طالبان کابل میں داخل

کابل: طالبان جلال آباد اور مزار شریف کو فتح کرنے کے بعد کابل کے مضافات میں داخل ہوگئے جب کہ ترجمان طالبان نے دارالحکومت میں پُرامن طریقے سے داخل ہونے اور عام معافی کا اعلان کیا ہے دوسری جانب صدارتی محل میں اقتدار کی منتقلی اور عبوری حکومت کے قیام پر مذاکرات جاری ہیں جس میں اشرف غنی حکومت چھوڑنے کو تیار ہوگئے ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان کی وزارت داخلہ نے بتایا ہے کہ طالبان کابل میں تمام اطراف سے داخل ہوگئے۔ سائرن بج رہے ہیں اور چاروں طرف سے فائرنگ کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں جب کہ فضا میں ہیلی کاپٹر پرواز کر رہے ہیں۔

طالبان کابل کے داخلی دروازوں پر کھڑے ہیں اور اپنے امیر کے احکامات کے منتظر ہیں۔ افغان فوج کی جانب سے مزاحمت نہیں کی گئی اور کابل حکومت بھی مذاکرات پر آمادہ نظر آتی ہے۔ ملا عبدالغنی برادر سمیت اہم طالبان رہنما کابل پہنچ گئے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق طالبان وفد اقتدار کی پُرامن منتقلی کے لیے افغان صدارتی محل میں داخل ہوگئے جہاں طالبان اور کابل میں صدارتی محل کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ طالبان نے اقتدار کی پُرامن منتقلی پر زور دیا ہے۔

دوسری جانب افغان میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ صدارتی محل میں طالبان اور کابل حکومت کے درمیان مذاکرات میں کابل پر حملہ نہ کرنے اور اقتدار کی پُرامن منتقلی پر اتفاق کرلیا گیا ہے جس کے تحت عبوری حکومت قائم کی جائے گی جس کے سربراہ سابق وزیرداخلہ علی احمد الجلالی ہوں گے۔

اشرف غنی اقتدار چھوڑنے پر رضا مند، علی جلالی نئے سربراہ ہونگے

افغان صدر اشرف غنی کے نائب اورقومی مصالحتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ صدارتی محل میں ہونے والے مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں جب کہ اطلاعات ہیں کہ سابق افغان وزیرداخلہ علی احمد الجلالی کو عبوری حکومت کا سربراہ بنایا جانے کا امکان ہے۔

عالمی میڈیا کے ذرائع کے مطابق طالبان کی خواہش ہے کہ افغان فوج ہتھیار ڈال دے تاکہ خوں ریزی نہ ہو۔ مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی کے بعد داخلی دروازوں پر موجود طالبان جنگجوؤں کو دارالحکومت کے مرکز میں داخل ہونے کا حکم دیا جائے گا۔

طالبان لیڈر ملا برادر

افغانستان میں ترجمان طالبان نے اعلان کیا ہے کہ وہ دارالحکومت کو طاقت کے ذریعے فتح کرنے کا منصوبہ نہیں رکھتے اور نہ ہی کسی سے انتقام لیں گے۔ ہمارے جنگجو کابل کے داخلی دروازوں پر کھڑے ہیں اور پُر امن طریقے سے داخل ہونا چاہتے ہیں۔

دوسری جانب دوحہ میں طالبان کے ترجمان کا بھی یہی کہنا ہے کہ کابل میں داخل ہونے والے جنگجوؤں کو تشدد سے گریز کا حکم دیا گیا ہے جب کہ جو بھی مخالف لڑائی کے بجائے امن پر آمادہ ہو انھیں جانے دیا جائے گا اور خواتین سے محفوظ علاقوں میں جانے کی درخواست کی ہے۔

عینی شاہدین نے عالمی میڈیا کو بتایا کہ دارالحکومت میں طالبان جنگجوؤں کو بہت ہی معمولی مزاحمت کا سامنا رہا ہے۔ کابل یونیورسٹی آج صبح ہی خالی کردی گئی تھی اور تمام طالبات گھروں کو جا چکی ہیں۔ عوام گھروں میں محصور ہوگئے ہیں۔

کابل حکومت نے اس تمام صورت حال پر مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے تاہم صدر اشرف غنی کے چیف آف اسٹاف نے ٹویٹر پر کابل کے لوگوں پر زور دیا ہے کہ براہ کرم فکر نہ کریں۔ کوئی مسئلہ نہیں ہے. کابل کی صورتحال کنٹرول میں ہے تاہم تین افغان حکام نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ جنگجو دارالحکومت کے کالکان ، قرا باغ اور پغمان اضلاع میں موجود ہیں۔

دوسری جانب امریکی حکام نے بتایا کہ سفارت کاروں کو سفارت خانہ سے قلعہ بند وزیر اکبر خان میں واقع ہوائی اڈے پر لے جایا جا رہا یے جب کہ مزید امریکی فوجی انخلاء میں مدد کے لیے بھیجے جا رہے ہیں۔

ادھر برطانوی سفارت کاروں اور برطانوی فوج کے لیے مترجم کا کام انجام دینے والے افغان شہریوں کی منتقلی کا عمل بھی جاری ہے۔ وزیر اعظم بورس جانسن کی ہدایت پر برطانوی فوج ان افراد کو لینے پہنچ گئی ہے۔

واضح رہے کہ طالبان اس سے قبل اہم شہر جلال آباد اور مزار شریف پر قبضہ کر چکے ہیں اور طور خم بارڈر تک کنٹرول حاصل کرچکے ہیں۔ صرف کابل ایسا شہر باقی بچا تھا جہاں طالبان کی عمل داری قائم نہیں ہوسکی تھی۔

طالبان کابل سے50 کلومیٹر دور

کابل: طالبان افغان دارالحکومت سے صرف کابل سے 50 کلومیٹر دور موجود ہیں جب کہ افغان حکومت چند علاقوں تک محدود ہوکر رہ گئی ہے۔

روسی خبررساں ادارے کے مطابق افغان دارالحکومت کابل کی جانب طالبان کی پیشقدمی تیزی سے جاری ہے اور افغان حکومت کے کنٹرول میں بچ جانے والے واحد صوبے سے اب طالبان صرف 50 کلومیٹر دور رہ گئے ہیں، گزشتہ روز طالبان نے ایک اور افغان صوبے لوگر کا بھی کنٹرول سنبھال لیا، صوبائی دارالحکومت پولے عالم اس وقت مکمل طور پر طالبان کے کنٹرول میں ہے جب کہ یہ صوبہ صدر اشرف غنی کے آبائی علاقے کے طور پر جانا جاتا ہے۔

افغان میڈیا کے مطابق گورنر لوگر قیوم عبدل قیوم اور ان کے ساتھ موجود 40 کے قریب سیکیورٹی اہلکار تقریباً 6 گھنٹے تک طالبان سے لڑائی میں مصروف رہے تاہم صوبائی پولیس سربراہ ، این ڈی ایس افسر سمیت دیگر حکام نے طالبان کے آگے سرنڈر کردیا۔

دوسری جانب کابل میں امریکی سفارتی عملے کے انخلاء کی تیاریاں جاری ہیں جب کہ امریکی حکام نے اہلکاروں کو حساس نوعیت کا سامان ضائع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ پینٹاگون کے مطابق 3 ہزار امریکی فوجی کل تک کابل پہنچ جائیں گے۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈپرائس کا کہنا ہے کہ طالبان نے سفارتی عمارتوں کو نشانہ نہ بنانے کی ضمانت دی ہے۔

اس کے علاوہ ناروے اور ڈنمارک نے کابل میں سفارت خانے بند کرنے کا اعلان کیا ہے جب کہ نیدر لینڈز نے بھی سفارتخانہ بند کرنے پر غور شروع کردیا ہے۔

طالبان نے دارالحکومت کا کنٹرول حاصل کرلیا

کابل: طالبان نے سیکیورٹی فورسز سے گھمسان کی جنگ کے بعد افغانستان کے صوبے نمروز کے دارالحکومت زرنج کا کنٹرول حاصل کرلیا اور اب گورنر ہاؤس جنگجوؤں کے قبضے میں ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے نمروز کے نائب گورنر حاجی نبی براہوی نے بتایا کہ ایک گھنٹے سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی جھڑپ کے بعد طالبان نے صوبائی دارالحکومت زرنج پر قبضہ کرلیا جب کہ افغان فوج پسپائی اختیار کرتے ہوئے ضلع دلارام تک محدود ہوگئی۔

نمروز پولیس نے شکوہ کیا ہے کہ جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپ کے لیے فوج نہیں بھیجی گئی اور نہ ہی پولیس کے تازہ دم دستوں سے ہماری مدد کی گئی تاہم نمروز کے نائب گورنر کا دعویٰ ہے کہ صوبائی دارالحکومت سے طالبان کا قبضہ چھڑوالیا جائے گا۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ نمروز میں پولیس نے پسپائی اختیار کی یا ہتھیار ڈالا ہے۔ اس حوالے سے متضاد دعوے سامنے آرہے ہیں۔ 2016 کے بعد طالبان پہلی بار کسی صوبائی دارالحکومت پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

پانچ برس قبل 2016 میں طالبان نے افغان صوبے قندوز کے دارالحکومت کا کنٹرول حاصل کرلیا تھا لیکن جلد ہی اتحادی افواج نے قبضہ واگزار کرالیا تھا تاہم اب طالبان ہلمند، قندھار، ہرات اور جوزجان کے صوبائی دارالحکومتوں کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

افغان صوبے جوزجان کے دارالحکومت شبرغان پر بھی طالبان کے قبضے کی متضاد خبریں ہیں جہاں طالبان نے وار لارڈ عبدالرشید دوستم کے گھر کو آگ لگادی ہے تاہم شبرغان پر طالبان کے قبضے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

طالبان وفد چین پہنچ گیا

تیانجن: عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ملا عبدالغنی برادر کی سربراہی میں 12 رکنی طالبان وفد نے چین کے شہر تیانجن میں وزیر خارجہ وانگ یی سے اہم ملاقات کی اور باہمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔

ملاقات میں دونوں جانب سے ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے اور افغانستان میں قیام امن و ترقی کے لیے تعاون اور مدد کی یقین دہانیاں کرائی گئیں۔

چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے ملاقات کے بعد میڈیا کو بتایا کہ طالبان کو ترکستان اسلامک موومنٹ کے افغان سرزمین استعمال کرتے ہوئے چين کے خلاف سرگرمیاں کرنے کے خدشے سے آگاہ کیا جس پر طالبان نے يقين دہانی کرائی ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔

دوسری جانب افغانستان میں امارات اسلامیہ کے ترجمان محمد نعيم نے ٹوئٹر پر لکھا کہ چین کی دعوت پر طالبان وفد نے پڑوسی ملک کا دورہ کیا اور چینی وزیر خارجہ سے ملاقات کی جس میں سیاست، سیکیورٹی، معیشت اور دو طرفہ باہمی امور کی دلچسپی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

واضح رہے کہ افغانستان سے غیرملکی فوجیوں کے انخلا کا سلسلہ جاری ہے اور اس دوران ہی طالبان نے اہم ملکی سرحدوں اور کاروباری راہداریوں سمیت 95 فیصد علاقے کا کنٹرول افغان سیکیورٹی فورسز سے جھڑپ کے بعد حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

چمن سےمتصل افغان سرحد پر طالبان کا قبضہ

قندھار: افغان طالبان کی جانب سے افغانستان کے بیشترعلاقوں کے بعد چمن سے متصل باب دوستی گیٹ کا کنٹرول بھی سنبھال لیا گیا ہے، جس کے بعد پاکستان کی جانب سے پاک افغان سرحد سیل کردی گئی ہے، اور سیکیورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کردی گئی ہے۔

دوسری جانب طالبان نے افغانستان شہر اسپین بولدک بارڈر پر بھی قبضہ کرلیا ہے، اور بارڈر اور شہر کا کنٹرول سنبھال لیا ہے، گزشتہ رات طالبان نے افغانستان کے سرحدی شہر بولدک ویش بارڈر پر حملہ کیا تھا، طالبان کے حملے کے بعد بولدک شہر سمیت دیہاتوں، سرحدی چوکیوں اور افغان امیگریشن پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔

افغان فورسز کے پیچھے ہٹنے کے بعد درجنوں طالبان پاک افغان سرحد کے گیٹ باب دوستی پر پہنچے اور مرکزی دروازے پر اپنا پرچم لہرا دیا، اس حوالے سے طالبان کی جانب سے ویڈیوز بھی جاری کی گئی ہیں جس میں وہ سرحدی گیٹ سے ملحقہ علاقے میں گشت کرتے ہوئے اور چوکیوں پر پرچم لہراتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے جاری بیان میں بھی اس کی تصدیق کردی گئی ہے، جب کہ ترجمان کا کہنا ہے کہ طالبان نے اس وقت اسپین بولدک مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے، افغان طالبان نے پاکستانی سرحد سے ملحقہ افغان علاقے ویش منڈی پر بھی قبضہ کرلیا ہے۔

طالبان نے امریکی فوج کے 2 ہیلی کاپٹرز کو تباہ کردیا

قندوز: کابل حکومت کی تردید کے جواب میں طالبان نے صوبے قندوز میں امریکا کی جانب سے افغان فضائیہ کو دیئے گئے دو ہیلی کاپٹرز کو تباہ کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر جاری کردی۔

افغانستان میں غیر ملکی فوجیوں کے انخلا کے عمل کا تیزی سے جاری ہے اور اسی دوران طالبان نے پیش قدمی کرتے ہوئے اہم سرحدوں، تجارتی راہداریوں اور سیکیورٹی چیک پوسٹوں کا کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔

طالبان نے صوبے قندوز میں ایک ایئرپورٹ پر حملہ کرکے امریکی فوج کی جانب سے افغان فضائیہ کو فراہم کیئے دو ہیلی کاپٹرز ’’یو ایچ-60 بلیک ہاک‘‘ کو تباہ کردیا تاہم کابل حکومت نے اس حملے کی تردید کی تھی جس پر ترجمان طالبان ذبیح اللہ نے ہیلی کاپٹرز تباہ ہونے کی ویڈیو جاری کردی۔

ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئٹر پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ دشمنوں نے ہیلی کاپٹرز تباہ کرنے کے دعوے کو جھوٹا قرار دیا تھا ایسے لوگوں کے لیے ایئرپورٹ پر تباہی کے مناظر کی ویڈیو حاضر ہے۔

دوسری جانب طالبان ترجمان کی جانب سے افغانستان میں سرگرم طالبان جنگجوؤں کے ترجمان ڈاکٹر نعیم کا بیان بھی شیئر کیا گیا ہے جس میں اُن جھوٹی افواہوں، تصاویر اور ویڈیوز کی تردید کی گئی ہے جس میں طالبان کو حملہ آور بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

ڈاکٹر نعیم کا کہنا تھا کہ ایسی تمام ویڈیوز اور تصاویر کا مقصد ملک میں طالبان سے متعلق خوف و ہراس پھیلانا ہے۔ عوام سے درخواست کرتے ہیں کہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور مطمئن رہیں۔

ایرانی عہدیدار کا افغانستان کے شیعہ ہزارہ قبیلے کو طالبان کےخلاف نہ لڑنے پر زور

ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب کے میڈیا ونگ سمجھے جانے والی “تسنيم” نیوز ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل برائے خارجہ امور حسام رضوی نے ایران کے سارکاری ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹریو میں افغان طالبان کا دفاع کیا ہے۔انہوں نے افغانستان کی ہزارہ شیعہ برادری کو طالبان کے خلاف ہتھیار اٹھانے پر خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہزارہ قبیلہ طالبان کے خلاف لڑائی شروع کرتا ہے اور اس لڑائی میں شیعہ مسلک کے لوگ مارے جاتے ہیں تو اس کا الزام طالبان پر نہیں بلکہ ہزارہ قبیلے پرعائد ہوگا۔

ہفتے کے روزایرانی سپریم لیڈر کے مقرب اخبا ’کیھان‘ میں ’طالبان نے اپنا انداز بدل دیا ہے اور وہ اب قاتل نہیں رہے‘ کے عنوان سے ایک مضمون لکھا گیا ہے۔ اس مضمون میں ایران نے طالبان کی نئے انداز میں ترویج اور حمایت کی ہے۔

سرکاری ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتےہوئے حسام رضوی نے کہا کہ موجودہ وقت میں ذرائع ابلاغ افغانستان کے ہزارہ شیعہ قبائل کے جذبات کو مشتعل کر رہے ہیں۔ ہزارہ قبیلے سے کہاجا رہا ہے کہ وہ طالبان کے خلاف جنگ میں حصہ لیں۔ اکسانے والوں کا الزام ہے کہ طالبان افغانستان کی شیعہ برادری کے قتل عام کا ارادہ رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکی افغانستان میں ایسی صورت حال پیدا کرنا چاہتے ہیں جو حقیقت میں موجود ہی نہیں۔ طالبان نے نہ تو ماضی میں اہل تشیع کا قتل عام کیا اور نہ مستقبل میں ایسا کوئی امکان ہے۔ تاہم اگرافغانستان کے ہزارہ شیعہ امریکی اسلحہ لے کرطالبان کے خلاف لڑائی شروع کرتے ہیں تو اس کے نتیجے میں ہونےوالے نقصان کی ذمہ داری مقامی شیعہ برادری پرعاید ہوگی۔

افغانستان، طالبان کا تاجکستان کے سرحدی علاقوں پر قبضہ

قندوز: طالبان نے تاجکستان کے ساتھ لگنے والی مرکزی سرحدی گزرگاہ پر قبضہ کرلیا۔

میڈیاکے مطابق طالبان نے شیر خان بندر کراسنگ پر قبضہ کرنے کے لیے ایک بڑا حملہ کیا جس کے نتیجے میں سیکیورٹی فورسز کے اہلکار پسپا ہوگئے اور اپنی چوکیاں چھوڑ کر فرار ہوگئے جس کے بعد طالبان نے بارڈر کراسنگ پر قبضہ کرلیا۔ شیر خان بندر کا شمار ملک کی اہم گزرگاہوں میں ہوتا ہے اور طالبان کی یکم مئی سے شروع ہونے والی نئی کارروائیوں میں یہ ایک بڑی کامیابی ہے، جو ایسے وقت حاصل ہوئی جب امریکا بھی اپنا بوریا بستر لپیٹ کر افغانستان سے حتمی انخلا کی تیاریاں کررہا ہے۔

صوبہ قندوز کی صوبائی کونسل کے رکن خالدین حاکمی نے بتایا کہ بدقسمتی سے ایک گھنٹے کی جنگ کے بعد طالبان شیر خان گزرگاہ، اس قصبے اور تاجکستان کے ساتھ لگنے والی تمام چوکیوں پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ ایک افغان فوجی افسر نے بتایا کہ ہمارے کچھ فوجی جان بچانے کے لیے تاجکستان فرار ہوگئے ہیں۔طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے مجاہدین نے قندوز میں تاجکستان کے ساتھ تمام سرحدی گزرگاہوں پر قبضہ کرلیا ہے۔

افغان طالبان کا امریکی حکومت کے بیان سے اختلاف

کابل (زرائع) افغان طالبان نے امریکی حکومت کے اس بیان سے اختلاف کیا کہ دوحہ میں امریکی حکومت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے دوران افغان حکومت کے ساتھ بات چیت اور جنگ بندی کے امور زیر بحث آئے۔

اس حوالے سے جاری بیان میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ ’مذاکرات کے اس دور میں 2 امور زیر غور رہے، جن میں مغربی افواج کا افغانستان سے انخلا اور ملک کو بین الاقوامی عسکریت پسندی کا گڑھ بننے سے روکنا شامل ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادار ‘اے ایف پی’ کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے ان دونوں مسائل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہیں خارجی مسائل قرار دیا۔اپنے بیان میں طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ ’دیگر مسائل جو اندرونی نوعیت کے تھے یا امریکا سے منسلک نہیں تھے، ان کے بارے میں بات چیت نہیں ہوئی۔

واضح رہے کہ دوحہ میں افغان طالبان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حالیہ دور کے بعد امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان رابرٹ پیلینڈینو نے جو بیان دیا تھا وہ اس سے یکسر مختلف تھا۔انہوں نے کہا تھا کہ ’مذاکرات میں جن 4 مسائل پر توجہ رہی وہ ایک دوسرے سے وابستہ اور مستقبل کی حکومت ترتیب دینے سے متعلق ہیں’۔

ان مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے امریکی ترجمان نے بتایا تھا کہ ’دہشت گردی، افواج کا انخلا، بین الافغان مذاکرات اور جنگ بندی شامل ہیں، جن پر بات چیت میں خاصی پیش رفت ہوئی۔

خیال رہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا حالیہ دور اب تک کا سب سے طویل سلسلہ تھا جو 25 فروری کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں شروع ہوا تھا۔