سعودی عرب:ام جرسان غارمیں 7 ہزار سال پرانی ایک نئی دریافت

سعودی عرب کی ہیریٹیج اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ ماہرین آثار قدیمہ اور فوسلز اتھارٹی نے سعودی جیولوجیکل سروے اتھارٹی ،شاہ سعود یونیورسٹی ، اور جرمنی کے میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ کے تعاون سے مدینہ منورہ کے علاقے خیبر میں واقع ام جرسان غار میں ایک نئی دریافت کی ہے جس کے بارے میں بین الاقوامی آثار قدیمہ جریدے ’ Archaeological and Anthropological Sciences‘ میں عن قریب ایک تفصیلی مضمون شائع کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   خالصتان 2020 میں دنیا کے نقشہ پر ابھر کررہے گا ،امریکہ،برطانیہ سمیت دنیا بھر کی سکھ کمیونٹی نے بھارت کو چیلنج کردیا


ام جرسان غار کے اندر نشانات اور جیواشم کی باقیات پائی گئیں۔ جب ان کا ریڈیو کاربن ٹیکنالوجی کے ذریعے تجزیہ کیا گیا تو یہ 7000 سال سے زیادہ قدیم بتائی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ اس جنگلی اور پالتو جانوروں گھوڑے اور گدھے سمیت دسیوں جانوروں کی ہڈیاں پائی گئی ہیں۔ وہاں سے ملنے والی ہڈیوں میں اونٹ، بکرے اور گائے کی ہڈیاں وقت گزرنے کے باوجود اچھی حالت میں موجود ہیں۔ یہاں قریبی قبرستان سے انسانی کھوپڑیاں بھی ملی ہیں جن کے بارے میں خیال ہے کہ یہ زمانہ قبل از تاریخ کی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   سعودی عرب کی جیلوں میں جدہ سے 5پاکستانی رہائی ملنے کے بعد لاہور پہنچ گئے

تحقیقی ٹیم ڈی این اے کے لیے ہڈیوں کا معائنہ کرنے کے ساتھ جزیرہ نما عرب میں جانوروں کی تاریخ اور ان کی پرورش کی تاریخ کا مطالعہ کیا جا رہا ہے۔

سعودی عرب کے ہیری ٹیج کمیشن کے ذریعے سامنے آنے والی ان دریافتوں سے ظاہرہوتا ہے کہ جزیرۃ العرب کا خطہ ہزاروں سال سے انسانی اور حیوانی زندگی کا مسکن رہ چکا ہے۔ ہزاروں سال پہلے بھی یہاں پر لوگ پالتو جانور رکھتے اور ان سے کام لیتے تھے۔