پیٹ کے نظام کا دماغ سے کوئی تعلق نہیں، ماہرین

کوینزلینڈ: جس طرح کے اعصابی خلیات ہمارے دماغ میں پائے جاتے ہیں، اس سے ملتے جلتے اعصابی خلیے ہمارے پیٹ میں بھی ہوتے ہیں جو غذا کے ہضم ہونے سے متعلق کئی کاموں میں خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔

یہ خلیے ہمارے معدے کی دیواروں کے سکڑنے اور پھیلنے سے لے کر کھانا ہضم ہونے تک، درجنوں کاموں کی نہ صرف نگرانی کرتے ہیں بلکہ ضرورت پڑنے پر پیٹ/ معدے کے پٹھوں کو حکم بھی جاری کرتے رہتے ہیں۔ اسی صلاحیت کی بناء پر پیٹ میں اعصابی خلیوں کے اس مجموعے کو ’’پیٹ کا دماغ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   پاک فوج نے نتھیاگلی میں پھنسے تمام سیاحوں کوریسکیو کر لیا

یہ تحقیق چوہوں پر اس لیے کی گئی کیونکہ چوہوں کی بعض اقسام اندرونی طور پر انسانوں سے بہت ملتی جلتی ہیں جبکہ وہاں ہونے والے عوامل بھی انسانوں سے مشابہت رکھتے ہیں۔

جدید مشاہداتی تکنیکوں کے استعمال سے ماہرین پر انکشاف ہوا کہ پیٹ میں پایا جانے والا یہ اعصابی نیٹ ورک، ہماری سابقہ معلومات سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے جبکہ یہ بہت ہی منظم انداز سے غذائی ہاضمے کے عمل کو کنٹرول بھی کررہا ہے؛ جس کا ہمیں پہلے علم نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان کی داخلی سلامتی صورتحال پہلے سے بہت بہتر ہے، ڈٰی جی آئی ایس پی آر

یہ غذائی نالی کی ابتداء سے لے کر اختتام تک، ہر حصے میں حرکت اور رطوبتوں کی مقدار تک کو کنٹرول کرتا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ ’’پیٹ میں دماغ‘‘ ہمارے سابقہ اندازوں اور معلومات کے مقابلے میں پیچیدہ ہونے کے علاوہ ’’زیادہ ذہین‘‘ بھی ہے۔

یہ دریافت بہت اہم ہے لیکن اسے مکمل ہر گز نہیں کہا جاسکتا کیونکہ ابھی پیٹ میں موجود اعصابی خلیوں سے متعلق ابھی بہت سے سوالوں کے جوابات ملنا باقی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان جونیئر ایشیا ہاکی کپ کے فائنل میں پہنچ گیا

مزید تحقیقات کے ذریعے اس کی مزید تفصیلات حاصل کی جائیں گی تاکہ پیٹ کے اعصابی نظام کو سمجھ کر ہاضمے اور اس سے تعلق رکھنے والے مختلف مسائل، بشمول امراض کا بہتر علاج ترتیب دیا جاسکے۔