اسرائیلی وزیرخارجہ کا یو اے ای کا پہلا دورہ؛ابوظبی میں نئے سفارت خانہ کا افتتاح

اسرائیل کے نئے وزیرخارجہ یائرلاپیڈ متحدہ عرب امارات کے پہلے دوروزہ سرکاری دورے پر ابوظبی پہنچے ہیں۔انھوں نے منگل کے روز اماراتی دارالحکومت میں ایک عارضی عمارت میں اسرائیل کے نئے سفارت خانے کا افتتاح کیا ۔

دونوں ملکوں کے درمیان معمول کے تعلقات کی بحالی کے بعد کسی اسرائیلی وزیرکا یواے ای کا یہ پہلا دورہ ہے۔

یائرلاپیڈ نے ابوظبی میں سفارت خانہ کے افتتاح کے موقع پر کہا کہ ہم کہیں جانے والے نہیں،مشرقِ اوسط ہمارا وطن ہے.انھوں نے کہا کہ ’’ہم یہاں رہنے کے لیے ہیں۔ہم خطے کے تمام ممالک پر زوردیتے ہیں کہ وہ اس (حقیقت) کو تسلیم کریں۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:   وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر کے درمیان دوبارہ رابطہ

یائرلاپیڈ نے گذشتہ سال یو اے ای اور بحرین سے معاہدہ ابراہیم طے کرنے پر سابق وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے کردار کو سراہا اور امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور موجودہ صدر جوبائیڈن کا بھی شکریہ ادا کیا ہے جنھوں نے اسرائیل کو تسلیم کرنے والے عرب اور مسلم ممالک کے حلقے کو وسیع کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کورونا وائرس نے امریکی ریاستوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، ہلاکتیں 100 سے تجاوز

اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان لائرحیات نے بتایا ہے کہ آج اسرائیل اور یواے ای کے درمیان دوطرفہ تعاون کے فروغ سے متعلق بارھواں سمجھوتا طے پارہا ہے۔

اسرائیل نے ابوظبی میں اپنے نئے سفارت خانہ میں ابھی صرف تین سفارت کاروں اور مشن کے سربراہ ایتان نوح کا تقرر کیا ہے لیکن ان کے مکمل سفیر کے طور پر تقرر کی تصدیق نہیں کی ہے۔دبئی میں اسرائیل کا قونصل خانہ بھی عارضی جگہ پر قائم ہوگا اور اس کو بعد میں کسی مستقل عمارت میں منتقل کیا جائے گا۔