رینجرز اور آئی ایس آئی کے افسران کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا

Spread the love

راولپنڈی: آئی ایس پی آر کے مطابق آئی جی سندھ کے تحفظات سے متعلق فوج کی کورٹ آف انکوائری مکمل کرلی جس کے تحت رینجرز اور آئی ایس آئی کے ذمہ دار افسران کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق مزار قائد بے حرمتی کے پس منظر میں رونما ہونے والے واقعہ پر آئی جی سندھ کے تحفظات کے حوالے سے فوج کی کورٹ آف انکوائری مکمل کرلی گئی ہے، واقعہ کی انکوائری آرمی چیف کے حکم پر کی گئی اور رپورٹ کے پس منظر میں رینجرز اور سیکٹر ہیڈکوارٹر آئی ایس آئی کراچی کے آفیسرز کو ذمہ داریوں سے ہٹادیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 26 ہزار 435 ہو گئی، 599 جاں بحق

کورٹ آف انکوائری کی تحقیقات کے مطابق 18 اور 19 اکتوبر کی درمیانی شب پاکستان رینجرز سندھ اور سیکٹر ہیڈ کوارٹرز آئی ایس آئی کراچی کے آفیسرز مزار قائد کی بے حرمتی کے نتیجے میں شدید عوامی رد عمل سے پیدا شدہ صورتحال سے نمٹنے میں مصروف تھے، پاکستان رینجرز اور سیکٹر ہیڈ کوارٹرز آئی ایس آئی کراچی کے آفیسرز پر مزارِ قائد کی بے حرمتی پر قانون کے مطابق بروقت کارروائی کے لیے عوام کا شدید دباؤ تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   وفاقی کابینہ میں بڑے پیمانے پر ردوبدل، فواد چوہدری سمیت متعدد وزراء کے قلمدان تبدیل کر دیئے

رپورٹ کے مطابق ان آفیسرز نے شدید عوامی ردِ عمل اور تیزی سے بدلتی ہوئی کشیدہ صورتحال کے مد نظر سندھ پولیس کے طرز عمل کو اپنی دانست میں ناکافی اور سست روی کا شکار پایا، اس کشیدہ مگر پُر اشتعال صورتحال پر قابو پانے کیلئے ان آفیسرز نے اپنی حیثیت میں جس قدر جذباتی رد عمل کا مظاہرہ کیا، ذمہ دار اور تجربہ کار آفیسرز کے طور پر انہیں ایسی ناپسندیدہ صورتحال سے گریزکرنا چاہیے تھا، جس سے ریاست کے 2 اداروں میں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ڈیرہ اسماعیل خان، فورسز کا آپریشن، 2 دہشتگرد ہلاک، کرنل شہید

کورٹ آف انکوائری کی سفارشات کی روشنی میں متعلقہ آفیسرز کو اپنی موجودہ ذمہ داریوں سے ہٹا دیا گیا ہے جب کہ ضابطہ کی خلاف ورزی پر ان آفیسرز کے خلاف کارروائی جی ایچ کیو میں عمل میں لائی جائے گی۔