شمالی کوریا کا کروز میزائل کا کامیاب تجربہ

پیانگ یانگ: عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق شمالی کوریا نے 1500 کلومیٹر تک مار کرنے والے ملک کے پہلے ایٹمی صلاحیتوں کے حامل کروز میزائل کا کھلے سمندر میں تجربہ کیا ہے۔ میزائل نے اپنے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔

شمالی کوریا کے سرکاری ٹیلی وژن نے دعویٰ کیا ہے کہ کروز میزائل کا یہ تجربہ دشمن کی سرگرمیوں کو روکنے اور ہماری ریاست کی سلامتی کی زیادہ قابل اعتماد طریقے سے ضمانت دے سکتا ہے۔ شمالی کوریا کی کروز میزائل کی تیاری میں زیادہ دلچسپی کی ایک وجہ بیلسٹک میزائلوں کی تیاری پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت پابندی ہونا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   شہباز شریف لندن میں 4 فلیٹس کے مالک نکلے

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ شمالی کوریا نے کروز میزائل کے ذریعے لے جانے والے ’’وار ہیڈز‘‘ بنانے کے لیے درکار ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کر لی ہے یا نہیں تاہم شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے رواں سال کے آغاز میں ہی کہا تھا کہ چھوٹے بم تیار کرنا اولین مقصد ہے۔ امریکا میں قائم کارنیگی انڈومنٹ برائے عالمی امن کے سینئر اہلکار انکت پانڈا نے کہا کہ شمالی کوریا میں یہ پہلا کروز میزائل ہوگا جسے واضح طور پر ‘اسٹریٹجک’ کردار کے طور پر آزمایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس،ارباب عالمگیر کا فرد جرم کیخلاف درخواست دائر کرنے کا فیصلہ

تازہ ترین ٹیسٹ نے پیانگ یانگ کے ہتھیاروں کے پروگرام میں مستحکم پیش رفت پر روشنی ڈالی جس کا مقصد شمالی کوریا کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگراموں کو ختم کرنا ہے تاکہ امریکی پابندیوں میں نرمی کی جاسکے تاہم مذاکرات 2019 کے بعد سے تعطل کا شکار ہیں۔

واضح رہے کہ شمالی کوریا نے مارچ میں ایک نئے ٹیکٹیکل شارٹ رینج بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا تھا جب کہ جنوری کے آخر میں امریکی صدر جو بائیڈن کے اقتدار سنبھالنے کے چند گھنٹوں کے بعد ہی کروز میزائل کا تجربہ بھی کیا تھا۔