عام انتخابات مقررہ وقت سے ایک سال آگے جاسکتے ہیں، فضل الرحمان

کراچی: پی ڈی ایم کے صدر اور جمعیت علماء اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ معاشی صورتحال کے پیش نظر اسمبلی کی مدت میں آئین کے مطابق توسیع کرنے پر غور کیا جاسکتا ہے اور انتخابات مقررہ وقت سے ایک سال آگے بھی جاسکتے ہیں۔

کراچی میں جے یو پی کے سربراہ مولانا شاہ اویس نورانی کی رہائش گاہ پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عمران خان کا ایجنڈا پورا نہیں ہونے دیں گے، وہ کب تک عوام کو دھوکا دیتے رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   پی ڈی ایم کا لانگ مارچ ملتوی ہونے کا امکان

انہوں نے کہا کہ انتخابات وقت پر کرانے کے بجائے ایک سال آگے بھی جاسکتے ہیں۔اسمبلیاں توڑنے کی بھڑکیں بہت سنیں ایسا کچھ نہیں ہے، جتنی بھڑکیں انہوں نے ماری ہیں کیا ان پر کوئی عمل ہورہا ہے؟۔

پی ڈی ایم کے صدر نے کہا کہ ہر کسی کو چور چور کہنے کا بیانیہ فیل ہوچکا ہے، ملک کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کی اجازت نہیں دینگے، پچھتر سالہ تاریخ میں پہلی بار دفاعی ادروں کو تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی۔ اختلاف کا سب کو حق ہے لیکن سازش کا کسی کو حق نہیں ہے۔ ملک دیوالیہ پن کے قریب تھا ہم اسے واپس لائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   سعودی ولی عہد کا چند ہفتے میں دورہ پاکستان متوقع، 15 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کریں گے: ذرائع

فضل الرحمان نے کہا کہ آئین پاکستان ایک مقدس دستاویز ہے جسے میثاق ملی کی حیثیت حاصل ہے، اس آئین کا بنیادی ڈھانچہ 4 باتوں اسلام، جمہوریت، وفاقی نظام اور پارلیمان طرز جمہوریت پر مشتمل ہے، ملک میں 1973 تک صدارتی نظام رائج تھا ایوب خان کے دور حکومت میں ملک بھر میں تحریک اٹھی تھی جس کے بعد پارلیمانی نظام آیا۔

یہ بھی پڑھیں:   صدارتی آرڈیننس بدنیتی پر مبنی ہے، فضل الرحمان

انہوں نے کہا کہ بھٹو کے دور حکومت میں آئین پاس کیا گیا، آج تک متفقہ آئین کا ٹائٹل موجود ہے، ناکام طریقے کو پھر سے آزمانے کی باتیں ہورہی ہیں، یہ باتیں وہ شخص کررہا ہے جس کی سیاسی بلوغت نہیں اور وہ ہمیں سیاست سکھا رہا ہے۔

فضل الرحمان نے واضح کیا کہ پارلیمانی طرز حکومت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا جبکہ صدارتی نظام سمیت عمران خان کا کوئی بھی غیر جمہوری منصوبہ کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔