سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃاللہ علیہ (قسط نمبر2 )

✍️تحریر قاضی عبدالستار
اور موٹے موٹے سیاہ ہاتھوں میں چاندی کا وہ ’’عصا ‘‘ پکڑے ہوئے تھے جن کے سروں پر سونے کے ہلال جڑے تھے۔ سامنے نیزے کے برابر اونچا اسی گز لمبا اور پچاس گز چوڑا سنگِ سیاہ کا چمکیلا چبوترہ تھا جس کے چاروں طرف خوشبودار پانی کی نہر کی گوٹ لگی تھی چبوترے پر سنگ مر مر کا وسیع حوض تھا۔ جس کے حاشیے پر چینی کنیزوں کی سبک ٹانگوں کی طرح زرد پتھر کے ترشے ہوئے ستون نصب تھے۔ ان پر سونے کی مہین قلمکاری جگمگارہی تھی جیسے ٹانگوں پر روئیں چمک رہے ہوں۔ ان ستونوں پر قبہ رکھا ہوا تھا گویا ہوا میں معلق ہو۔ قبے کے چاروں طرف سنگ مر مر کی جالیوں سے مزین شہ نشینیں تھیں جو سنگ سیاہ کے چبوترے کے آئینے میں اپنی آرایش دیکھ رہی تھیں۔ حوض میں قیمتی پتھروں کی سی رنگ برنگ مچھلیاں تیر رہی تھیں۔ اس کے قلب میں سونے کا بھاری فوارہ متانت سے اڑ رہا تھا ۔ ہر ستون کے سامنے ایک خاص بردار ننگی تلوار علم کئے مطلا و مسبحع مجسموں کے مانند جما ہوا تھا ۔ قبے پر جانے والے زینے کے کھلے ہوئے چاندی کے دروازے پر کیفا کا مشہور ارتقی فرمانروا نور الدین زرد کفتان اور طربوش پہنے کمر میں صرف ایک جڑاؤ خنجر لگائے حاجب بنا کھڑا تھا ۔
پادری نے زمین کو چھوتا ہوا سلام کیا۔ حاجب بارگاہ نے ابرد کو جنبش دی۔ پادری آہستہ آہستہ کا شافی مخمل سے منڈھی ہوئی سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ آخری سیڑھی پر مسلح غلاموں نے پادری کا بازو پکڑ لیا اورکفاکا بیش قیمت پر دہ ہٹا کر داخل کر دیا۔اندر ایک نئی دنیا اسکی منتظر تھی،حیرت و استعجاب کا جہان پھیلا کھڑا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   آج صبر کا مظاہرہ کیا لیکن حد پار کریں گے تو ریاست اپنی ذمہ داری پوری کریگی،فواد چوہدری

✍سارا فرش سبز پتھر کا تھا جس پر سفید بچی کا ری اورسنگ مرر کی آبدار دیواروں پر سیپ کی خانہ بندی تھی۔ ناز ک گل بوٹوں کے حاشیوں کے درمیان ’’اقوال زریں ‘‘ کندہ تھے۔ تھوڑی تھوڑی دور پر قد آدم محرابوں میں نازک ترین جالیوں کے پردے لگے تھے۔ بیضوی طاقوں میں جگمگاتی ہوئے زریں انگیٹھیوں میں عودوعنبر سلگ رہا تھا۔ مغربی دیوار کے نیچے سنگ سماق کا تخت بچھا تھا۔ جس کے پارے سونے کے کام سے زرد تھے۔ 
چمڑے کے گدے پر شیر کی کھال بچھائے بھاری گاؤ تکیے سے پشت لگائے بادشاہوں کا بادشاہ نیم دراز تھا۔ ان کے گھٹنوں پر کشمیری شال پڑی تھی ۔ جس سے ان کا سفید پائجامہ جھانک رہا تھا۔ زرد کفتان کے گریبان اورچوڑی چکلی آستین سے حریر کی صدری کے تکمے اور کف نظر آرہے تھے۔ داہنے ہاتھ کی انگلی میں وہ انگوٹھی تھی جسے یورپ کے سفیر نور کا پہاڑ کہتے تھے ۔ رخساروں کی ہڈیاں ابھری ہوئی تھیں، دہانہ تنگ، ہونٹ پتلے اور دانت سفید تھے۔ کشادہ پیشانی کے وسط سے اونچی ناک کی جڑ کے پاس تک زخم کا وہ نشان تھا جسے سلطان اعظم نے حطین کی لڑائی میں قبول کیا تھا ۔ اور جس پر بالوں کی ایک سفید لٹ سجدہ کر رہی تھی۔ سیاہ گھنے دور دور بیٹھے ابروؤں کے نیچے بے پناہ آنکھیں اس بڑھاپے میں بھی زندگی کے منصوبوں اور عزائم کی آگ سے دہل رہی تھیں۔ سفید پتلی اور نوک دار داڑھی نے فرشتوں کا تجمل پیدا کر دیا تھا ۔

تخت کے پہلو میں ہاتھی دانت کی تپائی پر وہ طربوش رکھا ہوا تھا جس نے تاریخ عالم کی عظیم الشان لڑائیوں کی کڑی دھوپ سہی تھی۔ تخت کی پشت پر دیوار میں ’’نصرمن اللہ و فتح قریب ‘‘ کے زریں طغرے کے نیچے سونے کی کھونٹی میں چمڑے کا معمولی نیام پہنے وہ تلوار لٹک رہی تھی جس کی شکست کیلئے ساری دنیا کے گرجوں میں سالہا سال تک لاکھوں انسانو ں نے ہزاروں من آنسوؤں سے دھوئی ہوئی دعائیں مانگی تھیں۔
سلطان اعظم کسی سوچ میں ڈوبے ہوئے تھے۔ قدموں کی چاپ پر نگاہ اٹھائی۔ پادری گھٹنوں پر گر گیا۔ اشارہ پاتے ہی خدمت گزاروں نے پادری کو کھلونے کی طرح اٹھا کر تخت کے نیچے بچھے ہوئے سفید قالین پر رکھ دیا۔ جب ہوش بجا ہوئے تو اس نے آنکھیں اٹھائیں ۔ شبنم کی طرح نرم سلطانی نگاہ اس کا چہرہ پڑھ رہی تھیں۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے اپنی صلیب اتاری اور اس کے اوپر کا حصہ پکڑ کر پوری طاقت سے زور کیا۔ صلیب کھل گئی۔ خول سے ایک موم جامہ نکال کر آنکھوں سے لگایا اور دونوں ہاتھوں پر رکھ کر گھٹنوں کے بل کھڑا ہو گیا۔ حاجب نے اٹھالیا اور چاہاکہ مہر توڑ دے ۔ پادری نے ہکلاتے ہوئے گزارش کی۔
’’میری استدعا ہے کہ اسے سلطان اعظم کے دست مبارک میں دے دیا جائے۔‘‘
سلطان کی نظریں دیکھ کر حاجب نے اسے سلطان کی خدمت میں پیش کر دیا ۔ سلطان نے مہر دیکھی نگاہ مطمئن ہو گئی ۔ کفتان کی آستین سے چھوٹا سا خنجر نکالا اور اس کے نیلے پھل سے لفافہ چاک کر کے خط نکال کر سرکاری انداز میں پڑھا۔ پھر پادری کو دیکھا جس نے نگاہ جھکالی۔ وہ خط تکیے پر ڈال کر زرنگار چھت میں جھولتے ہوئے بھاری فانوس کے نقش و نگار میں کھو گئے۔ تھوڑی دیر بعد نظریں نیچی کیں۔ فرمان کے منتظر حاجب کو دیکھ کر گردن ہلا دی۔ وہ پادری کو لے کر آرام خانہ خاص کے باہر چلا گیا۔ وہ اسی طرح بے حس و حرکت بیٹھے رہے۔ پھرتالی بجائی۔ مرصع غلاموں کا ایک دستہ بے آواز قدموں سے آکر حکم کا انتظار کرنے لگا۔ سلطان نے ان کی طرف دیکھے بغیر اشارہ کیا۔
’’آج کی حاضر یاں موقوف کی گئیں‘‘۔
دستہ الٹے پیروں واپس ہو گیا۔ سارے وقت آنکھیں سوچتی رہیں۔ دل کا پوجا ہوا ایک زخم ہرا ہو گیا جس کی خوشبو سے پوری شخصیت معطر ہو گئی۔ ظہر اور عصر کی نماز تنہا پڑھی گئی۔ مغرب کے وقت زینے کے پردے کے پیچھے، ہتھیار وں کی مدھم جنبش اور دبی دبی سرگوشیوں کے پس منظر میں شہزادہ نصر کی ضدی چونچال اور مودبانہ آواز کھنکنے لگی۔ ملک العزیز کے اس بیٹے کو سلطان بہت عزیزرکھتے تھے۔ اجازت پا کر شہزادہ نصر کے داخل ہوتے ہی سلطان کا چھوٹا بیٹا ملک الظاہر اپنی دنیا کے سب سے بڑے حکیم میموس کو لے کر داخل ہوا۔
حکیم لانبی داڑھی پر خلفائے عباسیہ کا درباری جبہ پہنے اندر آئے جس کے سیاہ گھیر دار دامن ٹخنوں پر لرز رہے تھے اور دست بستہ کھڑے ہو گئے۔ سلطان نے کلائی بڑھائی۔ حکیم نے کفتان کی سوتی آستین الٹ دی اور نبض دیکھنے لگے ۔ پھر مراقبے سے نکل کر ملک الظاہر کو مسرت سے دیکھا ۔گویا سلطان کی تندرستی پر مبارکباد دے رہے ہوں۔
خادم کے ہاتھوں سے سنہرے طشت سے وہ گلاس اٹھالیا جس پر سونے کے پانی سے قرآن پاک کی آیتیں لکھی ہوئی تھیں کچھ پڑھا، سرپوش اٹھا کر گلاس پردم کیا اور ہتھیلی پر رکھ کر رکوع میں چلے گئے۔ (جاری ہے)