہ لی ہے
اللہ رب العزت قرآن شریف میں ارشاد فرماتا ہے:
ان محن نزلنا الذ کر واناله لحفظون .
ترجمہ: بے شک ہم نے ہی اس قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں (سورۃ الحجر آیت نو)
خیال کرو اللہ سے زیادہ حفاظت کرنے والا کون ہے ؟

یہی وجہ ہے کہ آج تک اس میں ایک نقطے کافرق نہیں آیا اور نہ آئندہ آسکتا ہے
اس کے بعد قابل تعریف باعث تخلیق عالم
فخر نبی آدم احمد مجتبیٰ محمد محمد صلی اللہ علیہ کی ذات گرامی ہے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہزاروں صعوبتیں لاکھوں تکلیفیں برداشت کی اور دنیا کے سامنے بے ڈرک ہوکر اللہ کا پیغام پہنچادیا
ہمیں فخر ہے کہ ہم اس نبی کی امت ہیں جو اللہ کا لااڈا ہے۔ل

فرشتوں کا حبیب ہے
دنیاوالوں کا پیارا ہے
ان پر درود سلام ایک بار نہیں ہزار بار نہیں لا کھوں بار ان گنت در ودسلام
اسلام کے بہادر فرزندو در بار خلافت پر کونٹ جولین فریادی بن کر آئے ہیں
اعلی حضرت خلیفہ اسلمین نے ان کی فریاد سن کر ان کی مدد کرنے کا وعدہ کر لیا ہے
اور آج لشکر روانہ ہو نے والا ہے جو اندلس سے بد کاری عیش پرستی بد امنی اور انسان پرستی مٹادے گا
دعاکر و که پروردگار عالم مجابد ین کوفتح عطافرمائے “۔

تمام مسلمانوں نے ہاتھ اٹھا کر نہایت خلوص اور بچے دل سے دعامانگی
اب موسی نے کہا “:
غالباً سب لوگوں کو اس بات کے معلوم کرنے کا اشتیاق ہو گا کہ اندلس جانے والے لشکر پر افسر یا سپہ سالار کس کو مقرر کیا جائےگا

میرے پاس سینکڑوں درخواستیں تحریری اور زبانی آئی ہیں
ہر شخص چاہتا ہے کہ اسے یہ اعزاز حاصل ہو
اس میں میر ابیٹا عبد العزیز بھی ہے
لیکن میں نے ایسے افسر کا انتخاب کیا ہے جو اس مہم کے لیے ہر طرح سے موزوں اور
مناسب ہے
وہ ایک بر بری غلام ہے
لیکن میں نے اسے آزاد کر دیا ہے

اس کا نام طارق ہے۔”
طارق بر بر کارنے والا تھا
جب مسلمانوں نے بربر پر لشکر کشی کی تو وہ اپنے ملک کی حفاظت میں نہایت شجاعت و بسالت سے لڑا اور لڑتے لڑتے گرفتار ہو گیا،
چونکہ جولوگ لڑائی میں گرفتار ہوتے ہیں وہ غلام بنالئے جاتے ہیں، اس لیے طارق بھی غلام بن گیا اور موسی کے پاس رہنے لگا،
مسلمانوں کی ہم نشینی نے اسے مسلمان ہونے پر بر انگختہ کر دیا اور وہ مسلمان ہو گیا

موسی نے اسے فورا آزاد کر کے مراکش کا گور نر بنادیا
دنیا کی کوئی قوم بھی ایسے ایثار اور مساوات کامظاہرہ نہیں کرتی کہ ادنی درجہ کے شخص کو جو اچھوت تھا مسلمان ہوتے ہی جلیل القدر عحدہ دے دیا گیا ہو
ہندوستان میں تواچھوتوں کی یہ حالت زار ہے کہ مجال نہیں وہ کسی مندر اور دھار ک عمارت میں چلے جائیں . .

یہ سات ہزار کا لشکر جس کا سپہ سالار طارق بن زیاد تھا اور اس کے دست راست طریف بن مالک اور مغیث کی سرکردگی میں روانہ ہوا اور ساحل سمندر کے کنارے واقع ایک شہر جس کا نام سبتہ تھا پہنچ گیا
وہاں پر امیر بحر عبد اللہ اپنے بحری بیڑے کے ساتھ اس لشکر کے انتظار میں کھڑا تھا

کاونٹ جولین لشکر کو دوسرے کنارہ تک پنچانے کے لیے ساتھ ہولیا

سلسلہ جاری ہے ۔۔۔۔۔

فاتح اندلس 🐎🐎 طارق بن زیاد ( قسط نمبر_2 )

طارق بن زیاد نے راہب کی روداد سنی اور ظریف بن مالک سے مشورہ کیا کہ کیا کیا جائے
دونوں یہ فیصلہ کیا ک اس کو موسی بن نصیر کے پاس بیھج دیا جائے اور وہاں سے جو فرمان جاری ہوگا ہم لوگ اس پر عمل کریں گے
چناچہ دونوں راہبوں کو موسی بن نصیر کے پاس بیھج دیا گیا اور ساتھ ان کی ساری روداد لکھ کر بھی بھیج دی گئی

موسی کے پاس پہنچ کر انہوں نے طارق کا لکھا ہوا مراسلہ پیش کیا موسی نے مراسلہ کھول کر پڑھا اور راہبوں سے ہم کلام ہوا
کیا حاکم وقت کو اس وحشیانہ واقعہ کی اطلاع نہیں ہوئی؟
راہب سب کو خبر ہے اور سب کو ہی نہایت رنج وقلق ہے
موسیٰ پهر ایسے ابو الہوس اور بدکار بادشاہ کو معزول یا قتل کیوں نہیں کر دیتے؟
راہب اس لیے کہ سب اس سے ڈرتے ہیں!
موسیٰ اچھا آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟
جولین: صرف یہ کہ آپ اس ظالم سے میرا انتقام لیں
جولین:آپ ایک مظلوم کی حمایت میں تلوار بلند کر رہے ہیں، اس سے زیادہ اور کیا معقول وجہ ہو گی
موسیٰ: یہ تمہارا آپس کا مسئلہ ہے خود ہی طے کر لو!
جولین: اگر ہم طے کر سکتے ہوتے تو تمہارا دروازہ کیوں کھٹکھٹاتے!
راہب: مسلمانوں کا قول ہے کہ وہ دنیا میں امن قائم کرنا اور مظلوموں کی حمایت کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں
موسیٰ:بے شک!
راہب: جو بے عزتی جولین کی کی گئی ہے اس سے کیا وہ مظلوم نہیں سمجھے جاتے؟
موسیٰ:بےشک
راہب: اور رازرق؟
موسیٰ: ظالم ہے
راہب پهر کیا آپ کا یہ فرض نہیں ہو جاتا کہ مظلوم کی حمایت کریں اور ظالم کو کیفرکردار تک پہنچائیں؟
موسی: بےشک میرا یہ فرض ہو جاتا ہے
راہب: تو اللہ کے لیے آپ مظلوم کی حمایت کیجئے اور ظالم کو سزا دیجئے
میں شرافت تہزیب اور انسانیت کے نام پر آپ سے اپیل کرتا ہوں
جولین: اگر آپ نے ہماری امداد نہ کی اور میں اس بدکار و جفا کار سے اپنا انتقام نہ لے سکا تو میں حضرت مسیح علیہ السلام کی قسم کھاتا ہوں کہ سمندر میں ڈوب کر مروں گا اور میرا خون آپ کی گردن پر ہو گا
موسی یہ سن کر گھبرا گیا اور انہوں نے جلدی سے کہا
میں ان شاءالله تمہاری مدد کروں گا لیکن____
راہب:لیکن کیا؟
موسیٰ:میں محض ایک وائسرائے ہوں،
خلیفہ کا ماتحت میں خود مختار نہیں ہوں، اگر تم پسند کرو تو میں تمام واقعات لکھ کر اعلی حضرت خلیفۂ کے حضور میں ارسال کر کے ان سے لشکر کشی کی اجازت حاصل کر لوں
راہب:نہایت مناسب رائے ہے آپ کی
موسی:اچھا تو میں ابھی لکھتا ہوں
موسی نے اسی وقت ایک عرض داشت لکھی اور اپنے ایک متمد آدمی کو دے کر خلیفہ کی خدمت میں ارسال کر دی
کونٹ جولین اور راہب نے ان کا شکریہ ادا کیا اور اجازت لے کر رخصت ہو گئے
ان کے جاتے ہی موسیٰ اور عبد العزیز آٹھ کر چلے گئے
ان کے جاتے ہی لوگ جوک در جوک اٹھ کر روانہ ہو گئے
عجیب خواب_____
ہر مسلمان، وائسرائے موسیٰ اور دوسرے اراکین سلطنت خوب جانتے تھے کہ خلیفہ ولید بن عبدالملک جس قدر رحم دل فیاض اور سخی ہے، اسی قدر یہ بھی چاہتا ہے کہ دنیا کے کسی بھی حصے میں مسلمانوں کو کسی بھی طرح کی کوئی تکلیف نہ پہنچے اور اس کے ہمسایہ بادشاہوں اور تاج داروں میں ناچاقی نہ ہو
تمام ممالک میں امن امان قائم رہے
جس زمانے میں بلاد مغرب کے وائسرائے موسیٰ بن نصیر تھے
اسی زمانے میں بلاد مشرق کے وائسرائے حجاج بن یوسف ثقفی تھے
یہ عراق میں رہنے والے تھے اور موسی افریقہ میں
موسیٰ کو معلوم تھا کہ ہندوستان کے چند خود سر راجاؤں نے جزیرہ سراندیپ (لنکا) سے آنے والے مسلمانوں کو قید کر لیا ہے اور حجاج بن یوسف نے خلیفہ ہندوستان پر لشکر کشی کی اجازت لی ہے
موسیٰ کا خیال تھا کہ خلیفہ ہندوستان پر لشکر کشی کی اجازت دے دیں گے کہ وہاں مسلمان قید تھے مگر اندلس پر یورش کی اجازت نہیں دیں گے، کیونکہ وہاں مسلمانوں کا کوئی تعلق نہ تھا بلکہ آپس میں عیسائیوں میں مناقشات تھے
تاہم انہیں کچھ امید ضرور تھی اور وہ اسی امید پر ہی انہوں نے تیاریاں شروع کر دیں تھیں
افریقہ سے اندلس جاتے ہوئے راستے میں سمندر کو بغیر جہازوں کے عبور کرنا ممکن نہیں تھا
بحیرہ روم نے افریقہ کو اندلس سے بالکل جدا کر دیا تھا اور مسلمانوں نے اس وقت سمندر میں جہاز رانی نہیں کی تھی مگر جب کہ اندلس پر چڑھائی کا ارادہ تھا تو یہ ضروری ہو گیا تھا کہ جہاز تیار کروائے جائیں تاکہ بحیرہ روم کو عبور کیا جا سکے
چنانچہ موسیٰ نے جہاز تیار کروانے شروع کروا دئیے تھے
یہ بات نہیں تھی کہ مسلمان جہاز چلانا یا بنانا نہیں جانتے تھے فقط اب تک ضرورت لاحق نہیں ہوئی تھی
چار جہاز تیار کئے جا رہے تھے جو کہ اس قدر بڑے تھے کہ ان میں سے ہر ایک میں دو ہزار آدمی اور اور ان کے کھانے پینے کا پندرہ بیس روز کا سامان با آسانی آ سکتا تھا
جنگ پر جانے کی ہر مسلمان کی تمنا اور خواہش تھی لیکن کوئی نہیں جانتا تھا کہ کتنے آدمی بھیجے جائیں گے اور ان کا افسر کون ہو گا
البتہ جہاد کے شائقین نے ابھی سے جہاد پر جانے کے لیے درخواستیں دینا شروع کر دیں تھیں
جو لوگ تجربہ کار تھے اور متعدد لڑائیوں میں لشکر کی قیادت کر چکے تھے انہوں نے افسری کے لیے کہنا اور کوشش کرنا شروع کر دیں تھیں
عام لوگوں کا خیال تھا کہ موسیٰ اپنے بیٹے عبد العزیز کی سر کردگی میں یہ لشکر بھیجے گا-”
لیکن موسیٰ چپ تھے اس لیے کوئی کچھ بھی نہیں کہہ سکتا تھا
علاوہ ازیں جب سے مسلمانوں کو اندلس کے بادشاہ رازرق کی عشرت پسندانہ زندگی کے واقعات کے بارے میں معلوم ہوا تھا وہ سب اس سے بہت ناخوش تھے
اور چاہتے تھے کہ جلد از جلد اسے اس کی بدکاری اور بو الہوسی کی سزا دیں
مسلمان نہ خود بدکار تھے اور نہ دوسروں کو بدکار دیکھنا پسند کرتے تھے گویا وہ نیکو کاری کے ٹھیکیدار تھے
اور چاہتے تھے کہ ساری دنیا انہی کی طرح نیک رہے-”
بدکاری اور بد امنی کا دنیا میں نام تک باقی نہ رہے-”
ایک روز موسیٰ دیوان خانے میں بیٹھے ہوئے تھے اس وقت ان کے پاس کئی معزز اشخاص مثلاً علی بن ربیع طمی ، حیات بن تمیمی ابن عبداللہ ایوب اور عبد العزیز وغیرہ بیٹھے تھے-”
یہ تمام وہ لوگ تھے جو کسی نہ کسی وقت لشکر کی قیادت کر چکے تھے، نیز نہایت مشہور اور شجاع لوگ تھے-
علی بن ربیع طمی نے دریافت کیا-”
آپ نے اس مہم کی افسری کے لیے بھی کوئی شخص تجویز کر لیا ہے؟
مو سی نے جواب دیا ہاں-”
کر لیا ہے ممکن ہے کہ اس کا نام سن کر آپ سب بھی اس کی تائید کریں گے-”
عبد العزیز حضرت میں نے رات کو ایک خواب دیکھا ہے-
موسیٰ:خواب؟ __کیا خواب دیکھا ہے تم نے؟
ابھی عبد العزیز نے اپنا خواب بیان کرنا شروع بھی نہیں کیا تھا کہ کونٹ جولین اور اشببلیا کا راہب دونوں آ گئے
یہ دونوں قیروان ہی میں مقیم تھے اور اکثر موسیٰ کے پاس آتے رہتے تھے
علیک سلیک کے بعد وہ بیٹھ گئے تب موسی نے عبد العزیز سے کہا”-
ہاں بیٹا تم اپنا خواب بیان کرو-”
عبد العزیز:میں نے دیکھا کہ میں بحری سفر کر رہا ہوں اور میرے ساتھ بہت سے آدمی ہیں

ہم سب ایک سر سبز پہاڑ پر جا کر اترے اور پہاڑ کو عبور کر کے بہشت زار میدانوں کو طے کرنے لگے
اس کے نواح میں ہزاروں لاکھوں چڑیاں تھیں جو ہمیں دیکھتے ہی اڑ جاتی تھیں
کبھی کبھی وہ ہمیں چونچیں بھی مارتی تھیں مگر جب ہم ان کی طرف متوجہ ہوتے تو وہ اڑ جاتیں تھیں
میدانوں کے بعد ہم نے آبادیاں بھی دیکھیں، وہ نہایت خوبصورت اور خوش نما تھیں
ایک جگہ ہم جب پہنچے تو ہمارے سامنے ایک چوڑا دریا آ گیا
اس دریا پر ایک اونچا پل باندھا تھا جو نہایت شاندار اور مضبوط اور خوبصورت تھا
اس کے دروازے جن سے دریا بہہ رہا تھا؛ محرابدار اور اونچے اونچے تھے-
میں نے آج تک کسی پل کے اتنے اونچے دروازے نہیں دیکھے!
ہم نے پل کے ذریعہ سے دریا کو عبور کیا اور خوش نما وادی میں جا اترے
اس وادی میں بہت سے کھنڈر تھے اور ان کھنڈرات میں ایک پتھر کا بہت اونچا بت نصب تھا اتنا اونچا کہ اس کے نیچے کھڑے ہونے سے اس کا سر نظر نہیں آتا تھا
ہم سب اس بت کو دیکھ کر حیران ہو رہے تھے کہ اس کی پشت کی طرف سے چند عورتیں آئیں
سب نہایت خوبصورت تھیں اور ریشمی پوشاکیں نیز سونے کے ایسے زیورات جن میں جواہرات جڑے ہوئے تھے پہنے ہوئے تھیں لیکن ان کے درمیان جو عورت تھی وہ ان سب سے زیادہ حسین اور خوبرو تھی نیز اس کی پوشاک بھی ان سب سے زیادہ بیش قیمت اور بھڑک دار تھی
اس کے زیورات آبدار موتیوں اور جواہرات کے تھے مگر وہ ایک طوق پہنے ہوئے تھی جس میں لعل و یاقوت جڑے ہوئے تھے
اس کی چمک سے اس عورت کے رخسار دمک رہے تھے اور اس کا چہرہ چاند سے زیادہ جگمگا رہا تھا
اس عورت نے میری طرف دیکھا اور کچھ اشارہ کیا
میں اس کے پیچھے چل دیا
جب ہم سنگی بت سے زرا فاصلے پر پہنچ گئے تو وہ عورت اور اس کے ساتھ والیاں سب ہنسیں اور میں چونک پڑا
چونکتے ہی میری آنکھ کھل گئی
موسی، راہب، کونٹ جولین نیز تمام لوگ خاموش بیٹھے حیرت بھری نظروں سے عبد العزیز کو دیکھ رہے تھے
وہ سب اس_کو دیکھ اور اس کا خواب سن رہے تھے-
جب وہ خاموش ہوا تو موسی نے کہا! ”
عجیب خواب دیکھا ہے تم نے-”
جولین نے کہا ہاں عجیب خواب ہے زرا ایک بات تو بتائیں؟ ”
عبد العزیز؟ ”
جولین کیا آپ کبھی اندلس گئے ہیں؟
عبد العزیز:کبھی نہیں گیا
موسی:آپ نے یہ سوال کیوں کیا؟ ”
جولین:اس لیے کہ انہوں نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ اندلس کی سر زمین کے متعلق ہے-”
موسی:کیا وہاں کے پہاڑ اور میدان سر سبز ہیں؟ ”
جولین:جی ہاں حقیقت میں اندلس بہشت کا نمونہ ہے
قدرت نے دنیا کے مختلف حصوں میں جو چیزیں پیدا کی ہیں وہ سب اندلس کو بخش دی ہیں
وہ پھلوں کی بہتات اور آسمان کے صاف رہنے کے لحاظ سے ملک شام ہے
آب و ہوا کی عمدگی کے خیال سے یمن یا عرب کا نخلستان ہے

میوں کی کثرت کی وجہ سے اور تازگی کے اعتبار سے حجاز ہے
زرخیزی اور پھولوں کی بھینی بھینی خوشبو کے انداز سے ہندوستان ہے
بیش قیمت کانوں کے باعث کیٹے ہے
نیز سمندر کے ساحلوں کی خوش قطع اور فائدہ رسانی کے میں عدن ہے-”
موسی:آپ نے تو اس کی بڑی تعریف کر ڈالی ہے
جولین:وہ ملک ہی تعریف کے قابل ہے مگر آپ کے صاحبزادے نے جو خواب دیکھا ہے، اس نے مجھے ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے
موسیٰ:کیوں؟ ”
جولین: اس لیے کہ انہوں نے کبھی اندلس نہیں دیکھا مگر خواب میں اندلس پہنچ گئے جس بت کا انہوں نے بتایا ہے وہ مریڈا کے کھنڈرات میں ہے نہایت مشہور ہے-
اس کا نام” گلیشا” ہے دنیا بھر میں اتنا بڑا اور اچھا بت کہیں نہیں ہے
موسی: اور وہ عورت؟
جولین: جس عورت کو انہوں نے خواب میں دیکھا وہ شاہ رازرق کی بیوی نائلہ ہے
اس کا طوق دنیا بھر میں بے نظیر ہے اور وہ حسین بھی ایسی ہے کہ جیسا کہ انہوں نے بیان کیا ہے سارے اندلس میں وہ طوق والی حسینہ کے نام سے مشہور ہے
موسی: تعجب ہے میرے بیٹے خواب میں اندلس ہو آئے ہیں-l
عبد العزیز: کیا آپ مجھے بیداری میں اندلس جانے کی اجازت دیں گے؟
موسی: نہیں میں نے اس مہم کے لیے اور ہی بہادر کو منتخب کر لیا ہے
عبد العزیز: نے مایوسی سے کہا اور وہ کون ہے؟
موسی: جب دربار خلافت سے اجازت آ جائے گی تو اس وقت تمہیں اور سب مسلمانوں کو معلوم ہو جائے گا-”
اس وقت ایک خادم نے آ کر اطلاع دی حضور قاصد دمشق سے واپس آ گیا ہے سب یہ خبر سن کر خوش ہو گئے
موسی نے کہا جلدی سے اسے اندر بلاو-”
خادم واپس چلا گیا اور سب بے چینی سے اس کے آنے کا انتظار کرنے لگے-”

جب قاصد کے آنے میں زرا دیر ہوئی تو ان لوگوں میں قیاس آرائیاں ہونے لگیں
جولین نے کہا کیا آپ کے خیال میں اعلی حضرت خلیفہ المسلمین نے لشکر کشی کی اجازت دے دی ہو گی؟ ”
موسی: میں صحیح طور پر کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ ایک مہم ہندوستان پر بھیجی جا رہی ہے اور وہ اشد ضروری ہے
جولین: کیوں؟
.موسی: اس لئے کہ سندھ کے مغرور و متکبر راجہ نے چند مسلمانوں کو قید کر لیا ہے
انہیں چھڑانے کے لیے ہندوستان پر لشکر کشی ضروری ہو گئی ہے
جولین: آپ مسلمانوں میں بڑا اتفاق ہے و اتحاد ہے
موسی: کیوں نہ ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے
کل مومن اخواہ
تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں-”
جب ایک بھائی پر مصیبت آئے تو یا اسے تکلیف ہو تو دوسرا بھائی اس سے متاثر نہ ہو گا؟ ”
اور اگر مسلمان کسی مسلمان کو تکلیف اور پریشانی میں دیکھے گا تو اس کی مدد نہیں کرتا تو اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ و سلم دونوں ناخوش ہوتے ہیں
یہی وجہ ہے کہ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کی ہر ممکن امداد کرنے پر مجبور ہے اور اسی وجہ سے مسلمانوں میں یگانگت اور بھائی چارہ ہے

جولین: ٹھیک فرما رہے ہیں آپ جو محبت جو خلوص اور جو پیار مسلمانوں میں ہے وہ تمام دنیا میں کہیں بھی کسی قوم میں نہیں.
اتنے میں قاصد اندر آ گیا-
اس نے بلند آواز میں کہا السلام علیکم و رحمۃ اللہ-”
موسی نے و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ کہہ کر اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا
وہ ایک طرف بیٹھ گیا
موسی نے دریافت کیا-”
کہو اعلی حضرت خلیفہ المسلمین بخیریت ہیں؟ ”
قاصد: جی ہاں اللہ کے فضل و کرم سے.
موسی: اور دوسرے حکومت کے اکابرین ملت-
قاصد: سب خیریت سے ہیں اور سب نے سلام کہا ہے
موسی: و علیکم السلام اور عام مسلمان؟
قاصد: وہ بھی اچھی طرح ہیں مگر ادنی مسلمانوں سے لے کر اعلی تک حتی کہ خلیفہ بھی ان مسلمانوں کی وجہ سے جنہیں ہندوستان کے مغرور راجہ داہر نے قید کر لیا ہے سخت پریشان اور بے قرار ہیں اور سب کی نگاہیں اس مہم پر لگی ہوئی ہیں جو کہ وہاں بھیجی جا رہی ہے
موسی: اچھا میری عرض داشت کا جواب ملا؟
قاصد: جی ہاں-”
موسی: لاو !
قاصد نے خلیفہ کا مراسلہ نکال کر پیش کیا
موسی نے لے کر اول اسے چوما اور پھر کهول کر پڑھا لکھا تھا:::
منجانب ولید بن عبدالملک خلیفہ المسلمین از دمشق بجانب موسیٰ بن نصیر وائسرائے بلاد مغرب:
السلام علیکم و رحمۃ بعد از حمد و صلوٰۃ کے قلمی ہے کہ اسلام اور مسلمان دنیا سے فسق و فجور بدکاری بد امنی کو دور کرنے آئے ہیں اگرچہ ہندوستان کی مہم در پیش ہے مگر اس مہم کی وجہ سے کونٹ جولین کی مدد سے باز نہیں رہ سکتے
وہ مظلوم ہیں اور مظلوم کی حمایت کرنا مسلمان کا اولین فرض ہے
ہم اس مہم کا کلی اختیار تم کو دیتے ہیں تم نہایت ہوشیاری سے اسے شروع کرو
یہاں تجربہ کار لوگوں کو اندلس بھیجو اور کسی ایسے افسر کا انتخاب کرو جو اس مہم کے لیے مناسب اور موزوں ہو
اول اول زیادہ لشکر بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے
تھوڑا سا لشکر بھیجو ضرورت لاحق ہو تو کچھ اور لشکر بھیج دینا
فقط والسلام و رحمۃ اللہ.
اس شاہی مراسلہ کو پڑھ کر اتنی مسرت موسی کو نہ ہوئی ہو گی جتنی یہ سن کر کونٹ جولین اور راہب کو ہوئی-”

راہب نے کہا کہیے اب تو دربار خلافت سے بھی اجازت مل گئی ہے اب کیا ارادہ ہے آپ کا؟ ”
موسی: مجھے صرف اسی کا انتظار تھا خلیفہ نے میری عرض داشت منظور کر لی ہے اب کوئی رکاوٹ نہیں ہے پرسوں جمعہ کی نماز کے بعد ان شاءالله لشکر روانہ ہو جائے گا-” جاری ہے……

فاتح اندلس 🐎🐎 طارق بن زیاد …. قسط_نمبر_1

طارق بن زیاد بَربَر نسل سے تعلق رکھنے والے مسلم سپہ سالار اور بَنو اُمیّہ کے جرنیل تھے
جنہوں نے 711ء میں ہسپانیہ (اسپین) میں عیسائی حکومت کا خاتمہ کرکے یورپ میں مسلم اقتدار کا آغاز کیا انہیں اسپین کی تاریخ کے اہم ترین عسکری رہنماؤں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے
شروع میں وہ اُموی صوبے کے گورنر موسیٰ بن نصیر کے نائب تھے ،جنہوں نے ہسپانیہ میں وزیگوتھ بادشاہ کے مظالم سے تنگ عوام کے مطالبے پر طارق کو ہسپانیہ پر چڑھائی کا حکم دیا
طارق بن زیاد نے مختصر فوج کے ساتھ یورپ کے عظیم علاقے اسپین کو فتح کیا اور یہاں دینِ اسلام کاعَلم بلند کیا اسپین کی فتح اور یہاں پراسلامی حکومت کا قیام ایک ایسا تاریخی واقعہ ہے
جس نے یورپ کو سیاسی، معاشی اور ثقافتی پسماندگی سے نکال کر ایک نئی بصیرت عطا کی اور اس پر ناقابل فراموش اثرات مرتب کیے تھے طارق بن زیاد کی تعلیم و تربیت موسیٰ بن نصیر کے زیر نگرانی ہوئی تھی
جو ایک ماہرِ حرب اور عظیم سپہ سالار تھے
اسی لیے طارق بن زیاد نے فن سپہ گری میں جلدہی شہرت حاصل کرلی
ہرطرف اُن کی بہادری اور عسکری چالوں کے چرچے ہونے لگے
طار ق بن زیاد بن عبداللہ نہ صرف دُنیاکے بہترین سپہ سالاروں میں سے ایک تھے بل کہ وہ متّقی، فرض شناس اور بلندہمت انسان بھی تھے
اُن کے حُسنِ اَخلاق کی وجہ سے عوام اور سپاہی انہیں احترام کی نظر سے دیکھتے تھے
افریقا کی اسلامی سلطنت کو اندلس کی بحری قوّت سے خطرہ لاحق تھا
جب کہ اندلس کے عوام کا مطالبہ بھی تھا
اسی لیے گورنر موسیٰ بن نصیر نے دشمن کی طاقت اور دفاعی استحکام کا جائزہ لے کر طارق بن زیاد کی کمان میں سات ہزار (بعض مؤرخین کے نزدیک بارہ ہزار) فوج دے کر اُنہیں ہسپانیہ کی فتح کے لیے روانہ کیا
30 اپریل 711ء کواسلامی لشکر ہسپانیہ کے ساحل پر اُترا اور ایک پہاڑ کے نزدیک اپنے قدم جمالیے ،جو بعد میں طارق بن زیاد کے نام سے جبل الطارق کہلایا
طارق بن زیاد نے جنگ کے لیے محفوظ جگہ منتخب کی
اس موقع پر اپنی فوج سے نہایت ولولہ انگیز خطاب کیا اورکہا کہ ہمارے سامنے دشمن اورپیچھے سمندر ہے
جنگ سے قبل اُنہوں نے اپنے تمام بحری جہازوں کو جلا دینے کا حکم دیا تاکہ دشمن کی کثیر تعداد کے باعث اسلامی لشکر بددِل ہو کر اگر پسپائی کا خیال لائے تو واپسی کا راستہ نہ ہو
اسی صورت میں اسلامی فوج کے پاس صرف ایک ہی راستہ باقی تھا کہ یا تو دشمن کو شکست دے دیں یا اپنی جان جانِ آفرین کے سپرد کردیں

یہ ایک ایسی زبردست جنگی چال تھی کہ جس نے اپنی اہمیت کی داد آنے والے عظیم سپہ سالاروں سے بھی پائی
7 ہزار کے مختصراسلامی لشکر نے پیش قدمی کی اور عیسائی حاکم کے ایک لاکھ کے لشکر کاسامناکیا،گھمسان کا رَن پڑا، آخر کار دشمن فوج کو شکست ہوئی اورشہنشاہ راڈرک ماراگیا
بعض روایتوں کے مطابق وہ بھاگ نکلاتھا ،جس کے انجام کا پتا نہ چل سکا
اس اعتبار سے یہ جنگ فیصلہ کن تھی کہ اس کے بعد ہسپانیوی فوج کبھی متحد ہو کر نہ لڑ سکی
فتح کے بعد طارق بن زیادنے بغیر کسی مزاحمت کے دارالحکومت طلیطلہ پر قبضہ کرلیا
طارق بن زیاد کو ہسپانیہ کا گورنر بنادیا گیا۔ طارق بن زیاد کی کام یابی کی خبر سُن کر موسیٰ بن نصیر نے حکومت اپنے بیٹے عبداللہ کے سپرد کی اورخود طارق بن زیاد سے آملے
دونوں نے مل کر مزیدکئی علاقے فتح کیے
اسی دوران خلیفہ ولید بن عبدالملک نے اپنے قاصد بھیج کر دونوں کو دمشق بلوالیا اور یوں طارق بن زیادہ کی عسکری زندگی کا اختتام ہوا جب کہ اسلامی دُنیا کے اس عظیم فاتح نے 720ء وفات پائی
زیر نظر کتابچہ ’’ طارق بن زیاد ‘‘ فاتح اندلس طارق بن زیادہی کے متعلق ہے
جو کہ اپنےموضوع میں ہر لحاظ سے مکمل اور معلوماتی ہے

سورج کی کرنیں دن بھر سفر کرنے کے بعد تھک کر سمٹنے لگی تھی اور شام کے سائے اپنے پر پھیلانے لگے تھے
شمعیں جلنے لگی تھی اور پرندے دن بھر اڑنے اور دانہ چگنے کے بعد اپنے اپنے مسکن کی طرف لوٹ رہے تھے ۔
شام کے اس سائے میں دو سائے طنجہ شہر کی طرف بڑھ رہے تھے ان کے قدم کبھی تیزی اور کبھی آہستہ آہستہ آٹھ رہے تھے ۔
شکل سے یہ دونوں راہب لگتے تھے چلتے چلتے یہ لوگ طنجہ شہر جانے والے راستے پر پہنچ گے وہاں ان کی ملاقات چوکی پر موجود سپاہیوں سے ہوئی
ان دونوں نے سپاہیوں کو سلام کیا
اور کہا کہ وہ والیے طنجہ طارق بن زیاد سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں
سپاہیوں نے ملاقات کی وجہ پوچھی جو ان راہبوں نے بتا دی
ان میں سے ایک سپاہی ان لوگوں کے ساتھ ہو لیا اور وہ شہر کی طرف روانہ ہوگئے

مغرب کا وقت تھا جب یہ لوگ شہر پہنچ گے اور شہر کی جامع مسجد کے باہر جا کر کھڑے ہو گے
تھوڑی دیر کے بعد مسجد سے طارق بن زیاد اور ظریف بن مالک نماز پڑھ کر باہر نکلے تو دیکھا کے ایک سپاہی کے ساتھ دو راہب کھڑے ہیں
انہوں نے سلام کیا تو سپاہی نے کہا کہ یہ دونوں راہب آپ سے ملنا چاہتے تھےتو میں ان کو اپنے ساتھ یہاں لے آیا ہوں

طارق بن زیاد نے راہبوں کو ملاقات کی وجہ پوچھی تو ان میں سے ایک راہب جس کا نام کونٹجولین تھا نے کہا کہ
ہم الویرا کے علاقہ سے آئے ہیں اور وہ علاقہ آپ کی عملداری میں آتا ہے
ہمارے چرچ کی راہبہ جس کا نام لوسیہ ہے کو ہسپانیہ ایک شخص اٹھا کر لے گیا ہے اور وہ طاقتور خاندان سے تعلق رکھتا ہے ہم شکایت لے کر وہاں کے حاکم کے پاس گئے
مگر اس نے ہماری فریاد نہیں سنی اس کے بعد ہم آپ کے پاس آئے ہیں
طارق نے کہا اب اپ لوگ کیا چاہتے ہو تو راہب نے کہا کہ ہماری راہبہ کو ہمیں واپس دلوایا جائے…
سلسلہ جاری ہے…