چینی قرضے پر سالانہ سود 36.3 ارب تک جاپہنچا

اسلام آباد: قرضوں کی ادائیگی میں سہولت کے لیے چین کی جانب سے 4.5 ارب ڈالر کی کرنسی تبادلہ فیسیلیٹی پر واجب الادا سود کی رقم میں 39 فیصد اضافہ ہوگیا جس کے باعث گزشتہ مالی سال میں پاکستان کو اس مد میں 36.3 ارب روپے ادا کرنے پڑے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مالی سال 2021-22 کے لیے سالانہ فنانشل اکاؤنٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ 4.5 ارب ڈالر مالیت کی چینی ٹریڈ فنانس فیسیلیٹی کے استعمال پر پاکستان کو سالانہ سود کی مد میں 36.3 ارب روپے ادا کرنے پڑے۔

یہ بھی پڑھیں:   ایران سے درآمد ،سرکاری نرخ نامے میں کمی کے باوجوداوپن مارکیٹ میں ٹماٹرکی قیمت نیچے نہ آ سکی

اس سے پچھلے سال پاکستان نے سود کی مد میں26.1 ارب روپے ادا کیے تھے یعنی اس رقم میں صرف ایک سال میں 39 فیصد اضافہ ہوگیا، جو 10.2ارب روپے بنتا ہے۔

اسٹیٹ بینک نے چائنا پاکستان کرنسی سواپ ارینجمنٹ کے تحت ٹریڈ فنانس فیسیلیٹی کی پوری مجموعی رقم سے استفادہ کیا، جو 4.5 ارب ڈالر یا 30 ارب یوان بنتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے

یاد رہے کہ دوطرفہ تجارت اور براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کے فروغ، شارٹ ٹرم لیکوڈیٹی سپورٹ اور فریقین کی باہمی رضامندی سے طے ہونے والے کسی بھی دوسرے مقصد کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور پیپلز بینک آف چائنا کے مابین دسمبر 2011ء میں دوطرفہ کرنسی سواپ معاہدہ (سی ایس اے) طے پایا تھا۔

مالی سال2021ء میں اس معاہدے کی بالائی حد تین سالہ مدت کے لیے 20 ارب یوان سے بڑھا کر 30 ارب یوان یا 4.5 ارب ڈالر کردی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   نیب نے میر شکیل الرحمان کو گرفتار کرلیا

وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے رواں ماہ بیجنگ کا دورہ کیا اور چینی وزیراعظم سے ٹریڈ فنانس فیسیلیٹی کی بالائی حد میں مزید 10ارب یوان یا 1.5 ارب ڈالر اضافے کی درخواست کی تھی۔

اگر یہ درخواست چین کی جانب سے منظور کرلی گئی تو رواں مالی سال کے دوران پاکستان کو اس کے عوض 50 ارب روپے سود ادا کرنا پڑے گا۔