عمران خان نے 26 نومبر کو راولپنڈی پہنچنے کی کال دے دی

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے لانگ مارچ ختم کر کے پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کو 26 نومبر کو راولپنڈی پہنچنے کی کال دے دی۔

لانگ مارچ کے شرکا سے ویڈیو خطاب کے دوران عمران خان نے ’’حقیقی آزادی‘‘ مارچ کے دوسرے مرحلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہماری تحریک نہیں روکے گی، 26 نومبر کو شفاف انتخابات کا مطالبہ کریں گے، ساری قوم حقیقی آزادی کیلیے مل کر ہمارے ساتھ جدوجہد کرے اور پنڈی پہنچے، اگلے ہفتے پنڈی میں سب سے ملاقات ہوگی جہاں میں تحریک کے اگلے لائحہ عمل کا اعلان کروں گا۔

یہ بھی پڑھیں:   منصب سنبھالنے پر جنرل ساحر شمشاد مرزا اور جنرل سیّد عاصم منیر کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، عمران خان

علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ ہماری اپنی اسٹیبلشمنٹ نے ان کو کرپٹ کہا ہے، میرا سوال ہے کہ ایک دم یہی لوگ کیسے اسٹیبلشمنٹ کے لیے ٹھیک ہو گئے، مان لیتے ہیں اسٹیبلشمنٹ نے سازش نہیں کی مگر میرے خلاف تحریک عدم اعتماد تو روک سکتے تھے۔

عمران خان نے کہا کہ میرا سوال ہے کہ وہ کیا چیز تھی کہ سوا تین سال بعد یہ لوگ اسٹیبلشمینٹ کے لیے اچھے ہوگے، ایسی کیا چیز تھی کہ پھر ان کو ہمارے اوپر مسلط کردیا، اب 7 مہینے کے بعد کوئی ایک ایسی چیز بتائیں جس میں بہتری آئی ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان کو سنگین نوعیت کے مقدمے میں عمر قید کی سزا ہوسکتی ہے، اسلام آباد پولیس

عمران خان نے کہا کہ تحریک انصاف وفاقی اکائیوں کی پارٹی ہے جو ملک کو بچا سکتی ہے، انہوں نے حکومت میں آنے کے بعد قانون بدل کر 1100 ارب روپیہ ہضم کر لیا ہے، اس پر انہیں جو ہرجانہ ہوگا اور پاکستانی قوم دیکھے گی۔

سابق وزیراعظم نے مزید کہ پاکستان کی عدالتوں سے مجھے انصاف کی امید نہیں، اس لیے جیو اور میر شکیل کے خلاف امریکا، برطانیہ اور دبئی میں کیس کروں گا۔

یہ بھی پڑھیں:   وفاقی کابینہ کا لانگ مارچ میں اسلحہ لانے کے اعتراف کا نوٹس

عمران خان نے سینیٹر اعظم سواتی کے حوالے سے کہا کہ منہ بند کرنے کے لیے میاں بیوی کی ویڈیو گھر بھیجی گئی اور سینیٹر کو برہنہ کرکے تشدد کیا گیا اور اسے کہا گیا کہ عمران خان کا ساتھ چھوڑ دو۔