صحافیو ں کے تحفظ ، ڈیجیٹل سیکیوریٹی ،نفسیاتی و سماجی معاونت اور معروضیت پر مبنی رپورٹنگ کے بارے میں تربیتی ورکشاپ

اسلام آباد: سنٹر فار پیس اینڈ ڈیویلپمنٹ انیشیٹوز (سی پی ڈی آئی)کے زیر اہتمام اور یورپی یونین کے مالی تعاون سے اسلام آباد میں صحافیوں کے تحفظ، ڈیجٹیل سیکورٹی اور نفسیاتی و سماجی معاونت کے عنوان سےمنعقدشدہ تین روزہ ورکشاپ اپنےاختتام کو پہنچی۔

اس تربیتی ورکشاپ میںاسلام آبادسمیت پنجاب کے مختلف علاقوں ، جن میں خواتین بھی شامل ہیں ،نے بھرپور شرکت کی۔ سیشنزکے دوران مختلف سرگرمیاں منعقد کی گئی جن کا مقصدشرکاء کی ایسی تربیت کرنا ہے کہ وہ نامساعد اور غیر محفوظ حالات میں اپنی حفاظت یقینی بناسکے۔ تربیتی سیشن میں مختلف ماڈیولز اور مشقیں شامل ہیں جن میں معروضیت پر مبنی رپورٹنگ ، خطرے کی جانچ پڑتال ، زندگی کے ثبوت کیدستاویزات کی تیاری ، ابتدائی طبی امداد ، غیر محفوظ صورتحال سے نمٹنے کے لئے تدابیر اور ڈیجیٹل سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لئےنکات شامل ہیں ۔ ورکشاپ میں صحافیوں کے تحفظ کے قومی اور بین الاقوامی قانونی ڈھانچے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جس میں آئین پاکستان کے آرٹیکل، 19،10 اور 19-اے پر تفصیلی تبادلہءخیال کیاگیا جو کہ بالترتیب غیر قانونی گرفتاری، اظہار رائے کی آزادی، اور معلومات تک رسائی کے حق سےمتعلق قانونی تحفظ فراہم کرتی ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:   ٹورنٹو سے کراچی آنے والی پی آئی اے کی پرواز کوایک انجن پر اڑانے کی کوشش ،مسافروں کا ہنگامہ ،ائیر پورٹ انتظامیہ نے روک لیا.

ٹریننگ کے دوران یہ تجزیہ بھی سامنے لایا گیا کہ کرپشن، سیاسی بیٹ اور کرائم رپورٹنگ کرنے والوں صحافیوں کو دیگر صحافیوں کے مقابلے میں زیادہ خطرناک صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دنیا میں صحافتی پیشے کے لئے خطرناک ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے، اور صحافت پاکستان کے خطرناک پیشوں میں سے ایک پیشہ ہے۔ دوسری جانب صحافیوں اور فری لانسرز کو میڈیا کے ادارے اور اخباراتمحدود وسائل کی وجہ سےمناسب تحفظ، تربیت اور سیکیورٹی فراہم نہیں کرسکتے۔ مزید صحافیوں کے تحفظ اور ان کے خلاف جرائم کرنے والے مجرموں میں سزا سے بے خوفی کا مسلہ بھی بڑی حد تک حکومت کی فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ صحافیوں کے تحفظ کے لئے فوری اور موثر قانون سازی وقت کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان میں صحافیوں کے تحفظ سے متعلق کوئی قانون موجود نہیں ۔ انہی حالات کو مدنظر رکھتے ہو ئے سی پی ڈی آئی نے یورپی یونین کے مالی معاونت سے جاری کردہ پراجیکٹ سول سوسائٹی فار انڈیپینڈنٹ میڈیا اینڈ ایکسپریشن (سائم)میں، آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے، اظہار رائے کی آزادی کو یقینی بنانے کےلئے صحافیوں کی تربیت کو اولین ترجیح دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   وزیراعظم کی ایران میں تقریر پر قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی

مذکورہ تربیتی نشست تین دن کے دورانیئے پر مبنی تھی اور یہ پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں مرحلہ وار منعقد کی جائے گی۔ انہی تربیتی نشستوں کی پہلی ٹریننگ اسلام آباد میں منعقد کی گئی تھی ، دوسری نشست لاہور میں تیسری نشست پشاور میں ، چوتھی اور پانچویں نشست لاہور میں جبکہ چٹھی سیشن آج اسلام آباد میں شرکاء میں اسناد کی تقسیم کے بعد مکمل ہو ئی۔ اسی نوعیت کی ٹریننگ کی مزیدچارنشستیں آنے والے مہینوں میں ملک کے مختلف شہروں میں منعقد کی جائےگی۔ شرکاء میں شامل ماہ نور قریشی، قراۃالعین، نادر خان، عاطف بٹ، ذیشان یوسفزئی، سعود اعجازاور دیگر نے کہا کہ اس قسم کی تربیتی نشستیں صحافیوں کی سیکیوریٹی ، نیٹ ورکنگ اور تحفظ کے لئے بہتر قانون بنانے میں بھی معاون ثابت ہونگی۔ نوجوان صحافیوں کے لئے ایسی تربیتی نشستوں میں شرکت کرنا پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ دوران ڈیوٹی غیر محفوظ اور شورش زدہ حالات کا سامنا کرنے اور اپنی حفاظت کو یقینی بنانے میں مددگار اور معاون ثابت ہورہی ہیں۔ صحافیوں کے مختلف گروپوں نے اس نوعیت کی مزید تربیتی نشستیں منعقد کرنے پر سی پی ڈی آئی اور یورپی یونین کی کاوشوں کو سراہا اور صحافتی تنظیموں سے نوجوان صحافیوں کے لئے اسی نوعیت کی نشستیں منعقد کرنے کا مطالبہ بھی کردیا۔