صدرنے انسدادِ ریپ آرڈیننس 2020ء کی منظوری دیدی

اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی نے انسدادِ ریپ آرڈیننس 2020 ء کی منظوری دیدی ہے۔

آرڈیننس سے عورتوں اور بچوں کے خلاف جنسی زیادتی کے معاملات کو جلد نمٹانے میں مدد ملے گی۔ جنسی زیادتی کے ملزمان کے تیز ٹرائل اور کیسز جلد از جلد نمٹانے کیلئے ملک بھر میں اسپیشل کورٹس کا قیام عمل میں لایا جائے گا اور خصوصی عدالتیں 4 ماہ کے اندر جنسی زیادتی کے کیسز کو نمٹائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:   پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری مسترد

آرڈیننس کے تحت وزیرِاعظم عمران خان انسدادِ جنسی زیادتی کرائسس سیلز کا قیام عمل میں لائیں گے، یہ سیل 06 گھنٹے کے اندر اندر متاثرہ افراد کا میڈیکو لیگل معائنہ کرانے کا مجاز ہوگا جبکہ قومی شناختی کارڈ بنانے والے ادارے نادرا کی مدد سے قومی سطح پر جنسی زیادتی کے مجرمان کا رجسٹر تیار کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   ملکی تجارتی خسارہ 100 فیصد بڑھ گیا

آرڈیننس کے تحت جنسی زیادتی کے متاثرین کی شناخت ظاہر کرنے پر پابندی لگاتے ہوئے اس عمل کو قابلِ سزا جرم قرار دے دیا گیا۔