طالبان حکومت میں مزید 38 وزرا شامل

کابل: امارت اسلامیہ افغانستان میں طالبان کابینہ میں تیسری بار توسیع کی گئی ہے اور اس بار بھی خواتین، اقلیتوں یا دیگر اقوام کے کسی نمائندے کو شامل نہیں کیا گیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ترجمان طالبان اور نائب وزیر اطلاعات ذبیح اللہ مجاہد نے امارت اسلامیہ افغانستان کی کابینہ میں تیسری توسیع کا اعلان کیا ہے۔ جس میں وزیر اعظم کے سیاسی نائب، نائب وزراء اور افغان ہلال احمر سوسائٹی کے نائب سربراہ شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   افغانستان میں طالبان فاتح ، 20 سالہ جنگ کا اختتام

نائب وزیراطلاعات ذبیح اللہ مجاہد نے 38 نئے وزرا کے ناموں کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ مولوی عبدالکبیر کو ایڈیشنل ڈپٹی پرائم منسٹر کو عہدہ دیا گیا ہے۔ اس کےعلاوہ نائبین کی کابل، ہلمند، ہرات اور قندھار کے لیے تقرری کی گئی ہے جن میں بیشتر وزارت دفاع اور آرمی سے متعلق ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   طالبان نے 421 اضلاع میں سے ایک تہائی کا کنٹرول سنبھال لیا

ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے مزید بتایا کہ نئے وزرا بھی عبوری حکومت کا حصہ ہوں گے تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ عبوری حکومت کی مدت کیا ہے اور اس کے بعد انتخابات کرائے جائیں گے یا حکومت کے چناؤ کے لیے کوئی دوسرا نظام لایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   چین کا کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں کمی کا دعویٰ

واضح رہے کہ طالبان کی جانب سے کئی بار وعدوں کے باوجود تاحال عبوری حکومت میں خواتین، اقلیتوں اور دیگر اقوام کے نمائندوں کو شامل نہیں کیا گیا جس پر طالبان کو عالمی قیادت کے دباؤ کا بھی سامنا ہے۔