پچاس کروڑ صارفین کا واٹس ایپ ہیک

نیویارک: ہیکرز نے دنیا بھر میں واٹس ایپ کے تقریباً 50 کروڑ صارفین کا ڈیٹا ہیک کرکے بلیک مارکیٹ میں فروخت کے لیے پیش کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ہیکرز نے مبینہ طور پر 84 ممالک سے تعلق رکھنے والے تقریباً 50 کروڑ واٹس ایپ صارفین کے فون نمبرز ہتھیالیے اور اس ڈیٹا بیس کو حال ہی میں ایک ہیکنگ کمیونٹی فورم پر فروخت کے لیے پیش کردیا۔

خیال رہے کہ اس وقت تقریباً 2 ارب لوگ واٹس ایپ کا پلیٹ فارم استعمال کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لیک ہونے والے ڈیٹا بیس میں واٹس ایپ کے ایک چوتھائی صارفین کے فون نمبرز ہیں۔

ہیک ہونے والے نمبروں میں سے 3 کروڑ 20 لاکھ امریکی، ساڑھے 4 کروڑ مصری، 5 کروڑ اٹلی، 2 کروڑ 90 لاکھ سعودی عرب، 1 کروڑ 10 لاکھ برطانوی اور ایک کروڑ فون نمبرز روسی صارفین کے ہیں۔

سائبرنیوز کے مطابق ان نمبرز کو فروخت کرنے والوں نے یہ نہیں بتایا کہ انہوں نے ڈیٹا بیس کیسے حاصل کیا تاہم ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے اپنی حکمت عملی کا استعمال کیا۔

دوسری جانب تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہیکرز نے تکنیکی طور پر واٹس ایپ کو “ہیک” نہیں کیا تھا، لیکن “ویب اسکریپنگ” کے ذریعے ڈیٹا اکٹھا کیا تھا جس میں ویب صفحات کی تصدیق کے لیے ایک خودکار اسکرپٹ چلانا شامل ہے جس کے لیے نمبر واٹس ایپ کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

یہ معلوم کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے کہ آیا آپ کا فون نمبر اس ڈیٹا بیس میں ہے اگرچہ مارک زکربرگ کا کہنا ہے کہ واٹس ایپ اب بھی انتہائی محفوظ ہے، لیکن صارفین واٹس ایپ سیٹنگز میں جاکر ” پیغام آخری بار دیکھا (Last Seen)، ’’آن لائن”، “پروفائل فوٹو”، اور “About” کو”contacts only” میں تبدیل کر کے ہیکنگ سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

مارک زکر برگ نے یہ نہیں بتایا کہ مارکیٹ میں فروخت کے لیے پیش ہونے والا واٹس ایپ صارفین کا ڈیٹا کب ہیک ہوا تھا اور اس کے سدباب کے لیے کمپنی نے کیا اقدامات اُٹھائے ہیں۔

پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے

کراچی: پاکستان بھر سے فلکیات کے شوقین طلبا و طالبات نے بین الاقوامی پروگرام کے تحت 14 نئے ممکنہ سیارچے (ایسٹرائڈز) دریافت کئے ہیں جو سیارہ مریخ اور مشتری کے درمیان موجود مسلسل زیرِ گردش ہیں۔

تمام افراد نے فراہم کردہ ڈیٹا سیٹ اور سافٹ ویئر کی مدد سے 21 اکتوبر تا 15 نومبر تک ممکنہ سیارچوں کی نشاندہی کی

واضح رہے کہ سائنس و فلکیات میں عوامی شمولیت کے تحت ایک پروگرام ہے جس میں ہرسال کئی ممالک شامل ہوتے ہیں تاہم پہلی مرتبہ پاکستان اس مہم میں ’آل پاکستان ایسٹروئڈ سرچ کیمپین‘ (اے پی اے ایس سی) کے نام سے شامل ہوا ہے۔ اس کے تحت یہ دریافتیں ہوئی ہیں جس میں پاکستان کے طول وعرض کے 40 طلبا و طالبات شامل تھے۔

امریکی خلائی ادارے ناسا اور انٹرنیشنل ایسٹرونومیکل سرچ کولیبریشن (آئی اے ایس سی) ہر سال شہریوں کی سائنس میں شمولیت کے تحت یہ پروگرام منعقد کراتی ہے تاکہ فلکیات سے لگاؤ رکھنے والے نوجوانوں کو بامعنی تحقیقی عمل میں شامل کیا جاسکے۔

اس مرتبہ اسلام آباد میں واقع انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس ٹیکنالوجی (آئی ایس ٹی) میں ایئرواسپیس انجینیئرنگ کے طالبعلم محمد رحموز صلاح الدین ایوب نے کوشش کی کہ باقاعدہ طور پر پاکستان میں اس میں شامل ہوسکے اور یوں اے پی اے ایس سی کی بنیاد رکھی گئی جس میں کل 40 افراد شریک ہوئے۔ تمام افراد نے فراہم کردہ ڈیٹا سیٹ اور سافٹ ویئر کی مدد سے 21 اکتوبر تا 15 نومبر تک ممکنہ سیارچوں کی نشاندہی کی۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گھر بیٹھے کیسے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ کوئی سیارچہ ہے بھی یا نہیں؟ ماہرین باقاعدہ اس کی تربیت فراہم کرتے ہیں، جس کےلیے ایسٹرومیٹریکا نامی سافٹ ویئر فراہم کیا جاتا ہے۔ ایسٹرومیٹریکا میں کئی سائنسی پیرامیٹرز ہوتے ہیں جن کی بنا پر طالبعلموں نے اندازہ لگایا کہ آیا کہ یہ سیارچہ ہوسکتا ہے یا نہیں۔ اس طرح نظامِ شمسی کے بہت ہی چھوٹے اجسام یعنی دمدارستارے (کومٹ)، سیارچے، یا بونا سیارے (ڈوارف پلانیٹ) ان کے طبعی (فزیکل) خواص کی بنا پر شناخت کی جاتی ہے اور ان کی درجہ بندی کی جاتی ہے۔ پاکستان کی پہلی مرتبہ شمولیت سے 14 سیارچوں کی دریافت خوش آئند ہے اور امید ہے کہ وہ اپنے تجربے کو مزید وسیع کریں گے۔

دوسری جانب پاکستانی اسکولوں، جامعات اور کالجوں کے طلبا و طالبات کو نئی معلومات، عملی فلکیات اور نئے فنون سیکھنے کو ملے جو ان کی خود اعتمادی کو بڑھا سکتے ہیں۔ اس کا ڈیٹا امریکی جزیرے ہوائی میں واقع مشہور فلکی دوربین سے حاصل کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل محمد رحموز نے 2021 میں بھارتی ٹیم کے ساتھ اپنے تین پاکستانی ساتھیوں کے ساتھ شرکت کی تھی اور کل پانچ سیارچے دریافت کئے تھے جو ایک اہم پیشرفت بھی ہے۔ اس مہم میں محمد رحموز ایوب کے ساتھ، دلآویز صغیر، فریال بتول اور نعمان رؤف پاکستان سے شامل تھے جنہیں ناسا اور آئی اے ایس سی کی جانب سے سند بھی دی گئی تھی جو اوپر کی تصویر میں نمایاں ہیں۔ یہ تمام اسکالر آئی ایس ٹی کی اسپیس سوسائٹی کے فعال رکن ہیں اور پاکستان میں فلکیات پر پہلا جریدہ ’کوسمِک ہیرالڈ‘ بھی جاری کیا ہے۔

ایسٹرومیٹریکا استعمال کرنے کے لیے اردو زبان میں تدریسی ویڈیو بھی بنائی ہے جس میں نعمان رؤف، فریال بتول اور دلآویز صغیر نےنمایاں کردار ادا کیا ہے۔

’ پاکستانی طالبعلموں نے 14 دریافتیں سیارچی پٹی میں کی ہیں۔ اب اسے ایک سال تک ماہرین اس کا جائزہ لیں گے جن میں خلائی اجسام کی حرکت، مدار اور دیگر معاملات کا جائزہ لیا جائے گا اور اگر وہ واقعی حقیقی سیارچہ ہوا تو اس کا درجہ بڑھا کر اسے پروویشنل اسٹیٹس میں شامل کیا جائے گا۔ پھر مزید آٹھ سے دس برس تک اس سیارچے پر تحقیق ہوگی اور اگر وہ تمام معیارات پرپورا اترا تو اسے بین الاقوامی فلکیاتی تنظیم (آئی اے یو) کی مجاز اسمتھ سونین آبزرویٹری کے مائنر پلانیٹ سیںٹر کے کیٹلاگ کا حصہ بنایا جائے گا۔ اس کے بعد دریافت کرنے والے کو یہ حق ہوگا کہ وہ اس سیارچے کو اپنی مرضی کا نام دے سکے گا،‘ محمد رحموز نے ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا۔

اس سے قبل آئی اے ایس سی میں بھارت، پولینڈ اور بنگلہ دیش سمیت دنیا بھر کی ٹیمیں شامل رہی ہیں اور پہلی مرتبہ پاکستان سے شوقیہ فلکیاتی ماہرین کی ایک ٹیم شامل ہوئی ہے جن میں ناصر رضوان کی سربراہی میں اٹک فلکیاتی سوسائٹی اور دیگر انجمنیں شامل ہیں۔ امید ہیں کہ پاکستانی کاوشیں ثمر آور ہوں گی تاہم اس کے لیے مزید ایک سال انتظار کرنا ہوگا۔

ہمارے نظامِ شمسی میں مریخ اور مشتری سیارے کے درمیان لاکھوں کروڑوں چھوٹے بڑے اجسام ایک ساتھ اس طرح گردش کررہے ہیں جس طرح کسی پارک میں بچے گول جھولے میں چکر کاٹتے ہیں۔ ان میں چھوٹے بڑے سیارے اور سیارچے موجود ہیں۔ ان میں سیریس نامی سیارچہ بونا سیارہ ہے جس کا قطر 950 کلو میٹر ہے۔ تاہم ماہرین ہر ایک ممکنہ سیارچے کی چھان پھٹک چاہتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ مختلف سافٹ ویئر سے ان پر تحقیق اور درجہ بندی کی جارہی ہے۔ واضح رہے کہ یہاں پتھریلے چورے کے شکل میں بھی اجسام موجود ہیں جو ذرے کی جسامت رکھتے ہیں۔

ایک خلائی پتھر 76,192 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے زمین کی طرف آرہا ہے، ناسا

ہیوسٹن: اس خلائی پتھر کو 7482 یا ’1994 پی سی1‘ کا تکنیکی نام دیا گیا ہے کیونکہ یہ پہلی بار 1994 میں دریافت کیا گیا تھا۔ 3,451 فٹ قطر والا یہ شہابیہ (پاکستانی وقت کے مطابق) 19 جنوری 2022 کی علی الصبح 3 بج کر 51 منٹ پر زمین سے 19 لاکھ 30 ہزار کلومیٹر دوری پر ہوگا، جو زمین سے اس کا کم ترین فاصلہ بھی ہوگا۔

اتنے فاصلے کی وجہ سے زمین کو اس شہابیے سے کوئی خطرہ بھی نہیں ہوگا۔ اس شہابیے کی رفتار 76,192 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے اور یہ جتنی تیزی سے زمین کے قریب پہنچے گا، اتنی ہی رفتار کے ساتھ زمین سے دور بھی ہوتا چلا جائے گا۔ یہ ایک الگ مدار میں گردش کررہا ہے اور ہماری زمین کے حساب سے ایک سال سات مہینوں میں سورج کے گرد اپنا ایک چکر مکمل کرتا ہے۔

7482 کی براہِ راست نشریات کا اہتمام بھی کر لیا گیا ہے جو ’’انورس‘‘ نامی ویب سائٹ پر دیکھی جاسکیں گی۔ واضح رہے کہ یہ زمین کے ’’قریب‘‘ سے گزرنے والا سب سے بڑا خلائی پتھر نہیں بلکہ یہ اعزاز اب تک ’’ایسٹیرائیڈ 3122 فلورینس‘‘ کے پاس ہے جس کی چوڑائی 8.85 کلومیٹر معلوم کی گئی ہے اور جو ستمبر 2057 میں زمین سے ’’صرف‘‘ چند لاکھ کلومیٹر دُوری سے گزرے گا۔

زمین کی عمر کتنی ہے؟

لاہور: ہمارے ذہنوں میں اکثر یہ سوال آتا ہے کہ زمین کی عمر کتنی ہے اور سائنس دان یہ کیسے معلوم کرتے ہیں کہ زمین کی عمر کتنی ہے؟

سائنسدانوں کے مطابق دنیا دراصل ایک بڑی گھڑی کی طرح ہے اور ہمیں صرف یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ اس گھڑی کو کیسے پڑھنا ہے، زمین کی عمر کا اندازہ کرنے کے لیے ہمیں سوچنا ہوگا کہ دنیا کس چیز سے بنی ہے۔

دنیا اور اس میں موجود ہر چیز درحقیقت ایک بہت چھوٹی چیز سے بنی ہے جسے “عنصر(ایلیمنٹ)” کہتے ہیں۔ یہ ہر چیز کے چھوٹے چھوٹے بلڈنگ بلاکس ہیں۔ آپ نے کچھ عناصر کے نام پہلے بھی سنے ہوں گے مثلاًسونا بھی ایک عنصر ہے اور چاندی بھی۔

کرپٹن اور سیلینیم اور پلوٹونیم جیسے عجیب ناموں کے ساتھ بہت سارے دوسرے عناصر بھی یہاں موجود ہیں۔ ہمارے اب تک کے علم کے مطابق زمین پر تقریباً 118 مختلف عناصر ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر عناصر تبدیل نہیں ہوتے ہیں اور ہمیشہ کے لیے اپنی اصلی حالت میں برقرار رہتے ہیں ۔ سائنسدان ان عناصر کو “مستحکم” عناصر (یعنی اسٹیبل ایلیمنٹس )کہتے ہیں۔

لیکن ایک دوسری قسم کا عنصر بھی ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ حقیقت میں کسی اور چیز میں تبدیل ہوتا ہے۔ یہ اتنے عام نہیں ہیں، لیکن وہ ہر چیز میں ہیں۔ انہیں “غیر مستحکم” یا “تابکار” عناصر کہا جاتا ہے۔

تصور کریں کہ آپ کا کچھ حصہ درحقیقت کسی اور چیز میں تبدیل ہو رہا ہے! لیکن پریشان نہ ہوں، ان میں سے زیادہ تر تبدیلیاں بہت طویل عرصے میں ہوتی ہیں۔ کچھ کوتو واقعی کوئی بھی سنجیدہ تبدیلی کرنے میں اربوں سال لگتے ہیں۔

مثال کے طور پر آپ کے دانتوں میں پوٹاشیم نامی عنصر ہوتا ہے جو ان بدلتے ہوئے عناصر میں سے ایک ہے۔ آپ کے ٹی وی، کمپیوٹر، آپ کے باغ کی مٹی سمیت تقریباً ہر چیز میں ان میں سے کچھ بدلتے ہوئے عناصر ہیں۔ تبدیلی کے اس عمل کو “تابکار ی زوال” کہا جاتا ہے۔

اسی طرح چٹانوں میں بھی یہ غیر مستحکم عناصر ہوتے ہیں اور سائنسدانوں نے اس بات کا اندازہ لگایا ہے کہ ان عناصر میں سے ایک کو دوسرے میں تبدیل ہونے میں کتنا وقت لگتا ہے۔

مثال کے طور پر اگر ہمارے پاس کوئی ایسی چیز ہے جس میں 14C نامی ایک غیر مستحکم عنصر موجود ہے (آسان الفاظ میں “کاربن 14” )، تو ہم یہ جانتے ہیں کہ ہمارے سیمپل میں موجود تمام 14C میں سے آدھے کو دوسرے عنصر 14N (جسے “نائٹروجن 14” کہا جاتا ہے)میں تبدیل ہونے میں تقریباً 5,730 سال لگتے ہیں۔

یہ جاننا کہ یہ عناصر کتنی تیزی سے ایک چیز سے دوسری چیز میں تبدیل ہوتے ہیں ہمیں اس بارے میں بہت بڑا اشارہ دیتے ہیں کہ زمین کی عمر کتنی ہے۔

سائنسدان پہلے یہ پیمائش کرتے ہیں کہ زمین کی چٹانوں میں کتنے غیر مستحکم عناصر باقی ہیں (یہ وہ عناصر ہیں جو ابھی تک دوسرے عنصر میں تبدیل نہیں ہوئے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ بدل جائیں گے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ وہ غیر مستحکم ہیں)۔

اس کے بعد سائنسدان اس عنصر کی مقدار کی پیمائش کرتے ہیں جس میں وہ تبدیل ہوتے ہیں۔ ایک بار جب سائنسدان یہ جان لیں اور ساتھ یہ بھی جان لیں کہ اس تبدیلی میں کتنا وقت لگتا ہے، تو وہ یہ معلوم کر سکتے ہیں کہ دنیا کتنی پرانی ہے۔

سائنسدانوں نے یہ حساب لگایا ہے کہ دنیا کی عمر تقریباً 4,600,000,000 سال یعنی 4.6 ارب سال ہے۔

جدید ایکسرے مشین تیار،سی ٹی اسکین سے 100 گنا بہتر

لندن: ذراتی اسراع گر(پارٹیکل ایسلریٹر) کی مدد سے تیار کردہ اس ٹیکنالوجی کو ہیئرآرکیکل فیز کنٹراسٹ ٹوموگرافی ( ایچ آئی پی سی ٹی) کا نام دیا گیا ہے۔ اب یہ تمام جسمانی اعضا کی باریک ترین تفصیلات کو تھری ڈی انداز میں ظاہر کرتی ہے۔ سب سے پہلے اسے کووڈ سے فوت شدہ ایک مریض کے پھیپھڑے پرآزمایا گیا ے جس میں خون کی نالیوں میں آکسیجن رکنے کا منظر بھی دیکھا گیا ہے۔

ایکس رے ٹیکنالوجی یورپی سنکروٹرون ریسرچ مرکز (ای ایس آر ایف) میں وضع کی گئی ہے جہاں دنیا کی روشن ترین ایکس رے حاصل کی گئ ہے جو روایتی ایکس رے سے 100 ارب گنا طاقتور ہے۔ کورونا وبا کے دوران اس پر سنجیدگی سے کام شروع کیا گیا۔ اب یہ حال ہے کہ اس سے خون کی باریک ترین نالیوں کو تھری ڈی انداز میں دیکھا جاسکتا ہے بلکہ بعض اقسام کے خلیات بھی دکھائی دینے لگتے ہیں۔

اب یونیورسٹی کالج لندن کے ماہرین اسی ٹیکنالوجی سے پورے انسانی جسم کا تھری ڈی اٹلس تیار کرر ہے ہیں جو دنیا بھر کے ڈاکٹروں، سرجن اور سائنسدانوں کے لیے بہت مددگار ہوگا۔ واضح رہے کہ دنیا کے طاقتور ترین ایم آر آئی اور سی ٹی اسکینر ایک ملی میٹر سے نیچے کی شے نہیں دکھا سکتے۔ لیکن نئی ٹیکنالوجی سے تیارشدہ انسانی جسمانی اٹلس پوری دنیا کے لیے مفت میں دستیاب ہوگا۔

امید ہے کہ اس ٹیکنالوجی سے کووڈ میں پھیپھڑوں پر ہونے والے نقصانات اور دیگر تفصیل کو بھی سمجھنے میں بھی مدد ملے گی۔ اگلے مرحلے میں مشین اکتساب اور مصنوعی ذہانت سے مزید بہتر انداز میں تشخیص میں مدد مل سکے گی۔ تاہم ماہرین کی اکثریت نے اس کام کو غیرمعمولی انقلاب سے تعبیر کیا ہے۔

’خلائی مخلوق‘ زمین کی طرف آرہی ہے؟

کوئنزلینڈ یونیورسٹی: خلائی مخلوق یا ایلین کا تذکرہ قصوں کہانیوں اور فلموں تک محدود ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارے ذہنوں میں اُن کا جسمانی خدو خال ویسا ہی ہے، جیسا ہم نے فلموں، کارٹون یا ڈراموں میں دیکھا ہے۔

جب سے انسان ترقی یافتہ اور خلائی اسرار سمجھنے کے کچھ قابل ہوا ہے، تب سے وہ اس تلاش میں سرگرداں ہے کہ کیا اس وسیع و عریض کائنات میں ہم اکیلے ہیں یا ہمارے جیسا کوئی اور بھی سیارہ اپنے اندر زندگی رکھتا ہے؟ کیا کوئی سیارہ ایسا بھی ہے جہاں زمین کی طرح زندگی رواں دواں ہے؟ کیا اس کائنات میں ہمارے جیسی کوئی مخلوق نت نئی ایجادات اور تحقیقوں میں مصروف ہے یا کم از کم پتھر کے دور میں ہی جی رہی ہے؟

ان سوالات کے جوابات معروف سائنس دان اسٹیفن ہاکنگ نے تلاش کرنے کی کوشش کی، اسی بنیاد پر انہوں نے اپنے مقالوں میں دعویٰ کیا کہ خلائی مخلوق کسی سیارے پر موجود ہیں اور وہ زمین کی طرف آنے کے لیے سرکردہ ہیں، ہم نے اگر اُن تک پہنچنے کی کوشش کی یا وہ زمین پر پہنچ گئیں تو کرہ ارض پر بڑی تباہی پھیل سکتی ہے۔

خلائی مخلوق کی موجودگی یا اڑن طشتری کی پرواز سے متعلق مختلف باتیں، قیاس آرائیاں سامنے آچکی ہیں، ایلین کے حوالے سے تو کچھ ایسی تحقیقات آئیں جن کے بارے میں پڑھ کر آپ اس مخلوق کی موجودگی کا یقین کرلیں گےْ

حال ہی میں کوئنزلینڈ یونیورسٹی کی تحقیقی ٹیم نے دعویٰ کیا کہ انہیں زمین سے 165 نوری سال مسافت کے فاصلے پر سرخ سیارے نظر آئے، جن میں سے چار مختلف قسم کی ایسی پرُاسرار شعاعیں خارج ہورہی تھیں، جنہوں نے سیاروں کے وجود کو مزید واضح کیا۔

ماہرین نے بتایا کہ انہوں سیاروں کی تلاش کے لیے طاقتور ترین دوربین لوفر کا استعمال کیا، جس میں مختلف سگنلز شمسی ہواؤں میں لہروں کی صورت میں خارج ہوتے نظر آئے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ ماہرین فلکیات ریڈیو لہروں کا پتہ لگانے میں کامیاب ہوئے ہیں جو کہ ممکنہ طور پر ایکوپلانیٹ ہے اور ریڈیو فلکیات تھیوری کے لیے بہت اہم ثابت ہوسکتی ہے۔

تحقیقی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر بینجمن پوپ نے بتایا کہ مطالعے کے دوران ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ دنیا کے گرد گھومنے والے سیاروں کی تلاش نئی تکنیک کی مدد سے ممکن ہے مگر اس کے لیے خاصہ لمبا عرصہ انتظار کرنا ہوگا۔

سوشل میڈیا کی بندش، اصل وجہ سامنے آگئی

کیلی فورنیا: عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق گزشتہ روز دنیا بھر میں فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام کی سروس 6 گھنٹے تک معطل رہی تھی جس کے باعث ساڑھے تین ارب صارفین متاثر ہوئے تھے اور کمپنی کے اسٹاکس 4.9 فیصد گرگئے تھے۔

فیس بک انتظامیہ نے ایک بلاگ پوسٹ میں کہا تھا کہ سروس کی معطلی کی وجہ کنفیگریشن میں تبدیلی کی وجہ سے ہوئی تھی تاہم کنفیگریشن کی تبدیلی کی نوعیت سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ فیس بک کے کچھ ملازمین نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ سروس کی معطلی انٹرنیٹ ٹریفک کو سسٹم تک پہنچانے کی کوئی اندرونی غلطی ہے۔

فیس بک ملازمین نے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے مزید بتایا کہ اندرونی روابط کے آلات کی ناکامی اور نیٹ ورک سے متعلق دیگر خرابیوں نے تینوں ایپس کی سروس کی معطلی کے دورانیے میں اضافہ کیا۔

واضح رہے کہ سیکیورٹی ماہرین نے بھی امکان ظاہر کیا تھا کہ کمپنی میں کام کرنے والے کسی شخص سے نادانستہ طور پر کوئی غلطی ہوئی ہوگی تاہم فیس بک کا اصرار تھا کہ معطلی کی وجہ ’کنفیگریشن کی تبدیلی‘ ہے۔

فیس بک کو 7 ارب ڈالرکا نقصان

نیو یارک: گزشتہ روزدنیا کے مختلف ممالک میں فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام کی سروس بند ہوگئی تھی جس کے باعث مارک زکربرگ کو 7 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔

میڈیا کمپنی بلوم برگ کے مطابق گزشتہ روزتقریبا 6 گھنٹے کے لیے سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک، اورسوشل میڈیا ایپلیکیشن انسٹاگرام اورواٹس ایپ تکنیکی خرابی کے باعث بند ہوگئ تھیں جس کے باعث فیس بک کے بانی مارک زکربرگ کے اسٹاکس 4.9 فیصد گرگئے اورکمپنی کو7 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑگیا۔ اس نقصان کی بڑی وجہ فیس بک کی بندش کے باعث صارفین کا دیگرایپلیکیشن اورویب سائٹس تک رسائی کرنا بھی شامل ہے۔

فیس بک کے حصص میں کمی گزشتہ سال نومبرکے بعد ایک دن میں سب سے بڑی کمی ہے تاہم سروسز بحال ہونے کے بعد اس میں 0.5 فیصد بہتری آگئی ہے۔
اس خبرکوبھی پڑھیں: دنیا بھر میں فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام کی سروسز متاثر, فیس بک کی ٹوئٹ

فیس بک کی اس طرزکی سروس معطلی اپنی نوعیت کی سب سے طویل بندش ہے جسے آج تک ویب مانیٹرنگ گروپ ڈاؤن ڈیٹکٹر نے ٹریک نہیں کیا۔ فیس بک انتظامیہ کی جانب سے بندش کا الزام کنفیگریشن میں غلط تبدیلی پرلگایا ہے جس کے باعث فنی خرابی پیدا ہوئی اورمختلف ممالک سے ساڑھے تین ارب صارفین واٹس ایپ، انسٹاگرام اورفیس بک استعمال کرنے سے محروم ہوگئے۔

کمپنی کی انتظامیہ کی جانب سے واضع نہیں کیا گیا کہ کنفیگریشن پہلے سے طے شدہ تھی یا کس کی جانب سے کی گئی۔فیس بک کے چیف ٹیکنالوجی افسرمائیک شروفر نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ سروسز کی 100 فیصد بحالی میں کچھ وقت لگ سکتا ہے، ہم پر انحصار کرنے والے تما چھوٹے اور بڑے کاروبار، خاندانوں اورمنسلک افراد سے میں معذرت خواہ ہوں۔

دوسری جانب سکیورٹی ماہرین کا کہنا تھا کہ ممکن ہے کہ کمپنی میں کام کرنے والے کسی شخص سے نادانستہ طورپرکوئی غلطی ہو گئی ہوتاہم تاحال کمپنی انتظایہ کی جانب سے کوئی واضح موقف نہیں اپنایا گیا ہے۔

دیگرماہرین کا کہنا ہے کہ فیس بک ویب نظام میں تبدیلی کی وجہ سے مسئلہ پید اہوا۔ فیس بک نے بارڈر گیٹ وے پر وٹوکول میں کئی تبدیلیاں کی تھیں جس کی وجہ سے فیس بک انٹرنیٹ سے غائب ہوگئی۔

مائیکروسافٹ نے ونڈوز سے پاس ورڈ ختم کردیا

سلیکان ویلی: مائیکروسافٹ نے اپنے صارفین کےلیے پاس ورڈ کے بغیر کسی بھی اکاؤنٹ میں لاگ اِن/ سائن اِن ہونے کا نیا طریقہ متعارف کروادیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، پاس ورڈ کے بغیر کسی بھی مائیکروسافٹ اکاؤنٹ میں لاگ اِن ہونے کےلیے صارفین کو اپنے اسمارٹ فون پر ’’ونڈوز ہیلو‘‘ یا ’’مائیکروسافٹ آتھینٹی کیٹر‘‘ ایپ درکار ہوگی۔

جب بھی وہ اپنے کسی مائیکروسافٹ اکاؤنٹ میں داخل ہونا چاہیں گے تو صارف مذکورہ دونوں میں سے ایک ایپ کے ذریعے اپنے ’’درست‘‘ ہونے کی تصدیق کرے گا اور یوں وہ بغیر پاس ورڈ ٹائپ کیے، اس اکاؤنٹ میں لاگ اِن ہوجائے گا۔

واضح رہے کہ اسی طرح کا سیکیورٹی فیچر واٹس ایپ اور یاہو میں بہت پہلے سے موجود ہے جسے استعمال کرتے ہوئے، پاس ورڈ کے بغیر، اکاؤنٹ میں لاگ اِن ہوا جاسکتا ہے۔

اس بارے میں مائیکروسافٹ کے ایک تازہ اعلان میں بتایا گیا ہے کہ آج کل پاس ورڈ بھولنا ایک عام سی بات بن چکی ہے جو صارفین کےلیے شدید پریشانی کے علاوہ وقت کی بربادی کا سبب بھی بنتی ہے۔

پاس ورڈ کے بغیر مائیکروسافٹ اکاؤنٹ میں لاگ اِن ہونے کی سہولت سے نہ صرف دنیا بھر میں اس کمپنی کے کروڑوں صارفین کو فائدہ ہوگا بلکہ ہیکرز کے ممکنہ حملوں میں پاس ورڈ چوری ہونے کا خطرہ بھی نہیں رہے گا۔

دنیا کاسب سے طاقتور ترین مقناطیس تیار

واشنگٹن: امریکا میں تیار کیا گیا، دنیا کا سب سے طاقتور مقناطیس ’’سینٹرل سولینوئیڈ‘‘ ایک طویل سفر کے بعد بالآخر فرانس میں اپنی منزلِ مقصود تک پہنچ گیا ہے جہاں اسے عالمی اشتراک سے بننے والے فیوژن ری ایکٹر یعنی ’’آئی ٹی ای آر‘‘ میں نصب کیا جائے گا۔

سینٹرل سولینوئیڈ کو امریکی ادارے ’’جنرل اٹامکس‘‘ نے کئی سال کی محنت سے تیار کیا ہے۔ یہ اتنا طاقتور ہے کہ ایک لاکھ ٹن وزنی، طیارہ بردار بحری جہاز تک کو اپنی مقناطیسی طاقت سے کھینچ سکتا ہے۔ یہ مقناطیس 14 فٹ چوڑا اور 60 فٹ اونچا ہے جو سپر موصل (سپر کنڈکٹر) مادّے استعمال کرتے ہوئے اتنی شدید مقناطیسی قوت پیدا کرسکتا ہے جو مبینہ طور پر زمینی مقناطیسی میدان کے مقابلے میں 28000 گنا زیادہ ہے۔

فرانس میں پہنچ جانے کے بعد اسے ’’انٹرنیشنل تھرمونیوکلیئر ایکسپیریمنٹل ری ایکٹر‘‘ (ITER) کی سائٹ تک پہنچایا جائے گا، جہاں یہ عملِ گداخت (فیوژن ری ایکشن) سے تجارتی پیمانے پر بجلی بنانے کے اوّلین عالمی منصوبے کا حصہ بن جائے گا۔ واضح رہے کہ فیوژن ری ایکٹر، جسے ’’تھرمو نیوکلیئر ری ایکٹر‘‘ بھی کہتے ہیں، عین اسی اصول پر کام کرتا ہے کہ جس پر نہ صرف سورج بلکہ کائنات کے تمام ستارے اربوں سال سے زبردست توانائی پیدا کررہے ہیں۔

اس عمل میں ہائیڈروجن کے ایٹم آپس میں مل کر ہیلیم بناتے ہیں اور نتیجتاً زبردست توانائی خارج ہوتی ہے۔ پچھلے 70 سال سے جاری کوششوں کے باوجود، زمین پر اب تک ایسا کوئی ایٹمی ری ایکٹر (بجلی گھر) نہیں بنایا جاسکا جس میں فیوژن کا عمل قابو میں رکھتے ہوئے، تجارتی پیمانے پر توانائی پیدا کی جاسکے۔ آئی ٹی ای آر بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جو سابق سوویت یونین کے ’’ٹوکامیک ری ایکٹر‘‘ کا منطقی تسلسل بھی ہے۔

اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو امید ہے کہ آئی ٹی ای آر سے توانائی کی اوّلین تجرباتی پیداوار 2026 تک شروع ہوجائے گی۔ تاہم اسے مکمل طور پر رُو بہ عمل ہونے میں مزید دس سال لگ جائیں گے اور یہ 2036 تک ہی بھرپور پیداوار دینے کے قابل ہوسکے گا۔