خلا میں یہ پراسرار ’’ایکسرے ہاتھ‘‘ درحقیقت کیا ہے؟

پیساڈینا، کیلیفورنیا: خلا کے تاریک پس منظر میں یہ پراسرار اور روشن ہاتھ کسی سائنس فکشن فلم کا منظر نہیں، اور نہ ہی فوٹوشاپ کی گئی کوئی تصویر ہے، بلکہ یہ ستاروں کا عکس ہے جو ناسا کی ’’چندرا ایکسرے خلائی دوربین‘‘ سے حاصل کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ انسانی آنکھ ایکسریز کو نہیں دیکھ سکتی۔ اس لیے خلا سے آنے والی ایکسریز کی مدد سے حاصل ہونے والی تصویروں کو کچھ خاص مراحل سے گزارنے کے بعد ایسے رنگوں میں تبدیل کیا جاتا ہے کہ جو انسانی آنکھ کےلیے قابلِ مشاہدہ ہوتے ہیں۔ یہ تصویر بھی اسی قسم کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   دنیا کی 10 حیران کن سڑکیں

یہ تصویر پہلی بار ناسا نے 2009 میں اپنی منفرد خلائی تصویروں کی ایک آن لائن نمائش میں پیش کی تھی۔ اس کا مرکزی حصہ ’’ایم ایس ایچ 15-52‘‘ کہلانے والے ایک سپرنووا (دھماکے سے پھٹنے والے ستارے) کی باقیات پر مشتمل ہے۔
چندرا ایکسرے دوربین نے اس کی پہلی تصویر 2004 میں، دوسری 2008 میں، تیسری 2017 میں اور چوتھی تصویر 2018 میں کھینچی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   ناسا کا خلائی جہاز، ’’بینوں‘‘ پر اترگیا

ناسا کے ماہرین نے ان تمام تصویروں کا باریک بینی سے مشاہدہ کرنے کے بعد بتایا ہے کہ یہ ’’پراسرار ہاتھ‘‘ اصل میں زبردست توانائی خارج کرنے والی گیس اور گرد کے ایک وسیع بادل (نیبولا) پر مشتمل ہے جو 150 نوری سال تک پھیلا ہوا ہے۔ (یعنی روشنی کو 3 لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتے ہوئے، اس کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک پہنچنے میں 150 سال لگ جاتے ہیں۔)

یہ نیبولا ہم سے تقریباً 17 ہزار نوری سال دور ہے جس کے بارے میں ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ اس کی وجہ بننے والا سپرنووا آج سے 1700 سال پہلے پھٹا تھا، جس کا مادّہ آج تک بہت تیزی سے دور دور تک پھیل رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ٹشو پیپر پر مصوری کے شاہکار نمونے بنانے والا سعودی نوجوان

سپرنووا کا وہ حصہ جو دھماکے کے بعد باقی رہ گیا ہے، تصویر کے تقریباً مرکز میں نیلگوں مائل روشن حصے کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے؛ جہاں سے آج بھی زبردست ایکسریز خارج ہورہی ہیں۔