روسی فوج کی کارروائی، 70 مسلح افراد ہلاک

ماسکو: روس نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین کی سرحد سے روس میں داخل ہونے والے 70 سے زائد حملہ آور فوجی کارروائی میں مارے جاچکے ہیں۔

عالمی میڈیا نے روسی حکام کے حوالے سے بتایا کہ یوکرین سے مسلح افراد روسی سرحد کے قریب بیلگوروڈ خطے میں داخل ہوئے اور تقریباً 24 گھنٹے تک روسی افواج سے لڑے۔

روسی حکام نے بتایا کہ منگل کے روز جیٹ طیارے اور توپ خانے تعینات کیے گئے تاکہ ان مسلح گروہوں کو تباہ کیا جا سکے جو روس کے سرحدی علاقے میں داخل ہوئے۔

حکام نے یہ بھی بتایا کہ لڑائی کے دوران روسی سرحد پر موجود 9 دیہاتوں کو خالی کرالیا گیا تھا۔ مجموعی طور پر 70 سے زائد عسکریت پسند ہلاک، 4 بکتر بند گاڑیاں اور 5 پک اَپ تباہ ہوئے جس کے بعد دشمن پسپا ہونے پر مجبور ہوگئے۔

پاکستان اور روس کےدرمیان براہ راست کارگو سروس کا آغاز

کراچی: پاکستان اور روس کے درمیان براہ راست کارگو سروس شروع ہونے سے تجاتی تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہوگئے، پہلا روسی کارگو بحری جہاز سینٹ پیٹرز برگ کی بندرگاہ سے 450کنٹینرز کے ساتھ براہ راست 25 مئی کو کراچی پورٹ پہنچے گا۔

روس کے ساتھ سمندری راستے سے براہ راست کارگو سروس کا آغاز ہونے سے پاکستان اور روس کے درمیان باہمی تجارت کا حجم 2.5ارب ڈالر تک وسیع ہونے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔

پاک شاہین پرائیویٹ لمیٹڈ کے سی ای او عبداللہ فرخ نے بتایا کہ روس کی بندر گاہ سینٹ پیٹرز برگ سے پہلا روسی کارگو جہاز 450کنٹینرلے کر براہ راست 25 مئی کو کراچی پورٹ پہنچے گا۔ اس طرح سے پاکستان کے برآمدات کنندگان کے لیے روس سے سمندری تجارت کی بڑی سہولت کا آغاز ہوجائے گا۔

براہ راست سمندری سروس شروع ہونے سے روس سے کارگو صرف 18 دن میں پاکستان کی بندر گاہ پہنچ جائے گا۔ اس سے قبل روس سے آنے والے جہاز کو ایک مہینہ لگ جاتا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ روس سے دوسرا جہاز 29 مئی کو کراچی پورٹ پہنچے گا۔ عبداللہ فرخ کے مطابق پاکستان روس کو 150 ملین کی ایکسپورٹ جبکہ 300 ملین کی امپورٹ کرتا ہے جبکہ دونوں ممالک کی باہمی تجارت کا حجم 2.50ارب ڈالر تک بڑھنے کی گنجائش موجود ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان روس کے ساتھ سمندری خوراک اور دیگر سیکٹر میں بھی تجارت بڑھا سکتا ہے۔ خطے میں ٹرانس شپمنٹ تجارت کے تحت اس سروس سے پاکستان کو زرمبادلہ کا فائدہ ہوسکتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر مہینے میں ایک اور کاروباری حجم بڑھتے ہی ماہانہ 3 بحری جہاز براہ راست روس سے پاکستان آئیں گے۔ روس کے ساتھ تجارت بڑھنے سے مزید تجارتی کمپنیاں بھی پاکستان آئیں گی۔

عبداللہ فرخ نے بتایا کہ روس سے سمندری راستے سے خطے کے دیگر ممالک بھارت ، چین اور افریقی ممالک کا ٹرانس شپمنٹ کے تحت کارگو آرہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مستقبل میں چین سمیت دیگر ممالک کے لیے بھی ٹرانس شپمنٹ کا اضافہ ہوگا۔ سروس کے آغاز پر جہاز کا فریٹ زیادہ ہوگا جب تجارت بڑھے گی تو نرخ کم ہوجائیں گے۔

عبداللہ فرخ کا کہنا تھا کہ روس کے ساتھ براہ راست سمندری تجارت سے ڈالر کے علاوہ ادائیگی یوآن سمیت دیگر کرنسیوں میں بھی کی جاسکے گی۔

روس کیساتھ توانائی کے شعبے میں آئندہ ماہ بڑے بریک تھرو کا امکان

اسلام آباد: پاکستان اور روس کے درمیان توانائی کے شعبے میں ہونے والے منصوبوں پر آئندہ ماہ بریک تھرو کا امکان ہے۔

روس سے پیٹرولیم مصنوعات، خام تیل، گیس اورپائپ لائن منصوبے کی راہ ہموار ہوگئی ہے کیونکہ ملکی ریفائنریوں نے روسی خام تیل سے پٹرولیم مصنوعات تیار کرنے پر آمادگی ظاہر کردی۔

اس ضمن میں وزیر مملکت برائے پیٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک نے اسٹریٹجک اجلاس کیلئے تجاویز طلب کرلیں۔ پیٹرولیم کمپنیوں کو اجلاس میں کاغذی کارروائی مکمل کر کے پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

وزیرمملکت کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں روس کیساتھ توانائی معاہدے کے مقاصد، اہداف، مسائل اور مالی فوائد طے کیے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق روس سے بہتر معاہدہ ہونے کی صورت میں پاکستان کو سالانہ 2ارب ڈالر سے زائد بچت ہوسکتی ہے جبکہ روس سے پیٹرولیم مصنوعات خریدنے سے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بھی کم ہوجائے گا۔

بھارت کو امریکہ کی دھمکی

نئی دہلی: عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے ویڈیو لنک کے ذریعے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے روس پر عائد پابندیوں کے حوالے سے گفتگو کی۔

ایک گھنٹے جاری رہنے والی گفتگو میں صدر جوبائیڈن نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے کہا کہ روس سے تیل کی مزید خریداری یوکرین کی جنگ پر امریکی ردعمل میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔

صدر جوبائیڈن نے کہا کہ روس اور چین کے درمیان گہرے تعلقات پر بھارت کے خدشات سے آگاہ ہیں، بھارت کا تیل کی خریداری پر روس پر انحصار کرنے سے بھارت کے دنیا کے ساتھ تعلقات میں فرق پڑ سکتا ہے۔

اس موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی نے بتایا کہ انھوں نے روسی صدر کو یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی تجویز دی تھی جس پر انھوں نے غور کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا۔

گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے یوکرین کے قصبے بُوچا میں روسی افواج کے قتل عام کی مذمت بھی تھی۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی نے میڈیا کو بتایا کہ صدر جوبائیڈن نے وزیر اعظم مودی پر واضح کیا ہے کہ روس سے مزید تیل کی خریداری بھارت کے مفاد میں نہیں ہے۔

دوسری جانب بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے نیوز کانفرنس میں بتایا کہ روس سے ہماری ایک مہینے کی تیل کی خریداری اس سے کم ہے جو یورپ ایک دوپہر میں کرلیتا ہے۔ اس لیے توجہ بھارت پر نہیں بلکہ یورپ پر ہونا چاہیئے۔

واضح رہے کہ روس کے یوکرین پر حملے کے بعد امریکا نے روس پر کئی اقتصادی پابندیاں عائد کی ہیں جن میں تیل کی خریداری بھی شامل ہے تاہم بھارت نے حال ہی میں روس سے تیل خریدا ہے۔

روس اور امریکہ کے درمیان جنگ کا خطرہ ، امریکی فوجی ہائی الرٹ

واشنگٹن:امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے مطابق یوکرین کے معاملہ پرجاری کشیدگی کے باعث 8 ہزار500 امریکی فوجیوں کوہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔

نیٹوکی جانب سے درخواست ملنے پر امریکی فوجیوں کو ریپڈ ری ایکشن فورس کے حصے کے طورپرتعینات کیا جائے گا۔

پینٹاگون کے پریس سیکریٹری کے مطابق امریکی فوجیوں کو روس کی سرگرمیاں دیکھتے ہوئے علاقے میں تعینات کیا جاسکتا ہے تاہم امریکی فوجیوں کو براہ راست یوکرین میں تعینات نہیں کیا جائے گا۔

امریکا نے یوکرین میں روس کی جارحیت کا خدشہ ظاہرکیا ہے۔ روس نے یوکرین میں کسی فوجی کارروائی کی تردید کی ہے تاہم ایک لاکھ روسی فوجی یوکرین کے قریب تعینات ہیں۔

روس کے ساتھ کراچی سے لاہور تک گیس لائن بچھانے کیلیے معاہدہ

اسلام آباد: پاکستان اور روس میں اربوں ڈالر مالیت کی اسٹریم گیس پائپ لائن کی تعمیر کیلیے معاہدہ ہوگیا ہے لہٰذا کراچی سے لاہور تک تقریباً 1100 کلومیٹر گیس پائپ لائن بچھائی جائے گی۔

وزارت پٹرولیم کے مطابق معاہدہ پر سیکریٹری پٹرولیم ڈاکٹر ارشد محمود اور روس کی وزات توانائی کے ڈپٹی ڈائریکٹر الیگزینڈ ٹولپاروف نے دستخط کیے، تقریب میں وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر، وزارت پٹرولیم اور روس کی وزارت توانائی کے نمائندوں نے شرکت کی، یہ منصوبہ 2015 سے تاخیر کا شکار تھا۔

وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے کہا کہ ٹیکنکل تعاون کیلیے دستاویزات کے معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں، منصوبے پر2.5 ارب ڈالرلاگت آئیگی اوریہ 2023 تک مکمل ہو گا۔
حماد اظہر نے مزید کہا کہ پاکستان کے نارتھ سے ساؤتھ کی جانب گیس سٹیم لائن اہم منصوبہ ہے، مقامی کمپنیاں گیس پائپ لائن بچھانے کاکام کریں گی جبکہ منصوبہ کا درآمدی سامان روس سے آئیگا۔

وفاقی وزیر توانائی نے کہا کہ گیس پائپ لائن کے ٹیرف کا تعین اوگرا کریگا، گیس پائپ لائن کی تعمیر سے پاکستان کے شمال سے جنوب کی جانب گیس کی ترسیل ہوگی، معاہدہ سے دونوں ملکوں کے درمیان معاشی اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھے گا۔ روسی وفد کے سربراہ نے کہا کہ شمال سے جنوب گیس پائپ لائن پاکستان کیلیے اہم منصوبہ ہے۔

شام میں روس اور ایران کی مسابقت نے ہر شعبے کو لپیٹ میں لے لیا

اگرچہ اس بات کی بارہا تردید کی جاتی رہی ہے کہ شام میں روس اور ایران کے درمیان کسی بھی قسم کی کوئی مسابقت یا رقابت موجود ہے۔

تاہم شامی سرزمین پر اس مسابقت کو چھپانا ممکن نہیں رہا۔ اس رقابت میں اقتصادی، سیاسی، عسکری، سماجی اور ثقافتی شعبوں سمیت مختلف میدان شامل ہیں۔

جنوری کے اواخر میں فارسی زبان کو شام کے تعلیمی نصاب میں دوسرے اختیاری مضمون کے طور پر شامل کیا گیا تھا۔ اس سے چار سال قبل روسی زبان کو تعلیمی نصاب میں شامل کیا جا چکا ہے۔روس اور ایران کے درمیان دیگر اہم سیکٹروں میں بھی مسابقت جاری ہے۔ ان میں سیاست، معیشت اور زمین پر عسکری نفوذ شامل ہے۔

روسی خارجہ امور کی ماہر اور سیاسی تجزیہ کار موہدان سیگلم کے مطابق ماسکو اور تہران آستانہ مذاکرات کے واسطے سے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ ان دونوں کے اپنے طور پر شامی حکومت کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں۔ تاہم یہ دونوں ممالک بعض فوری حکمت عملیوں کے حوالے سے اختلاف رکھتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے موہدان نے مزید کہا کہ مسابقت کی صورت حال کے باوجود یہ ان دونوں کے تعلقات پر بہت زیادہ اثر انداز نہیں ہو گی۔ بالخصوص جب کہ اختلافی حکمت عملی کا تعلق قصیر المدت اقتصادی مفادات سے ہے۔ اسی واسطے روس اور ایران کے بیچ شام اور اس کے موجودہ صدر کے مستقبل کے حوالے سے اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔

خاتون تجزیہ کار کے مطابق ماسکو اور تہران دونوں ہی اپنے مفادات اور مقاصد کے حصول کے لیے شام میں مقامی جماعتوں کو استعمال کر رہے ہیں۔ بالآخر دونوں ہی فریق ایک دوسرے کو عائتیں پیش کرنے پر مجبور ہوں گے۔

ادھر روسی اکیڈمک اور سیاسی تجزیہ کار اکبال درہ کا کہنا ہے کہ روس اور ایران کے درمیان شام میں مسابقت کا پہلو طویل عرصے سے موجود ہے۔ یہاں تک کہ سابق سوویت یونین کے دور میں بھی ماسکو اور تہران مختلف میدانوں بالخصوص معاشی شعبے میں ایک دوسرے کے حریف رہے ہیں۔ اگرچہ دونوں ہی دمشق اور صدر بشار کے حلیف ہیں تاہم تہران نے زمینی طور پر زیادہ نمایاں عسکری کردار ادا کیا جس کے سبب آج فریقین کے بیچ شدید مسابقت نظر آ رہی ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے اکبال کا کہنا تھا کہ “شام میں اسرائیلی حملوں کے حوالے سے روس کی خاموشی، مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں کے حوالے سے ماسکو کا موقف، تہران کی ہمنوا بعض مسلح جماعتوں کی شام کے صوبے لاذقیہ میں موجودگی کی کوششیں ،،، یہ سب وہ امور ہیں جن سے فریقین کے بیچ اقتصادی، عسکری اور سیاسی وجوہات کی بنا پر مسابقت کی شدت میں اضافہ ہوا۔ البتہ اکبال نے ساتھ ہی واضح کیا کہ ماسکو اور تہران کے درمیان متفقہ امور ان کی موجودہ مسابقت سے زیادہ ہیں۔ مثلا فریقین شام سے امریکا کے زیر قیادت بین الاقوامی اتحاد کے انخلا اور شدت پسند تنظیموں کے خلاف لڑنے پر اتفاق رائے رکھتے ہیں۔
اکبال کے مطابق کردوں کے حوالے سے موقف میں بھی روس اور ایران کا اختلاف نہیں۔ اگرچہ ماسکو کردوں کی خود مختاری یا ثقافتی حقوق کی حصولی کا مخالف نہیں لیکن وہ اور تہران کردوں کو شام مں امریکی وجود کے لیے بنیادی سہارے کے طور پر دیکھتے ہیں۔
روسی تجزیہ کار کے مطابق ایران اور روس شام کے صوبے ادلب کے مستقبل کے حوالے سے مختلف مواقف رکھتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ تہران روس کی انقرہ کے ساتھ توازن کی رعائت پر چراغ پا ہے تاہم ماسکو اپنی سرزمین پر تقریبا 15% مسلمانوں کو بھی سامنے رکھتا ہے۔ یہ ایک اچھا تناسب ہے جس پر ترکی اثر رکھتا ہے۔
ماسکو نے طرطوس کی بندرگاہ میں سرمایہ کاری اور لاذقیہ صوبے میں فوجی اڈہ قائم کرنے کے بعد شام میں ساحلی علاقوں پر بنیادی طور پر توجہ دی۔ ادھر تہران نے شام اور عراق کی سرحد کے نزدیک اپنے وجود پر زور دیا۔ علاوہ ازیں اسرائیل کے ساتھ شامی سرحد کے قریب بھی اپنی موجودگی کو مضبوط بنای

پاکستان اورروس کی مشترکہ فوجی مشقیں شروع

اسلام آباد: پاکستان اور روس کی مشترکہ فوجی مشقیں دروزبہ تربیلا میں شروع ہوگئیں جن میں دونوں ممالک کی اسپیشل فورسز کے دستے شرکت کررہے ہیں.

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کے مطابق دروزبہ فوجی مشقوں کی افتتاحی تقریب تربیلا کے مقام پر منعقد ہوئی، افتتاحی تقریب میں دونوں ملکوں کے قومی ترانے بجائے گئے. پاکستان میں روسی سفیر ڈنئیلا گنیچ نے افتتاحی تقریب میں شرکت کی، جبکہ دونوں ملکوں کی افواج کے اعلیٰ حکام بھی تقریب میں شریک ہوئے۔ دو ہفتوں تک جاری رہنے والی ان مشقوں میں پاکستان اور روس کی اسپیشل فورسز کے دستے حصہ لے رہے ہیں.

مشقوں میں انسداد دہشت گردی کے تجربات کا آپس میں تبادلہ کیا جائےگا، جبکہ اسکائی ڈائیونگ اور یرغمالیوں کی رہائی کے آپریشنز مشقوں کا خصوصی پہلو ہیں۔ دروزبہ کے عنوان سے پہلی مشقیں 2016ء اور تیسری 2018ء میں پاکستان میں منعقد ہوئیں تھیں، جبکہ دوسری اور چوتھی مشقیں 2017ء اور 2019ء میں روس میں منعقد ہوئیں۔

روسی شہری نے نئی مرسڈیز کو آگ لگادی

ماسکو: روسی وی لاگر نے اپنی بالکل نئی مرسڈیز کار کو مکمل طور پر جلاکر راکھ کردیا ہے۔ وہ کمپنی کی بعد ازفروخت سہولیات سے مطمئین نہیں تھے۔

نوجوان وی لاگر میخائل لیٹوِن نے قیمتی کار جلانے کی روداد یوٹیوب پر بھی اپ لوڈ کی ہے جسے اب تک ایک کروڑ سے زائد افراد دیکھ چکے ہیں۔ میخائل نے دسمبر 2019 کو بالکل نئی مرسڈیز اے ایم جی ، جی 63 خریدی تھی جس کے لیے انہوں نے ایک لاکھ سترہزار ڈالر ( دو کروڑ 72 لاکھ روپے) خرچ کئے تھے۔ لیکن وہ اپنی گاڑی سے مطمئین نہیں تھے اور ان کی مایوسی غصے میں بدل چکی تھی۔

میخائل کے بقول انہوں نے یہ کار صرف 15 ہزار کلومیٹر تک چلائی تھی اور اس کےبعد کار خراب ہونے لگی۔ گزشتہ دس ماہ سے وہ مختلف ورکشاپ میں آتی اور جاتی رہی۔ کچھ دنوں بعد بار بار اس کی مرمت سے میخائل لیٹوِن تنگ آچکے تھے اور انہوں نے آخرکار اسے نذرِ آتش کرنے کا فیصلہ کیا اور اسے منظم انداز میں آگ لگادی۔

ذرائع کےمطابق وہ کار خریدنے کے بعد چار مرتبہ مرسڈیز کے ورکشاپ پر گئے لیکن ان کی گاڑی کی تسلی بخش مرمت نہیں ہوسکی۔ پھر چوتھی مرتبہ کمپنی کے مجاز ورکشاپ نے کار ٹھیک کرنے سے انکار کردیا ۔ اس کے بعد وہ میخائل گاڑی لے کر اپنے ایک دوست کے پاس پہنچے جو مرسڈیز کا ماہر کاریگر تھا۔ اس نے بتایا کہ گاڑی میں بعض پرزے اصل نہیں اور کسی اور دکان سے لے کر لگائے گئے ہیں۔

اس پر ان کا غصہ آخری حد کو پہنچا اور انہوں نے اپنی مرسڈیز AMG G63 کو ڈرامائی انداز میں خیرباد کہنے کا فیصلہ کرلیا۔ اسے لے کر وہ ایک سنسان جگہ پر گئے اور ایندھن چھڑک کر کار کو جلاکر بھسم کردیا۔ اس پورے منظر کو انہوں نے ڈرون اور دیگر کیمروں سے فلمبند بھی کیا ہے۔ جلتی ہوئی کار کو دکھاتے ہوئے انہوں نے ڈرامائی روسی میوزک کا استعمال بھی کیا ہے۔

تاہم اس واقعے پر عوام نے ملے جلے ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔ بعض نے اسے درست قدم قرار دیا جبکہ اکثریت نے کہا کہ وہ اپنا نقصان کم کرنے کے لیے اس کار کو فروخت کرسکتے تھے۔ سوشل میڈیا پر بعض نے اسے مشہور ہونے کا ایک حربہ قرار دیا ہے۔

روس کا سرد جنگ میں طے پانے والے جوہری معاہدے سے نکلنے کا باقاعدہ اعلان

ماسکو(این این آئی)روس نے سرد جنگ کے زمانے میں طے پانے والے ایک جوہری معاہدے سے نکلنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ فیصلہ امریکا کی طرف سے آئی این ایف نامی اس معاہدے سے نکلنے کے فیصلے کے بعد سامنے آیا ۔

روسی صدارتی محل کریملن کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہاگیاکہ روسی صدر ولادیمر پوٹن نے روس کے سابق سوویت یونین اور امریکا کے درمیان طے پانے والے معاہدے سے نکلنے کے فیصلے پر باقاعدہ دستخط کر دیے ہیں۔ امریکا نے رواں برس اگست میں اس معاہدے سے الگ ہونا ہے۔

یہ معاہدہ درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے جوہری میزائلوں کی تیاری اور ان کے استعمال پر پابندی سے متعلق تھا۔