رنگین الیکٹرانک کاغذ تیار

سویڈن: چامرز یونیورسٹی نے ایسا ہی ایک نہایت باریک برقی کاغذ بنایا ہے جو اسکرین میں ڈھالا جاسکتا ہے۔ یہ ایک طرح کا انعکاسی اسکرین ہے جو بھرپور انداز میں سارے رنگ دکھاتا ہے لیکن بہت کم بجلی استعمال کرتا ہے۔

روایتی اسکرین کی پشت سے روشنی خارج ہوتی ہے جس کی بدولت ہم ڈسپلے پر تصویر اور الفاظ دیکھتے ہیں۔ یہ کمرے کےاندر تو ٹھیک کام کرتے ہیں لیکن دن کی روشنی میں باہر گویا روشنی کھودیتے ہیں اور ہمیں دیکھنے میں دقت ہوتی ہے۔ اسی لیے اب ایک انعکاسی کاغذ بنایا گیا ہے جو بھرپور دھوپ میں بھی آپ کو ہر تصویر اور لفظ واضح دکھاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   بجلی کا شارٹ فال 6 ہزار میگا واٹ کی سطح پر پہنچ گیا

انعکاسی کیفیت کی بنا پر برقی کاغذ کو بجلی کی بہت زیادہ مقدار درکار نہیں ہوتی کیونکہ آج کے اسمارٹ فون کو روشن کرنے میں بیٹریاں ہانپ جاتی ہیں۔ یہ ایک انقلابی ایجاد ہے جو ڈسپلے اور نئے عہد کے اسکرین کو نئے زاویے عطا کرے گی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مزید تحقیق سے اسے کمرشل استعمال کے قابل بنایا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   نیب نے2019میں بدعنوان عناصر سے ایک سو پچاس ارب روپے کی رقم برآمدکرکے قومی خزانے میں جمع کروائی،چیئرمین نیب

فی الحال یہ عام اسمارٹ فون کے دسویں حصے کے برابر توانائی لیتا ہے لیکن اس کے معیار میں کوئی فرق نہیں آتا۔ اس کا دل و دماغ وہ نینو ساختیں ہیں جنہیں ٹنگسٹن ٹرائی آکسائیڈ، سونے اور پلاٹینم سے بنایا گیا ہے۔ ان کی بدولت اسکرین ہرطرح کے شوخ رنگ کو بہت اچھی طرح ظاہر کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   بھارت امن نہیں چاہتا کیونکہ وہ آر ایس ایس نظریے کے زیر تسلط ہے، وزیراعظم

اس طرح برقی کاغذ کو مستقبل کے فون اسکرین کا بہترین متبادل قرار دے سکتےہیں۔