سانحہ اے پی ایس پر وزیراعظم کی رپورٹ طلب

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان سپریم کورٹ کے حکم پر سانحہ آرمی پبلک اسکول از خود نوٹس کی سماعت کے دوران عدالت میں پیش ہوئے، اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید اور دیگر وزرا اور اہم حکام بھی موجود تھے۔

عدالتی استفسار پر وزیر اعظم نے کہا کہ جب یہ واقعہ ہوا تو میں فوراً پشاور پہنچا، میں تو اس وقت حکومت میں نہیں تھا، سانحے کے وقت صوبہ میں ہماری حکومت تھی، ہم نے ہر ممکن اقدامات اٹھائے۔جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیئے کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق آپ تو ان لوگوں سے مذاکرات کررہے ہیں۔

جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ رپورٹ کے مطابق کوئی خاص اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آئین پاکستان میں عوام کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے، ریاست نے بچوں کے والدین کو انصاف دلانے کے لیے کیا کیا؟ اب تو آپ اقتدار میں ہیں، مجرموں کو کٹہرے میں لانے کے لیے آپ نے کیا کیا؟ ہمیں آپ کے پالیسی فیصلوں سے کوئی سروکار نہیں، ہم یہ پوچھ رہے ہیں کہ اتنے سال گزرنے کے بعد بھی مجرموں کا سراغ کیوں نہ لگایا جا سکا؟۔

یہ بھی پڑھیں:   عاصم سلیم باجوہ کا استعفیٰ واپس

وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا نائن الیون سے کوئی تعلق نہیں تھا، ہمیں پتہ ہی نہیں تھا کہ دوست کون اور دشمن کون، میں نے اس وقت کہا تھا یہ امریکا کی جنگ ہے، ہمیں مداخلت نہیں کرنی چاہیے، 80 ہزار لوگ دہشت گردی کی جنگ میں شہید ہوئے۔

جسٹس قاضی امین نے استفسار کیا کہ ماضی میں جانے کی ضرورت نہیں، آپ وزیراعظم ہیں، ہم آپ کا احترام کرتے ہیں، یہ بتائیں کہ سانحے کے بعد اب تک کیا اقدامات اٹھائے۔ جس پر وزیر اعظٖم نے کہا کہ ہم نے سانحے کے بعد نیشنل ایکشن پلان بنایا، ہم جنگ اس لیے جیتے کہ پوری قوم پاک فوج کے ساتھ کھڑی رہی، ہم نے نیشنل انٹیلی جنس کوارڈینشن کمیٹی بنائی جو معاملے کو دیکھ رہی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ عدالت حکم دے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شامل ہونے والوں کا بھی تعین کیا جائے، ان 80 ۔ہزار شہدا کے بھی والدین تھے، ان کا بھی دکھ اتنا ہی ہوگا، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ وزیر اعظم ہیں اپ ہر طرح کا اقدام کر سکتے، تاریخ میں بہت سے بڑے عہدیداران کا ٹرائل ہوا ہے۔ آپ حکومت میں ہیں، آپ کی ذمہ داری ہے کہ بچوں کے والدین کی داد رسی کریں۔

یہ بھی پڑھیں:   سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے خود کو سعودی عرب میں پاکستان کا سفیر کہہ کر پاکستانیوں کے دل جیت لیے، وزیراعظم

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ ہر شہید ہونے والا ہمارا ہیرو ہے ، ہمارا نقصان ہوا ہے وفاقی حکومت نے جو کارروائی کرنی ہے کرے۔

سپریم کورٹ نے 4 ہفتوں میں سانحہ اے پی ایس کے ذمہ داروں کے تعین کا حکم دیتے ہوئے وزیراعظم سے اقدامات کی رپورٹ طلب کرلی، عدالت نے وفاقی حکومت ذمہ داران کے خلاف کاروائی کے عمل میں بچوں کے والدین کو شامل کرے۔

اس سے قبل چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے فاضل بینچ نے سانحہ آرمی پبلک اسکول از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت عدالت نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا وزیراعظم نے عدالتی حکم پڑھا ہے؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزیراعظم کو عدالتی حکم نہیں بھیجا تھا، وزیراعظم کو عدالتی حکم سے آگاہ کروں گا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ وزیراعظم کو بلائیں ان سے خود بات کریں گے، ایسے نہیں چلے گا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ انٹیلی جنس پر اتنا خرچ ہورہا ہے لیکن نتائج صفر ہیں، اپنے لوگوں کے تحفظ کی بات آئے تو انٹیلی جنس کہاں چلی جاتی ہے؟ بچوں کو اسکولوں میں مرنے کے لئے نہیں چھوڑ سکتے، چوکیدار اور سپاہیوں کے خلاف کارروائی کر دی گئی، اصل میں تو کارروائی اوپر سے شروع ہونی چاہیے تھی، اوپر والے تنخواہیں اور مراعات لے کر چلتے بنے، کیا سابق آرمی چیف اور دیگر ذمہ داران کے خلاف مقدمہ درج ہوا؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ سابق آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے خلاف انکوائری رپورٹ میں کوئی فائنڈنگ نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   محب وطن پاکستانی فوج مخالف بیانیے کی حمایت نہیں کر سکتا، وزیراعظم عمران خان

جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ اداروں کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ قبائلی علاقوں میں آپریشن کا رد عمل آئے گا، سب سے نازک اور آسان ہدف اسکول کے بچے تھے، یہ ممکن نہیں کہ دہشت گردوں کو اندر سے مدد نہ ملی ہو۔

دوران سماعت عدالت میں ٹی ٹی پی سے مذاکرات کا بھی تذکرہ ہوا۔ جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیئے کہ کیا اصل ملزمان تک پہنچنا اور پکڑنا ریاست کا کام نہیں؟ اطلاعات ہیں کہ ریاست کسی گروہ سے مذاکرات کررہی ہے۔