آرمی چیف کو سعودی عرب کے اعلیٰ ترین اعزاز سے نواز دیا گیا

جدہ: چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کو سعودی عرب کے اعلیٰ ترین اعزاز شاہ عبد العزیز میڈل سے نوازا گیا ہے۔

سعودہ ولی عہد و نائب وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز نے جدہ میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا استقبال کیا۔

اس دوران، انہوں نے مشترکہ دلچسپی کے متعدد امور کے علاوہ دوطرفہ تعلقات، خاص طور پر عسکری شعبوں میں اور انہیں فروغ دینے کے مواقع کا جائزہ لیا۔

نمائندہ خصوصی وزیر اعظم پاکستان برائے بین المذاہب ہم آہنگی و مشرق وسطیٰ اور چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ ہم سعودی عرب کی قیادت خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز اور ولی عہد امیر محمد بن سلمان اور سعودی عرب کی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

چیئرمین پاکستان علماء کونسل نے کہا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے لیے سعودی عرب کا اعلیٰ ترین اعزاز شاہ عبد العزیز میڈل پوری قوم اور وطن کے لیے اعزاز ہے، سپہ سالار قوم جنرل قمر جاوید باجوہ، افواج پاکستان اور پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

65 سال سے زائد عمر کے افراد کےحج پر پابندی عائد

ریاض: سعودی عرب نے 65 سال سے زائد عمر کے افراد کے حج کرنے پرپابندی عائد کردی۔

سعودی عرب کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے پاکستان سمیت دنیا بھر کے حج 2022 کے عازمین کے لئے نئی سفری ہدایات جاری کردی گئیں۔

ہدایت نامے کے مطابق 65 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کوحج کے لئے آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ عازمین حج کے لئے سعودی وزارت صحت کی منظو کردہ کورونا ویکیسین لگوانا اورسعودی عرب آمد سے 48 گھنٹے قبل منفی کورونا ٹیسٹ رپورٹ دکھانا لازمی ہوگا۔ہدایات پر عمل نہ کرنے والے مسافروں کو سعودی عرب میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔

سعودی ایوی ایشن کے مطابق تمام ائیرلائنز کو ہدایت نامے پرسختی سے عمل درآمد کرانے کا کہا گیا ہے اورخلاف ورزی کی صورت میں ائیرلائنز پرجرمانے بھی کئے جائیں گے۔

سعودی اتحادی افواج کا یمنی جیل پر حملہ، 70 افراد جاں بحق

صنعا: خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اتحادی افواج نے یمنی شہر صعدہ میں قائم حراستی مرکز پر حملہ کیا جس کے باعث ستر افراد جاں بحق جبکہ کئی زخمی ہوئے۔ سعودی فوجی اتحاد کا کہنا ہے کہ ہم نے یمن کے حوثی باغیوں اور ان کی نقل وحرکت کو نشانہ بنایا۔

صعدہ میں یہ فضائی کارروائی حوثی باغیوں کی جانب سے اماراتی اور سعودی شہروں پر ڈرون حملوں کے بعد سامنے آئی۔خبر رساں ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ حملے کے بعد حوثی باغیوں نے متاثرہ جیل کی تصویر شایع کیں جن میں ریسکیو عملے کے اہلکار ملبے سے لاشیں اور زخمیوں کو نکالتے ہوئے دیکھے گئے۔

وزیر صحت نے تصدیق کی کہ اتحادی افواج کی فضائی حملے میں 70 افراد ہلاک ہوئے جبکہ کئی زخمیوں کی حالت نازک ہے جس کے باعث خدشہ ہے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے حملے میں زخمیوں کی تعداد 138 کے قریب بتائی۔

دوسری جانب اقوام متحدہ(یو این) کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اتحادی افواج کی فضائی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں حوثی باغیوں نے متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی میں پٹرولیم ٹینکرز پر ڈرون راکٹ داغا تھا جس میں پاکستانی سمیت 3 افراد جاں بحق اور چھے زخمی ہوئے تھے۔

سعودی عرب عالمی امن کے لئے کردارادا کرتا رہے گا،شاہ سلمان

ریاض: سال کے اختتام پرکی جانے والی تقریر میں سعودی عرب کے شاہ سلمان کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت کی خطے کے استحکام اورامن کو نقصان پہنچانے والی پالیسی پرگہری تشویش ہے۔ایران کی حوثی باغیوں کی حمایت کی وجہ سے یمن جنگ کا شکار ہے۔

شاہ سلمان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اپنے نیوکلئیرپروگرام کے حوالے سے عالمی برادری سے تعاون نہیں کررہا۔ایران سعودی عرب کا پڑوسی ہے۔ توقع ہے کہ وہ خطے میں اپنے منفی رویے اورپالیسی کوتبدیل کرتے ہوئے مذاکرات اورتعاون کی طرف آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب عالمی امن کے لئے مرکزی کردار ادا کرتا رہے گا۔

خانہ کعبہ میں عام نمازیوں کو بھی طواف کی اجازت

ریاض: سعودی عرب میڈیا کے مطابق دو مقدس مساجد کی جنرل پریذیڈنسی کے ترجمان ہانی حیدر نے بتایا کہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے غیر عمرہ نمازیوں کو مسجد حرام کی پہلی منزل پر خانہ کعبہ کا طواف کرنے کی اجازت دیینے کا حکم دیا ہے۔

خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کی جنرل پریذیڈنسی کے ترجمان نے مزید بتایا کہ عمرہ نہ کرنے والے بھی روزانہ تین مقررہ اوقات میں طواف کرسکتے ہیں تاہم عام نمازیوں کو بھی معتمرین کی طرح طواف کے لیے خصوصی پرمٹ لینا لازمی ہوگا۔

قبل ازیں صرف معتمرین کو ہی طواف کی اجازت دی گئی تھی۔ وبا میں بتدریج کمی کے باعث خانہ کعبہ اور مسجد نبوی میں کورونا پابندیاں نرم کی جا رہی ہیں۔سماجی فاصلے کی شرط ختم اور نمازیوں کی تعداد میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ خانہ کعبہ اور مسجد نبوی میں کورونا پابندیوں کی نرمی کا فائدہ صرف وہی لوگ لگا سکتے ہیں جنھوں نے کورونا کے ٹیکوں کو کورس مکمل کرلیا ہو۔

سعودی عرب نے سیاحوں کے لیے فضائی آپریشن کا آغاز کردیا

ریاض: عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب نے کورونا ایس او پیز میں نرمی کرتے ہوئے چین کی تیار کردہ کووڈ-19 ویکسینز سائنوفارم یا سائنو ویک لگوانے والے مسافروں کو بھی ملک میں داخل ہونے کی اجازت دیدی تاہم یہ اجازت مشروط ہوگی۔

سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسے مسافروں کے لیے لازمی ہو گا کہ وہ سائنو فارم یا سائنو ویک ویکسین کے دونوں ٹیکے لگوانے کے باوجود سعودیہ آنے سے قبل فائزر، ایسٹرا زینیکا، میڈورنا یا جانسن اینڈ جانسن کی کورونا ویکسین کا بوسٹر ڈوز لگوائیں۔

سعودی عرب کی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے اب تک صرف فائزر، ایسٹرا زینیکا، میڈورنا اور جانسن اینڈ جانسن کی کورونا ویکسین کی منظوری دی ہے اور تاحال چین کی تیار کردہ ویکسین میں سے کسی بھی ایک کو منظور نہیں کیا گیا ہے اس لیے چینی ویکسین لگوانے والوں کے ملک میں داخلے پر پابندی تھی۔

سعودی عرب نے بوسٹر ڈوز کے ساتھ ملک میں داخل ہونے کی اجازت اس وقت دی ہے جب ویکسین کا کورس مکمل کرنے والے غیر ملکی سیاحوں کے لیے فضائی آپریشن کا آغاز کردیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ طبی تحقیق سے بھی ثابت ہوا ہے کہ چین کی ویکسین لگوانے کے بعد اگر فائزر، میڈورنا یا ایسٹرا زینیکا کا ایک ٹیکہ اضافی بھی لگوالیا جائے تو اس سے جسم میں کورونا کے خلاف مدافعت میں اضافہ ہوجاتا ہے اور اس کے کوئی مضر اثرات بھی نہیں۔

حج کے دوران 78 کیٹرنگ کمپنیاں حجاج کو 12 لاکھ کھانے فراہم کریں گی

اس سال کے حج سیزن کے دوران 78 کمپنیاں اور کیٹرنگ کے میدان میں خدمات انجام دینے والے ادارے مقدس مقامات پر حجاج کو کھانے فراہم کرنے کے لیے مقابلہ کر رہی ہیں۔ حج وعمرہ اور زیارت کے لیے قومی کمیٹی کے ممبر “محمد السمیح” نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ رواں سال حج کے موقعے پر درجنوں کیٹرنگ کمپنیاں حجاج کرام کو کھانا فراہم کریں گے۔ حج کے دوران حجاج کرام کو کھانے کے 12 لاکھ پیکٹ فراہم کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کمپنیاں حجاج کو ایک دن میں تین وقت کے کھانے مہیا کریں گی۔ مقدس مقامات میں حج سیزن میں فرہم کردہ کھانوں کی تعداد کا تخمینہ لگ بھگ ایک ملین اور دو لاکھ کھانوں کا لگایا گیا ہے۔ یہ کھانے تیار شدہ ہوں گے اور وہ جنرل فوڈ اتھارٹی اور مقدسہ دارالحکومت کے سیکریٹریٹ کی ضروریات اور معیار کے مطابق ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کھانے پینے کے ہالوں میں جمع ہونے کی ضرورت کے بغیر ہر حاجی کو اپنے کمرے یا خیمے میں کیٹرنگ کی خدمات فراہم کی جائیں گی۔ ہیلتھ پروٹوکول کے اطلاق اور احتیاطی تدابیر کے درمیان حاجیوں کی خدمت میں حصہ لینے کے تمام شعبوں کی جانب سے بھرپور کوششیں کی جارہی ہیں۔ تاکہ حجاج کرام محفوظ اور صحتمند زیارت سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ۔ وہ اپنے مناسک آسانی اور سہولت کے ساتھ انجام دے سکیں۔

سعودی عرب:ام جرسان غارمیں 7 ہزار سال پرانی ایک نئی دریافت

سعودی عرب کی ہیریٹیج اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ ماہرین آثار قدیمہ اور فوسلز اتھارٹی نے سعودی جیولوجیکل سروے اتھارٹی ،شاہ سعود یونیورسٹی ، اور جرمنی کے میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ کے تعاون سے مدینہ منورہ کے علاقے خیبر میں واقع ام جرسان غار میں ایک نئی دریافت کی ہے جس کے بارے میں بین الاقوامی آثار قدیمہ جریدے ’ Archaeological and Anthropological Sciences‘ میں عن قریب ایک تفصیلی مضمون شائع کیا جائے گا۔


ام جرسان غار کے اندر نشانات اور جیواشم کی باقیات پائی گئیں۔ جب ان کا ریڈیو کاربن ٹیکنالوجی کے ذریعے تجزیہ کیا گیا تو یہ 7000 سال سے زیادہ قدیم بتائی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ اس جنگلی اور پالتو جانوروں گھوڑے اور گدھے سمیت دسیوں جانوروں کی ہڈیاں پائی گئی ہیں۔ وہاں سے ملنے والی ہڈیوں میں اونٹ، بکرے اور گائے کی ہڈیاں وقت گزرنے کے باوجود اچھی حالت میں موجود ہیں۔ یہاں قریبی قبرستان سے انسانی کھوپڑیاں بھی ملی ہیں جن کے بارے میں خیال ہے کہ یہ زمانہ قبل از تاریخ کی ہیں۔

تحقیقی ٹیم ڈی این اے کے لیے ہڈیوں کا معائنہ کرنے کے ساتھ جزیرہ نما عرب میں جانوروں کی تاریخ اور ان کی پرورش کی تاریخ کا مطالعہ کیا جا رہا ہے۔

سعودی عرب کے ہیری ٹیج کمیشن کے ذریعے سامنے آنے والی ان دریافتوں سے ظاہرہوتا ہے کہ جزیرۃ العرب کا خطہ ہزاروں سال سے انسانی اور حیوانی زندگی کا مسکن رہ چکا ہے۔ ہزاروں سال پہلے بھی یہاں پر لوگ پالتو جانور رکھتے اور ان سے کام لیتے تھے۔

امریکا کا سعودی عرب میں جی 20 اجلاس کے بائیکاٹ کا مطالبہ

واشنگٹن: امریکی قانون سازوں نے ٹرمپ انتظامیہ سے سعودی عرب میں ہونے والے جی 20 سربراہی اجلاس کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا ہے۔

جی ٹوئنٹی ممالک کا سربراہی اجلاس رواں سال سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ہوگا، کورونا وبا کے باعث 21 اور 22 نومبر کو ہونے والا یہ اجلاس ورچول ہوگا جس کی صدارت سعودی فرمانروا شاہ سلمان کریں گے، اجلاس میں صحت سمیت درجنوں موضوعات پر بحث کی جائے گی۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکا کے 45 قانون سازوں نے سعودی عرب میں ہونے والے اس اجلاس کے بائیکاٹ کا مشورہ دیا ہے اس حوالے سے کانگریس سے تعلق رکھنے والے اراکین نے امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو کو ایک خط لکھا جس میں کہا گیا کہ سعودی عرب جب تک انسانی حقوق کے بنیادی مسائل حل نہیں کرلیتا تب تک اس اجلاس کا بائیکاٹ کیا جائے۔

امریکی کانگریس اراکین کی جانب سے لکھے گئے خط میں مطالبہ کیا گیا کہ سعودی عرب نہ صرف اپنے پڑوسی ملک یمن میں خانہ جنگی بند کرے بلکہ 2018 میں قتل کیے گئے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا بھی حساب دے اور جیل میں ڈالے گئے سماجی کارکنوں کو رہا کرے۔

اس سے قبل یورپی پارلیمنٹ کے 65 ارکان نے یورپی سربراہان مملکت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ سعودی عرب کی میزبانی میں ہونے والے جی ٹوئنٹی اجلاس کا بائیکاٹ کریں کیوں کہ سعودی عرب مسلسل انسانی حقوق کی خلاف ورزی کررہا ہے اور ایسے کسی بھی ملک کو اس اجلاس کی میزبانی کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔

واضح رہے اس اجلاس کی میزبانی سعودی عرب کے لیے انتہائی اہم قرار دی جارہی ہے اور اسے عرب ملک کی سفارتی کامیابی بھی کہا جارہا ہے لیکن اگلے ماہ ہونے والے جی ٹوئنٹی سربراہی اجلاس کی میزبانی اگر سعودی عرب سے واپس لی گئی یا اس کا بائیکاٹ کیا گیا تو اس سے سعودی عرب کو کافی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

امریکا کا سعودی عرب پر اسرائیل کو تسلیم کرنے پر زور

واشنگٹن: امریکی وزیر خاجہ مائیک پومپیو نے سعودی عرب پر اسرائیل کو تسلیم کرنے پر زور دیا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق واشنگٹن میں سعودی وزیرخارجہ فیصل بن فرحان سے ملاقات کے موقع پر مائیک پومپیوکا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات اور بحرین کے اسرائیل سے ہونے والے معاہدوں نے خطے میں امن اور سلامتی کے لیے ہمارے مشترکہ مقاصد کے حصول میں اہم کردار اداکیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ کاکہنا تھا کہ یہ پیشرفت خطے کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کی عکاس ہے جس میں ان ممالک نے خطے میں ایرانی اثرورسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے علاقائی تعاون کی اہمیت کو سمجھا ہے۔ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ہونے والے معاہدے کی کامیابی میں مدد فراہم کرنے پر سعودی عرب کے شکرگزار ہیں اور ہمیں امید ہے کہ سعودی عرب بھی اسرائیل سے تعلقات کی بحالی پر غور کرے گا۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 3 نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات کی مہم میں عرب ممالک کے اسرائیل سے تعلقات بحال کرانے کو اپنی اہم کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ گذشتہ ماہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ انہیں امید ہےکہ سعودی عرب بھی صحیح وقت پر اسرائیل کو تسلیم کرلے گا۔

مائیک پومپیو کا مزید کہنا تھاکہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ اسلحے کے فروخت کے مضبوط معاہدے کا حامی ہے تاکہ سعودی شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور امریکیوں کے لیے بھی نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں۔

خیال رہے کہ اگست میں متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان باہمی تعلقات قائم کرنے کیلئے امن معاہدہ طے پایا تھا جس کے بعد 15 ستمبر کو دونوں ممالک نے سفارتی تعلقات قائم کرنے کا معاہدہ کیا تھا، اس کے بعد بحرین کی جانب سے بھی اسرائیل سے تعلقات بحال کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

اس پیشرفت پر سعودی وزیرخارجہ فیصل بن فرحان السعود نے اپنے ردعمل میں کہاتھا کہ اسرائیل کی یہودی آبادکاریوں کی یک طرفہ کارروائیاں امن کی راہ میں رکاوٹ ہیں، سعودی عرب امن کی بنیاد پر ہونے والے عرب امن منصوبے کے معاہدے کاپابند ہے اور فلسطینیوں سے امن معاہدہ ہونے تک اسرائیل سے سفارتی تعلقات کا کوئی راستہ نہیں ہوسکتا۔