شعیب شیخ آزادی صحافت کا بہادر سپاہی

محمد نعیم قریشی
آزادی صحافت کو کسی بھی آزاد خیال یا جمہوری ریاست کا ایک لازمی جزو اور چوتھا ستون سمجھا جاتا ہے،اور شاید ہی کوئی ایسی آزاد ریاست ہو جو آزادی صحافت کوآئینی طور پر تحفظ نہ دیتی ہیں،مگر کچھ ممالک ایسے ہیں جنھوں نے ریاست کے اس اہم ستون کو لگام ڈالنے کی کوشش کی ہے جس میں سب سے پہلے بھارت کا نام آتاہے مگر بھارت کے تجزیہ کار ان دنوں پاکستان کا نام لے رہے ہیں،یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جمہوریت کا ایک ستون ہونے کے ناطے میڈیاہاوسسز کی بھی کچھ حدود میں ر ہیں اس کے لیے سب سے پہلے تو میڈیا کو منصفانہ، غیر جانبدار ہونا چاہیے اور بغیر کسی خوف کے حقائق فراہم کرنا چاہیے۔ بدقسمتی سے، میڈیا کو معلومات فراہم کرنے کے لیے اپنے ہی کام میں متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ طاقتور لوگوں کی دھمکیاں اور اوچھے ہتھکنڈے جو حقائق کو روکنے اور سامنے نہ لانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اگر رپورٹر نڈر ہو تب بھی میڈیا ہاوسسز کے دیگر بڑوں کے آگے کوئی نہ کوئی مشکل کھڑی کردی جاتی ہے،گزشتہ ایک دہائی کے دوران دنیا بھر میں صحافت کی آزادی خراب ہو رہی ہے صحافیوں کا قتل عام اور من مرضی کے بیانات نشر کروانا اب ریاستی اداروں کا کام رہ گیاہے دنیا کی کچھ بااثر جمہوریتوں میں موجود لیڈروں نے میڈیا کے شعبے کی آزادی کو سلب کرنے کی مظبوط کوششوں کی سرپرستی کی ہے جس سے آزادی صحافت کے اس اہم ستون میں واضح طور پر دراڈیں دیکھی جاسکتی ہیں، پڑوسی ملک بھارت میں آزادی صحافت کا عجب حال ہے جب سے بی جے پی اقتدار میں آئی ہے، اس نے ایک مخصوص حکمت عملی کے تحت میڈیا کو اپنے قابومیں رکھنے کا کام کیا ہے۔اپنے آپ میں سب سے بڑی جمہوری ریاست ہونے کا دعویدار بھارت مقبوضہ کشمیر میں صحافیوں کو ڈرانے اور ہراساں کرنے کے لیے مختلف حربوں کا استعمال کرتارہتاہے۔امریکی نشریاتی ادارے ”نیو یارک ٹائمز”نے اپنی ایک رپورٹ میں بھارت میں آزادی صحافت کو لاحق خطرات کے بارے میں اگاہ کرتے ہوئے لکھا کہ مودی نے بھارت میں صحافت کا گلہ گھونٹ دیا۔جبکہ پاکستان میں صورتحال یہ ہے کہ جو چینل سچ بولتاہے تو اس کی آواز کو بند کروادینے کی کوشش کی جاتی ہے،من مرضی کی خبریں اور بیانات چلانے والے نیوز چینل اور اخبارات کو حکومتیں نوازتی بھی ہیں اور انہیں ستارہ جرات جیسے تمغوں سے نوازتی بھی ہیں، پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں آنے سے پہلے پچھلی حکومتوں نے اپنی جعلی ترقی کے نام پر میڈیا میں اشتہارات چلوائے،مسلم لیگ ن کی حکومت نے پانامہ کیس آنے کے بعد میڈیا ہاؤسز کو اربوں روپوں کے اشتہارات دیئے تاکہ عوام کو پانامہ کیس کے سلسلے میں گمراہ کیا جاسکے یعنی عوام کا زہن کسی اور جانب لگادیا جائے،لیکن عمران خان نے عوام میں اتنی بیداری پیدا کردی تھی کہ اربوں کے اشتہارات بھی عوامی رائے کو تبدیل نا کرسکے۔ میڈیا کے حوالے سے عمران خان کی حکومت کی پیکا آرڈیننس میں کی گئی ترمیم کے خلاف سب سے پہلے میں نے مذمت کی ایک اور ایک وی لاگ پر اسے آنے والے دنوں میں خود عمران خان کے خلاف قراردیاجو بعدمیں سچ ثابت ہوا۔ اگر ہم آجکل آزادی صحافت کا حال دیکھیں تو ہمیں صحافت چاروں طرف زنجیروں میں جکڑی ہوئی د کھائی دیگی۔پاکستان میں گزشتہ پندرہ برس میں 115 صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کو قتل کیا گیا، تو پھر سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ آخر حکومت کے نزدیک آزادی رائے اور اس کی حفاظت کیا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ دس سالوں میں پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا نے تیزی سے ترقی کی ہے۔2002ء میں صرف 2 ٹیلی ویژن اسٹیشنز تھے۔ آج ملک میں 90 سے زائد ٹی وی اسٹیشنز اور 135 پرائیویٹ ایف ایم چینلز کام کر رہے ہیں لیکن سوال ایک یہ بھی ہے کہ میڈیا ہاوسسز میں شامل یہ تمام ادارے مکمل آزادی کے اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں یا نہیں۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ اس وقت اگر کوئی نیوز چینلز حکومت کی کرپشن اقربا پروریاں،نااہلیاں،بے جا شاہ خرچیاں اداروں میں موجود کرپشن کا احوال بتائے تو اسے تحریک انصاف سے ہمدردی رکھنے والا صحافی یا چینل قرار دیدیا جاتاہے اور جو چینل حکومت کی نااہلیوں پر پردہ ڈالے رکھے تو وہ اس حکومت میں آزادی اور بغیر کسی گرفتاری اور مقدمے کے اپنا کام جاری رکھ سکتاہے، اس وقت پاکستان میں انسانی حقوق کے کارکن، موجود صحافی اور تجزیہ کار حضرات ایک نجی نیوز چینل (بول) کے مالک شعیب شیخ کی گرفتاری کو ملک میں آزاد میڈیا اور سیاسی اختلاف کو خاموش کروانے کے طور پر دیکھتے ہیں،اس چینل سے وابسطہ سینئر صحافی سمیع ابراہیم اور جمیل فاروقی اور عمران ریاض آئے روز حکومتی عتاب کا نشانہ بن رہے ہیں ان صحافیوں پر بے رحمانہ تشدد کیا گیا،ایک صحافی ارشد شریف کا قتل کیوں اور کیسے ہوا اب کسی سے ڈھکا چھپا نہیں رہا،گزشتہ دنوں بول نیوز کے شریک چیئرمین شعیب احمد شیخ عدالت میں پیش ہونے کے لیے اسلام آباد پہنچے تھے، جہاں نامعلوم افراد انہیں اسلام آباد ایئرپورٹ سے ساتھ لے گئے۔ شعیب شیخ پر جج کو مبینہ رشوت دینے کا الزام تھا،اس سے قبل بھی شعیب شیخ کو اٹھارہ ماہ جیل میں رکھا گیا مگر ان پر کوئی الزام ثابت نہ ہوسکا۔اس بار بھی سندھ ہائی کورٹ نے چیئرمین بول نیوز شعیب شیخ کو رہاکرنے کا حکم اور تحریری حکم نامہ جاری کردیاہے جس پر عملدرآمد نہ ہوسکا ہے کیونکہ حکومت نے شاید اس بار شعیب شیخ اور ان کے میڈیا ہاوس کو مکمل طورپر قدوغن لگانے کا فیصلہ کیاہواہے شعیب شیخ ایک غریب گھرانے میں پیدا ہونے والا آدمی ہے جو آزادی صحافت کی مدد سے اشرافیہ کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہوگیا جو اس کا قصور ٹھر،ا ماضی میں ایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس میں شعیب شیخ سمیت 23 ملزمان کو 7 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی جو ثابت نہ ہونے پر کلعدم قرار پائی۔ میرا حکومت کو ایک مشورہ ہے کہ اختلاف رائے جمہوریت کا سب سے بڑا حسن ہے۔ جمہوریت ان ہی ملکوں میں پروان چڑھی ہے جہاں اختلاف رائے کو برداشت کیا گیا ہے ورنہ سراسر بدنامی ہی حکومتوں کا مقدر بنتی رہی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ پاکستان جب امریکی کیمپ میں چلا گیا تو وہ صحافی جو کمیونزم کا پرچار کرتے تھے ان کیلئے مشکل پیدا ہو گئی، سینکڑوں کی تعداد میں پروگریسیو صحافیوں کو جیلوں میں ڈال دیا گیا جن میں مشہور اور معروف شاعرفیض احمد فیض بھی شامل تھے۔جنرل ایوب دور میں پریس اینڈ پبلکیشن آرڈیننس (1962) کے ذریعے صحافت کا گلا دبا کر رکھا گیا جسے لوگ آج بھی برے لفظوں سے یاد رکھتے ہیں ایوب حکومت پر تنقید کرنا جرم بن چکا تھا اور 60 سے 70 ایسے چھوٹے بڑے اخبارات بند کر دیئے گئے اور 80 سے 100 کے قریب معروف اور غیرمعروف صحافیوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے رکھا گیا جو ایوب مارشل لا پر سوال کرنے والے تھے۔بھٹو دور میں میڈیا کو کھل کر آزادی نہیں ملی پی این اے کی تحریک میں صحافیوں پر ظلم ہوا۔ 1989 میں صدر غلام اسحاق خان نے رجسٹریشن آف پرنٹنگ پریس آرڈیننس نافذ کر کے میڈیا سے واچ ڈاگ کی حیثیت کو ختم کیا۔ تاریخیں اس قسم کے واقعات سے بھری پڑی ہیں،اور نتائج یہ ہیں کہ ان ملکوں میں جمہوریت پر سوال اٹھے اور حکمرانوں کو سوائے رسوائی کے کچھ نہ مل سکایہ وہ ممالک ہیں جہاں مخالف آوازوں کو دبانے یا کچلنے کی کوششیں کی گئیں۔۔آپ کالم نگارکے نام کے ساتھ ایس ایم ایس اورو اٹس ا پ پر رائے دیں۔00923003508630

پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہمارے 84لاکھ کسان اس ملک کا اثاثہ ہیں، مہنگائی میں کمی کے لیے کسانوں کی آمدنی دگنی کرناچاہتے ہیں کیونکہ جب کسان کمائے گا تو وہ اپنی زمین پر لگائے گا، پیداوار بڑھے گی، ملک کو فائدہ ہوگا، غربت کم ہوگی اور کسان کی پیداوار میں اضافے کے ساتھ اشیائے خورونوش کی قیمتیں نیچے آجائیں گی۔ پاکستان کی 60 فیصد سے زائد آبادی زراعت کے ساتھ منسلک ہے لیکن زراعت میں چھوٹے کاشت کاروں اور کسانوں کی مشکلات میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ گنا، کپاس، چاول اور گندم کی فی ایکڑ پیداوار ترقی یافتہ ملکوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ پاکستان میں پالیسی میکرز، پارلیمنٹرینز، صوبائی نمایندے، شوگر مل مالکان، تاجر وصنعت کاراور بیوروکریسی کی ہزاروں افسران زرعی زمینوں کے مالک ہیں، ان کو لاکھوں روپے منافع گھر بیٹھے مل رہا ہے، ایسی صورت میں ہمارے پالیسی سازوں کو چھوٹے کاشتکاروں کے مسائل کا احساس اور ادراک نہیں ہے، نہ ہی ہماری کوئی قومی زرعی پالیسی ہے۔ ملک کا زرعی شعبہ کئی سالوں سے زبوں حالی کا شکار ہے اور گزشتہ کئی برسوں سے اس شعبے کی شرح ترقی بھی 3 فیصد تک ہی رہی ہے،جس میں بھی کبھی اضافہ اور کبھی کمی واقع ہوتی رہتی ہے،جس کے باعث ملک کا کاشتکار طبقہ مفلوک الحال ہے۔پاکستان کی زرعی اراضی کو دو گروہوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ بڑے زمیندار جن کے پاس زمین کے بڑے بڑے قطعات ہیں،لیکن وہ ان میں خود کاشتکاری نہیں کرتے ہیں بلکہ مزارعے یا ہاری زمین کا شت کرتے ہیں۔دوسرا گروہ وہ ہے جس کے پاس نہری پانی سے کاشت شدہ زمین ہے، لیکن یہ زمین 12ایکڑ فی خاندان سے زیادہ نہیں ہے، وہ ان چھوٹے خطہ اراضی پر مشینی کاشتکاری اختیار نہیں کرسکتے اور مشینی کاشتکاری کے بغیر پیداوار کم ہی رہے گی، اسی لیے وہ دوسرے کاموں کی جانب اپنی توجہ مبذول کررہے ہیں، اس کا نتیجہ کم پیداوار کی صورت میں نکلتا ہے۔ عام کسان محنت کرنے کے بعد جب گندم کی فصل اٹھاتا ہے تو اسے امید ہوتی ہے کہ سرکار نے جو نرخ مقرر کیے ہیں، اسی کے مطابق باآسانی اس کی گندم فروخت ہو جانی چاہیے لیکن پاکستان میں کاشتکاروں کے لیے مسائل پیدا کرنے کی خاطر بہت سے گروپ فعال ہو جاتے ہیں،جن میں غلہ منڈی کے آڑھتی، تاجر، مڈل مین اس طرح کے مختلف کارندوں کا روپ دھار کر کسانوں سے کم سے کم قیمت پر ان کی پیداوار حاصل کر لیتے ہیں اور چونکہ گندم زندگی کی غذائی ضروریات کے لیے لازم و ملزوم ہے لہٰذا گندم کی تجارت کرتے وقت اصل نقصان گندم کے پیداکاروں کو ہو جاتا ہے۔ بعض کاشتکار اس بات کے شاکی رہتے ہیں کہ ٹرانسپورٹ کے ذرایع نہ ہونے کے سبب وہ اپنی فصلیں اور زرعی اجناس اونے پونے فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔مختلف علاقوں کے کاشتکاروں کی جانب سے فصلوں کے لیے نہری پانی نہ ملنے کی شکایات اکثر آتی رہتی ہیں۔ وقت پر پانی نہ ملنے کی وجہ سے کھڑی فصلیں سوکھنے لگتی ہیں۔ یہ صورتحال ہمارے نہری نظام میں خرابیوں میں مسلسل اضافے کی نشاندہی کرتی ہے۔ چھوٹے کاشتکار فصلوں کی سینچائی کے لیے وقت پر پانی اور کھاد نہ ملنے کی وجہ سے مسلسل پسماندگی کا شکار ہیں،جس کے نتیجے میں ہم اپنی ضرورت کی زرعی اجناس بھی باہر سے منگوانے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ پاکستان میں ہزاروں چھوٹے چاول کاشت کار بے ترتیب اور بے اعتبار ہوتی ہوئی موسموں اور بارشوں اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث بار بار سیلاب کے واقعات سے تنگ آکر چاول کی کاشت کو آہستہ آہستہ خیرباد کہنے پر مجبور ہیں، اور اس کی جگہ سبزیوں کی کاشت کو ترجیح دے رہے ہیں،تاہم کم تعلیم اور کمزور مالی حالات کی وجہ سے وہ ان موسمیاتی تبدیلی کے زراعت پر منفی اثرات سے نمٹنے میں کم ہی کامیاب ہورہے ہیں اور ان کسانوں کی بھاری معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ ملک میں کئی نقد آور غذائی اجناس کی فصلیں کاشت کی جاتی ہے تاہم زرعی پیداوار کی شرح بہت پست ہے،ملک کی میں شرح خواندگی خاصی کم ہے،گو کہ زراعت پر انحصار کرنے والے افرادکی تعداد بڑھ رہی ہے،لیکن زیرِ کاشت رقبے کو بڑھانے کا عمل بہت سست ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ فی کس زیرِ کاشت رقبہ کم ہوگیا ہے۔ ہمارے کسان اور کاشتکار آج بھی لکڑی کے ہل، گوبر کی کھاد، غیر تصدیق شدہ مقامی بیج اور کاشتکاری کے قدیم طریقے استعمال کررہے ہیں یہی وجہ ہے کہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ نہیں ہورہا ہے۔ٹریکٹر، ٹیوب ویل، کھاد، تصدیق شدہ معیاری بیجوں کی ایک منظم اور ترتیب، مشینی کاشتکاری کے اہم اور لازمی اجزاء ہیں۔ ہمارا کسان مشینی کاشت کو اختیار کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا ہے کیونکہ اس کے پاس مالی وسائل کی بہت زیادہ کمی ہے، مرے پر سو درے کے مصداق اس کے پاس بہت کم خطہ اراضی ہے۔دوسری جانب کھاد،بیج اور اسپرے کے بعد زرعی آلا ت کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا۔ جس سے نا صرف کسانوں بلکہ زرعی آلات کے کاروبار سے منسلک افراد کی پریشانی میں بھی اضافہ ہو گیا ہے، تاہم چھوٹے کسانوں کے لیے کاشتکاری ناممکن ہو جائے گی۔ ایک رپورٹ کے مطابق مارکیٹ میں روٹا ویٹر کی قیمت ایک لاکھ 20 ہزار سے بڑھ کر ایک لاکھ 35 ہزار ہوگئی ہے۔ تھریشر،ہل،ٹرالی کی قیمت میں بھی دس سے پندرہ ہزار روپے اضافہ ہوگیا ہے۔ دکانداورں کا کہنا ہے کہ لوہا مہنگا ہونے پر وہ ہی نہیں کسان بھی پریشان ہیں۔ واضح رہے کہ ملک کی مجموعی قومی پیداوار میں زراعت کا حصہ 21 فیصد ہے۔ پاکستان میں پیدا ہونے والی کپاس، گندم، گنا اور چاول کی فصل بیرونی منڈیوں میں خاص اہمیت رکھتی ہے اور ملک ان فصلوں کی بدولت قیمتی زرمبادلہ حاصل کرتا ہے۔ اس کے باوجود ملکی زرعی شعبے کی ترقی کی رفتار نہایت سست ہے۔ جس کی وجہ کسانوں کے مسائل۔کسانوں کو ان کی اجناس کی معقول قیمت نہیں ملتی، جب کہ حکومتی ٹیکس کی بھرمار نے بھی کسانوں کی مشکلات بڑھا رکھی ہیں۔ زراعت کی اہمیت اس قدر ہے کہ ملکی آبادی کو خوراک کا بیشتر حصہ مہیا کرتا ہے۔ لیکن نہری نظام ہونے اور زمینوں کی زرخیزی کے باوجود بشمول اس سال کے کئی سال ایسے بھی گزرے ہیں جب لاکھوں ٹن گندم درآمد کرنا پڑی، لیکن شاید ہماری حکومتوں اور میڈیا کے لیے یہ مسائل قابل غور اور قابل بحث نہیں۔ اس کے علاوہ فوڈ گروپ کی درآمدات کئی ارب ڈالرز کی ہوتی ہیں۔ ملکی صنعتوں کے لیے خام مال کی فراہمی شعبہ زراعت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ روزگار کا سب سے بڑا ذریعہ بھی شعبہ زراعت ہے،اپنی تمام تر اہمیت کے باوجود یہ شعبہ زرعی مسائل کا شکار ہے۔ گزشتہ کئی عشروں سے یہی صورت حال برقرار ہے کہ زرعی اشیا کی قیمتیں کم چلی آ رہی ہیں۔ مہنگائی کے باعث اب غریب کسانوں پر ایک ستم یہ بھی ہو رہا ہے کہ زرعی مداخل کی قیمتیں بڑھتی چلی آ رہی ہیں، لوڈشیڈنگ کے باعث ڈیزل اور دیگر زرعی مداخل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث زرعی پیداواری لاگت بڑھتی چلی جا رہی ہے۔
اس طرح آمدنیاں اور وسائل زرعی شعبے سے صنعتی شعبے کی جانب منتقل ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔ حکومت کی طرف سے کئی ایسے اقدامات کیے گئے جس کے نتیجے میں زراعت پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ کئی باتیں اقربا پروری کی نذر ہو گئیں، کچھ کو کرپشن نے لوٹ لیا اور بہت سے پروگرام کاغذی کارروائیوں کی نذر ہو کر رہ گئے۔ زرعی ترقیاتی ادارے بھی قائم ہوئے لیکن کوئی تحقیق نہ ہو سکی، اگر کچھ ہوا بھی تو کسان مستفید نہ ہو سکے۔ اس طرح کسان ملک میں زرعی پیداوار میں اضافہ کرنے کے بجائے بہت سے زرعی مسائل میں گھر کر رہ گئے۔ مثال کے طور پر پیداوار کو خریدنے والے اونے پونے دام دے کر غریب کسانوں کو مایوس کر دیتے ہیں۔ ابھی جیسے ایک مثال آپ کے سامنے ہے، جیسے ہی پاکستان میں ٹماٹر تیار ہوئے ہیں تو جس ٹماٹر کا ریٹ کچھ دن پہلے سو سے ڈیڑھ سو تھا، اب وہ پندرہ سے بیس روپے کلو میں فروخت ہو رہا ہے، نتیجتاً کاشتکار اس فصل پر کیا گیا خرچہ بھی نہیں نکال پا رہے۔ اس مایوسی کے عالم میں جب یہ فیصلہ کر بیٹھتے ہیں کہ آیندہ سال فلاں جنس کی کاشت نہیں کی جائے گی تو ملک میں اس فصل کی پیداوار کم ہوتی ہے اور خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑتا ہے کہ ایک طرف پیداوار کی کمی کا سامنا دوسری طرف اس شے کی درآمدات میں اضافے کے باعث قیمت میں اضافہ ہو کر عوام کو مہنگائی کا عذاب سہنا پڑتا ہے۔ لہٰذا ابتدائی طور پر ہی حکومت اگر کسانوں کے زرعی مسائل حل کر دے تو عوام بھی بہت سے مسائل کا شکار ہونے سے بچ سکتے ہیں۔ پاکستان کی معیشت کی ناکامی کا سبب ہماری درآمد اور برآمدات میں عدم توازن
ہے۔1984 تا 2007 تک یہ عدم توازن 3ارب ڈالر تھا جب کہ یہ شرح اب 40 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ وہ محرکات اور اسباب تلاش کرنے چاہئیں جس کے سبب درآمدات و برآمدات میں عدم توازن چلا آ رہا ہے اس کا سدباب کیسے کرنا ہے اور کس طرح ملک کی معیشت میں توازن آسکتا ہے۔ ملک کی آبادی کا ایک بڑا حصہ زراعت سے منسلک ہے،قومی سطح پر ایک ایسی مربوط، فعال اور منظم زرعی پالیسی تشکیل دی جائے جس سے چھوٹے کسانوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل ہوسکیں، شعبہ زراعت میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کو ممکن بنایا جا سکے، کیونکہ اگر کسی بھی شعبے کی ترقی مقصود ہو تو ضروری ہے کہ اس شعبے میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کی جائے، ملک میں زرعی انقلاب لانا،وقت کی اہم ترین ضرورت ہے تاکہ ملکی معیشت مستحکم بنیادوں پر استوار ہو اور عام آدمی کو مہنگائی سے نجات دلانا ممکن ہوجائے۔

ملکی ماحولیات شدید خطرے میں

کورونا اور ماحولیات کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ترقی پذیر ممالک کو فنڈز دیے جائیں، عالمی معیشت اس وقت تک مکمل بحال نہیں ہوگی، جب تک تمام ممالک پائیدار ترقیاقی مقاصد اورماحولیاتی اہداف کے حصول کے لیے سرمایہ کاری میں اضافہ نہیں کرتے۔ دنیا کو درپیش سہ جہتی چیلنج سے نمٹنے کے لیے اپنے وژن کو اجاگر کیا ہے، جس میں کورونا وبا، اقتصادی ترقی کی بحالی اور ماحولیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والا خطرہ شامل ہے،جبکہ وزیراعظم پاکستان اقوام عالم کو روڈ میپ دے چکے ہیں، جس پر عمل کرکے پسماندہ اور ترقی پذیرممالک کے مسائل کا حل باآسانی نکالا جاسکتا ہے۔ ہم اس حقیقت سے نظریں نہیں چرا سکتے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہونے والے ممالک میں پاکستان دنیا میں پانچویں نمبر پر ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان اور اس کے عوام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ماحولیاتی تبدیلیوں کی تباہ کاریوں کی وجہ سے پاکستانی معیشت کو تین ہزار آٹھ سو ملین امریکی ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ اسی وجہ سے سب سے زیادہ اقتصادی نقصانات اٹھانے والے ملکوں میں پاکستان دوسرے نمبر پر ہے۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کئی طرح کی قدرتی آفات کی وجہ بننے والے انتہائی نوعیت کے موسمی حالات زمین پر انسانی آبادی کو براہ راست متاثر کرتے ہیں، تاہم اس بارے میں نئے اعداد و شمار بہت حیران کن بھی ہیں اور پریشان کن بھی۔اسی تناظر میں کچھ عرصہ قبل اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے نتیجے میں قدرتی آفات کے باعث پاکستان میں 10ہزار اموات ہوئیں اور پاکستان میں ترقیاتی اہداف کو موسمیاتی تبدیلیوں سے خطرات کا سامنا ہے۔ غربت کا خاتمہ پاکستان کی پالیسی کا بنیادی حصہ ہے، تعلیم، معیشت اور برابری ترقی کے لیے اہم ہے۔ یواین او کے سیکریٹری جنرل نے واضح الفاظ میں پاکستان کو درپیش مشکلات کا ذکر کیا ہے۔ اسی موقف کی تائید اور مزید پرکھنے کے لیے ہم اس رپورٹ پر نظر ڈالتے ہیں جوکہ عالمی ادارے جرمن واچ نے جاری کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کو ان ممالک میں شمار کیا گیا ہے، جو ماحولیات سے بری طرح متاثر ہیں۔’گلوبل کلائمیٹ رسک انڈیکس 2020کے مطابق 1999سے لے کر 2018 تک کے بیس برسوں کے دوران موسمیاتی تبدیلیوں سے جو ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوئے، پاکستان ان میں پانچویں نمبر پر ہے۔ دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے پالیسیاں تشکیل دے کر ان پر عمل درآمد کررہے ہیں جب کہ ہمارے یہاں ماحولیاتی حوالے سے ماضی کی غیر دانشمندانہ پالیسیوں نے ملک میں اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، اگر ہم مرحلہ وار چند اہم ترین نکات کا جائزہ لیں تو صورتحال کا حقیقی منظر نامہ ہمارے سامنے آسکتا ہے جیسا کہ عالمی حدت کی وجہ سے ملک کے شمال میں پگھلتے ہوئے گلیشیئر ملک کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں۔ پاکستان کو اس وقت چار بڑے خطرات کا سامنا ہے، گلیشیئرز کا پگھلنا، کوئلے کا استعمال، اسموگ اور خشک سالی۔ کئی ساحلی علاقوں سے نقل مکانی پہلے ہی شروع ہو چکی ہے۔ اوماڑہ، پسنی، بدین، ٹھٹھہ، سجاول اور گوادر سمیت کئی علاقوں سے نقل مکانی ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ ملک کے کئی علاقے خشک سالی کے شکار بھی ہوئے ہیں۔ بین الاقوامی معیار کے مطابق پاکستان کے تقریباً پچیس فیصد رقبے پر جنگلات ہونے چاہئیں، لیکن ہمارے ملک میں پہلے ہی جنگلات صرف سات سے آٹھ فیصد رقبے پر تھے لیکن یہ رقبہ اب تین فیصد مزید کم ہو گیا ہے۔سندھ میں دو لاکھ ستر ہزار ہیکٹرز پر مشتمل ساحلی جنگلات اب ستر ہزار ہیکٹرز تک آ گئے ہیں۔
کئی ماہرین کا خیال ہے کہ ملک کا جنوبی حصہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ماحولیات کو نقصان پہنچانے والی ضرر رسا گیسیں خارج کرنے والے ممالک کی فہرست میں پاکستان کا 135 واں نمبر ہے، تاہم متاثرہ ممالک میں پاکستان آٹھویں نمبر پر ہے، یہ تمام عوامل فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔ اگر ہم وفاقی حکومت کے اقدامات کا جائزہ لیں تو ماحولیات کے درپیش چیلنجزسے نمٹنے کے لیے قومی خزانے سے 120 ملین ڈالر کی لاگت کے ساتھ ’بلین ٹری سونامی‘ منصوبے کے تحت ایک ارب درخت لگانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ حکومت نے آیندہ پانچ سالوں کے دوران ملک بھر میں مزید دس ارب درخت لگانے کا اعلان کیا ہے، جس کے لیے قریب ایک ارب امریکی ڈالر کا تخمینہ لگایا گیا ہے، حکومت پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے ’ری چارج پاکستان‘ کے نام سے ایک پراجیکٹ متعارف کروا رہی ہے۔اس منصوبے کے ذریعے سیلاب کے پانی کو ملک کی مختلف جھیلوں میں محفوظ کیا جائے گا، کیونکہ پاکستان میں پانی کی قلت سے زیادہ ’واٹر مینجمنٹ‘ کا مسئلہ ہے کیونکہ پاکستان میں صرف نو فیصد سیلاب کا پانی محفوظ کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے وزیراعظم عمران خان ملک میں مزید ڈیم بنانے کی اہمیت پر زور دے رہے ہیں،کیونکہ اقوام متحدہ کے ادارے یو این ڈی پی نے خبردار کیا ہے کہ 2025تک پاکستان میں پانی کی قلت ایک بحران کی شکل اختیار کرلے گی۔ کراچی میں 1945 میں آخری مرتبہ سونامی آیا تھا۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق بحرہند میں کسی بڑے زلزلے کی صورت میں سونامی کی لہریں ایک سے ڈیڑھ گھنٹے میں کراچی پہنچ سکتی ہیں اور یہ پورے شہر کو لے ڈوبیں گی۔پاکستان میں آخری سیلابی ریلوں نے ساڑھے اڑتیس ہزار اسکوائر کلومیٹر رقبے کو متاثر کیا تھا اور اس کے مالی نقصانات کا تخمینہ دس بلین ڈالر تھا۔ کراچی میں چار برس قبل آنے والی ’ہیٹ ویو‘ یا شدید گرمی کی لہر نے بارہ سو افراد کو لقمہ اجل بنا دیا۔
ماہرین کے مطابق مستقبل میں ایسے واقعات قدرتی آفات میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ ملک میں عید قرباں کی آمد ہے اور اس کے ساتھ ہی کورونا کی چوتھی لہر آنے کے خدشات نے سراٹھانا شروع کردیا ہے، خطرناک لہر سے بچاؤ کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتیں تو اقدامات اٹھا رہی ہیں، لیکن عوام کا چلن اور رویہ انتہائی منفی ہے، ان سطور کے ذریعے عوام سے درد مندانہ اپیل ہے کہ وہ اپنی اور دوسروں کی جانوں کے تحفظ کی خاطر کورونا ایس اوپیز پر عمل کرکے ملک کے باشعور باشندے ہونے کا ثبوت دیں، اسی طرز عمل کو اختیار کرنے میں پوری قوم کی فلاح کا راز پوشیدہ ہے۔یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس ساری صورتحال سے پاکستان کیسے بچ سکتا ہے؟موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے بچنے کے لیے پاکستان کو سالانہ بنیادوں پر سات سے چودہ بلین ڈالر درکار ہیں۔ فی الحال یہ واضح نہیں کہ یہ فنڈز کہاں سے ملیں گے؟ سینیٹ نے پچھلے سال ایک پالیسی کی منظوری البتہ دے دی تھی، جس کے مطابق پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچنے کے لیے ایک اتھارٹی قائم کی جانی ہے۔ 2015 میں طے ہونے والے پیرس کے معاہدے میں پاکستان نے 2030 تک ”گرین ہاؤس“ گیسوں کے اخراج میں تیس فیصد کمی لانے کا ہدف مقرر کیا تھا، اس پر تقریباً چالیس بلین ڈالر کے اخراجات آئیں گے، لیکن اہداف تاحال حاصل نہیں ہوسکے ہیں۔ حکومتی سطح پر پٹرول اور ڈیزل کی جگہ الیکٹرک کاریں درآمد کرنے کا فیصلہ بھی بہت بہتر ہے، لیکن ان کے علاوہ بھی حکومت کو بہت سارے اقدامات کرنے ہوں گے۔ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے عوام میں شعور بیدار کرنے کی مہم چلانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، ان سطور کے ذریعے توقع کی جاسکتی ہے کہ حکومت اس ضمن میں ایک واضح پالیسی تشکیل دے کر اس کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرے گی۔

ڈﻭﮔﺮﺍ ﺭﺍﺝ ﺳﮯ ﺭﯾﺎﺳﺖ ﺟﻤﻮﮞ” “ﮐﺸﻤﯿﺮ ﺗﮏ

ﺗﺤﺮﯾﺮ:ڈاکٹر ﺭﺍﺣﺖ ﺟﺒﯿﻦ

ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺑﮩﺖ ﮔﮭﻨﺒﯿﺮﻣسئلہ ﺟﻮ ﺑﭽﭙﻦ ﺳﮯﺩﺭﺳﯽ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮬﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﮍﻭﮞ ﺳﮯ ﺳﻨﺘﮯ ﺁﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ،ﻭﮦ ﮨﮯ ﻣﺴئلہﮐﺸﻤﯿﺮ ۔ﺟﺴﮯ ﺍﻧڈﯾﺎ ﺍﭘﻨﺎ ﺍﭨﻮﭦ ﺍﻧﮓﺍﻭﺭ ﭘﺎﮐﺴﺎﻥ ﺍﭘﻨﯽ ﺷﮧ ﺭﮒ ﮔﺮﺩﺍﻧﺘﺎﺭﮨﺘﺎﮨﮯ۔ ﭘﺎﮎ ﺑﮭﺎﺭﺕ ﮐﺸﯿﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﻭﺟﮧ ﺑﮭﯽ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺳﮯ ﻣﺴئلہﮐﺸﻤﯿﺮ ﮨﯽ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺏ ﺗﮏﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺎﺭﺕ ﮐﮯ ﻣﺎﺑﯿﻦ ﺗﯿﻦﺟﻨﮕﯿﮟ ﻟﮍﯼ ﮔئیں ﮨﯿﮟ۔ ﮐﺸﻤﯿﺮ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﺍﮔﺮﭘﺎﮎ ﺑﮭﺎﺭﺕ ﺟﻨﮕﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﮨﻮﺗﻮ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﺸﻤﯿﺮ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ1839ﮐﮯ ﺗﻨﺎﻇﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﮨﻮﮔﺎ۔
ﺳﮑﮭﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﻭﮞﮐﮯﻣﺎﺑﯿﻦ ﺟﻨﮓ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﯾﺴﭧ ﺍﻧڈﯾﺎﮐﻤﭙﻨﯽ ﻧﮯ ﺭﯾﺎﺳﺖ ﺟﻤﻮﮞﮐﺸﻤﯿﺮ ﭘﺮﻗﺒﻀﮧ ﮐﺮﮐﮯ ﺍﺳﮯ ﻣﻌﺎﮨﺪﮦ ﺍﻣﺮﺗﺴﺮﮐﮯ ﺗﺤﺖ ﺳﺎﺕ ﻻﮐﮫ ﮐﮯ ﻋﻮﺽﻭﮨﺎﮞ ﮐﮯ ڈﻭﮔﺮﺍ ﺣﮑﻤﺮﺍن کو 9 ﻧﻮﻣﺒﺮ1846 ﮐو بیچ دیا گیا۔ ﻣﮩﺎﺭﺍﺟﺎ ﮔﻼﺏ ﺳﻨﮕﮫﺍﭘﻨﯽ ﻓﻮﺝ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺮﯼ ﻧﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮ ۓ ۔ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻣﮩﺎﺭﺍﺟﮧﮔﻼﺏ ﺳﻨﮕﮫ ﮐﯽ ﻗﯿﺎﺩﺕ ﻣﯿﮟﺭﯾﺎﺳﺖ ﺟﻤﻮﮞ ﻭ ﮐﺸﻤﯿﺮ ﻣﯿﮟ ڈﻭﮔﺮﺍ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﺎ ﺁﻏﺎز ﮨﻮﺍ۔ﯾﻮﮞ ﯾﮩﺎﮞ1949 ﺳﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ 1846ﻧﻮﺍﺑﯽ ﺭﯾﺎﺳﺖ ﻗﺎئم ﺭﮨﯽ۔ ﺟﺴﮯ ڈﻭﮔﺮﺍ ﺭﺍﺝ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ بعد ﻣﯿﮟ ﭘﺎﮎ ﺑﮭﺎﺭﺕ1947 ﻋﻠﯿﺤﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺗﻤﺎﻡ ﺭﯾﺎﺳﺘﻮﮞﮐﻮ ﯾﮧ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺟﺲ ﻣﻠﮏ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﻟﺤﺎﻕ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮟﺍﮐﺜﺮﯾﺘﯽ ﺭﺍ ۓﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯﮨﯿﮟ۔ ﮐﺸﻤﯿﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽﺍﮐﺜﺮﯾﺖ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﺭﯾﺎﺳﺖ ﻧﮯ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫﺍﻟﺤﺎﻕ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﻣﮕﺮ ﻭﮨﺎﮞ ﮐﮯﮨﻨﺪﻭ ﻣﮩﺎﺭﺍﺟﮧ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ یہ ﺍﮔﺴﺖ13ﻣﻤﮑﻦ ﻧﮧ ﮨﻮﺳﮑﺎ۔

1948 ﮐﻮ ﺍﻧڈﯾﺎ ﺍﺱ ﻣﺴئلےﮐﻮﺍﻗﻮﺍﻡ ﻣﺘﺤﺪﮦ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ۔ﺟﮩﺎﮞﺍﺳﺘﺼﻮﺍﺏ ﺭاۓ ﮐﺮﺍﻧﮯ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮨﻮﺍ۔ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽﺍﮐﺜﺮﯾﺖ ﻧﮯ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﺣﻖ ﻣﯿﮟﻭﻭﭦ ﺩﯾﺎ۔ ﻣﮕﺮ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﮐﯽﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﺍﺱ ﻓﯿﺼﻠﮯ ﮐﻮ ﮐﻮٸﯽﺍﮨﻤﯿﺖ ﻧﮧ ﺩﯼ ﮔئی۔ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥﮐﻮ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﮐﮯﮐﺸﻤﯿﺮﯼ ﻟﯿڈﺭﺷﯿﺦ ﻋﺒﺪﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺣﻤﺎﯾﺖ ﺑﮭﯽﺣﺎﺻﻞ ﺗﮭﯽ۔ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﻣﻘﺎﻣﯽ ﺍﻭﺭﻏﯿﺮ ﻣﻘﺎﻣﯽ ﻣﺠﺎﮨﺪﯾﻦ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺸﻮﮞﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮔﻠﮕﺖ ﺑﻠﺘﺴﺘﺎﻥ ﺍﻭﺭﺁﺯﺍﺩ ﮐﺸﻤﯿﺮ ﮐﺎ ﺣﺼﮧ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯﻗﺒﻀﮯ ﻣﯿﮟ ﺁۓ۔ ﺍﺳﯽ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍﻧڈﯾﺎﮐﯽ ﻓﻮﺟﯿﮟﻣﻘﺒﻮﺿﮧﺟﻤﻮﮞ ﮐﺸﻤﯿﺮﭘﺮ ﻗﺎﺑﺾ ﮨﻮ گئیں ﺍﻭﺭ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽﻓﻮﺟﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺸﻤﯿﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞﮨﻮ ئی۔ ﮐﺸﯿﺪﮔﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺑﮍﮪ گئ ﺗﻮ ﯾﮑﻢ ﺟﻨﻮﺭﯼ ﺳﯿﺰ ﻓﺎ ئر ﮐﺎ ﺍﻋﻼﻥ ﮨﻮﺍ۔ ﻣﻘﺒﻮﺿﮧﺍﻭﺭ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺸﻤﯿﺮ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﻻئنﺁﻑ ﮐﻨﭩﺮﻭﻝ ﺑﻨﺎ ﺩﯼ ﮔئیﻭﺍﺩﯼﮐﺸﻤﯿﺮ ،ﺟﻤﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻟﺪﺍﺥ ﺳﻤﯿﺖ ﺩﻭﺗﮩﺎئی ﮐﺸﻤﯿﺮ ﭘﺮ ﻗﺒﻀﮧ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺟﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﺍﻧڈﯾﺎ ﮐﯽﺑﺎﻻﺩﺳﺘﯽ ﻗﺎئم ہوئی۔ ﺗﺐ ﺳﮯﺍﺏ ﺗﮏ ﻣﺴئلہﮐﺸﻤﯿﺮ ﺍﻗﻮﺍﻡ ﻣﺘﺤﺪﮦ ﮐﮯ ﺳﺮﺩ ﺧﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﺍ ﮨﮯﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮐﻮئی ﺑﮭﯽ ﭘﯿﺶ ﺭﻓﺖﮨﻮﺗﯽ ﻧﻈﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺭﮨﯽ ﮨﮯ۔ﺍﺱﻣﺴئلےﮐﮯ ﻧﺘﯿﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺏ ﺗﮏ ﻻﮐﮭﻮﮞ ﮐﺸﻤﯿﺮﯾﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﻧﯿﮟ ﮔﻨﻮﺍﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ۔ ۔ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﺏ ﺗﻮ ﮐﺸﻤﯿﺮﮐﯽ ﺁئینی ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﺎﻻﺕ ﻣﺰﯾﺪ ﮐﺸﯿﺪﮔﯽ ﮐﯽﺟﺎﻧﺐ ﺑﮍﮪ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔ﺍﺳﯽ ﮐﺸﯿﺪﮔﯽﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﮐﮍﯼ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ1965ﭘﺎﮎ ﺍﻧڈﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﺟﻨﮓ ﭼﮍﮪ ﮔئی۔ﺳﺘﺮﮦ ﺩﻧﻮﮞ ﺗﮏﺩﻭﻧﻮﮞ ﺟﺎﻧﺐ ﺧﻮﻥ ﮐﯽ ﻧﺪﯾﺎﮞﺑﮩﺎئی ۔ﺁﺧﺮﮐﺎﺭ ﯾﻘﯿﻨﯽ ﮨﺎﺭﺟﯿﺖ ﮐﮯ ﻓﯿﺼﻠﮯ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺍﻣﺮﯾﮑﺎﺍﻭﺭﺳﻮﯾﺖ ﯾﻮﻧﯿﻦ ﮐﯽ ﺛﺎﻟﺜﯽ ﮐﮯ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﻣﯿﮟ ﻣﻌﺎﮨﺪﮦ ﺗﺎﺷﻘﻨﺪ ﻃﮯ ﭘﺎﯾﺎﺍﻭﺭ ﺟﻨﮓ ﺑﻨﺪﯼ ﻣﻤﮑﻦ ہوئی.
ﺑﮭﺎﺭﺕ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺟﻨﮓﮨﻮئی۔ ﺍﻧڈﯾﺎ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺟﻨﮓ ﻣﯿﮟﻓﺘﺢ ﮐﮯ ﺟﮭﻨڈﮮ ﮔﺎﮌﮬﮯ۔ ﯾﮧ ﻭﺍﺣﺪ ﺟﻨﮓ ﺗﮭﯽ ﺟﻮ ﮐﺸﻤﯿﺮ ﮐﮯ ﺍﯾﺸﻮ ﭘﺮﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮئی ۔ﺍﺱ ﺟﻨﮓ ﮐﮯ ﻧﺘﯿﺠﮯﻣﯿﮟ ﻣﺸﺮﻗﯽ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮨﻢ ﺳﮯ ﺟﺪﺍﮨﻮﮔﯿﺎ۔ﻣﺴئلہ ﮐﺸﻤﯿﺮ ﮐﮯ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﮐﯽ ﻣﯿﮟ ﮨﻮ ئی1999ﺍﯾﮏ ﺟﻨﮓ ﺟﺴﮯ ”ﮐﺎﺭﮔﻞ ﺟﻨﮓ“ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺩﯾﺎﮔﯿﺎ۔ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﺍﻓﻮﺍﺝ ﻧﮯ ﻻئن ﺁﻑﮐﻨﭩﺮﻭﻝ ﭘﺎﺭ ﮐﯿﺎﺍﻭﺭ ﮐﺎﺭﮔﻞ ﮐﮯﻣﺘﻌﺪﺩ ﻣﻘﺎﻣﺎﺕ ﻗﺒﻀﮯ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﻟﯿﮯ ۔ﻣﮕﺮ ﺟﻮﺍﺑﯽ ﮐﺎﺭﻭﺍئی ﮐﺮﮐﮯ ﺑﮭﺎﺭﺕ ﻧﮯ ﻗﺒﻀﮧ ﺷﺪﮦ ﻋﻼﻗﮯﻭﺍﭘﺲ ﻟﮯ ﻟﯿﮯﺍﻭﺭ ﺟﯿﺖ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﺎﻡﮐﺮﻟﯽ۔ ﺍﺱ ﺟﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﭘﺮ ﻋﺎﻟﻤﯽ ﺩﺑﺎٶ ﮐﺎ ﻏﻠﺒﮧﺭﮨﺎ۔ﺟﮩﺎﮞ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺸﻤﯿﺮ ﮐﮯ ﺭﮨﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯﺑﮭﯽ ﻣﻘﺒﻮﺿﮧ ﮐﺸﻤﯿﺮ ﮐﯽ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﮐﮯ ﺣﻖ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﮟ ،ﻭﮨﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮔﺮﻭﮦﺍﯾﺴﺎ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺸﻤﯿﺮ ﺍﻭﺭﻣﻘﺒﻮﺿﮧ ﮐﺸﻤﯿﺮ ﮐﯽ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﺳﮯ ﻣﺸﺘﺮﮐﮧ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﮐﺎ ﺧﻮﺍﮨﺎﮞ ﮨﮯ
ﺍﺳﯽ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮯ ﺳﮯ ﻭﮨﺎﮞ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﮐﯽﺗﺤﺮﯾﮑﯿﮟ ﺳﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ ۔ﺍﻥ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻒ ﮨﮯ ﮐﮧ، ”ﮨﻢ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽﻧﺴﻠﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﻨﮓ ﻭﺭﺛﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟﺩﯾﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ“۔ ﺟﺐ ﺳﮯ ﺑﮭﺎﺭﺗﯽ ﻭﺯﯾﺮ ﺍﻋﻈﻢ ﻧﺮﯾﻨﺪﺭ ﻣﻮﺩﯼ ﮐﯽﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﺑﮭﺎﺭﺗﯿﮧ ﺟﻨﺘﺎ5 ﭘﺎﺭﭨﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﺗﺤﺎﺩﯾﻮﮞ ﻧﮯ370 ﮐﻮ ﺁﺭﭨﯿﮑﻞ2019ﺍﮔﺴﺖ ﺧﺘﻢ A ۔35ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺷﻖ ﮐﺮﮐﮯ ﺟﻤﻮﮞ ﮐﺸﻤﯿﺮ ﮐﯽ ﺁئینی ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺧﺘﻢ ﮐﺮﺩﯼ ﮨﮯ، ﺗﺐ ﺳﮯﺍﺏ ﺗﮏ ﻭﮨﺎﮞ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﭘﺮﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﺟﯿﺮﻥ ﺑﻦ ﭼﮑﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﺳﯽﮐﮯ ﻧﺘﯿﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺗﺤﺮﯾﮑﯿﮟ ﻣﺰﯾﺪﺯﻭﺭ ﭘﮑﮍ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ ۔ ﮐﺸﻤﯿﺮ ﭘﮧﻧﺎﺟﺎئزﻗﺒﻀﮯ ﺳﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﮐﺮﻓﯿﻮ ﮐﮯﻧﻔﺎﻅ ﺗﮏ، ﺍﻧڈﯾﺎ ﻭﮨﺎﮞ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽﺣﻘﻮﻕ ﮐﯽ ﺑﺪ ﺗﺮﯾﻦ ﺧﻼﻑ ﻭﺭﺯﯼﮐﺎ ﻣﺮﺗﮑﺐ ﮨﻮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔ ﻭﮨﺎﮞ ﮐﮯﻣﻮﺍﺻﻼﺗﯽ ﺭﺍﺑﻄﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﻨﻄﻘﮧﮨﻮﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﯽ ﻋﺼﻤﺖﺩﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﮐﺸﻤﯿﺮﯾﻮﮞ ﭘﺮ ﮐﮭﻠﮯ ﻋﺎﻡﻇﻠﻢ ﻭ ﺟﺒﺮ ﮐﻮ ﭘﺎﻧﭻ ﻣﺎﮦ ﺳﮯ ﺍﻭﭘﺮﮨﻮ ﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ ۔ﻣﮕﺮ ﺍﻗﻮﺍﻡ ﻣﺘﺤﺪﮦﺍﺳﻼﻣﯽ ﺳﺮﺑﺮﺍﮨﯽ ﮐﺎﻧﻔﺮﻧﺲ ﺍﻭﺭﺧﻮﺩ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺷﮧ ﺭﮒ ﮐﺎ ﺭﺍﮒ ﻻﭘﻨﮯﻭﺍﻟﮯ، ﺍﻭﺭ ﮐﺸﻤﯿﺮ ﺑﻨﮯ ﮔﺎ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﻧﻌﺮﮮ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ، ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻣﻠﮏﮐﮯ ﺍﻋﻠﯽ ﺣﮑﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏﻧﺎﻗﺎﺑﻞ ﻓﮩﻢ ﭼﭗ ﺳﯽ ﻟﮕﯽ ﮨﻮٸﯽﮨﮯ ۔ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﯼ ﻭﺟﮧ ﺷﺎﯾﺪﮐﺸﻤﯿﺮ ﮐﮯ ﻣﻌﺎﻣﻠﮯ ﭘﺮ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻧﺎﮐﺎﻡﺧﺎﺭﺟﮧ ﭘﺎﻟﯿﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ.
5 ﺍﻭﺭ 370ﯾﮩﺎﮞ ﺁﺭﭨﯿﮑلﮐﯽ ﺁئینی ﺣﯿﺜﯿﺖ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮭﻨﺎﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ سےﮐﺸﯿﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮨﻮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ۔ﺍﺱ ﺁﺭﭨﯿﮑﻞ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽﻣﺨﺼﻮﺹ ﺷﻖ ﮐﻮ ﺧﺘﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯﺑﻌﺪ ﻣﻘﺒﻮﺿﮧ ﮐﺸﻤﯿﺮ ﮐﯽ ﺭﯾﺎﺳﺘﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﮔئی ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦﺻﺮﻑ ﻭﻓﺎﻗﯽ ﺍﮐﺎئی ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔370 ﮐﮯ ﺗﺤﺖ ﺭﯾﺎﺳﺖ ﺟﻤﻮﮞ ﮐﺸﻤﯿﺮ ﮐﯽ ﺁئین ﺳﺎﺯ ﺍﺳﻤﺒﻠﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺁ ئین ﺑﻨﺎﻧﮯ ﺍﻭﺭﺍﻥ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﭘﯿﺮﺍ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﭘﻮﺭﯼﺁﺯﺍﺩﯼ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﺳﻤﺒﻠﯽ ﮐﯽ ﻣﺪﺕ ﭼﮫﺳﺎﻝ ﻣﻘﺮﺭ ﺗﮭﯽ۔ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﺑﮭﺎﺭﺗﯽﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﻮ ﯾﮩﺎﮞ ﻣﺎﻟﯿﺎﺗﯽ ﺍﯾﻤﺮﺟﻨﺴﯽ ﻧﺎﻓﺬ ﮐﺮﻧﮯﮐﯽ ﺁﺯﺍﺩﯼﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ۔ ﺑﮭﺎﺭﺕ ﮐﯽ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﺭﯾﺎﺳﺖ ﮐﺎﺷﮩﺮﯼ ﻣﻘﺒﻮﺿﮧ ﮐﺸﻤﯿﺮ ﻣﯿﮟﺟﺎﺋﯿﺪﺍﺩ ﺧﺮﯾﺪﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺘﻘﻞﺭﮨﺎﺋﺶ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﻖ ﻧﮩﯿﮟﺭﮐﮭﺘﺎﺗﮭﺎ۔ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﺭﯾﺎﺳﺖ ﮐﮯ ﺷﮩﺮﯼ ﮐﻮﯾﮩﺎﮞ ﻣﻼﺯﻣﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻞ ﺳﮑﺘﯽﺗﮭﯽ۔ ﺟﻤﻮﮞ ﻭ ﮐﺸﻤﯿﺮ ﮐﮯ ﺷﮩﺮﯾﻮﮞ ﮐﮯﭘﺎﺱ ﺩﻭﮨﺮﯼ ﺷﮩﺮﯾﺖ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﮭﯽ۔ﮐﺴﯽ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺭﯾﺎﺳﺖ ﮐﮯ ﺷﺨﺺﺳﮯ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟﮐﺸﻤﯿﺮﯼ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﯽ ﺷﮩﺮﯾﺖ ﺧﺘﻢﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﻣﺮﺩﮐﺴﯽ ﮐﺸﻤﯿﺮﯼ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﮐﺸﻤﯿﺮ ﮐﯽﺷﮩﺮﯾﺖ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ﮐﺸﻤﯿﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﮐﻮﺑﮭﺎﺭﺕ ﮐﯽ ﺷﮩﺮﯾﺖ ﺑﮭﯽ ﻣﻞﺳﮑﺘﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻏﯿﺮ ﮐﺸﻤﯿﺮﯼ ﯾﮩﺎﮞ ﺯﻣﯿﻦ ﻭﺟﺎئیداﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﺧﺮﯾﺪﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﺍﻗﻠﯿﺘﯽ ﮨﻨﺪﻭﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺳﮑﮭﻮﮞ ﮐﻮ16 ﻓﯿﺼﺪ ﺭﯾﺰﺭﻭﯾﺸﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎﺗﮭﺎ.اﺱ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﮐﮯ ﺗﻮﮌﻧﮯ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﺮﺍ ﺍﺛﺮ ﯾﮩﺎﮞ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﭘﺮ ﺍﺱ
ﻃﺮﺡ ﭘﮍ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﮭﺎﺭﺕ ﮐﺎﮐﻮئی ﺑﮭﯽ ﺷﺨﺺ ﯾﮩﺎﮞﺟﺎئیداد ﺧﺮﯾﺪ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺘﻘﻞ ﯾﮩﺎﮞ ﺭﮨﺎ ئشﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐرﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺍﮐﺜﺮﯾﺖ ﺳﮯ ﺍﻗﻠﯿﺖ ﻣﯿﮟ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮨﻮﺳﮑﺘﮯﮨﯿﮟ.ﺟﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﺸﻤﯿﺮ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯﭘﮩﻠﮯ ﺗﻮ ﺻﺮﻑ ﻇﻠﻢ ﮨﻮﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭاﺏ ﻭﮨﯽ ﮐﺸﻤﯿﺮ ﺟﺴﮯ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﺷﮧﺭﮒ ﮐﮩﺘﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﮑﺘﮯ ﺗﮭﮯ، ﺍﺏﮨﻢ ﺳﮯ ﮐﭧ ﭼﮑﯽ ﮨﮯ ۔ ﺍﻭﺭ ﺍﺏ ﺗﻮاﻓﺴﻮﺱ ﮐﺎﻋﺎﻟﻢ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻟﻮﮒﮐﺸﻤﯿﺮ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﭘﺮ ﻇﻠﻢ ﻭ ﺳﺘﻢﮐﯽ ﺩﺍﺳﺘﺎﻥ ﺳﻨﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﮔﻮﺍﺭﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ۔ﺑﭽﭙﻦ ﺳﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺫﮨﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟﺷﮧ ﺭﮒ ﺑﭩﮭﺎ ﮐﺮ ﺍﺏ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧﻣﻘﺒﻮﺿﮧ ﮐﺸﻤﯿﺮ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﻭ۔
ﻭﺍۓ ﻧﺎﮐﺎﻣﯽ ﻣﺘﺎﻉ ﮐﺎﺭﻭﺍﮞﺟﺎﺗﺎ ﺭﮨﺎ
ﮐﺎﺭﻭﺍﮞ ﮐﮯ ﺩﻝ ﺳﮯ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﺯﯾﺎﮞﺟﺎﺗﺎ ﺭﮨﺎ

حیا اورایمان

تحریر:بنت حوا
مدینہ کی گلیوں میں منادی کرنے والے کی صدا گونجتی ہے، کہ پردے کا حکم نازل ہو گیا ہے۔ بازار میں موجود بیبیاں، دیواروں کی طرف رخ پھیر لیتی ہیں، کچھ بالوں سے خود کو چھپاتی ہیں۔ کہ اب تو چادر کے بغیر گھر نہیں جائیں گی۔ بچوں کو دوڑاتی ہیں کہ گھر سے چادر لے آؤ۔ مرد حضرات منادی سنتے ہیں۔ گھروں کو لپک کر گھر کی خواتین کو یہ حکم سناتے ہیں۔ ان کو تاکید سے خود کو ڈھانپنے کا کہتے ہیں۔ مگر کوئی بی بی سوال نہیں کرتی کہ پردہ کس چیز سے کرنا ہے، چادر موٹی ہو یا باریک، آنکھیں کھلی ہوں یا چھپی، اور بس، خود کو ایسے چھپا لیتی ہیں جیسے کہ حق تھا۔ اگلے دن فجر کی نماز میں کوئی بھی خاتون بغیر پردے کے نظر نہیں آتی۔
تاریخ کچھ اوراق الٹاتی ہے اور منظر تبدیل ہوتا ہے۔ شناختی کارڈ ہاتھ میں پکڑے، سکیورٹی گارڈ گردن کو خم دے کر، ڈھیلے سے انداز میں سامنے پردے میں کھڑی لڑکی سے کہتا ہے، ’’یہ آپ کی تصویر تو نہیں ہے، مجھے کیسے پتہ چلے گا کہ یہ آپ ہی ہیں؟‘‘ لڑکی منت کرتی ہے کہ کسی خاتون سے کہہ دیجیے کہ وہ میری شکل دیکھ لے، مگر ہوس کا مارا گارڈ اپنی اس ذرا سی اتھارٹی کا بھرپور فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔۔۔ ’’آپ کو چیک کرنا میری ذمہ داری ہے!‘‘ اور پھر، حوا کی اس باحیا بیٹی کے پاس، اپنا نقاب سرکا دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہتا۔۔!
ذرا سوچیے تو سہی ہم یہاں تک کیسے پہنچے؟ آدم ؑکے بیٹے اور محمد ِؐعربی کی امت کے مرد کی غیرت کیا ہوئی کہ آج وہ خود بنتِ حوا کے پردے کے اترنے کا منتظر ہے؟ امت کی بیٹیوں میں سے چند نے سوال کیے بغیر حیا کو شعار بنایا تو چاروں جانب کانٹے کھڑے کیوں دیکھے؟ اس زہر کو اپنے اندر انڈیلتے رہنے پر احتجاج کی سکت ہم میں کیوں باقی نہ رہی؟
یہ زہر ایک دم ہمارے وجود کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ ہمیں وقتا فوقتا تھوڑی تھوڑی مقدار میں اس کی خوراک دی جاتی رہی۔ یہ عمل غیر محسوس انداز میں جاری رہا کہ کبھی اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہی محسوس نہ کی گئی۔
¬¬سر پر دوپٹا اوڑھے خبریں سناتی نیوز کاسٹرز کا دوپٹہ سرکتے سرکتے کندھوں تک جا پہنچا، اور ہم نے یہ گولی نگل لی۔
ڈراموں میں کام کرتی خواتین کی آستین گھٹتی گھٹتی کندھوں تک جا پہنچی، اور ہم نے یہ گولی بھی نگل لی۔
چلتے چلتے یہ زہر ہمارے گھر کی دہلیز پار کر گیا، اور ہماری باحیا بہنوں اور بیٹیوں سے حجاب اتار پھینکنے کا تقاضا کرنے لگا۔ بےحسی کے عالم میں آدم کےبیٹے نے اردگرد نظر دوڑائی تو یہ زہر ہر گھر میں فیشن اور ماڈرنزم کا خوبصورت لبادہ اوڑھے نظر آیا۔ ’’اس دور میں جینے کا یہی تقاضا ہے!‘‘ کے نسخے نے اسے اس گولی کو نگلنے پر بھی آمادہ کر لیا۔
اور نوبت یہاں تک پہنچی، کہ آج جب کوئی سوال نہ کرنے والی اپنے حجاب کی تقدیم کا سوال کر بیٹھے، تو ایک ساتھ کئی انجیکشن اس کے جسم میں بھی اتار دیے جاتے ہیں۔۔
’’منع بھی کیا تھا تمھیں کہ اس ٹینٹ جیسے پردے میں نہ چھپاؤ خود کو!‘‘
’’یہ تو سب کے ساتھ ہو رہا ہے!‘‘
’’لوگوں کے ساتھ اس سے بڑے بڑے واقعات ہوتے ہیں!‘‘
’’تم کیا کر سکتی ہو اس حال میں۔ کوئی بھی کچھ نہیں کر سکتا!‘‘
’’آئندہ کے لیے اس پردے سے جان چھڑا لو، کہ اب تو یہی ذریعہ ہے بچاؤ کا!‘‘
اور پھر وہ سوال نہ کرنے والی، حجاب کے اترنے پر بھی سوال کرنے کی جرات کھو بیٹھتی ہے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی یا تو حجاب کو اتار پھینکتی ہے یا ہمیشہ کے لیے اپنا اعتماد کھو دیتی ہے! سارے کا سارا ملبہ نسخہ بنانے والے پر ڈالنا عدل نہ ہوگا۔ دوا کو اپنے اندر انڈیلنے والا کیا آنکھیں اور دل نہ رکھتا تھا؟ رکھتا ہے دل، مگر ضمیر کو سلا بیٹھا ہے۔گھر سے باہر حوا کی کوئی بیٹی نظر آئے تو سورۃ النور کا سبق بھول جاتا ہےجس میں اس کو پہلے نظر جھکانے کا حکم دیا گیا ہے:
قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أبْصَارِھِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَھُمْ ۚ ذَٰلِكَ أزْكَىٰ لَھُمْ ۗ إنَّ اللہ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ
’’مومن مردوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں۔ یہ ان کے لئے بڑی پاکیزگی کی بات ہے اور جو کام یہ کرتے ہیں خدا ان سے خبردار ہے۔‘‘
اس حکم کا ادراک اسے اس وقت ہوتا ہے جب ویسی ہی ایک نظر اس کے اپنے گھر تک کسی کے تعاقب میں آ پہنچتی ہے۔ مگر افسوس کہ تب بھی مصلحت آ کر اس کے پاؤں پکڑ لیتی ہے اور وہ سسکتی بلکتی باکرہ کو اس مصلحت کا انجیکشن لگانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ کسی سوال نہ کرنے والی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے اور وہ سوتی قوم کی غیرت کو جگانے کے لیے خود اٹھ کھڑی ہو تو انگلیاں اسی کے کردار پر اٹھانے کا رواج بھی اسی قوم کا طرّہ امتیاز ہے۔ احتجاج کرنے والے کو عبرت کا نشان بنانے والے بھی ہم خود ہی ہیں۔آواز بلند ہونے پر دبا دیے جانے کے ڈر سے خاموشی میں ہی عافیت جاننے سے انقلاب آیا کرتے ہیں نہ زندگی کے آثار باقی رہتے ہیں۔ یاد رکھیے کہ غیرت کا جنازہ اٹھ جانا حیا کی موت کی ہی طرف ایک قدم ہے۔ اس سے اگلا سبق تو ہمیں اکثر یاد دلایا جاتا ہی ہے:
’’حیا اور ایمان ہمیشہ اکھٹے رہتے ہیں،جب ان دونوں میں سے کوئی ایک اٹھالیا جائے تو دوسرا بھی اٹھا لیا جاتا ہے۔‘‘ (حدیثِ نبویؐ)


اورنیل بہتا_رہا….#قسط__نمبر_3

عنایت اللہ التمش

عمر بن عاص مالدار باپ کے بیٹے تھے اور تجارت بھی وسیع پیمانے کی تھی اس لئے سیروسیاحت کا ذوق و شوق بھی تھا وہ جہاں چاہتے بڑے آرام سے جا سکتے تھے۔
شماس کی پیشکش قبول کرنے میں وہ اس لئے پس و پیش کر رہے تھے کہ وہ احسان کا صلہ نہیں لینا چاہتے تھے۔
ویسے شماس کی پیشکش عمر بن عاص کی خواہش کے عین مطابق تھی۔
انہوں نے اس کی بہت شہرت سنی تھی اور کئی بار انہیں اسکندریہ جانے کا خیال آیا تھا انھوں نے اپنے ساتھیوں کو بتایا کہ آج کیا واقعہ ہوا ہے اور یہ شخص انہیں کیا صلہ دے رہا ہے۔
اپنے ساتھیوں کی اس جماعت کے وہ سربراہ تھے ۔
ساتھی انھیں روک نہیں سکتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ وہ شخص کی پیش کش قبول کر لے اور اس کے ساتھ چلے جائیں۔
عمرو بن عاص نے اپنی پسند اور مرضی کا ایک ساتھی اپنے ساتھ تیار کرلیا اور اگلے روز وہ آ گئے جہاں شماس ٹھہرا ہوا تھا۔
اسے بتایا کہ وہ اس کے ساتھ ساتھ اسکندریہ جائیں گے انہوں نے روانگی کا دن اور وقت طے کرلیا۔
اس دور میں نہر سوئز نہیں ہوا کرتی تھی اس لیے خشکی کے راستے بھی مصر جایا جاسکتا تھا ۔
اور اسکندریہ تک جانے کے لیے بحری راستہ بھی تھا یہ بتانا ممکن نہیں کہ وہ لوگ کس راستے گئے خشکی یا سمندر کے راستے ، تاریخ نے اتنا ہی لکھا ہے کہ عمرو بن عاص اپنے ایک ساتھی کے ساتھ شماس کے ہمراہی میں اسکندریہ پہنچ گئے۔
بیت المقدس سے اسکندریہ کا فاصلہ پانچ سو کلومیٹر ہے۔
عمرو بن عاص نے جب اسکندریہ شہر کی شان و شوکت اور حسن و جمال دیکھا تو وہ حیران رہ گئے۔
تاریخ میں لکھا ہے کہ انہوں نے بے ساختہ کہا ،شماس میں نے ایسا شہر اور اتنی دولت کبھی خواب میں بھی نہیں دیکھی تھی ۔
جس کی ریل پیل یہاں دیکھ رہا ہوں۔
مورخوں نے ایک واقعہ لکھا ہے جو دلچسپ بھی ہے اور فکر انگیز بھی ۔
وہ یوں ہے کہ انہی دنوں اسکندریہ میں ایک جشن منایا جارہا تھا۔
تاریخ میں یہ پتہ نہیں ملتا کہ کیسا جشن تھا؟ جس میں صرف شہر کے لوگ ہی شامل نہیں تھے بلکہ شاہی خاندان بھی اس میں شامل تھا اور امراء وزراء اور حاکم بھی اس میں شریک تھے۔
شہسواری تیراندازی تیغ زنی اور کشتیوں کے مقابلے بھی ہو رہے تھے لوگوں نے بڑے ہی قیمتی کپڑے پہن رکھے تھے۔
شماس عمرو بن عاص کو بھی اس جشن میں لے گیا ۔
شماس نے عمرو بن عاص کے لیے ریشمی لباس تیار کروا کے انھیں پہنایا تھا ۔
عمرو بن عاص نے دیکھا کہ شاہی افراد اور حکام بالا میں شماس کو خصوصی پذیرائی حاصل تھی۔
اس روز اس جشن کی خاص تقریب منائی جا رہی تھی۔
لوگ ایک دائرے میں اکٹھا ہو گئے تھے۔
شاہی افراد کے لئے آگے بیٹھنے کے لئے جگہ بنائی گئی تھی لوگوں کے ہجوم کے درمیان جو خالی جگہ تھی وہاں ایک آدمی کھڑا تھا ۔
اس کے ہاتھ میں ایک سنہری گیند تھی وہ بار بار گیند کو پوری طاقت سے اوپر کو پھیکتا تھا۔
اور گیند اوپر جا کر زمین پر گرتی تھی۔

شماس نے عمروبن عاص کو بتایا کہ جب کبھی یہ جشن منایا جاتا ہے۔
اس میں یہ تقریب ضرور منعقد ہوتی ہے۔
ایک آدمی آنکھیں بند کرکے گیند اوپر پھیکتا ہے اور ان لوگوں کا عقیدہ ہے کہ جس شخص کے ایک بازو پر گرے وہ شخص بادشاہ بنے بغیر مر نہیں سکتا ۔
عمرو بن عاص نے دیکھا کہ گیند زیادہ تر زمین پر گرتی تھی۔
اور اگر کسی آدمی پر گریں تو اس کے بازو پر نہ گری سر پر یا کندھے یا پیٹ پر گری، شماس چونکہ صاحب حیثیت اور مرتبے والا آدمی تھا، اس لئے اسے آگے بیٹھنے کو جگہ ملی اور وہ عمرو بن عاص کو بھی آگے لے گیا،
گیند پھینکنے والے نے ایک بار پھر گیند اوپر کو پھیکی تو گیند عمرو بن عاص کے دائیں بازو پر آپڑی اور عمرو نے گیند کو وہیں پکڑ لیا ۔
شاہی خاندان کے افراد اٹھ کھڑے ہوئے، وہ اس شخص کو اچھی طرح دیکھنا چاہتے تھے جس کے بازو پر گیند گری تھی۔
شماس نے اٹھ کر اعلان کیا کہ اس شخص کا نام عمرو بن عاص ہے اور یہ مکہ سے یہاں آیاہے ۔
تماشائیوں میں کئی لوگ قہقہہ لگا کر ہنسے اور کسی کی بڑی بلند آواز آئی۔
یہ سب غلط ہے۔۔۔۔ عرب کا یہ بدبو ہمارا بادشاہ نہیں ہو سکتا ۔
ہجوم میں سے کئی آوازیں اٹھیں۔
نہیں ۔۔۔۔۔ہرگز نہیں۔۔۔۔۔۔ یہ چھوٹا ناٹا سا بدو مصر کا بادشاہ کیسے ہوسکتا ہے؟
یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ عمرو بن عاص عرب کے عام لوگوں کی طرح دراز قد نہیں تھے ۔
ان کا قد چھوٹا، سر بڑا ،ہاتھ اور پاؤں کچھ زیادہ ہی بڑے تھے، ان کی بھویں گھنی تھیں، اور منہ بھی کچھ زیادہ چوڑا تھا، داڑھی لمبی رکھتے تھے، سینہ تو خاص طور پر چھوڑا تھا۔ یہ کسی دلکش آدمی کی تصویر نہیں بنتی لیکن ان کی سیاہ چمکیلی آنکھوں اور چہرے پر بشاشت اور زندہ دلی کا تاثر رہتا تھا۔
غصے والی بات پر بھی انہیں غصہ نہیں آتا تھا ان کا یہ جسم دیکھ کر اسکندریا والوں نے ان کا مذاق اڑایا اور کہا کہ یہ شخص انکا بادشاہ نہیں ہوسکتا۔
اللہ کے بھید کو کوئی نہیں پا سکتا ،کوئی بھی نہ سمجھ سکا ۔
خود عمروبن عاص بھی نہ سمجھ سکے کہ یہ اللہ تبارک و تعالی کا ایک اشارہ ہے۔
جو کچھ ہی عرصے بعد عملی شکل میں سامنے آجائے گا ۔
اور آج جو لوگ اور شاہی خاندان کے جو افراد اس عربی بدو کا مذاق اڑا رہے ہیں یہ انقلاب بھی دیکھیں گے کہ یہی عربی مصر کے بادشاہ کا تخت الٹ دے گا۔
اور فاتح مصر کہلائے گا اور انھیں لوگوں پر اس کا حکم چلے گا۔
گیند کی رسم ادا ہو چکی تھی اور گیند نے ان کے عقیدے کے مطابق فیصلہ دے دیا تھا ۔
لیکن تماشائیوں کا ہجوم اس فیصلے کو منظور نہیں کررہا تھا۔
اس رسم کا یہ مطلب نہیں تھا کہ جس پر گیند گری ہو اسے اسی وقت بادشاہ بنا دیا جاتا تھا۔ بلکہ مطلب یہ تھا کہ وہ آنے والے وقت میں بادشاہ بن سکتا ہے لیکن ہجوم نے ہنگامہ بپا کر رکھا تھا۔
شماس نے عمرو بن عاص کا بازو پکڑا اور انہیں وہاں سے اٹھا کر اپنے ساتھ لے آیا اور گھر لے گیا دو تین دن اور اسکندریہ کی سیر کروائی اور پھر بوقت رخصت دو ہزار دینار پیش کیے ،جو عمر بن عاص نے کچھ پس و پیش کے بعد لے لیے شماس نے عمرو بن عاص اور ان کے ساتھی کے ساتھ اپنا ایک آدمی روانہ کیا اور اس سے کہا کہ انھیں بیت المقدس چھوڑ کر واپس آجائے۔
ابن عبدالحکم لکھتا ہے کہ عمرو بن عاص مصر سے تو آگئے لیکن مصر اور اسکندریہ ان کے ذہن پر ایسا سوار ہوا کہ وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ وہ مصر میں جاکر آباد ہونا چاہتے ہیں۔
=÷=÷=÷=÷۔=÷=÷=÷
چونکہ یہ باب اس داستان کا تعارفی باب ہے اس لئے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ عمرو بن عاص کی شخصیت اور جنگی فہم و فراست کی ایک دو جھلکیاں دیکھ لی جائیں۔
یہ تو بیان ہو چکا کہ عمرو بن عاص نے اسلام کس طرح قبول کیا تھا ۔
اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر کس طرح اعتماد کیا۔
اور انہیں جنگی امور میں اعلی رتبہ دیا تھا ۔
ہم آپ کو اس داستان کے اس دور میں تھوڑی سی دیر کے لیے لے جاتے ہیں جب ابوعبیدہ، خالد بن ولید، شرجیل بن حسنہ، اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنھم نے شام سے رومیوں کے پاؤں اکھاڑ دیے تھے۔
اور رومی پسپائی کی کیفیت میں داخل ہو چکے تھے۔
ہم کسی معرکے کو تفصیل سے بیان نہیں کریں گے، ورنہ اصل داستان دھری رہ جائے گی۔
رومیوں کا مشہور جرنیل تو ہرقل تھا لیکن ان کا ایک انتہائی چالاک عیار اور مکار جرنیل اطربون تھا۔
اس کی عسکری فہم و فراست اور میدان جنگ میں نظروں کی گہرائی کا تو کوئی جواب ہی نہیں تھا۔
وہ ہرقل کا ہم پلہ اور ہم رتبہ تھا ،لیکن اس کے مقابلے میں طفل مکتب لگتا تھا ،تاریخ حیرت کا اظہار کرتی ہے کہ مسلمان سپہ سالاروں نے اطربون کو کس طرح شکست دے دی تھی۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انتقال فرما چکے تھے، خلیفہ اول ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اللہ کو پیارے ہو چکے تھے ،اور اب خلیفۃ المسلمین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ تھے۔
عمررضی اللہ عنہ عمرو بن عاص کے جوہر دیکھ چکے تھے۔
اور ان کی خوبیوں سے بھی اچھی طرح آگاہ تھے۔
عمررضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے، کہ خالد بن ولید خطرہ مول لیا کرتے ہیں، اور شجاعت میں دوسروں کو حیران کر دیتے ہیں، لیکن عمرو بن عاص سوچ سمجھ کر قدم اٹھاتے ہیں اور آگ میں بھی کود جاتے ہیں ، جنگی مبصروں نے لکھا ہے کہ عمرو بن عاص دشمن کو دھوکہ دینے کی پالیسی پر عمل کرتے تھے۔
اور ان میں شجاعت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی ۔
دوبدو معرکوں میں دشمن تو ان کے سامنے کبھی ٹھہرے ہی نہیں سکتا تھا۔
اور انہوں نے ایسی مثالیں پیش کر کے دکھا دی تھی۔
رومی فوجیں شام سے پسپا ہوئی اور فلسطین میں مختلف مقامات پر پھیل گئی یہ رومیوں کی ایک چال تھی جو انہوں نے مسلمانوں کی قلیل تعداد دیکھ کر چلی تھی۔
ان کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کا لشکر کسی ایک مقام پر حملہ کرے گا تو یہ تمام بکھری ہوئی فوج اس طرح اکٹھا کر لی جائے گی کہ مسلمان کے اس تھوڑے سے لشکر کو ہر طرف سے گھیر لیا جائے گا۔
عمرو بن عاص کے ذمہ بیت المقدس کی فتح لگادی گئی ان کے مقابل رومیوں کا انتہائی چالاک جرنیل تھا وہ اس وقت اپنی فوج اجنادین کے مقام پر لے جا رہا تھا۔
عمرو بن عاص نے اپنے لشکر کی نفری اور جسمانی کیفیت دیکھی تو امیرالمؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا کہ کمک بھیجیں دیں کیونکہ مقابلہ اطربون سے ہے ۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پیغام ملتے ہی اچھی خاصی کمک بھیج دی (اور تاریخ میں آیا ہے )کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے ایک بڑا دلچسپ جملہ کہا انہوں نے فرمایا ہم نے عرب کے اطربون کو روم کے اطربون سے ٹکرا دیا ہے ۔
اب دیکھتے ہیں اس کا کیا نتیجہ سامنے آتا ہے۔
حضرت عمر اچھی طرح جانتے تھے کہ اطربون جنگی کیفیت میں لومڑی جیسی چالاکی اور عیاری کو ایسی خوبی سے استعمال کرتا ھے کہ اپنے دشمن کو چکر دے کر بھگا دیتا ہے۔ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ کچھ ایسے ہی اوصاف عمروبن عاص میں بھی تھے۔
=÷=÷=÷=÷۔=÷=÷=÷
امیر المومنین کی بھیجی ہوئی کمک فلسطین عمرو بن عاص کے پاس پہنچ گئی عمرو بن عاص نے یوں نہ کیا کے ساری کمک اپنے پاس رکھ لیتے انہوں نے دیکھ لیا تھا کہ اپنا لشکر تین چار حصوں میں بٹ گیا تھا ۔
اور کسے کمک کی زیادہ ضرورت تھی۔
انہوں نے دو مقامات پر کمک بھیج دیا اور کچھ اپنے ساتھ رکھی۔
لیکن جب آگے بڑھے تو دیکھا کہ اطربون نے اپنی فوج قلعہ بند کر لی ہے۔
اور چاروں طرف گہری خندق کھود رکھی ہے۔ عمرو بن عاص نے دیکھ لیا کہ محاصرہ کیا تو بڑا ہی لمبا ہوجائے گا اور خندق کی وجہ سے یہ قلعہ سر کرنا اگر ناممکن نہیں تو بہت ہی دشوار ضرور ہوگا طریقہ ایک ہی ہے کہ اب ان کو دھوکے میں لایا جائے۔
انہوں نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ دو ایلچی اطربون کی طرف بھیجے جن کے لئے ہدایت یہ تھی کہ وہ عطربون کے ساتھ صلح کے معاہدے کی بات چیت کریں تو وہ یقینا نہیں مانے گا ،لیکن اصل مقصد یہ ہے کہ قلعے کے اندر اچھی طرح دیکھیں کہ یہ قلعہ کس طرح سر کیا جاسکتا ہے۔
اور رومیوں کے فوج کی نفری کتنی ہے وغیرہ وغیرہ عمرو بن عاص کا مقصد صلح نہیں تھا بلکہ جاسوسی تھا۔
دونوں ایلچی گئے اور بات چیت کر کے واپس آ گئے۔
عمرو بن عاص نے جب ان سے اپنے ذہن کے مطابق پوچھنا شروع کیا کہ انہوں نے کیا فلاں چیز دیکھی تھی؟
یہ بات کی تھی؟
عطربون کے اس سوال کا کیا جواب دیا تھا ؟
اور تم لوگ دیکھ کر کیا آئے ہو؟
عمرو بن عاص نے دیکھا کہ یہ دو ایلچی نکمے ثابت ہوئے ہیں۔
اور وہاں عطربون سے مرعوب ہو کر آئے ہیں۔ اور انہوں نے جاسوسی پوری طرح کی ہی نہیں۔
عمرو بن عاص نے اپنے ماتحت سالاروں سے کہا کہ وہ خود ایلچی بن کر جائیں گے۔
اور یہ ظاہر ہونے ہی نہیں دیں گے کہ مسلمانوں کی اس لشکر کے سپہ سالار وہی ہیں ۔
اور ان کا نام عمرو بن عاص ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کو ذرا سا بھی شک ہو گیا تو وہ پکڑ کر قتل کروا دے گا ،یا کال کوٹھری میں پھینک دے گا۔
عمرو بن عاص نے بھیس بدلا اور اپنے سالاروں سے رائے لی ہیں اور انکے رائے کے مطابق اپنے بہروپ میں کچھ تبدیلیاں کیں اور اللہ کا نام لے کر چل پڑے۔
قلعے کے دروازے پر جاکر انہوں نے بتایا کہ مسلمانوں کے سپہ سالار نے انہیں ایلچی کے طور پر بھیجا ہے۔
اور عطربون سے بات چیت کرنی ہے ۔
اطربون کو اطلاع ملی تو اس نے انہیں فوراً بلالیا ۔
عمروبن عاص عطربون کے سامنے جا کھڑے ہوئے۔
اور ایسی اداکاری کی جیسے وہ صرف ایلچی ہیں۔
اور اپنے لشکر میں ان کا کوئی ایسا اونچا رتبہ عہدہ نہیں۔
عطربون نے انہیں اتنی ہی تعظیم دی جیتنی ایک ایلچی کو دی۔ جایا کرتی تھی
صلح کے مذاکرات شروع ہوئے عمرو بن عاص نے تو یہ سن رکھا تھا کہ عطربون بہت ہی چالاک آدمی ہے۔
لیکن انھیں اندازہ نہ تھا کہ وہ کس حد تک چالاک ہے ۔
اور اس کی نظریں کتنی گہرائی تک پہنچ جایا کرتی ہیں۔
عمرو بن عاص آخر سپہ سالار تھے اور اپنے قبیلے میں بھی انہیں برتری حاصل تھی اور یہ برتری انکا بنیادی جزو تھا۔
انسان شعوری طور پر تو بہت کچھ کرسکتا ہے۔
لیکن لاشعور پر پردہ ڈالنا ممکن نہیں ہوتا، شاید باتیں کرتے کرتے عمرو بن عاص کے منہ سے کچھ ایسی بات نکل گئی ہو گی یا انہوں نے لب و لہجے میں کوئی ایسا تاثر پیدا کر دیا ہو گا کہ عطربون چونکا۔
میری نظروں نے مجھے کبھی دھوکا نہیں دیا عطربون نے مسکراتے ہوئے کہا میرا خیال ہے کہ میں کسی ایلچی سے نہیں بلکہ عرب کے سپہ سالار کے ساتھ بات کررہا ہوں ۔
کیا تم عمرو بن عاص نہیں ہو ؟
نہیں عمرو بن عاص نے جواب دیا ۔
اگر میں عمرو بن عاص ہوتا تو اپنے اوپر جھوٹا پردہ ڈالنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی ہمارے سپہ سالار عمرو بن عاص اتنے نڈر اور بے خوف انسان ہیں کہ انہوں نے کبھی جھوٹ بولا ہی نہیں۔
تاریخ میں لکھا ہے کہ عطربون ہنس پڑا جیسے وہ عمرو بن عاص کی بات مان گیا ہو اور انہیں ایلچی ہی سمجھ رہا ہو۔
جنگ کے بعد جنگی قیدیوں سے پتہ چلا تھا کہ عطربون نے عمر بن عاص کو صحیح پہچانا تھا۔ اور انہیں دھوکا یہ دیا تھا کہ اسے غلطی لگی ہے اور واقعی ایلچی ہے۔
عمرو بن عاص اس کے جواب سے مطمئن نہ ہوئے اور سوچنے لگے کہ یہاں سے کس طرح نکلا جائے۔
انہیں شک اس طرح ہوا کہ مذاکرات کے دوران عطربون کسی بہانے باہر نکلا اور جلدی واپس آ گیا اور مذاکرات شروع کردیئے اس کی اس حرکت سے عمرو بن عاص کو پکا شک ہوگیا کہ ان کی خیر نہیں۔
بعد میں جو اصل بات کھلی تھی وہ یہ تھی کہ اطربون نے باہر جاکر اپنے ایک محافظ سے کہا تھا کہ وہ فلاں جگہ جاکر انتظار کرے اور یہ عربی جو اندر بیٹھا ہے واپس جا رہا ہوں تو پیچھے سے اس کی گردن پر ایسا وار کرے کہ سر تن سے جدا ہو جائے۔
وہ محافظ اس جگہ چلا گیا تھا جو اس کام کے لیے موضوع تھی عمرو بن عاص نے ایک طریقہ سوچ لیا انہوں نے مذاکرات کا رنگ ہی بدل ڈالا اور یوں ظاہر کرنے لگے جیسے وہ رومیوں کی طاقت سے ڈرتے ہیں اور ان کے شرائط مان لیں گے اس رویے کا اثر ان پر خاطر خواہ اثر ہوا۔
اب میں آپ کو اپنی اصل حیثیت بتاتا ہوں عمرو بن عاص نے کہا ۔
میں سپہ سالار عمرو بن عاص کا بھیجا ہوا الچی نہیں ہوں۔
بلکہ ہم اپنے امیرالمومنین حضرت عمر بن خطاب (رضی اللہ عنہ)کے بھیجے ہوئے دس مشیر ہیں اور ہمیں آپ کے ساتھ صلح کی بات چیت کیلئے بھیجا گیا اور ہمارے حکم یہ ہے کہ قابل قبول شرائط مان لیں۔
ہم مدینہ سے سیدھے آپ کے پاس پہونچے ہیں۔
عمروبن عاص کا ان مذکرات کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔
میں نے آپ کی بات سن لی ہے ۔
میرے باقی نو ساتھی میرے انتظار میں بیٹھے ہیں اگر آپ چاہیں تو میں ان سب کو یہاں لے آؤں گا اور آپ چاہیں تو میں جاکر انہیں بتاؤں گا کہ یہ بات ہوئی ہے ۔
فیصلہ کرکے آپ کو بتا دیں گے مجھے یہی توقع ہے کہ میرے ساتھی آپ کی شرائط مان لیں گے ۔
یہ تو اور زیادہ اچھا ہے اطربون نے کہا بہتر ہے تم انہیں یہی لے آؤ۔
اطربون پھر کسی کام کے بہانے باہر نکلا اور ایک محافظ کو یہ حکم دیا کہ فلاں محافظ فلاں جگہ کھڑا ہوگا اسے کہہ دو کہ تمہیں جو پہلے کام بتایا تھا وہ اب نہیں کرنا اور واپس آ جاؤ۔ عمروبن عاص وہاں سے اٹھے خیروخوبی قلعے سے نکل آئے پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ۔
اطربون شام تک انتظار کرتا رہا۔
یہ عربی سپہسالار مجھے دھوکا دے کر زندہ نکل گیا ہے ۔
اطربون نے کہا میں نے اس سے بڑھ کر عیار آدمی کبھی نہیں دیکھا۔
اس کے بعد میدان میں بڑی خونریز لڑائی ہوئی جس میں دونوں طرف کا بے پناہ جانی نقصان ہوا اور اطربون اپنی بچی کچھی فوج کو ساتھ لے کر بیت المقدس چلا گیا اور وہاں فوج کو قلعہ بند کر لیا عمرو بن عاص اور ایک دو اور سالاروں نے بیت المقدس کو محاصرے میں لے لیا۔
ایک روز عمرو بن عاص کو اطلاع دی گئی کہ اطربون کا کوئی ایلچی پیغام لایا ہے۔
انہوں نے الچی کو فورا بلالیا اور پیغام لے کر پڑھا اطربون نے لکھا تھا۔
تم میرے دوست ہو اور تمہاری قوم نے تمہیں وہی رتبہ دیا ہے جو میری قوم نے مجھے دے رکھا ہے۔
میں تمہیں کسی دھوکے میں نہیں رکھنا چاہتا تم نے اگر اجنادین ہم سے لے لیا تو اس خوش فہمی میں مبتلا نہ رہنا کہ تم فلسطین کا کوئی اور حصہ فتح کر لو گے ۔
تم فلسطین میں اب کوئی اور کامیابی حاصل نہیں کر سکتے تمہارے لیے بہتر یہ ہے کہ یہیں سے واپس چلے جاؤ اور اپنے آپ کو تباہی سے بچا لو اگر تم نے میری بات نہ مانی تو تمہارا انجام انہیں جیسا ہوگا جو بیت المقدس کو فتح کرنے آئے تھے اور پھر زندہ واپس نہ جا سکے۔
عمرو بن عاص نے اطربون کے ایلچی کے ہاتھ اس کے پیغام کا جواب بھیج دیا انہوں نے جواب میں لکھا۔
میں فلسطین کا فاتح ہوں میں تمہیں دوستانہ مشورہ دیتا ہوں کہ اپنے مشیروں کے ساتھ تبادلہ خیالات کرلو ہوسکتا ہے وہ تمہیں تباہی سے بچانے کے لئے کوئی دانشمندانہ مشورہ دے سکے۔
اجنادین اور بیت المقدس کی فتح ایک الگ داستان ہے یہاں ایک دلچسپ بات سامنے آتی ہے جو تاریخ کے دامن میں محفوظ ہے مؤرخ طبری نے لکھا ہے کہ اطربون نے عمرو بن عاص کا پیغام پڑھا ان کی الفاظ پڑھ کر وہ ہنس پڑا کہ میں فلسطین کا فاتح ہوں۔
ابھی بیت المقدس فتح نہیں ہوا تھا اطربون نے عمرو بن عاص کا یہ پیغام اپنے مصاحبوں اور مشیروں کو پڑھ کر سنایا اور کہا کہ عمرو بن عاص بیت المقدس کا فاتح نہیں ہوسکتا ،اس نے ایسے لہجے میں یہ بات کہی کہ سننے والوں کو یہ خیال آیا کہ بیت المقدس ضرور فتح ہوگا ،لیکن فاتح عمر بن عاص نہیں ہونگے، ان میں سے کسی نے اس سے پوچھا کہ اس نے ایسی بات کیوں کہی ہے۔
بیت المقدس کے فاتح کا نام عمر ہے،، ۔
اطربون نے یہ عجیب بات کہی ، توریت میں لکھا ہے کہ بیت المقدس کے فاتح کے نام میں صرف تین حروف ہوں گے یہ تین حروف عمر ہوسکتے ہیں۔
پھر تورات میں عمر کے اوصاف بیان کئے گئے ہیں جن میں کسی کو شک و شبہ کی گنجائش نہیں تورات میں صاف لکھا ہے کہ بیت المقدس مسلمانوں کے قبضے میں چلا جائے گا۔
طبری لکھتا ہے کہ اطربون نے یہ بات حتم و یقین کے لہجے میں کہی اور اس کی اس مجلس پر سناٹا طاری ہو گیا ۔
بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ اطربون بغیر لڑے بیت المقدس سے اپنی فوج نکال کر مصر کو بھاگ گیا۔

#جاری_ہے

🌹زندہ درگور🌹…قسط #3

تحریر: منورہ نوری خلیق

اب ہے کیا لاکھ بدل چشمِ گریزاں کی طرح
میں ہوں زندہ تیرے ٹوٹے ہوئے پیماں کی طرح

اس دور پرآشوب کا قصہ جب لوگ بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے، اسے بھی باپ نے موت کی نیند سلانے کے لئے زندہ دفن کرنا چاہا تھا مگر لوحِ تقدیر میں تو کچھ اور ہی لکھا تھا۔۔۔

مگر اس نے یہ نہیں کہا نہ وہ ایسا کہنے کی جرأت کرسکتا تھا بلکہ اس نے کامدار کو دیکھا پھر جوشن شاہ کو دیکھ کر ادب سے بولا۔
“حضور! کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ حسین موسم کا لطف گھر میں بیٹھ کر بھی لیا جائے۔”
“مگر گھر کا موسم تو ہمیشہ ایک ہی رہتا ہے۔”
جوشن نے قہقہہ لگایا۔
“وہ تو بدل ہی نہیں سکتا۔ تم جب بھی جاؤ گے وہی ملے گا، لہذا موسم کا لطف لینے کے لئے تو سفر ضروری ہی نہیں بلکہ لازمی ہے۔”
اس بات کو کسی نے بھی رد نہ کیا، نہ اس کی ضرورت تھی، نہ ماحول۔
“ہاں۔۔۔۔۔۔!”
جوشن شاہ نے قدرے ٹھہر کر خود ہی کہا۔
“ہاں، یہ بات سو فیصد درست ہے کہ سفر کا مزہ اچھے ساتھی کے ساتھ دوبالا ہوجاتاہے۔”
“بالکل، بالکل۔۔۔۔۔۔۔!”
کامدار نے بات بڑھائی۔
“دس ساتھیوں کے بجائے ایک ساتھی ہو مگر پسندیدہ ہو۔”
“واہ۔۔۔۔۔! واہ۔۔۔۔۔۔۔! ”
جوشن شاہ نے بھرپور داد دی۔
“کامدار! تونے آج یہ بات کہہ کر ہمیں یقین دلا دیا کہ تو بہت سمجھدار اور خوبصورت ذہن کا مالک ہے۔ ہمیں تو آج تک معلوم ہی نہیں تھا کہ تیری سوچ اس درجہ حسین ہے۔”
کامدار نے اس تعریف پر اپنے ساتھی زمان کو دیکھا، شاید اسے یہ بات پسند نہیں آئی تھی کہ کامدار کی تعریف سردار کرے لہذا اس نے موضوع کو بدل دینے کی غرض سے ایک نئی بات شروع کی اور بولا۔
“حضور، آپ کا علاقہ اردگرد کے سب علاقوں سے بڑا ہے اور سب مانتے ہیں کہ زرخیز اور دولت مند بھی ہے۔”
جوشن شاہ نے یہ خوشمدانہ بات سنی اور بھول گیا کہ کیا کہہ رہا تھا اور زمان کا اصل مقصد کیا ہے، بس جلدی سے بولا۔
“کیا یہ سب لوگ اعتراف کرتے ہیں کہ ہمارا علاقہ سب سے زرخیز ہے؟”
“بے شک۔۔۔۔۔۔!”
کامدار نے بھی حصہ لیا۔
“جب سے چھوٹے سردار کی پیدائش ہوئی ہے، ہمارے علاقے نے سونا اگلا ہے اور ہمارے علاقے کے اجناس و پھل دور دور جاتے اور پسند کیے جاتے ہیں۔”
بیٹے کی پیدائش اور دولت جوشن شاہ کا پسندیدہ موضوع تھا جو اسے مسرور ہی نہیں، مغرور کردیتا تھا۔ اس وقت بھی وہ بری طرح مغرور ہوگیا تھا۔ اس نے اپنے دونوں مصاحبوں کو دیکھا اور فخریہ لہجے میں کامدار کو دیکھ کر بولا۔
“کامدار۔۔۔۔۔۔! تیری یہ بات سچ ہے کہ جب سے ہمارا بیٹا فرخ شاہ پیدا ہوا ہے، ہمارے علاقے نے سونا اگلا اور جواہرات برسائے ہیں، ہم اس بات پر جس قدر بھی فخر کریں کم ہے، ہمیں لگتا ہے اور ہمارا بیٹا ہے بھی ایسا کہ کسی بھی سردار کا بیٹا ایسا نہیں ہے۔”
یہ کہتے کہتے اس نے اپنے دوسرے مصاحب کو دیکھا اور بولا۔
“کیوں زمان۔۔۔۔۔۔! تیرا کیا خیال ہے؟”
“سردار۔۔۔۔۔۔! آپ میری رائے پوچھتے ہیں۔”
زمان نے احترام سے کہا۔
“یہاں تو سب یہی کہتے ہیں کہ چھوٹے سردار فرخ شاہ اپنی شخصیت اور ذہانت میں لاثانی ہیں، صرف سات برس کی عمر میں ان کا علم و تربیت دوسرے بچوں سے بڑھ کر ہے۔”
دونوں مصاحب بڑھ چڑھ کر فرخ شاہ کی تعریف کرنے لگے اور جوشن شاہ خوشی سے دیوانہ سا ہونے لگا۔ علاقے کا ہر فرد اس کی کمزوری سے واقف تھا کہ اپنے بیٹے کی تعریف اسے پاگل کردیتی ہے۔ چند ستائش کے جملے کہہ کر کوئی بھی جو چاہتا، اس سردار سے کروا لیتا تھا۔
ابھی وہ محوِ سفر تھا اور خوشامدی بڑھ چڑھ کر چاپلوسی کررہے تھے کہ ایک دم سے سامنے سے دوڑ کر آنے والی چند چھوٹی بڑی لڑکیوں کے قہقہوں نے ان سب کی توجہ لوٹ لی۔ جوشن شاہ نے دیکھا، ان سب لڑکیوں میں ایک چند سالہ لڑکی متاثر کردینے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتی تھی۔
آنکھیں گہری گہری اور ذہین، چہرہ کشادہ اور روشن، آواز موسیقی سے بھری ہوئی اور تمام شخصیت جیسے نور کے سانچے میں ڈھلی ہوئی تھی، سردار جوشن شاہ دیکھتا ہی رہ گیا۔ اس نے بڑے بڑے حسن دیکھے تھے، حسین نظاروں نے اسے بے خود کیا تھالیکن دل کی یہ حالت تو کبھی بھی نہیں ہوئی تھی، غیر اختیاری طور پر اس نے اپنا گھوڑا روک لیا اور اسے رکتے دیکھ کر کامدار اور زمان دونوں نے اپنے گھوڑے روک لیے۔
جوشن شاہ نے قدرے رک کر اس لڑکی کو دیکھا، ان گھڑ سواروں کو دیکھ کر یہ بچیاں دوڑتے ہوئے رک گئیں تھیں اور اسی کی جانب دیکھ رہی تھیں، شاید تیز دوڑنے کے باعث اس بچی کا چہرہ سرخ ہوگیا تھا، سانس تیز تیز چل رہی تھی اور اس کی دو چوٹیاں اسے بہت کم عمر ظاہر کررہی تھیں۔ اس نے پوچھا۔
“اے لڑکی۔۔۔۔۔! تیرا نام کیا ہے؟”
“میرا باپ اور میری سب سہیلیاں مجھے آجر کہتی ہیں۔”
لڑکی نے جواب دیا اور جوشن شاہ کو لگا کہ فضا میں گھنٹیاں بج گئی ہیں۔ اس نے لمحہ بھر اسے حیرانی سے دیکھا یا اپنے دھڑکتے ہوئے دل کی کیفیت کو محسوس کیا پھر زمان کی جانب دیکھ کر بولا۔
“ہم نے پہلے کبھی اس لڑکی کو نہیں دیکھا؟”
“جناب! یہ ہمارے ہی علاقے کی لڑکی ہے۔”
زمان نے کہا۔
“اپ کا گزر اس جانب سے کم ہوا ہے۔ یہ اکثر اپنی ساتھی لڑکیوں کے ساتھ اسی میدان میں کھیلتی ہے البتہ یہ بات میں نہیں جانتا کہ یہ کس کی لڑکی ہے۔ مگر میں اسے بارہا دیکھ چکا ہوں۔”
“مگر تم نے دور دراز کی لڑکیوں کی خبر تو ہمیں دی، اس بارے میں کیوں نہیں بتایا؟”
جوشن شاہ نے شکایت کی۔
“ہمارے علاقے میں ایسی لڑکی موجود ہے، اور ہمیں علم نہیں ہے۔”
اس وقت کامدار اور زمان خوفزدہ سے ہوکر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔📚
پیشکش:
✍🏻عبداللہ عزام۔🌹🌴

*پشتون کہاں سے آئے؟*

فارسی میں پشتون، مقامی زبان میں پختون اور اردو میں پٹھان یہ قوم دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ایک غیرت مند قوم کے طور پر گردانی جاتی ہے،جن میں افغانستان،پاکستان،بھارت اول نمبر پر ہیں۔ دنیا میں پشتون اپنی وفا اور غیرت کے نام سے جانے جاتے ہیں۔
لفظ پشتون کا مطلب ہوتا ہے غیرت و وفا والا
اور اپنے عزت اور دین پر مر مٹنے والا۔
پشتونوں نے قیام پاکستان میں بھی بھرپور حصہ لیا۔
پشتون کی اصلاح عموماً پٹھان اور افغان پشتو بولنے والے قبائل کے لئے استعمال ہوتی ہے۔
بعض اوقات پٹھانوں اور افغانوں کے درمیان امتیاز بھی کیا جاتا ہے۔
لیکن یہ سارے پٹھان ہی کہلاتے ہیں۔
بعض ان میں کافی فرق بھی کرتے ہیں۔
اور پٹھان ‘ پشتون اور افغان کو الگ الگ قبیلوں سے تصور کرتے ہیں۔
اور ان ناموں کے وجہ تسمیہ اور تاریخ الگ الگ بیان کرتے ہیں۔
بہرحال میں بحثیت مجموعی ان سب کا تذکرہ کرنے میں ہی عافیت سمجھتا ہوں۔ کیونکہ زیادہ تفصیل میں گیا تو بات بہت زیادہ لمبی ہوجائے گی۔

آیئے!
اپنے دوستوں کو ان کی تاریخ کے متعلق کچھ دلچسپ معلومات بتانے کی کوشش کرتا ہوں۔

آپ نے *قرآن پاک میں حضرت موسی علیہ السلام* کے بارے میں پڑھا ہوگا کہ ایک موقع پر انہوں نے ایک پتھر پر اپنا عصامارا تو بارہ چشمے پھوٹ پڑے کہ ہر چشمہ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں کے لئے الگ الگ تھا۔
تو تاریخ دان یہاں سے ہی ان کی تاریخ شروع کرتے ہیں۔
اسرائیل کی ایک ریسرچ رپورٹ کے مطابق پشتون یا پٹھان یہودی النسل ہیں اور ان کا تعلق بنی اسرائیل کے دس گمشدہ قبائل سے ہے۔
کیونکہ اس وقت جتنے بھی یہودی ہیں وہ حضرت موسی علیہ السلام کے زمانے کے دو قبیلوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
جب کہ بقیہ دس اپنا مذہب تبدیل کرچکے ہیں۔
یا ان کا کوئی پتہ معلوم نہیں ہو رہا۔
ان دس قبائل کو اسرائیل کی تباہی کے بعد فاتحین نے جلاوطن کر دیا تھا جس کے بعد رفتہ رفتہ یہ لوگ پہلے ایران پھر افغانستان اور پاکستان کے مختلف علاقوں میں آباد ہو گئے جبکہ جیوش اٹلس میں صوبہ سندھ کی قدیم بندرگاہ دیبل کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ بندرگاہ یہودی تاجروں کا بہت بڑا مرکز تھی۔
بنی اسرائیل کے تاجر زمانہ قدیم میں بذریعہ بحری جہاز سندھ اور بلوچستان کی بندرگاہوں پر آتے رہے
اس لیئے ان دونوں صوبوں کے بیشتر شہروں اور بندرگاہوں میں یہودیوں کے تجارتی مراکز اور عبادت گاہیں قائم ہو گئی تھیں جس کی وجہ سے زمانہ قدیم میں پاکستان کے بعض علاقوں میں یہودیت کے ماننے والے بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔

تو دوستوں!
اسرائیل میں بارہ قبائل آباد تھے جنہیں بنی اسرائیل کے اجتماعی نام سے پکارا جاتا تھا۔
کہا جاتا ہے کہ صرف دو قبائل (آج کے یہودی) توریت پر عمل کرتے ہیں جبکہ باقی اب دس قبائل توریت کو تسلیم نہیں کرتے ۔
لیکن یہ بھی بنی اسرائیل کا حصہ تھے۔
آج کا شمالی اسرائیل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے تقریباً آٹھ سو سال پہلے نینوا کی اشوریہ قوم نے فتح کرلیا تھا
جبکہ جوڈا کے نام سے موسوم جنوبی علاقہ پر صدیوں بعد بابل سے آنے والے حملہ آوروں نے قبضہ کیا۔
جب بابل کے فرماں روا بخت نصر نے یروشلم (موجودہ فلسطین )پر قبضہ کرکے اسرائیلی بادشاہت کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تو بنی اسرائیل کے بہت سے قبیلے بھاگ کر ایران (فارس) کے قریب غور کے پہاڑوں میں جا بسے اور پھر یہاں سے دیگر خطوں تک پھیل گئے۔

دوستوں !
ہزاروں سال سے دنیا میں زمانہ قدیم کے گمشدہ یہودی قبائل کے بارے میں گردش کرنے والی داستانوں کے مطابق ایتھوپیا میں آباد فلاشا یہودیوں اور افغانستان، مشرقی ایران اور پاکستان کے پشتون قبائل کو ان یہودیوں کی نسل سمجھا جاتا ہے۔ پشتون افغانستان میں سب سے بڑا نسلی گروپ اور پاکستان میں دوسرا بڑا نسلی گروہ ہے۔
خود بعض افغانوں کا بھی یہ دعویٰ ہے کہ ان کے آباؤ اجداد کا تعلق قدیم زمانہ کے یہودیوں سے تھا
جبکہ افغانستان کے آخری بادشاہ ظاہر شاہ مرحوم برملا یہ اقرار کرتے رہے کہ ان کا تعلق بنی اسرائیل کے بن یامین قبیلے سے ہے۔
اس طرح پاکستان اور افغانستان کی نصف آبادی یہودی قبیلے کے بچھڑے بہن بھائیوں پر مشتمل ہے۔

دوستوں!
ان کے مسلمان ہونے کے بارے میں تاریخ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ *آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم* کے زمانہ میں ایک قریش سردار خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ اِن لوگوں کے پاس رسالت کی خبر لے کر آئے اور اس خبر کی تحقیق کے لیئے قیس نامی شخص کی قیادت میں چند سرداروں کا وفد اُن کے ساتھ مکہ روانہ ہو گیا۔
یہ قبائلی سردار بحیثیت مہمان جب مکہ پہنچے تو وہاں *نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم* سے ملاقات کے بعد اسلام قبول کرلیا ۔
جبکہ فتح مکہ کی مہم جوئی میں بھی یہ *آپ صلی اللہ علیہ وسلم* کے ہمرکاب رہے۔
ان سرداروں کو واپسی پر *حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم* نے تحفے تحائف بھی دیئے
اور اس وفد کے امیر قیس کا اسلامی نام عبدالرشید رکھ دیا جبکہ اُسے *”پہطان “یا” بطان”* کا لقب بھی عطاءکیا اور پھر یہی لفظ بگڑ کر پٹھان بن گیا۔

افغانوں کی روایات کے مطابق بھی امیر قیس کا نام عبدالرشید خود *نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم* نے رکھا اور فرمایا کہ ان کی نسل اسلام پر اس قدر مضبوطی سے کاربند ہوگی کہ جس طرح *کشتی کا بطان* ہوتا ہے اور پھر یہی لقب بعد میں زبان کے تغیرات کے باعث پٹھان بن گیا
جبکہ لفظ پختون کی وجہ تسمیہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ بخت نصر کے ظلم سے بھاگ کر فارس (ایران) میں پناہ لینے والے قبائل میں سے ایک قبیلے کا نام *بنی پخت* تھا
جس سے تعلق رکھنے والوں کو رفتہ رفتہ پختون کہا جانے لگا۔
اہلِ ایران انہیں افغان کہتے ہیں جس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ جب بخت نصر نے ان لوگوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا تو یہ لوگ اس ظلم کے خلاف آہ فغاں کرتے رہے۔
اور ایک بات یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ کہ افغان *سلیمان علیہ السلام* کے ایک بیٹے کا نام تھا
اور ان کو جنات کی زبان سے پیار ہوگیا تھا تو انہوں نے اپنے والد *حضرت سلیمان علیہ السلام* سے کہا کہ آپ جنات کو کہیں کہ مجھے اپنی زبان سیکھائیں *حضرت سلیمان علیہ اسلام* نے اپنے بیٹے کی درخواست قبول کی اور جنات کو حکم دیا کہ آفغان کو جنات کی زبان سیکھائی جائے وہ زبان بعد میں *”پختنو”* کے نام سے مشہور ہوگئی۔

بعض مورخین کے مطابق پٹھان آریائی یا یونانی نسل سے ہیں۔
اور بعض کے نزدیک یہ قیس عبدالرشید کی اولاد ہیں
جبکہ تیسرے نظریئے کے مطابق ان کا تعلق بنی اسرائیل کے گمشدہ قبائل سے ہے۔
خود کو قیس عبدالرشید کی اولاد سمجھنے والوں کا نظریہ ہے کہ مکہ میں قیام کے دوران *حضرت خالد بن ولیدؓ* نے اپنی صاحبزادی اُن کے مورثِ اعلیٰ کے نکاح میں دیدی تھی جنہیں وہ ہمراہ لے کر اپنے وطن واپس آیا اور پھر انہوں نے یہاں اپنی بقیہ زندگی اسلام کی ترویج و اشاعت میں صرف کر دی۔
اس طرح قیس عبدالرشید کی اولاد پٹھان کہلاتی ہے
جبکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ خود قیس عبدالرشید کا تعلق بھی بنی اسرائیل کے بادشاہ ساؤل (حضرت طالوت) کی سینتیسویں پشت سے تھا۔
اس طرح آخری دونوں نظریات کی روشنی میں ان کا تعلق بنی اسرائیل سے ہی بنتا ہے۔

اورمیرے دوستو!
سب سے بڑی عجوبہ خیز بات یہ ہے کہ ان میں
یوسف زئی (یوسف کے بیٹے)،
داؤد خیل (داؤد کے بیٹے)،
موسیٰ خیل (موسیٰ کے بیٹے)
اور سلیمان خیل (سلیمان کے بیٹے)
سمجھے جاتے ہیں
لیکن اس کی تصدیق کرنا بہت مشکل ہے کہ
موسیٰ خیل،
داؤد خیل،
یوسف زئی،
سلیمان خیل وغیرہ کا قدیم پس منظر کیا ہے۔

بہرحال دوستوں اس تاریخ میں اتنی باتیں شامل ہوچکی ہیں کہ اصل حقائق کی تصدیق لگ بھگ ناممکن سی ہوگئی ہے
کہ کون سی بات درست ہے اور کون سی جھوٹ۔

بہرحا ل ہندوستان والے انہیں پٹھان کہتے ہیں۔
جبکہ پاکستانی انہیں پٹھان اور پشتون،
ایرانی افغان کہتے ہیں
مگر یہ خود کو پختون کہتے ہیں۔
یہ لوگ اس وقت متعدد قبائل کا مجموعہ بن چکے ہیں جبکہ ان قبائل کی ہزارہا شاخوں کی متعدد ذیلی شاخیں بھی ہیں جو اشخاص یا علاقے سے منسوب کی گئی ہیں۔

افغانوں یا پٹھانوں کے کئی اوصاف عربوں سے ملتے جلتے ہیں،
عرب قوم مہمان نواز،
بہادر اور اہلِ قلم ہونے کے ساتھ ساتھ دوسری قوموں سے اتنی جلد مرعوب نہیں ہوتی تھی۔
ان چند اوصاف کے علاوہ کوئی اور اوصاف عربوں کے اندر زمانہ جاہلیت میں نظر نہیں آتے۔
حیرت کی بات ہے کہ یہی چند اوصاف افغان یا پٹھان قوم میں بھی اسی شدت کیساتھ پائے جاتے ہیں
جبکہ ان کی بیشتر چیزیں یہودیوں سے بھی ملتی جلتی ہیں۔ نسلی طور پر دونوں اپنے آپ کو دنیا کی بہترین قوم تصور کرتے ہیں،
مذہبی طور پر سخت ہیں
اور سر پر ٹوپی رکھنے کا رحجان بھی عام ہے جبکہ اسکے علاوہ بھی کئی رسم و رواج مشترک ہیں۔

*میرے دوستوں ! ذہن میں رہے کہ پشتونوں کا یہودی نسل سے ہونا قابلِ فخر بات ہے نہ کہ موجبِ توہین کیونکہ یہودی النسل ہونا تو شاید تب اس قوم کے لیئے توہین کا موجب ہوتا جب وہ سید الانبیاءحضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان نہ لاتے۔*

یہ تو اُن کی غیرت کی بلندی اور ایمان کی عظمت کا نشان ہے کہ یہودی النسل ہوتے ہوئے بھی *نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم* پر ایمان لے آئے۔

کیونکہ یہ وہی آخری نبی ہیں جن کے اوصاف تورات و انجیل میں مذکور ہیں اور جن کی وجہ سے ہی اہلِ کتاب *آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم* کے ایک ”نجات دہندہ“ کے طور پر منتظر بھی تھے
لیکن بعد میں انہوں نے محض اس جلن اور حسد کی وجہ سے *حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم* کی نبوت کا انکار کیا کہ اُن کا تعلق بنی اسرائیل سے نہیں تھا۔
بنی اسرائیل کی طرف سے *آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم* کی نبوت کا یہ انکار دلائل پر نہیں بلکہ نسلی منافرت اور حسد و عناد پر مبنی تھا۔

تو یہ پشتونوں کے لئے قابل فخر بات ہے کہ یہ لوگ *حضرت موسی علیہ السلام* کے حواری بھی ہیں اور *آخری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم* کے سپاہی بھی•

اورنیل بہتا_رہا/عنایت اللہ التمش #قسط_نمبر_2

ابن ولید !
عمرو بن عاص نے خالد بن ولید کو یہ ساری باتیں سنا کر کہا۔
تو چپ چاپ میری بات سن رہا ہے تیری اس خاموشی سے اس کے سوا اور کیا سمجھ سکتا ہوں کہ تجھے میری باتیں اچھی نہیں لگی۔
میری خاموشی پر مت جا میرے عزیز دوست خالد بن ولید نے کہا۔
مجھے بھی کچھ کہنا ہے جو میں کسی اور سے نہیں کہہ سکتا پہلے تیری پوری بات سن لو تو اپنی سناؤں گا۔
میں نے بتایا ہے نہ کہ چند آدمی بھی میرے ساتھ تیار ہو گئے ۔
عمر بن عاص نے کہا، ہم نے تجارت کو بہانہ بنایا اور چل پڑے
تجھے شاید حبشہ کا راستہ معلوم ہو ہی ہوگا۔
ہم یہاں سے چلے اور سمندر (بحرہ قلزم) کے ساتھ ساتھ چلتے یمن میں داخل ہو گئے۔
اور پھر عدن جاپہنچے عدن کے قریب اس جگہ پہچے جہاں سمندر بہت ہی کم چوڑا ہے۔
بڑی بادبانی کشتی پر ہم نے سمندر پار کیا اور پھر خشکی کا سفر شروع ہوگیا اور پھر تین چار پڑاؤ کر کے حبشہ کے دارالحکومت ادلیس ابابا پہنچ گئے تجھے یہ اندازہ ہوگا کہ یہ سفر کتنا طویل ہے اور کٹھن بھی لیکن ہم خیریت سے اپنی منزل پر پہنچ گئے ۔
حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے دربار میں گئے اور اسے پناہ مانگے اور یہ بھی کہا کہ تجارت پیشہ لوگ ہیں اس لیے اس پر کسی قسم کا بوجھ نہیں ڈالیں گے۔
اور پناہ کے سوا کوئی مدد نہیں مانگیں گے نجاشی نے ہمیں شاہی مہمانوں کی طرح رکھا اور ہمیں ایسی رہائش مہیا کردیں جو شاہی خاندان جیسی رہائش تھی۔
مجھے ان باتوں کے ساتھ کوئی دلچسپی نہیں خالد بن ولید نے کہا۔
میں یہ سننا چاہتا ہوں کہ تم واپس کیوں چلے آئے اور اب کہاں کا ارادہ ہے؟
میں دیکھ رہا ہوں تو اگر حبشہ سے ہی آیا ہے تو مکہ کیوں نہ رک گیا ۔
مکہ پیچھے بہت دور رہ گیا ہے۔
کیا تو کوئی خاص بات مجھ سے چھپا رہا ہے؟ نہیں ابن ولید، عمر بن عاص نے کہا تو میرا دوست ہے اور اہل قریش میں تجھے وہی برتر حیثیت حاصل ہے جو مجھے ، میں نے مکہ سے روانہ ہونے سے پہلے تجھے نہیں بتایا تھا کہ میں یہاں سے ہمیشہ کے لئے جا رہا ہوں یہ تو میں نے کسی کو بھی نہیں بتایا تھا اور اپنے ساتھیوں سے بھی کہا تھا کہ وہ بھی کسی کے ساتھ ذکر نہ کرے لیکن اب دل میں ایسی بات آگئی ہے جس کے متعلق میں فیصلہ نہیں کرسکتا اچھا ہوا تو مل گیا ہے۔
تیرے ساتھی کہاں ہیں؟
خالد بن ولید نے پوچھا۔
انہیں وہیں چھوڑ آیا ہوں۔
عمرو بن عاص نے جواب دیا ۔
میں جو ارادہ کرکے وہاں سے آیا ہوں میرے ساتھیوں کو یہ ارادہ پسند نہیں آیا اور میں ان کا ساتھ چھوڑ آیا ہوں میں سمجھتا تھا کہ تو راستے سے بھٹک گیا خالد بن ولید نے کہا لیکن تیری باتوں سے شک ہوتا ہے کہ تیری عقل صحیح سوچوں سے بھٹک گئی ہے ۔
اتنی لمبی باتیں نہ کر ابن عاص!
مجھے صحیح بتا دیے تیرا ارادہ کیا ہے اور تو کس منزل کا مسافر ہے؟
ابن ولید !—- عمر بن عاص نے کہا جب تک بات پوری نہ سنالوں اپنا ارادہ نہیں بتاؤں گا کیونکہ تو غلط سمجھ لے گا یہ تو تجھے معلوم ہے کہ ہمارے تاجر حبشہ جاتے رہتے ہیں ہم وہاں تقریبا ایک سال سے ہیں۔
ایک روز عربی تاجروں کا ایک قافلہ عدلیس ابابا پہنچا۔
اس میں میری جان پہچان کے لوگ بھی تھے ان سے پتہ چلا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر قبیلہ قریش کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے اور اس معاہدے کی رو سے قریش اور مسلمان دس سال تک جنگ نہیں کریں گے پھر مجھے پتہ چلا کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کی ساری شرطیں مان لی ہیں۔
اور طے پایا ہے کہ وہ ایک سال بعد عمرہ کرنے آئیں گے میں نے تسلیم نہیں کیا کہ ایسا معاہدہ ہوا ہوگا۔
لیکن تھوڑی ہی عرصہ بعد مکہ سے آیا ہوا ایک اور آدمی ملا ۔
اس نے بتایا کہ مسلمان اپنے رسول محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سال بعد عمرہ کرنے آئے تھے اور پرامن طریقے سے عمرہ کیا اورواپس چلے گئے۔
میں نے مکہ سے آنے والے اس شخص سے اور کی باتیں پوچھیں تو میں اس نتیجے پر پہنچا کہ کیا قریش نے مسلمانوں کا غلبہ قبول کر لیا ہے۔
اور ان کی برتری کو بھی تسلیم کرلیا ہے۔
ابن ولید تجھے میری بات اچھی لگے نہ لگے میں اپنے دل اور دماغ کی بات کرتا ہوں میں محمد کے کردار کا قائل ہوگیا ہوں ۔
اور سوچ سوچ کر میں اس رائے پر پہنچا کہ محمد کا ستارہ اقبال کے عروج پر پہنچ گیا ہے۔
مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ مدینہ جا کر اسلام تیزی سے پھیل رہا ہے پھر مجھے یہ پتہ چلا کہ قریش مدینہ پر یلغار کرنے گئے تھے لیکن مسلمانوں نے ایک نئی رکاوٹ سوچ لی اور قریش کی یلغار ناکام ہوگئی ہے۔
مسلمانوں نے مدینہ کے ارد گرد خندق کھودی تھی۔
خالد بن ولید بھی اس یلغار میں شامل تھے۔ اور انھوں نے گھوڑے سے یہ خندا پھیلانے کی کوشش بھی کی تھی اور ناکام رہے تھے اس لیے وہ جنگ خندق کی ہر بات عمر بن عاص کو سنا سکتے تھے۔
انہوں نے جنگ خندق کی پوری تفصیل سنائی اور مسلمانوں کے دانشمندی کو خراج تحسین پیش کیا کہ انھوں نے خندق کھود کر قریش کا حملہ ناکام کردیا تھا۔
پھر تو ہی بتا میرے عزیز دوست عمر بن عاص نے کہا ،میں مسلمانوں کے عسکری برتری کیوں نہ تسلیم کروں۔
میں نے یہ ساری تفصیل حبشہ میں سنی تھی اور میں اس نتیجے پر پہنچا کہ ہمارے اہل قریش کے پاس کچھ نہیں رہا ۔
میں اس سے خیال آیا ہوں کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم میں وہ عظمت موجود ہے جو ہمارے قبیلے کے کسی بڑے بزرگوں میں ابھی تک حاصل نہیں ہوئی۔
میں جنگجو ہوں تو بھی جنگجو ہے۔
کیا ہم اپنے لوگوں کے ساتھ مل کر کہیں اپنے جوہر دکھا سکتے ہیں؟
نہیں کبھی نہیں اب میں وہ بات کرنے لگا ہوں جو تجھے مشتعل کر دے گی اور ہوسکتا ہے تو مجھے قتل کر دینے کو تلوار نکالے۔
اپنے دل کی بات مجھ سے سن لے،
خالد بن ولید نے کہا ،، تو اسلام قبول کرنے کے ارادے سے آیا ہے کیا میں نے غلط کہا،
خدا کی قسم تم میرے دل کا بھید پا گیا عمرو بن عاص نے کہا لیکن میں اس ارادے کے باوجود بھٹک جاتا ہوں۔
اب خیال آتا ہے کہ میرا یہ فیصلہ صحیح نہیں شاید میں اپنے قبیلے سے رشتہ توڑنا نہیں چاہتا ۔
لیکن اپنے لوگوں کو دیکھتا ہوں تو افسوس ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف کچھ بھی نہ کر سکے اور میں کہتا ہوں کہ وہ اسی قابل ہیں کہ مسلمان ان پر غالب آجائیں۔—-
ابن ولید!
مجھے بتا ،کیا میں ٹھیک فیصلے پر پہنچا ہوں
اگر میرا فیصلہ غلط ہے تو خدا کی قسم تجھے اجازت دیتا ہوں کہ میرا سر تن سے جدا کر دے ۔
خالد بن ولید نے آسمان کی طرف منہ کرکے بڑا سا جاندار کہاں لگایا پھر عمرو بن عاص کی طرف دیکھ کر اپنے دونوں ہاتھ ان کے کندھے پر رکھے اس وقت خالد بن ولید کے چہرے پر کچھ ایسی رونق تھی جسے جلال کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔
ابن عاص! —- خالد بن ولید نے عمرو بن عاص کو کندھوں سے ہلکا سا جھٹکا دے کر کہا تیرا فیصلہ برحق ہے اپنے ارادے سے بھٹکنا نہیں۔۔۔ میں اس سفر میں تیرا ہمسفر ہوں۔۔۔ دونوں کی منزل ایک ہی ہے میں اسلام قبول کرنے کے لئے مدینہ جا رہا ہوں مکہ میں کسی کو بتا کر نہیں آیا ۔
آ میرے ساتھ چل! ۔۔۔
تاریخ لکھنے والوں کی شہادت موجود ہے کہ خالد بن ولید اور عمرو بن عاص اکٹھا مدینہ پہنچے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور حاضری دی یہ بتانا ممکن نہیں کہ ان دونوں کو دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا رد عمل کیا تھا ۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اگر کچھ لوگ بیٹھے تھے تو ان کے دلوں میں یہ شک ضرور پیدا ہوا ہوگا کہ یہ دونوں اچھی نیت سے نہیں آئے سب جانتے تھے کہ خالد بن ولید نے حضور صلی اللہ وسلم کے قتل کا عہد کر رکھا ہے۔
اتنا تو ضروری ہی ہوا ہو گا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس پر سناٹا طاری ہو گیا ہوگا ۔
اور یہ دونوں کوئی عام قسم کے آدمی ہوتے تو اور بات تھی سب ان دونوں کے متعلق جانتے تھے کہ انہیں اپنے اپنے قبیلے میں کتنی اونچی اور برتر حیثیت حاصل ہے۔
اچھا ہوا خالد بن ولید جلدی بول پڑے اور محفل پر جو کھچاؤ طاری ہو گیا تھا وہ ختم ہوگیا۔
میں آپ کے دست مبارک پر بیعت کرنے آیا ہوں خالد بن ولید نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا میں دل و جان سے آپ کی رسالت کو تسلیم کرتا ہوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید کے بیعت قبول فرمائی اور انہیں حلقہ بگوش اسلام کر لیا پھر آپ نے عمروبن عاص کی طرف دیکھا اور مسکرائے۔
عمرو بن عاص سرک کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہو گئے میں بھی آپ کو اللہ کا رسول تسلیم کرتا ہوں عمرو بن عاص نے کہا ۔
لیکن بیعت سے پہلے یہ عرض ضروری سمجھتا ہوں کہ میرے پچھلے تمام گناہ معاف کردیئے جائیں۔
اور آئندہ محتاط رہوں گا اسلام کے دائرے میں رہونگا اور اپنے آپ کو گناہوں سے پاک رکھونگا۔
مصر کے مشہور تاریخ نویس محمد حسنین ہیکل مختلف حوالوں سے لکھتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن عاص سے کہا کہ گناہ معاف کرنے والا اللہ ہے اور جو توبہ کرکے اسلام میں داخل ہو جاتا ہے اس کے پیچھلے تمام گناہ اس طرح دھل جاتے ہیں جس طرح ہجرت سے پچھلی تمام مصیبتیں ختم ہوجاتی ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن عاص سے کہا کہ وہ بیعت کرلیں اور اپنے آپ میں خود ہی تبدیلی محسوس کریں گے۔
اس طرح عمرو بن عاص نے بھی اسلام قبول کر لیا۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خالد بن ولید اور عمرو بن عاص کو مکے سے جانتے تھے۔ آپ ان دونوں کی خوبیوں صلاحیتوں اور کردار سے خوب واقف تھے ۔
آپ نے ان دونوں کو اعتماد میں لے لیا بلکہ مورخ لکھتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں پر ضرورت سے زیادہ اعتماد کیا لیکن دونوں اس اعتماد پر پورے اترے اور اسلام کو دو عظیم سپہ سالار مل گئے۔۔
=÷=÷=÷=÷۔=÷=÷=÷
چونکہ یہ داستان فتح مصر کی ہے اس لئے ہم اپنے آپ کو اس کا پابند رکھیں گے ۔
اور انہیں سالاروں کا ذکر نمایاں طور پر کریں گے جنہوں نے فرعونوں کی زمین پر اسلام کے جھنڈے گاڑے تھے۔
ان سالاروں کے سپہ سالار عمر بن عاص تھے۔
فتح مصر کا خیال اور عزم عمروبن بن عاص کے دماغ میں ہی آیا تھا اور انہوں نے ہی امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو قائل کیا تھا کہ مصر پر فوج کشی کی جائے۔ امیرالمومنین رضامند نہیں ہو رہے تھے اور عمرو بن عاص کی تجاویز کو ٹالتے چلے آرہے تھے۔
آخر ایک روز وہ قائل ہو ہی گئے یوں معلوم ہوتا تھا جیسے عمرو بن عاص مصر کو سلطنت اسلامیہ میں شامل کرنے کے لئے ہی دنیا میں آئے تھے۔
یہ ساری تفصیلات اس داستان میں تفصیل سے سنائی جائیں گی۔
ان تفصیلات میں کچھ دلچسپ ہیں، کچھ فکر انگیز ہیں، کچھ ولولہ انگیز ہیں، اور کچھ درد ناک بھی ہیں، لیکن جو حقیقت ہمارے سامنے کھل کر آتی ہیں وہ قابل غور ہے۔
وہ یہ کہ اللہ جو کام کرنا چاہتا ہے اس کے لیے حالات خود ہی پیدا کردیتا ہے ۔
خالد بن ولید اور عمرو بن عاص کا خود ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور قبول اسلام کے لئے پہنچ جانا کوئی اتفاق نہ تھا ۔
اللہ تبارک وتعالی نے اسلام کو دو تاریخ ساز اور عظیم سپہ سالار عطا کرنے تھے۔
ان کے ہاتھوں رومیوں کے طاقت کو فنا کروانا تھا اور پھر عمرو بن عاص کے ہاتھوں مصر کو سلطنت اسلامیہ میں شامل کرنا تھا۔
ضروری معلوم ہوتا ہے کہ عمرو بن عاص کے متعلق ایک واقعہ بیان کردیا جائے ۔
جسے زیادہ تر مؤرخوں اور بعد کے تاریخ نویسوں نے تاریخ کے دامن میں محفوظ کر دیا تھا ان میں بلاذری مقریزی اور ابن عبدالحکم خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
واقعہ یوں ہے کہ عمربن عاص تجارت اور سیاحت کے سلسلے میں عراق شام فلسطین اور مصر تک جایا کرتے تھے ۔
یہ ان کے قبول اسلام سے بہت پہلے کا واقعہ ہے ایک بار عمروبن عاص چند ایک اہل قریش کے ساتھ تجارت کے سلسلے میں بیت المقدس گئے انہیں وہاں بہت دن رکنا تھا اور انہوں نے شہر کے باہر ایک کھلی جگہ ڈیرے ڈال رکھے تھے۔
ان کے ساتھیوں میں سے ایک آدمی ہر روز اونٹوں کو چرانے کے لئے قریبی جنگل میں لے جایا کرتا تھا۔
ایک روز اونٹوں کو چرنے چگنے کے لئے لے جانے کے باری عمرو بن عاص کی تھی دن کا پچھلا پہر تھا اور وہ اونٹوں کو کھول کر لے گئے اور ایک پہاڑی کے دامن میں لے جاکر کھلا چھوڑ دیا وہاں گھاس اور جھاڑیوں کی بہتات تھی اور درخت ہرے بھرے تھے موسم گرمیوں کا تھا اور ان دنوں گرمی انتہا کو پہنچی ہوئی تھی۔
انھوں نے دیکھا کہ ایک آدمی پہاڑی سے اتر رہا ہے اس کے اترنے کا انداز بتا رہا تھا کہ اس کی ٹانگیں لڑکھڑا رہی ہیں اور کسی بھی قدم پر وہ گر پڑے گا اور لڑکھڑاتا ہوا نیچے آئے گا ۔
اور شاید زندہ نہ ہی رہے۔
عمرو بن عاص ایک درخت کے نیچے بیٹھے تھے ۔
اور اس آدمی کو بڑی غور سے دیکھ رہے تھے۔
وہ آدمی پہاڑی سے تو اتر آیا لیکن اس سے چلا نہیں جا رہا تھا کبھی وہ اپنے دونوں ہاتھ اپنے گلے پر رکھ لیتا اور کبھی وہ روکتا اور اپنے آپ کو سنبھالنے کی کوشش کرتا ۔
وہ قدم گھسیٹا ڈولتا اور جھومتا عمرو بن عاص تک پہنچ گیا اور گر پڑا ۔
پانی——– اس آدمی کے منہ سے سسکی نکلی ۔
پانی—– مر جاؤں گا ۔
عمرو بن عاص کے پاس پانی کا مشکیزہ بھرا ہوا تھا ۔
گرمی اتنی کہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد پیاس لگتی تھی، اور حلق میں کانٹے چبھنے لگتے تھے اس لئے عمرو بن عاص نے پانی کا مشکیزہ اپنے ساتھ رکھا ہوا تھا اور تھوڑی تھوڑی دیر بعد ایک دو گھونٹ پانی پی لیتے تھے اس آدمی نے پانی مانگا تو عمرو بن عاص نے مشکیزہ کھولا اور پھر اس کو سہارا دے کر بٹھایا اور مشکیزے کا منہ اس کے منہ کے ساتھ لگا دیا گیا۔
وہ شخص اتنا پیاسا تھا کہ آدھا مشکیزہ پانی پی گیا۔
تم نے مجھے پانی نہیں نئی زندگی دی ہے۔ اس آدمی نے کہا میں حضرت عیسی علیہ السلام کی اس سرزمین کی زیارت کے خاطر پہاڑی پر چڑھ گیا تھا کہ دور دور تک اس علاقے کو دیکھوں گا لیکن میری حماقت کے پانی ساتھ نہ لے گیا۔
یہ تو ایک معجزہ ہے کہ میں تم تک زندہ پہنچ گیا ہوں ،اس شخص نے اپنا نام شماس بتایا اور یہ بھی کہ وہ عیسائی ھے۔
وہ مصر کے بہت بڑے شہر اور بندرگاہ اسکندریہ کا رہنے والا تھا ، اس وقت اسکندریہ مصر کا دارالحکومت تھا اور مصر میں ایرانیوں کی حکومت تھی۔
=÷=÷=÷=÷=÷۔=÷=÷=÷
شماس کو پانی ملا جو اس نے پیٹ بھر کر پیا تو اس کے جسم میں تازگی آگئ ۔
وہ تھکا ہوا بھی تھا اسے گنودگی محسوس ہونے لگی، عمرو بن عاص کا شکریہ ادا کرکے وہ اٹھا اور قریبی ایک درخت کے نیچے لیٹا اور لیٹتے ہی اس کی آنکھ لگ گئی تھی وہ خراٹے لینے لگا۔
عمرو بن عاص اس سے بے خبر ہو گئے اور اپنے اونٹوں کو دیکھنے لگے کہ کوئی اونٹ کی اِدھراُدھر نہ ہوجائے ۔
انہوں نے ویسے ہی اپنا مشکیزہ دیکھا کہ اس پیاسے انسان نے اس میں کوئی قطرہ چھوڑا بھی ہے یا نہیں مشکل سے دوچار گھوٹ پانی رہ گیا تھا۔
عمروبن عاص کو دلی اطمینان محسوس ہورہا تھا کہ انہوں نے ایک پیاسے کی جان بچائی ہے ۔
وہ شخص جس نے اپنا نام شماس بتایا تھا بیت المقدس شہر تک نہ پہنچ سکتا ۔عمرو بن عاص نے سوئے ہوئے شماس کی طرف دیکھا تو ان کے اوسان خطا ہوگئے ۔
ایک بڑا لمبا سانپ جس کا رنگ سیاہی مائل تھا آہستہ آہستہ سوئے ہوئے شماس کی طرف رینگتا آرہا تھا ۔
گرمی کی شدت میں سانپوں میں زہر بہت ہی تیز ہوجاتا ہے۔
اور فورا ہی اثر کرتا ہے ۔
سانپ اور شماس میں ایک دو قدموں کا ہی فاصلہ رہ گیا تھا۔
عمرو بن عاص کہ اتنی جلدی وہاں تک نہیں پہنچ سکتے تھے کہ سانپ کو شماس تک پہنچنے سے پہلے مار ڈالتے یا بھگادیتے۔
اس زمانے میں گڈریے اپنے ساتھ تیر اور کمان ضرور ہی رکھا کرتے تھے ۔
تلوار اور برچھی بھی ان کے پاس ہوتی تھی لیکن تیر و کمان کو اس لیے زیادہ ضروری سمجھا جاتا تھا کہ مویشی یا بھیڑ بکریاں چرتی چگتی دور نکل جاتی تھی ۔
کوئی درندہ آ نکلتا تو گڈریے دور سے اسے تیر مار سکتے تھے۔
عمرو بن عاص اونٹ چرانے کے لیے گئے تھے اس لئے تیروکمان بھی ساتھ لے گئے تھے۔ انہوں نے سانپ کو دیکھا تو فوراً کمان میں تیر ڈالا اور سانپ کے سر پر تیر چلایا فاصلہ بہت تھوڑا تھا اس لئے تیر سانپ کے سر میں سے گزر کر زمین میں گڑ پڑا سانپ وہیں لوٹ پوٹ ہوتا رہا اور مر گیا۔
انہوں نے شماس کو جگانا مناسب نہ سمجھا وہ بڑی گہری نیند سویا ہوا تھا۔
کچھ دیر بعد شماس کی آنکھ کھلی وو اٹھ بیٹھا سب سے پہلے اس کی نظر سانپ پر پڑی اور بودک کر اٹھا اور اس سے دور ہٹ کر اسے دیکھنے لگا ۔
اس نے سانپ کے سر میں گزرا ہوا اور کچھ زمین میں گڑا ہوا تیر دیکھا۔
تو گھوم کر عمرو بن عاص کی طرف دیکھا اس کے چہرے پر حیرت تھی۔
عمرو بن عاص مسکرا رہے تھے۔
مر گیاہے ۔۔۔۔۔عمر بن عاص نے کہا ۔
اب ڈرنے کی ضرورت نہیں یہ تمہارے پاس پہنچ گیا تھا میرے تیر نے اسے آگے نہیں آنے دیا۔
شماس آہستہ آہستہ عمروبن عاص کے پاس آ کر بیٹھ گیا وہ انھیں دیکھتا ہی رہا جیسے اس کی زبان بولنے سے عاری ہو گئی ہو ۔
عمرو بن عاص بھی اسے دیکھتے رہے اور منہ سے کچھ بھی نہ بولے۔
تم مجھے انسان نہیں لگتے۔
شماس نے کہا ۔
خدا نے تمہیں میری حفاظت کیلئے آسمان سے اتارا ہے۔
کہیں تم آسمانی مخلوق تو نہیں ہو؟
خدا کی قسم اتنی زیادہ حیرت کی بات تو نہیں تھی عمرو بن عاص نے کہا۔
انسان ہی تو انسان کے کام آیا کرتا ہے۔
میں آسمان سے نہیں اترا مکّہ سے بغرض تجارت آیا ہوں اور میں قبیلہ قریش کا آدمی ہوں۔
میں مصر کے سب سے بڑے شہر اسکندریہ کا رہنے والا ہوں، شماس نے کہا یہ مت سوچ کے میں مصری ہوئی اس لئےتمہارے ملک عرب کے رسم و رواج سے ناواقف ہو نگا۔
میں جانتا ہوں کہ ملک عرب میں ایک انسانی جان کا خون بہا 100 اونٹ ہے میں یہ بھی جانتا ہوں کہ 100 اونٹوں کی قیمت ایک ہزار دینار ہوتی ہے کیا میں نے غلط کہا ہے۔
نہیں دوست، عمرو بن عاص نے کہا تم نے غلط نہیں کہا ،عرب میں ایک انسانی جان کی قیمت ایک سو اونٹ ہی ہے، اور یہ قیمت اتنی زیادہ ہے کہ ہر کوئی اتنی قیمت نہیں دے سکتا ،اس لئے کوئی کسی کو قتل نہیں کرتا ،لیکن انسانی جان کی قیمت کا خیال تمہیں کیوں آیا؟
یہ مت پوچھ کے مجھے یہ خیال کیوں آیا ہے۔ شماس نے کہا میں تمہیں اپنے ملک لے چلوں گا خدا کی قسم میں تمہیں دو جانوں کی قیمت دوں گا یہ تمہارا حق ہے جو میں نے ادا نہ کیا تو خدا مجھ سے ناراض ہو گا۔
یہ نبیوں اور پیغمبروں کی مقدس سرزمین ہے، میں ان کی مقدس روحوں کو ناراض کرنے کی جرات نہیں کرسکتا۔
لیکن یہ تو بتاؤ ۔۔۔۔۔عمروبن عاص نے پوچھا۔۔۔۔ وہ کون سے دو انسان ہیں جنہیں تم نے قتل کیا ہے؟
اور میں کون ہوتا ہوں جو خون بہا وصول کروں ۔
عرب کے لوگ اتنے کم عقل تو نہیں ہوتے جتنے تم لگ رہے ہو ۔۔۔شماس نے کہا۔
تم نے دو بار میری جان بچائی ہے، کہ پیاس نے تو میری جان لے ہی لی تھی تم اگر کچھ ہی دیر اور مجھے پانی نہ پیلاتے تو میں مر چکا ہوتا ،پھر تم نے مجھے اس اتنے زیادہ زہریلے سانپ سے بچایا تم تیر چلانے میں ذرا سی بھی کوتاہی کرتے تو سانپ مجھے ڈس لیتا اور میں بیدار ہونے سے پہلے ہی مر چکا ہوتا ،پھر بتا مجھ پر دو جانوں کی قیمت واجب ہوتی ہے یا نہیں؟
عمرو بن عاص بڑے معزز اور برتر خاندان کے فرد تھے انہوں نے شماس سے کہا کہ ان کا اس پر کوئی حق نہیں بنتا انہوں نے تو اپنا فرض ادا کیا ہے۔
میرے عربی دوست۔۔۔ شماس نے کہا تم نہیں جانتے تم نے کس کی جان بچائی ہے خدا نے مجھے اتنی دولت بدی ہے اور ایسا رتبہ دیا ہے کہ میرے دوستانہ تعلقات شاہی خاندان کے ساتھ اور وہاں کے امراء اور حکام کے ساتھ بڑے گہرے ہیں۔
اور ان حلقوں میں مجھے بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔
میرے پاس یہاں دو ہزار دینار ہوتے تو میں تمہارا حق یہی ادا کر دیتا ۔
میں تمہیں اسکندریہ لے چلوں گا اور تم انکار نہیں کرو گے۔
جہاں تم نے مجھ پر دو احسان کئے ہیں وہاں تیسرا احسان یہ کرو کہ میرے ساتھ چلو۔

#جاری_ہے